27/10/2026
چولستان کا معزز مہمان تلور، جسے ہوبرا بسٹرڈ یا حبارہ بھی کہا جاتا ہے، ایک بار پھر اپنے ہزاروں کلومیٹر کے سفر کے بعد لوٹ آیا ہے۔ یہ ہمارا مقامی پرندہ نہیں ہے، اس کا اصل وطن وسطی ایشیا کے سرد ترین علاقے ہیں جیسے منگولیا، قازقستان، ازبکستان، چین اور سائبیریا۔ وہاں کی شدید برفباری اور سخت سردی سے بچنے کے لیے یہ ہر سال گرم علاقوں کا رخ کرتا ہے اور پاکستان اور بھارت کے صحراؤں کو اپنا عارضی گھر بنا لیتا ہے۔
تلور ہر سال اکتوبر اور نومبر میں پاکستان پہنچتا ہے اور تقریباً پانچ سے چھ ماہ یہیں قیام کرتا ہے۔ چولستان، بہاولپور، رحیم یار خان، تھرپارکر اور بلوچستان کے کھلے ریگستانی میدان اسے بہت پسند ہیں۔ یہاں اسے خوراک آسانی سے مل جاتی ہے جس میں صحرائی پودے، کیکر کے بیج، جنگلی بیر، کیڑے مکوڑے اور چھوٹے رینگنے والے جانور شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ پرندہ 15 سے 31 مارچ کے درمیان واپس اپنے آبائی علاقوں کی طرف ہجرت شروع کر دیتا ہے۔
یہ ایک بہت ہی شرمیلا، ہوشیار اور خوبصورت پرندہ ہے۔ یہ زیادہ اونچی اور لمبی پرواز نہیں کرتا بلکہ زمین پر بہت تیز دوڑتا ہے۔ قدرت نے اسے ایسی بھوری اور ریت جیسی رنگت دی ہے کہ یہ چولستان کی ریت میں بالکل گھل مل جاتا ہے اور شکاری کی نظر سے بچا رہتا ہے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ خوبصورت مہمان اب معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ ہر سال موسم سرما میں عرب ممالک سے شاہی شکار کی پارٹیاں خصوصی اجازت ناموں پر پاکستان آتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ لاکھوں ڈالر مالیت کے تربیت یافتہ شکاری باز لاتے ہیں جن کی نظر بہت تیز ہوتی ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے اس کے شکار پر پابندی لگائی تھی پھر بھی ہر سال 25 سے 35 خصوصی شکار کے پرمٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔ اسے صرف اس غلط فہمی کی بنیاد پر شکار کیا جاتا ہے کہ اس کا گوشت مقوی(مردانہ قوت بڑھانے والا) ہے، جس کی سائنس کوئی تصدیق نہیں کرتی۔
یہ پرندہ ہمارا مہمان ہے، شکار نہیں۔ اگر ہم نے آج اس کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں اسے صرف تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔
#حبارہ #تلور #چولستان