Khanqah - E - Faiyazia

Khanqah - E - Faiyazia This is Official Page of Khanqah-E-Faiyazia Managed by Sajjadah Nasheen ( The Abbot and Custodian of Khanqah-E-Faiyazia) Syed Faiyazi Hussain and His Team .

It was Established by Syed Shah Ghulam Hussain Abul Faiyaz Over Two hundred years ago Khanqah Faiyazia has always been a preeminent
seat of learning for the aspirants of spiritualism and
the seekers of truth. Khanqah Faiyazia is especially
esteemed and acclaimed for its historic contribution
and service as a staunch guide of the mankind in
general and a true-blue benefactor of the seekers of
the Almighty Allah in particular. The establishment of
Khanqah Faiyazia (Faiyazia Monastery) at Simli Sharif,
Patna City took place with the ordained arrival of the
accomplished Sufi saint and the notably sanctified
benefactor of the thirteenth century AH, Hazrat Syed
Shah Ghulam Hussain Abul Faiyaz (Rahmatullahi
alaih). Founded by this honorable holy Sufi saint,
Khanqah Faiyazia is such a fountainhead of guidance
towards spirituality and devotion to the Almighty
Allah whose bountifulness and nobility has not only
spread out streams of knowledge and enlightenment
across the length and breadth of India but also
continues to gratify the seekers of truth and
sanctitude in other countries like Nepal, Pakistan,
Bangladesh, Myanmar (Burma), China and Malaysia
Khanqah Faiyazia

Our beloved Shaykh, Huzoor Syed Shah Ghulam Faiyaz Hussain Faiyazi Sahab, is embarking on a blessed spiritual journey to...
20/09/2026

Our beloved Shaykh, Huzoor Syed Shah Ghulam Faiyaz Hussain Faiyazi Sahab, is embarking on a blessed spiritual journey to Burma (Myanmar).

11/09/2026

تبرکات میں شفاء اور اس کی شرعی حیثیت


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

نحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم۔
اما بعد !
چند دنوں پہلے کی بات ہے کہ میں سفرِ جمشیدپور کے دورے پر تھا۔ میرے

ایک مریدِ خاص، جہاں میں اکثر رکتا ہوں، انہوں نے مجھ سے ایک سوال کیا،

جو کہ ان کا سوال بھی نہیں تھا، بلکہ ان سے کسی بدعقیدہ شخص نے کیا تھا۔

وہی سوال جس کا ہمارے علمائے اعلام و مشائخِ کرام ہمیشہ سے مسکت

و دندان شکن جواب دیتے آئے ہیں۔
وہ سوال یہ ہے کہ:

’’ہر جگہ زیارتِ تبرکاتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رواج ہوگیا ہے۔ یہ کیسے

معلوم کہ یہ حضور علیہ السلام کے تبرکات ہیں؟‘‘

اس پر یہ فقیرِ بندۂ پرتقصیر نے جو کچھ بن پڑا، وہ جواب ان کو دیا۔ سوچا کہ وہی

جواب آپ ناظرین و محبین کے حضور پیش کریں۔

سب سے پہلے تو تبرک و تیمن کے معنی اور اس کا مادۂ اشتقاق از روئے لغات

بیان کرتا ہوں۔

علامہ ابنِ منظور نے مختلف علمائے کرام کے اقوال کو اپنی کتاب لسان

العرب میں بیان فرمایا ہے۔ برکت و تبرک بَرَكَ البعيرُ سے مشتق ہے۔ اہلِ

عرب اس وقت یہ جملہ بولتے تھے جب اونٹ پیٹ بھر کر کھانے کے بعد آسودہ

و اطمینان سے جم کر بیٹھتا ہے۔ اس طرح وہ راحت و سکون پاتا ہے۔

اسی طرح راغب اصفہانی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب، جو کہ عربی لغات کا ماخذ

و مرجع ہے، المفردات میں برکت کا معنی:

«والبركةُ ثبوتُ خيرٍ إلهيٍّ في الشيء»

یعنی کسی چیز میں خیرِ الٰہی کا پایا جانا، یہ برکت ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس سے راحت، سکون اور انبساط و ابتسام حاصل ہو۔

۱۔ اسی برکت کا ایک معنی اضافہ، زیادتی، کثرت، سعادت و خوش بختی ہے۔

۲۔ اسی برکت کا ایک معنی دائمی سعادت اور برکت کا حصول بھی ہے۔ مثلاً

جب ہم اپنے آقا علیہ السلام پر درود بھیجتے ہیں تو ان الفاظ کے ساتھ:

«اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد»

اس کا ترجمہ یہی ہوا کہ اے اللہ پاک! ہمارے آقا پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بزرگی

اور شرافت قائم و ثابت فرما۔

۳۔ تبرک کا لغوی معنی کسی سے برکت حاصل کرنا ہے۔ مثلاً ہمارے آقا علیہ

السلام ہمیشہ دعا فرماتے تھے:

«وبارك لي فيما أعطيت»

اے اللہ پاک! جو نعمت تو نے مجھے دی ہے، اس میں برکت عطا فرما۔

اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ برکت کا معنی خیرِ الٰہی کو طلب کرنا یا خیرِ الٰہی

کے لیے دعا کرنا، دونوں ثابت ہے۔

اب ہم ذرا قرآنِ کریم کی طرف آتے ہیں، جو کہ آفاقی اور لاثانی کتاب ہے، جو

کہ ماحیِ شرک و بدعت اور تمام بنی آدم کے لیے سرچشمۂ رشد و ہدایت ہے۔

جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں متعدد واقعات جو نصِ قطعیہ کے طور

پر ملتے ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ قمیصِ یوسفی سے حضرت یعقوب علیہ السلام کا تبرک اختیار کرنا

واقعہ بڑا تفصیل طلب ہے، لیکن اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہوں کہ حضرت

یعقوب علیہ السلام نے جب فراقِ یوسف علیہ السلام میں اتنا روئے کہ بینائی

چلی گئی، جب یہ بات حضرت یوسف علیہ السلام کو پتاچلی تو آپ نے اپنی

قمیص اپنے والد کے پاس بھیجوا دی۔

باقی قرآن بیان کرتا ہے:اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا

’’میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا، وہ بینا

ہوجائیں گے۔‘‘
اس کے بعد کا واقعہ قرآن میں اس طرح سے بیان ہوا ہے:

فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا

ترجمہ: ’’پھر جب وہ خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے قمیص حضرت یعقوب

علیہ السلام کے چہرے پر رکھا تو ان کی بینائی لوٹ آئی۔‘‘

یہاں سے اہلِ سنت کا عقیدہ، جس کی ترجمانی قرآن کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ:

ایک نبی، جس نے قمیص بھیجی، حضرت یوسف علیہ السلام۔

دوسرے نبی، جس نے قمیص کو اپنے چہرے سے لگایا، حضرت یعقوب علیہ السلام۔

تیسرا قرآنِ مجید، جس نے یہ پورا واقعہ بیان کیا

اگر مان بھی لیا جائے، جبکہ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی طرف سے غیر

اللہ سے مدد کے لیے بھیجا، تو دوسرے بھی نبی تھے اور درجہ و رتبہ میں بھی اعلیٰ

تھے، اور یہ حق بھی حاصل تھا کہ اپنے شہزادے کو منع بھی کرسکتے تھے کہ یہ کیا

کررہے ہو، یہ جائز نہیں۔

لیکن ایسا نہیں کیا، بلکہ آپ نے اسے اپنی آنکھوں سے لگایا۔

اور اگر یہ بھی مان لیا جائے، العیاذ باللہ، کہ فرطِ محبت میں یہ خیال نہیں رہا کہ

بیٹے نے بھیجا تھا، تو اس واقعہ کو بیان کرنے والی ماحیِ شرک و ضلالت کتاب

قرآنِ مجید نے پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا۔

گویا یوسف و یعقوب علیہما السلام کا عقیدہ، جس کو قرآن نے بیان کیا، تبرک و

برکت کے باب میں بین و روشن دلیل ہمارے لیے ہے کہ بعض ذوات اور

ان سے مَس شدہ ملبوسات، ان کے قائم کردہ اماکن و اشیاء غیر معمولی ہوا

کرتی ہیں، نہ صرف وہ مقدس و معظم ہوتی ہیں بلکہ ان سے تبرک حاصل کرنا

بھی ثابت شدہ عمل ہے۔

۲۔ حجرۂ مریم رضی اللہ عنہا سے حضرت زکریا علیہ السلام کا تبرک حاصل کرنا

دوسری دلیل جو ہمیں قرآنِ مجید سے ہی ملتی ہے، وہ ہے حجرۂ مریم رضی اللہ

عنہا سے حضرت زکریا علیہ السلام کا تبرک حاصل کرنا۔

حضرت زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے مصلّیٰ سے

بے موسم پھلوں کا ظہور ہورہا ہے، تو آپ نے اسی جگہ نماز پڑھی اور دعا کی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا قَالَتْ هُوَ

مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُنَالِكِ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ

ترجمہ: ’’جب کبھی زکریا ان کے پاس محراب ( مصلی) میں جاتے تو ان کے پاس رزق

پاتے۔ فرمایا: اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ

کے پاس سے ہے۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا

ہے۔ وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا واسطۂ تبرک و تیمن اور توسل

اختیار کرنا شرک نہیں تھا۔ ایسا ہوتا تو اللہ پاک خصوصیت کے ساتھ اس

واقعہ کو بیان نہ فرماتا۔

۳۔ تابوتِ سکینہ

تیسرا تابوتِ سکینہ ہے۔ جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے، آج بھی یہود اس کی

تلاش و جستجو میں سرگرداں ہیں۔

اس سے برکت و فائدہ حاصل کرنے کا پورا واقعہ قرآن نے بیان کیا۔

اس کے بعد یہ باتیں تو انبیائے سابقین کے متعلق ہوئیں، اور ہمارے نبی، جو

صبحِ قیامت تک کے لیے نبی و رسول ہیں، صلی اللہ علیہ وسلم، ان کی ذاتِ

بابَرکات کا کیا کہنا!

چند واقعات حدیث کی روشنی میں حضور علیہ السلام سے برکت حاصل کرنے کا

صحابۂ کرام کا ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا اور مشک کا واقعہ:

حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک بار حضور علیہ السلام نے مشکیزے

میں سے لٹکا کر پانی پیا۔ حضرت کبشہ نے اس جگہ کو کاٹ لیا جہاں سرکار کا

دہنِ مبارک لگا تھا، اور جب بھی کوئی بیمار آتا، اسی مقطوعہ حصے کو پانی میں

ڈبو کر پلاتیں، وہ شفایاب ہوتا۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور مسواکِ مبارک:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے برکت حاصل

کرنے کے لیے حضور کا مسواکِ مبارک، جب آپ استعمال فرما کر حضرت

عائشہ کو دیتے، تو وہ اسی جگہ کو اپنے دانتوں سے لگاتیں۔

لوگوں نے پوچھا: ’’یہ کیا کرتی ہو؟‘‘

آپ نے جواب دیا:

’’حضور کی برکات حاصل کرتی ہوں۔‘‘

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور موئے مبارک:

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں جب آپ کے سر سے ٹوپی

گری تو آپ اسے بے تحاشہ ماہی بے آب کی طرح ڈھونڈنے لگے۔

جب ملی تو لوگوں نے پوچھا: ’’اتنا زور اور ایسی بے چینی کیوں؟‘‘

تو آپ نے جواب دیا:

’’اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک اس میں تھا۔

اب اصل جواب کی طرف آتا ہوں

میرا موضوعِ بحث موئے مبارک کی برکتیں اور اس کےدورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اب تک

تواتر کے ساتھ صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین، ائمہ مجتہدین و اولیاءِ امت،

مسلمانانِ عالم اس سے فائدہ اور برکت حاصل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک و گیسوئے عنبرین کے فوائد و

برکات حدِ احصا سے فزوں تر ہیں۔

لیکن یہاں اختصار کے ساتھ کتبِ احادیث میں حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی احادیث کا

چند گلدستۂ شیریں بیان و احادیث خیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم، پیش کرتا ہوں۔

صحیح مسلم، کتاب الفضائل میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

آپ نے فرمایا:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَأَطَافَ

بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ
ترجمہ:

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو

دیکھا کہ حجام آپ کے بال مبارک مونڈ رہا تھا اور صحابۂ کرام آپ کے اردا گرد

چکر لگا رہے تھے، اس ارادے سے کہ حضور کا کوئی بال مبارک زمین پر نہ

گرے، بلکہ کسی نہ کسی شخص کے ہاتھ میں ہی پہنچے۔‘‘

یہ تھے صحابۂ کرام اور یہ تھا ان کا عمل!

لیکن وہ سوال ابھی بھی باقی ہے، جس سے ہمارے بھولے بھالے سنی

مسلمانو ں کو پکڑ کر دامِ فریب میں پھنسایا جاتا ہے۔ ان سے پوچھا جاتا ہے، بار بار:
’
کیا ثبوت ہے کہ جس کو تبرک بنایا جارہا ہے، حضور علیہ السلام کا ہے یا اس

بزرگ کا یقیناً ہے جس کی طرف منسوب کیا جارہا ہے؟‘‘
اس کے دو جواب ہیں:

ایک شرعی، دوسرا عقلی۔

پہلے عقلی جواب نقل کرتے ہیں، پھر شرعی جواب بیان کریں گے۔

حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ

میں ایک جگہ بیان کرنے کے لیے گیا تھا، وہاں موئے مبارک کی زیارت بھی

ہورہی تھی۔
اسی مجلس میں ایک بدعقیدہ شخص نے مجھ سے پوچھا:

’’کیا یقیناً یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں؟‘‘

آپ نے اسے بڑا معقول اور مسکت جواب دیا۔آ پ فرماتے ہیں میں نے

پوچھا:
’’
آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

اس نے اپنا نام عبدالرحمن بتایا۔

میں نے پھر پوچھا: آپ کے والد کا نام کیا ہے؟ اس نے بتایا عبدالرحیم

میں نے اس سے پوچھا:آپ کو کیسے پتا کہ آپ کے والد عبد الرحیم ہیں؟ اور

آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ عبد الرحیم ہی آپ کے والد ہیں؟‘‘

اولاً یہ کہ نکاح کے گواہ موجود نہیں ہیں، اگر مان بھی لیا جائے تو وہ صرف

نکاح کے گواہ ہوں گے۔ اس کے بعد یہ کیسے متحقق ہوگا کہ آپ کی ولادت بھی

انہی کے سبب ہوئی ہے؟

اس نے جواب دیا:
’’
مسلمان کہتے ہیں کہ میں انہی کا بیٹا ہوں اور مسلمانوں کی گواہی معتبر ہوتی ہے۔‘‘

میں نے بھی جواب دیا:

جب تمہارے اپنے نسب کے استحقاق کے لیے مسلمانوں کی گواہی معتبر ہے،

تو زمانۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اجماعِ مؤمنین و مسلمین

اس کو موئے مبارک مانتے، کہتے اور اس سے برکت و تبرک حاصل کرتے اور

جانتے آئے ہیں۔‘‘

اب اس کا شرعی جواب ملاحظہ فرمائیں

حدیثِ شریف میں آتا ہے:

أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

ترجمہ: تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔‘‘
دوسری حدیث:

مَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ “ ترجمہ
’’
جس کام کو مسلمانوں نے اچھا سمجھا، وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے۔‘‘

اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہمیشہ سے صحابۂ کرام سے لے کر آج تک اجماعِ

امت ہے کہ یہ موئے مبارک سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔

یہاں ایک شرعی جزئیہ ہے جس کو بیان کرنا نہایت ہی ضروری ہے، وہ یہ ہے

کہ باضابطہ عرف کی اہمیت شرع میں نہایت معتبر و مستند ہے اور اس موضوع

و حوالے سے پوری پوری کتاب عرف پر لکھی گئی ہے۔

نمونے کے طور پر شرح عقود رسم المفتی سے اس کی تعریف بیان کرتے ہیں۔

المستصفیٰ کے حوالے سے عرف کی تعریف:

«العُرْفُ والعادَةُ ما استقرَّ في النفوسِ من جهةِ العقولِ، وتلقَّتْهُ الطباعُ السليمةُ بالقبولِ»

عرف اور عادت وہ ہے جو عقل کی جہت سے نفسوں میں قرار پکڑے اور سلیم

الطبع لوگ اسے قبول کریں۔

شرح التحریر میں اس کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

«العادَةُ هي الأمرُ المتكرِّرُ من غیرِ علاقةٍ عقليةٍ»

عادت وہ کام ہے جس کو بار بار کیا جائے، اس میں عقل کا کوئی دخل نہ ہو
استفاضۂ خبر۔۔

اب یہاں سے ایک اور بات، جس کی طرف قارئین کے ذہن کو مبذول کرنا

چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ استفاضۂ خبر ایک اصطلاح ہے۔

اس کو سمجھنے کے لیے ہم پہلے یہ سمجھیں کہ رؤیتِ ہلال کے ثبوت کے جو شرع

میں طریقے ہیں، جن سے رؤیت ثابت ہوتی ہے، ہمارے امام الہمام، امامِ

عشق و محبت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز نے اپنی کتاب

طرقِ اثباتِ الہلال میں بڑے شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں کہ رؤیتِ ہلال کے ثبوت کے جو شرعی طریقے ہیں، وہ سات ہیں
۱۔ خود شہادتِ رؤیت

یعنی چاند دیکھنے والے کی گواہی۔

۲۔ شہادت علی الشہادت

یعنی گواہوں نے چاند خود نہیں دیکھا، بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی۔
۳۔ شہادت علی القاضی

دوسرے کسی اسلامی شہر میں حاکمِ اسلام، قاضیِ شرع کے حضور رؤیتِ ہلال پر

شہادتیں گزریں اور اس نے ثبوتِ ہلال کا حکم دیا۔

۴۔ کتاب القاضی الی القاضی

وہ قاضیِ شرع جسے سلطانِ اسلام نے فصلِ مقدمات کے لیے مقرر کیا ہو، اس

کے سامنے شرعی گواہی گزری اور اس نے دوسرے شہر کے قاضیِ شہر کو خط

لکھا کہ میرے سامنے شہادتِ شرعیہ قائم ہوئی ہے۔
۵۔ استفاضۂ خبر

جس اسلامی شہر میں حاکمِ شرع، قاضیِ اسلام ہو کہ احکامِ ہلال اسی کے یہاں

سے صادر ہوتے ہوں، یا جہاں قاضیِ شرع نہیں وہاں مفتیِ اسلام، مرجعِ عوام

و متبعِ احکام ہو، روزہ و عید کے فتوے اسی سے نفاذ پاتے ہوں، اور وہاں کی

متعدد جماعتیں خود آکر اس بات کی شہادت دیں کہ میں نے چاند دیکھا ہے۔
۶۔ اکمالِ عدت

تیس دن کامل ہوجائیں تو ماہِ متصل کا ہلال آپ ہی ثابت ہوجائے گا۔

۷۔ توپ کی آواز سے

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے حوالیِ شہر کے دیہات والوں کے واسطے دلائلِ

ثبوتِ ہلال میں اسے بھی شمار کیا ہے۔

میرا مقصود صرف یہ بتانا تھا کہ روزہ اور عید کے لیے ثبوتِ ہلال جیسے حساس

اور مؤثر الآراء معاملے میں بھی صرف مذکورہ اول کے علاوہ یہ سب کا تعلق

عرف اور دوسروں کی گواہی پر موقوف ہے۔

جب ایسے معاملے میں استفاضۂ خبر معتبر ہے تو جہاں قرونِ اولیٰ سے لے کر آج

تک قولِ متواتر و عملِ مسلسل اس بات پر کافی وافی ہے کہ یہ موئے مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، وہاں اس نسبت کو محض ایک شبہے یا سوال

کی بنیاد پر رد کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

یہی وہ بات ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

خدا دل فطرت شناس دے تجھ کو

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں ۔

از

طالبِ شفاء
راجئ برکات
جویائے رحمت
امیدوارِعفوو درگزر
طلبگارِ شفاعت
فقیر پر تقصیر
سید غلام فیاض حسین فیاضی
سجادہ نشیں خانقاہ فیاضیہ ، سملی شریف
پٹنہ سیٹی

30/08/2026
Azmat-e-Walidain Conference 2026Date: 6th September 2026Venue: Ukrid, Bokaro, Jharkhand
30/08/2026

Azmat-e-Walidain Conference 2026

Date: 6th September 2026

Venue: Ukrid, Bokaro, Jharkhand

جشنِ عید میلادُ النبی ﷺ مقام: سکرام چک، پٹنہ سیٹیسکرام چک، پٹنہ سیٹی میں منعقدہ پُرنور جشنِ عید میلادُ النبی ﷺ کی بابرکت...
28/08/2026

جشنِ عید میلادُ النبی ﷺ

مقام: سکرام چک، پٹنہ سیٹی

سکرام چک، پٹنہ سیٹی میں منعقدہ پُرنور جشنِ عید میلادُ النبی ﷺ کی بابرکت

محفل میں حضور صاحبِ سجادہ، خانقاہِ فیاضیہ، سملی شریف، پٹنہ سیٹی نے شرکت فرمائی۔

اس موقع پر آپ نے اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ — جو اہلِ سنت والجماعت

کے امتیازی اور مسلّمہ عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے — کے موضوع پر

نہایت مدلل، مفصل، مستند اور معتمد خطاب فرمایا۔

بعد ازاں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں صلوٰۃ و سلام کا نذرانۂ محبت پیش کیا

گیا، اور محفلِ پاک کا اختتام حضور کی پُراثر دعا پر ہوا۔

اللہ تعالیٰ اس بابرکت محفل کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ہمیں عشقِ مصطفیٰ

ﷺ میں مزید ترقی عطا فرمائے اور اختیاراتِ مصطفیٰ ﷺ کے عقیدۂ حقہ پر

ہمیشہ استقامت نصیب فرمائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ

صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَىٰ عَلَىٰ حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَسَلَّم

رحمتُ للعالمین ﷺ کانفرنس  ، خانقاہِ فیاضیہ، سملی شریف، پٹنہ سیٹی الحمدللہ! بہار کی مشہور و معروف خانقاہوں میں سے ایک خان...
27/08/2026

رحمتُ للعالمین ﷺ کانفرنس ، خانقاہِ فیاضیہ، سملی شریف، پٹنہ سیٹی

الحمدللہ! بہار کی مشہور و معروف خانقاہوں میں سے ایک خانقاہِ فیاضیہ، سملی

شریف، پٹنہ سٹی میں قدیمی روایت کے مطابق نہایت ہی عظیم الشان جلسہ

بعنوان ’’رحمتُ للعالمین ﷺ کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کی سرپرستی و

صاحبِ سجادۂ خانقاہِ فیاضیہ، سملی شریف نے فرمائی، اور جس کی صدارت شہزادۂ

مظہر ملت و نبیرۂ حضور سرکار پٹنہ و اخی اصغر حضور محبوب الاولیاء و العلماء ،

حضرت سید شاہ اشرف حسین فدائی الفیاضی نے کی جس میں شہرِ عظیم

آباد کے جید علمائے کرام و شعرائے عظام نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز اللہ پاک کے کلامِ سحرالبیان لَا رَيْبَ فِيهِ سے حافظ و قاری محمد

آفتاب عالم منوری صاحب کی آوازِ دلگداز سے ہوا۔

اس پروگرام کی نقابت حافظ و قاری جناب قاری مظفر صاحب، خطیب و امام جامع مسجد شیر شاہ، پٹنہ سٹی نے فرمائی۔

اس کے بعد اعلام العلماء، افقه الفقہاء، رونقِ بزمِ دارالافتاء، مرکزی ادارۂ شریعہ، پٹنہ، جناب محمد حسن رضا نوری صاحب نے نہایت مدلل و مفصل تقریر فرمائی۔

آپ کی تقریر کا عنوان تھا:

’’جوازِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ، منکرین کے فتاویٰ کی روشنی میں‘‘

جس میں آپ نے دو کتابوں کا حوالہ پیش کیا، جن سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے جواز پر ان کے یہاں بھی فتویٰ دیا گیا ہے:

اول: البصائر
دوم: فتاویٰ دارالعلوم ذکریا — مفتی محمد رضا الحق صاحب، جنوبی افریقہ۔

آپ کے بعد ہر دل عزیز شاعر، عندلیبِ گلشنِ رسالت، شاعرِ اسلام، حافظ و

قاری جناب سبطین رضا عظیم آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

اس کے بعد مقررِ ذیشان، فاضلِ نوجوان، جناب توصیف جامی، خطیب و امام جامع مسجد صدر گلی نے خطاب فرمایا۔

آپ کے بعد شاعرِ نوجوان، بلبلِ باغِ مدینہ، واصف شاہ ہدیٰ ، جناب ثقلین رضا

عظیم آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

آپ کے بعد مقررِ بے مثال، خطیبِ باکمال، و بانی و ڈائریکٹر صفہ اسمارٹ

اسکول، کھجور بنہ، جناب فیض احمد قادری منوری صاحب نے خطاب فرمایا۔

آپ کے بعد بہار کے عظیم شاعر، استاذ الشعراء حضرت العلام جناب سید عیاض الرب عرشی صاحب مظہری ثم اورنگ آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

آپ کے بعد شاعر و نثار، مداحِ رحمت للعالمین ﷺ، جناب سید معیز الرب معیز اسلام پوری نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

خطابِ صدر و سرپرست

بعدہٗ صدر و سرپرستِ جلسہ، وارثِ علومِ دینیہ، نبیرۂ حضور سرکارِ پٹنہ و شہزادۂ

محبوب الاولیاء و العلماء، صاحبِ سجادہ و متولی خانقاہِ فیاضیہ ، سملی شریف ،

حضرت علامہ و مولانا سید شاہ غلام فیاض حسین فیاضی دامت برکاتہم العالیہ نے

نہایت مدلل و مفصل خطاب فرمایا، جو کہ ’’نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ‘‘ کے

عنوان سے معنون تھا۔

جس میں آپ نے آیتِ قرآنیہ:

﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ﴾

پیش کرتے ہوئے آقا علیہ السلام کی خلقت اور آپ کی بشریت پر اہلِ سنت و

الجماعت، معنون بمسلکِ اعلیٰ حضرت کا عقیدہ بیان فرمایا۔

یعنی ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حبیب و محبوب کو اپنے نورِ بلا

فصل سے تخلیق فرمایا، پھر اس نورِ پاک کو پاکیزہ بشریت و مطہرہ جسمانیت میں

ملبوس فرما کر انسانوں کی رہبری و رہنمائی کے لیے عالمِ شہود (فرشِ گیتی) پر مبعوث فرمایا۔

ہم اہلِ سنت و الجماعت سرکارِ دو عالم ﷺ کو نہ فرشتوں کی طرح نورِ محض

مانتے ہیں اور نہ منکرینِ شانِ نورانیت کے مانند اپنے جیسا بشر مانتے ہیں۔

پہلی دلیل

اس پر حضورِ والا نے جو دلیل پیش کی، وہ یہ ہے کہ جناب شاہ ولی اللہ صاحب

محدثِ دہلوی نے اپنے والد کا ایک خواب، جو کہ آپ کی کتابِ مستطاب ’’الدر

الثمین فی مبشرات النبی الامین‘‘ کے حوالے سے ہے، یہ عبارت پیش کی کہ آپ

نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی حاضری سے جب مشرف ہوئے تو آپ نے

آقا علیہ السلام سے عرض کیا:

یا رسول اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام، جن کا حسن آپ کے حسن

کا کروڑویں حصے کا بھی ایک حصہ نہیں ہے، پھر بھی زنانِ مصر آپ کی دیدار پر

اپنی انگلی کٹوا رہی ہیں۔ لیکن آپ کا حسن صحابہ دیکھ رہے ہیں، لیکن زنانِ

مصر والی کیفیت نہیں ہے۔ آخر وجہ کیا ہے؟

آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

«فقال النبي ﷺ: جمالي مستور عن أعين الناس، غيرةً من الله عز وجل،

ولو ظهر لفعل الناس أكثر مما فعلوا.»

یعنی اللہ تعالیٰ نے غیرت کی وجہ سے میرا حسن و جمال لوگوں کی نظروں سے

پوشیدہ رکھا ہے۔ اگر میرا حسن و جمال لوگوں پر ظاہر ہو جائے تو لوگوں کا حال

اس سے بھی زیادہ ہو جو یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ہوا۔

لیکن ہمارے امام، امامِ عشق و محبت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا

بریلوی قدس سرہ نے کیا خوب کہا ہے:

حُسنِ یوسف پہ کَٹی مصر میں انگشتِ زناں

سر کٹاتے ہیں تیرے نام پر مردانِ عرب

دوسری دلیل

دوسری دلیل وہ یہ ہے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

«يا أبا بكر، والذي بعثني بالحق، لم يعرف حقيقتي غير ربي.»

اے ابو بکر! جیسی میری حقیقت ہے، میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

تیسری دلیل

حضرت نے تیسری دلیل یہ پیش کی کہ شیخ عبد الحق نے مدارج النبوت میں نقل کیا ہے کہ:

«آنحضرت ﷺ از سر تا بقدم بے حد نور بود کہ دیدۂ حیرت در جمال و کمال

خیرہ می شود، مثل ماہ و آفتاب تاباں و روشن بود و اگر نقابِ بشریت نبوشیدہ

بودے، کس را مجال و ادراکِ حسنِ او ممکن نبودے۔»

چوتھی اور آخری دلیل

ایک جامع دلیل اور آخری دلیل حضرت نے پیش فرمائی، وہ یہ کہ حدیثِ احسان

بڑی معروف و مشہور ہے اور تصوف کی ایوان جس حدیث کے عماد پر کھڑی ، وہ یہی ہے۔

جیسا کہ مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہ جبرائیل علیہ السلام لباسِ

بشر میں ملبوس ہو کر بارگاہِ رسالت میں آئے اور دین صحابہ کو سکھایا۔ تو جب

جبرائیل علیہ السلام لباسِ بشر تبدیل کرکے نوری رہے، تو سرکارِ دو عالم ﷺ

لباسِ بشر میں بشر کیوں؟ یعنی ہم آپ کو نور بھی مانتے اور خیر البشر بھی ۔

تخلیق میں نور اور بعثت میں بشر ۔۔۔۔ بزبان مولانا انعام الرب اختر اورنگ آبادی

“ بشر انا بشر مثلکم کو کیا سمجھے

جو خود حجاب میں ہے وہ حجاب کیا دیکھے

بشر حقیقت خیر البشر کو پا نہ سکا

تہ حباب ہے کیا وہ حباب کیا دیکھے”

اس کے بعد آپ کی رقت انگیز دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

Rahmat-ul-Lil-Alameen ﷺ Conference & Grand Jashn-e-Milad-un-Nabi ﷺ CelebrationWe are delighted to share that the grand p...
27/08/2026

Rahmat-ul-Lil-Alameen ﷺ Conference & Grand Jashn-e-Milad-un-Nabi ﷺ Celebration

We are delighted to share that the grand programme held at Khanqah-E-Faiyazia, Simli Sharif, Patna City, was beautifully covered and published by leading newspapers.

27/08/2026

Rahmat-ul-Lil-Alameen ﷺ Conference
& Grand Jashn-e-Milad-un-Nabi ﷺ Celebration!!

Peer e Tariqat Hazrat Allama Maulana Syed
Shah Ghulam Faiyaz Hussain Faiyazi
Sajjadah Nasheen Khanqah-E-Faiyazia Simli Sharif Patna City

27/08/2026

Rahmat-ul-Lil-Alameen ﷺ Conference

& Grand Jashn-e-Milad-un-Nabi ﷺ Celebration!!

Address

STREET/NURUDDIN GANJ, POST-JHAUGANJ PS-MALSALAMI , PATNA CITY , PATNA , PIN
Patna
800008

Telephone

+919504647808

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khanqah - E - Faiyazia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Khanqah - E - Faiyazia:

Shortcuts

Share