Khanquah Emadia Qalandaria

Khanquah Emadia Qalandaria Khanqah Emadia Qalandaria was established in the name of Hazrat Syed Khwaja Emaduddin Qalandar alias Mian Sahab Rahmatullah Alaih (1065 ---- 1124 A.H )

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهّ...
01/08/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ (33) (الاحزاب)

28/07/2026
*استاذُ العلماء، جامعِ معقولات ومنقولات، شیخ الحدیث، مترجم صحیح البهاری، حضرت علامہ مفتی عبدالقدوس مصباحی صاحب علیہ الرح...
25/07/2026

*استاذُ العلماء، جامعِ معقولات ومنقولات، شیخ الحدیث، مترجم صحیح البهاری، حضرت علامہ مفتی عبدالقدوس مصباحی صاحب علیہ الرحمہ کا وصالِ پُرملال*

انتہائی رنج و الم کے ساتھ یہ اندوہناک خبر پیش کی جاتی ہے کہ صوبہ بہار کی سرزمین ایک عظیم علمی اور دینی سرمایہ سے محروم ہوگئی۔ آج بتاریخ 25 جولائی بروز ہفتہ استاذُ العلماء، بقیۃ السلف، عمدۃ الخلف، اعز تلمیذِ حضور حافظِ ملت، شہر قاضی ادارہ شرعیہ سہرسہ، مترجم صحیح البهاری حضرت علامہ مفتی عبدالقدوس مصباحی صاحب علیہ الرحمہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

حضرت مفتی صاحب مرحوم کا وصال صرف ایک فرد کی رحلت نہیں بلکہ علم، فقاہت، تقویٰ، دیانت اور اخلاص کے ایک روشن باب کا اختتام ہے۔ وہ صوبہ بہار کی ایسی علمی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت، تدریس، افتاء، قضا، اصلاحِ معاشرہ اور عوام کی دینی رہنمائی میں صرف کردی۔ آپ کی ذات ہزاروں لوگوں کے لیے مرجعِ اعتماد تھی۔ پیچیدہ شرعی مسائل ہوں یا معاشرتی الجھنیں، ہر شخص اطمینانِ قلب کے ساتھ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا اور آپ علم، حکمت اور شفقت کے ساتھ اس کی رہنمائی فرماتے۔

حضرت مفتی صاحب صرف ایک مفتی یا مدرس نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک ادارہ اور ایک تحریک کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی درسگاہ سے نکلنے والے ہزاروں تلامذہ آج ہندوستان کے مختلف گوشوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہی ان کے علمی فیضان کی زندہ علامت اور صدقۂ جاریہ ہے۔

آپ نے دار العلوم اسحاقیہ، جودھپور، راجستھان ، دار العلوم شیخ احمد کھٹو، احمدآباد، گجرات اور مخدوم اشرف مشن، پنڈوہ، مالدہ، پچھمی بنگال میں بحیثیت شیخ الحدیث اور ہندوستان کے مختلف درسگاہوں میں بحیثیت صدر المدرسين وصدر شعبۂ افتاء طویل عرصہ تک تدریس وافتاء کی خدمات انجام دیں۔

آپ کی رحلت سے صرف آپ کا خاندان ہی نہیں، بلکہ پورا صوبہ بہار، علمی حلقے، مدارس، مساجد، علماء، طلبہ اور عوام ایک ایسے محسن سے محروم ہوگئے ہیں، جس کا خلا مدتوں محسوس کیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے رجالِ علم صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، اور جب رخصت ہوتے ہیں تو اپنے پیچھے خاموشی، حسرت اور ایک ایسا خلا چھوڑ جاتے ہیں جسے پر کرنا آسان نہیں ہوتا۔

خانقاہ عمادیہ قلندریہ، پٹنہ اور مرکزی دارالعلوم عمادیہ، پٹنہ کے تمام افراد، اساتذہ اور بالخصوص حضور رئیس المشائخ حضرت علامہ مولانا الحاج سید شاہ مصباح الحق عمادی مدظلہ العالی سجادہ نشیں خانقاہ عمادیہ قلندریہ اس عظیم سانحۂ ارتحال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہلِ خانہ اور متعلقین کو دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔ ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ وہ حضرت مفتی صاحب مرحوم کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت نصیب فرمائے، اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

اللهم اغفر لأستاذِ الأساتذة، جامع المعقولات والمنقولات، شيخ الحديث، مترجم صحيح البهاري، فضيلة الشيخ المفتي عبد القدوس المصباحي رحمه الله تعالى، وارحمه، وعافه، واعفُ عنه، وأكرم نُزله، ووسِّع مُدخله، وأسكنه الفردوس الأعلى من جنات النعيم، يا رب العالمين.

عظَّمَ اللهُ أجرَ أهلِه وذويه وتلامذتِه ومحبِّيه، وأحسنَ عزاءَهم، وغفرَ لفقيدِهم، وجعلَ مثواه الفردوسَ الأعلى من جناتِ النعيم، وإنا لله وإنا إليه راجعون.

➊ پہلا مضمونامیر الاولیاء حضرت مولانا حافظ سید شاہ علی امیر الحق عمادی قدس سرہ سجادہ نشیں پنجم خانقاہ عمادیہ قلندریہ کا ...
12/07/2026

➊ پہلا مضمون
امیر الاولیاء حضرت مولانا حافظ سید شاہ علی امیر الحق عمادی قدس سرہ سجادہ نشیں پنجم خانقاہ عمادیہ قلندریہ کا مختصر تعارف
نام: علی امیر الحق
تاریخی نام: گہر بخت
تخلص: شہود
ولادت: بروز بدھ ٦ ذیقعدہ ١٢٢٧ھ میں ہوئی
والد: حضرت سید شاہ ظہور الحق ظہور محدث پھلواروی قدس سرہ (سجادہ سوم خانقاہ عمادیہ)
خانوادہ:جعفری زینبی، حضرت تاج العارفین پیر مجیب الله قادری قدس سرہ کی چوتھی پشت
ابتدائی تعلیم :دادا حضور حضرت سید شاہ نور الحق تپاں قدس سرہ و والد بزرگوار سے حاصل کی
سند فراغت:درسیات کی مکمل کتابیں برادر معظم حضرت سید شاہ نصیر الحق محدث چراغِ عظیم آباد قدس سرہ سے پڑھی اور ۲۲ سال کی عمر میں سند فراغت حاصل کی
سند حدیث :حضرت مولانا مرزا حسن علی شاگرد حضرت عبد العزیز محدث دہلوی سے لکھنؤ جا کر لی
بیعت،اجازت و خلافت:برادر محترم سراج السالکین سید شاہ نصیر الحق قدس سرہ
سجادگی :حضرت شاہ علی امیر الحق قدس سرہ سجادگی سے پہلے الہ آباد میں ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز تھیں پیر و مرشد کی رحلت کے بعد ۲۰،جمادی الاول ۱۲٦١ھ بروز عرس حضرت محبوب رب العالمین خواجہ عماد الدین قلندر قدس سرہ حضرت سید شاہ علی امیر الحق قدس سرہ خانقاہ عمادیہ قلندریہ کے پانچویں سجادہ نشیں ہوئے
مدت سجادگی:امیر الاولیاء سیدنا علی امیر الحق قدس سرہ تقریبا ٤١ سال سجادہ عماد و مجیب پر جلوہ فرما ہوکر یاد الہی و ہدایت خلق الله میں صرف کیا اور شریعت و طریقت کے نور سے اہل عظیم آباد کو منور فرمایا
خلیفہ و جانشیں:اکمل الکاملین مرشد الزاہدین حضرت الحاج سید شاہ رشید الحق قدس سرہ
زیارت حرمین شریفین :۱۲۸۹ھ میں علماء و فضلاء و مریدان کے عظیم قافلہ کے ہمراہ تشریف لے گئیں، آپ امیر قافلہ تھیں
اولاد:ایک بیٹی اور بیٹا حضرت شاہ رشید الحق قدس سرہ
عمر مبارک : ٧٤ سال
رحلت: ۱۵،محرم الحرام ۱۳۰۲ھ بروز منگل امیر الاولیاء حضرت سید شاہ علی امیر الحق قدس سرہ اس دار فانی سے کوچ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے
مزار پر انوار:لعل میاں کی درگاہ پھلواری شریف میں برادر بزرگوار و پیر و مرشد سراج السالکین سید شاہ نصیر الحق قدس سرہ کے قدموں کی جانب واقع ہے
عرس پاک:ہر سال ۲٤،محرم الحرام کو خانقاہ عمادیہ قلندریہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی و سید پور بنگلہ دیش میں آپ کا عرس پاک منایا جاتا ہے اور شرکاء آپ کے فیضان سے مستفیض ہوتے ہیں

➋ دوسرا مضمون
ہادی شریعت حامی طریقت نور العرفاء انیس الفقراء والمساكين حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ سجادہ ہشتم خانقاہ عمادیہ قلندریہ، منگل تالاب، پٹنہ سٹی، پٹنہ، بہار
نام: محمد صبیح الحق
تاریخی نام: چراغ عماد
تخلص:صبیح
ولادت:۸،رمضان المبارک ۱۳۱۹ھ مطابق ۱۹۰۱ء میں ہوئی
والد:حضرت سید شاہ حبیب الحق عمادی قدس سرہ(سجادہ ہفتم خانقاہ عمادیہ قلندریہ)
خانواده:جعفری،زینبی حضرت پیر مجیب الله قادری قدس سرہ کی ساتویں پشت
ابتدائی تعلیم :دادا حضور حضرت سید شاہ رشید الحق قدس سرہ کی آغوش شفقت میں ہوئی اور درسیات کی ابتدائی کتابیں والد بزرگوار سے مکمل کی
سند فراغت :مدرسہ الہیات کانپور میں مولانا آزاد سبحانی کے زیر نگرانی حاصل کی
بیعت :۱۲ سال کی عمر میں دادا حضور ششم سجادہ خانقاہ عمادیہ کے مبارک ہاتھ پر بیعت ہوئے
اجازت و خلافت:والد بزگوار ہادی الشریعت و الطریقت حضرت سید شاہ حبیب الحق قدس سرہ
سجادگی :دسمبر ۱۹٤٢ء کو والد گرامی کے پردہ کرنے کے بعد حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ خانقاہ عمادیہ کے آٹھویں سجادہ ہوئے
مدت سجادگی :تقریبا ۳۳ برس آپ سید شاہ صبیح الحق قدس سرہ نے مسند سجادگی کے فرائض بحسن و کمال انجام دیئے،اپنے شیریں زبان اور مواعظ حسنہ سے ہر خواص و عام کی اصلاح فرمائی اور سالک طریقت کو قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ مثنوی مولانا روم و مکتوبات صدی کا درس دے کر ان کے ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی مزین فرمایا
زیارت حرمین شریفین :ایک بار آپ زیارت کے لئے تشریف لے گئے اور فریضہ حج ادا کیا
شادی:۱۹۲۵ء میں آبگلہ شہر گیا میں سید شاہ مظاہر امام قدس سرہ کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی
خلیفہ و جانشیں:فرید العصر فرید ملت حضرت سید شاہ فرید الحق عمادی قدس سرہ
اولاد :تین بیٹے دو بیٹیاں
عمر مبارک :۷٤ برس
رحلت :۲٤،محرم الحرام ۱۳۹۵ھ مطابق ۷ فروری ۱۹۷۵ء بروز جمعہ بوقت نماز جمعہ نور العرفاء حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ چراغِ عماد اپنے نور ولایت سے جہاں کو روشن کرکے اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے
مزار پر انوار:لعل میاں کی درگاہ پھلواری شریف میں اپنے والد گرامی حضرت سید شاہ حبیب الحق عمادی قدس سرہ کے قدموں کے جانب واقع ہے
عرس پاک:ہادی طریقت حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ سے ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے طالب طریقت مرید ہوئے، ہر سال۲٤،٢۵محرم الحرام کو خانقاہ عمادیہ قلندریہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی و سید پور بنگلہ دیش و پاکستان میں آپ کا عرس پاک منایا جاتا ہے اور تمام سلاسل کے لوگ شریک ہو کر آپ کی روحانیت سے مستفیض ہو تے ہیں
ماخوذ از :انوار الاولیاء و نقوش صبیح

➌ تیسرا مضمون
ہادی شریعت قطب العالم فرید ملت زین العلماء الحاج حضرت سید شاہ فرید الحق عمادی قدس سرہ العزیز سجادہ نہم خانقاہ عمادیہ قلندریہ کا مختصر تعارف
نام:فرید الحق
تاریخی نام:محمد نظام الحق عمادی
تخلص:فرید عمادی عظیم آبادی
ولادت:یکم جمادی الاول ١٣٤٧ھ مطابق ۱۹۲۸ء خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی میں
والد:ہادی طریقت محافظ شریعت حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ سجادہ ہشتم خانقاہ عمادیہ قلندریہ
خانواده:جعفری،زینبی تاج العارفین حضرت پیر مجیب الله قادری پھلواروی قدس سرہ کی آٹھویں پشت

مکتب:چار سال کی عمر میں دادا حضور حضرت سید شاہ حبیب الحق عمادی قدس سرہ سجادہ ہفتم خانقاہ عمادیہ قلندریہ نے کرائی
ابتدائی تعلیم:دادا حضور و والد گرامی سے حاصل کی
سند فراغت :۱۹۵٤ء میں مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف سے حاصل کی
اسمائے گرامی اساتذہ:والد گرامی حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ، ملک العلماء حضرت مولانا ظفر الدین بہاری، حضرت مولانا ابراہیم رضا خاں عرف جیلانی میاں بریلی شریف
بیعت اجازت و خلافت:ہادی طریقت حضرت سید شاہ صبیح الحق عمادی قدس سرہ
سجادگی:فروری ۱۹۷۵ء میں والد بزرگوار کی رحلت کے بعد آپ فرید ملت حضرت سید شاہ فرید الحق عمادی قدس سرہ خانقاہ عمادیہ قلندریہ کے نویں سجادہ نشیں ہوئے
مدت سجادگی:تقریبا ۲٦ سال آپ نے بحسن و خوبی خانقاہ عمادیہ قلندریہ کی سجادگی کے فرائض انجام دیئے اور ہزاروں ہزار سالک طریقت کی رشد و ہدایت فرمائی اور ۱۹۷۹ء میں مدرسہ عماد العلوم کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھ پٹنہ سے جہالت کی تاریکی دور کر علم دین کی ایسی شمع روشن کی کہ آج تک جہاں والے اس سے فائدہ حاصل کر اپنی دین و دنیا سنوار رہے ہیں
تصنیفات:حالات فخر الزماں حضرت شہاب الدین پیر جگجوت، میلاد رسول پر اعتراض اور اس کا جواب، کب کھڑے ہوں نماز میں، سفر آخرت، عربی کی پہلی، حزب البحر کلاں ترتیب وغیرہ
تحریر کردہ نعتیں:٦٤٠ نعتیں، اولیاء و اصفیاء کی ٢٦منقبتیں سلام و مناجات وغیرہ
تنویر حرم، مثنوی گوہر کمال، مناقبات اولیاء و اصفیاء،الوان سخن حضرت فرید ملت قدس سرہ کے اشعار کا مجموعہ ہے
شادی:۱٦،دسمبر ۱۹۵٦ء کو قادر آباد کے حافظ سید نور الدین احمد رحمۃاللہ علیہ کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی
اولاد:چھ بیٹے دو بیٹیاں
خلیفہ و جانشیں:آپ کے بڑے صاحبزادے پیر طریقت رئیس المشائخ حضرت سید شاہ مصباح الحق عمادی مدظلہ العالی اطال اللہ عمرک و اجل قدرک(سجادہ دہم خانقاہ عمادیہ قلندریہ)
زیارت حرمین شریفین :چار مرتبہ حضرت فرید ملت قدس سرہ نے زیارت حرمین شریفین کے لئے سفر فرمایا
عمر مبارک: ۷۳ برس
رحلت:۲۱،ذی الحجہ ١٤٢١ھ مطابق ۱۷،مارچ ۲۰۰۱ء بروز سنیچر حضرت فرید ملت قدس سرہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے
مقام تصوف:اعلیٰ حضرت فرید ملت سید شاہ فرید الحق عمادی قدس سرہ اپنی رحلت کے وقت مقام غوثیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے
عرس مبارک:حضرت فرید ملت قدس سرہ کے مریدان ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ میں کثرت سے موجود ہیں اور ہر ۲۱،ذی الحجہ و ہر ۲۵ محرم الحرام کو خانقاہ عمادیہ قلندریہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی و سید پور بنگلہ دیش و پاکستان وغیرہ میں آپ کا عرس مبارک بڑے تزک و احتشام کے ساتھ مناکر آپ کے فیضان و فیضان قلندریت سے مستفیض ہوتے ہیں

URS MUBARAK146th Urs MubarakAMEER-UL-AULIYA HAZRAT MAULANA AL-HAAJ SYED SHAH ALI AMEER-UL-HAQ EMADI (RAH)5th Sajjadah Na...
08/07/2026

URS MUBARAK

146th Urs Mubarak

AMEER-UL-AULIYA HAZRAT MAULANA AL-HAAJ SYED SHAH ALI AMEER-UL-HAQ EMADI (RAH)
5th Sajjadah Nashin, Khanquah Emadia Qalandaria

53rd Urs Mubarak

HADI-E-TAREEQAT HAZRAT MAULANA AL-HAAJ SYED SHAH SABEEH-UL-HAQ EMADI (RAH)
8th Sajjadah Nashin, Khanquah Emadia Qalandaria

26th Urs Mubarak

QUTUB-E-AALAM FAREED-E-MILLAT HAZRAT MAULANA ALHAAJ SYED SHAH FAREED-UL-HAQ EMADI (RAH)
9th Sajjadah Nashin, Khanquah Emadia Qalandaria

Programs Schedule

Programs:

24 Muharram-ul-Haram 1448 AH (10 July 2026, Friday):

After Isha Prayer – Qul Shareef & Majlis-e-Sama

25 Muharram-ul-Haram 1448 AH (11 July 2026, Saturday):

After Fajr Prayer – Quran Recitation

At 10 AM – Majlis-e-Sama & Qul Shareef

Under the Supervision of:

RAYEESUL MASHAYEKH HAZRAT ALLAMA MAULANA AL-HAAJ SYED SHAH MISBAH-UL-HAQUE EMADI (MZA)

Venue:

Khanquah Emadia Qalandaria, Mangal Talab, Patna City, Bihar, India

29/06/2026

Imam Hussain (r.a) ki shahadat ka waqiya
Speaker : Rayeesul Mashayekh Hazrat Allama Maulana Al-Haaj Syed Shah Misbahul Haque Emadi m.z.a

26/06/2026

حضور رئیس المشائخ: ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کا تقاضا ہے

پٹنہ: خانقاہ عمادیہ قلندریہ، منگل تالاب، پٹنہ سٹی میں 10 محرم الحرام، یومِ عاشورہ، مطابق 26 جون، بروز جمعہ، حضور رئیس المشائخ حضرت سید شاہ مصباح الحق عمادی مدظلہ العالی، سجادہ نشین خانقاہ عمادیہ قلندریہ، نے خطبۂ جمعہ میں ایمان کے مراتب، ظلم کی مختلف صورتوں، تحفظِ عقائدِ اہلِ سنت اور واقعۂ کربلا کے ابدی پیغام پر مفصل خطاب فرمایا۔ خطبۂ جمعہ میں بڑی تعداد میں علماء، طلبہ، مریدین اور فرزندانِ اسلام نے شرکت کی۔

اپنے خطاب کے آغاز میں حضرت نے ایمان کے مراتب پر روشنی ڈالتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ بیان کی کہ اگر کوئی شخص ظلم کو دیکھے تو اپنی استطاعت کے مطابق پہلے اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس کی قدرت نہ ہو تو زبان سے اس کے خلاف آواز بلند کرے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم اپنے دل میں اسے برا جانے، اور یہی ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

حضرت نے فرمایا کہ ظلم صرف یہی نہیں کہ کسی بے گناہ کو قتل کر دیا جائے، کسی کا گھر جلا دیا جائے یا اس کا مال ناحق چھین لیا جائے، بلکہ ظلم کی ایک انتہائی خطرناک صورت یہ بھی ہے کہ محسنِ کائنات، رحمتِ عالم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر انگشت نمائی کی جائے، اہلِ بیتِ اطہارؓ کی شان میں گستاخی کی جائے، امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی حرمت کو مجروح کرنے کی کوشش ہو یا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیص کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام امور ظلم کی بدترین صورتیں ہیں، کیونکہ ان کا تعلق دین کے بنیادی عقائد اور مقدس شخصیات کے احترام سے ہے۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ ایسے باطل افکار اور گستاخانہ رویوں کے خلاف ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق حق کا ساتھ دے اور باطل کے خلاف آواز بلند کرے۔ صرف مسلمان نام رکھ لینے سے کوئی شخص مسلمان نہیں ہو جاتا، بلکہ حقیقی مسلمان وہ ہے جو قرآن و سنت پر عمل کرے، اہلِ بیتِ اطہارؓ، امہات المؤمنینؓ اور صحابۂ کرامؓ سے محبت و عقیدت رکھے اور ان کے احترام کا تحفظ کرے۔

اپنے خطاب میں حضرت نے واقعۂ کربلا کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایمان کے اعلیٰ ترین درجے کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو میدانِ کربلا کو دیکھا جائے، جہاں سید الشہداء حضرت امام حسینؓ نے ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے حق و صداقت کی خاطر اپنی جان ہی نہیں بلکہ اپنا پورا گھرانہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا۔ آپؓ نے دنیاوی مفادات پر دینِ اسلام کی سربلندی کو ترجیح دی اور رہتی دنیا تک حق پر استقامت کی ایک بے مثال مثال قائم کر دی۔

حضرت نے فرمایا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے جوان فرزند حضرت علی اکبرؓ، اپنے شیر خوار صاحبزادے حضرت علی اصغرؓ، اپنے بھتیجے حضرت قاسم بن حسنؓ، اپنے بھائی حضرت عباس علمدارؓ اور دیگر اہلِ بیت و جانثاروں کو راہِ حق میں قربان ہوتے دیکھا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ نے بھی دینِ حق کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ حضرت زینب کے باغ کے دو پھول حضرت عونؓ و محمدؓ بھی میدانِ کربلا میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عزیز و اقارب کی عظیم قربانیاں دیکھنے کے باوجود حق کے راستے سے ایک لمحہ بھی پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہزاروں افراد پر مشتمل، ہر طرح کے ہتھیاروں سے لیس لشکر موجود تھا اور دوسری طرف صرف بہتر نفوسِ قدسیہ تھے، جن میں اہلِ بیتِ اطہارؓ، اہلِ خاندان اور وفادار جانثار شامل تھے۔ ظاہری اعتبار سے یہ ایک غیر مساوی معرکہ تھا، لیکن حضرت امام حسینؓ نے ثابت کر دیا کہ کامیابی کا معیار تعداد، طاقت یا دنیاوی وسائل نہیں، بلکہ حق پر ثابت قدمی، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور دین کی خاطر ہر قربانی دینے کا جذبہ ہے۔

حضرت نے فرمایا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے عمل سے ایمان کے سب سے اعلیٰ درجے کا مظاہرہ کیا۔ آپؓ نے ظلم کو روکنے کے لیے خود میدان میں اتر کر امت کو یہ ابدی پیغام دیا کہ جب دین، عقیدہ، ناموسِ رسالت ﷺ اور حق و انصاف پر حملہ ہو تو ایک مومن کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق حق کا ساتھ دینا چاہیے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔

اپنے خطاب میں حضرت نے خلافتِ صدیقی کا ایک اہم واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں جب بعض لوگوں نے بیت المال میں زکوٰۃ جمع کرانے سے انکار کیا تو حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اس فتنہ کے خلاف مضبوط موقف اختیار فرمایا اور اعلان کیا کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ چنانچہ آپؓ نے مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا، حالانکہ اس وقت اسلام نہایت نازک دور سے گزر رہا تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے بنیادی احکام، اسلامی شعائر اور صحیح عقائد کے تحفظ میں کسی قسم کی مداہنت یا کمزوری کی گنجائش نہیں۔

حضرت نے مزید فرمایا کہ آج بھی بعض فتنہ پرور عناصر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نبی کریم ﷺ، امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن، صحابۂ کرامؓ، آلِ رسولؐ اور دیگر اکابرینِ اسلام کی شان میں گستاخی اور تنقیص کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف پرامن، قانونی اور جمہوری طریقے سے بھرپور احتجاج کریں۔ اس ضمن میں انہوں نے نازیہ الٰہی کے بیانات کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناموسِ رسالت ﷺ، اہلِ بیتِ اطہارؓ اور صحابۂ کرامؓ کے تحفظ کے لیے اہلِ ایمان کو متحد رہنا چاہیے۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر حضرت نے مسلمانوں کو اتحاد، باہمی اخوت، حسنِ اخلاق، اتباعِ سنت اور محبتِ اہلِ بیتؓ و صحابۂ کرامؓ کو مضبوطی سے اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کا پیغام یہی ہے کہ مسلمان حق پر ثابت قدم رہیں، ظلم و باطل کے سامنے سر نہ جھکائیں اور حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں سے عملی سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں۔

بعد ازاں ملک و ملت کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن و امان، خانقاہ عمادیہ قلندریہ کی ترقی، دینی اداروں کی سربلندی اور پوری انسانیت کی خیر و بھلائی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

21/06/2026

Address

Mangal Talab, Patna City
Patna
800008

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khanquah Emadia Qalandaria posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Khanquah Emadia Qalandaria:

Shortcuts

Share