Ismailis of the North

Ismailis of the North This is an association of Ismaili Muslims in Northern region World

01/06/2026

Ismaili update with Aziz from Bangladesh.

29/05/2026

A Legacy of Knowledge, Humanity, and Spiritual Leadership
Why Ismailis Take Pride in Their Imam and Their Identity

In a world increasingly divided by intolerance, sectarianism, and social unrest, there are still communities quietly contributing to humanity through knowledge, compassion, and service. Among them is the global Ismaili Muslim community — a small but remarkably influential Muslim minority guided by a long tradition of spiritual leadership, intellectual progress, and humanitarian service.
For generations, the Ismaili Imams have championed education, dignity, pluralism, and human development, not only for their own followers but for society at large. Their contributions have left a lasting mark across South Asia, Africa, Central Asia, and beyond.
One of the most significant milestones associated with this vision was the support and encouragement given to modern Muslim education in the Indian subcontinent, including institutions such as the Aligarh Muslim movement. Later, institutions like Aga Khan University and the Aga Khan Hospital emerged as symbols of excellence in healthcare and education, serving people of every faith and background without discrimination.
The legacy of service extends even further. From rural health centers and schools to economic development initiatives and cultural preservation projects, thousands of institutions established under the guidance of the Ismaili Imamat continue to uplift vulnerable communities across different regions. These efforts reflect a deeper spiritual philosophy rooted in compassion, coexistence, and the dignity of humanity.
At the heart of this tradition lies a distinctly Sufi and ethical understanding of Islam — one that values wisdom over hatred, service over division, and knowledge over ignorance. The Ismaili interpretation of faith emphasizes that true religion should heal hearts, unite communities, and inspire moral responsibility toward others.
This vision became especially important during a time when sections of Muslim society resisted modern education, particularly for women. While conservative voices sought to restrict female education, Imam Sultan Muhammad Shah Aga Khan III strongly advocated for the intellectual empowerment of Muslim women. He believed that no nation could progress if its daughters remained deprived of knowledge. His reforms encouraged countless Muslim families to educate their daughters and embrace social advancement.
As his influence and popularity grew, criticism also emerged from religious hardliners who viewed modernist and progressive interpretations of Islam with suspicion. Yet notable intellectuals, including poet-philosopher Allama Muhammad Iqbal, are remembered for recognizing the sincerity, devotion, and intellectual spirit within the Ismaili community. Historical references mentioned by Javed Iqbal suggest that Iqbal held deep respect for communities devoted to the love of the Prophet’s family and committed to intellectual growth and service.
Today, the Ismaili community continues to stand as an example of peaceful coexistence, volunteerism, and civic responsibility. Across the globe, Ismailis are known for building schools, hospitals, community centers, and humanitarian initiatives that benefit humanity regardless of religion or ethnicity.
For many observers, this legacy represents a powerful reminder that Islam’s true spirit is not found in anger or division, but in mercy, wisdom, education, and service to mankind.
In times when humanity searches for bridges instead of walls, such examples deserve not only recognition — but appreciation.
Courtesy: Zaeem Khan

"آغا خان چہارم ( شیعہ اسماعیلہ امام شاہ کریم الحسینی) کا مختلف ادوار میں گلگت بلتستان آمد اور اُس کے اثرات" تحریر: Abdul...
27/05/2026

"آغا خان چہارم ( شیعہ اسماعیلہ امام شاہ کریم الحسینی) کا مختلف ادوار میں گلگت بلتستان آمد اور اُس کے اثرات"

تحریر: Abdul Salam Naz

شیعہ اسماعیلہ مسلم کمیونٹی کے روحانی پیشوا، حضرت شاہ کریم الحسینی، جنہیں دنیا بھر میں آغا خان چہارم کے نام سے جانا جاتا ہے، نے گلگت بلتستان کی تقدیر بدل دی۔ 1957ء میں صرف 20 سال کی عمر میں امامت سنبھالنے کے بعد ان کے متعدد تاریخی دوروں نے نہ صرف روحانی بیداری پیدا کی بلکہ خطے کی معاشی، سماجی، تعلیمی، صحت اور ثقافتی ترقی میں ایک مکمل انقلاب برپا کر دیا۔ یہ علاقہ اس وقت شدید غربت، جغرافیائی تنہائی، عدم رسائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار تھا۔ ان کے ویژنری قیادت، "Aga Khan Development Network (AKDN)" اور خاص طور پر "Aga Khan Rural Support Programme (AKRSP)" نے اس خطے کو پسماندگی سے نکال کر پائیدار ترقی کا عالمی ماڈل بنا دیا۔
(یہ مضمون ان کے مختلف ادوار کے دوروں، تاریخی پس منظر، ترقیاتی اقدامات اور دور رس اثرات پر تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔)

تاریخی پس منظر اور امامت کا آغاز

شاہ کریم الحسینی 13 دسمبر 1936ء کو سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حضرت سلطان محمد شاہ آغا خان سوم کی وفات کے بعد 1957ء میں انہوں نے امامت سنبھالی۔ اس وقت گلگت بلتستان (سابقہ شمالی علاقہ جات) کے اسماعیلی کمیونٹی صدیوں سے اماموں کے براہ راست رابطے سے محروم تھی۔ علاقے میں غربت، جہالت اور بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی تھی۔ 80 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے تھی، کوئی جدید سڑکیں، ہسپتال یا سکول نہ تھے۔ لوگ بنیادی طور پر زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتے تھے، جو موسموں اور قدرتی خطرات کا شکار رہتے تھے۔

امام نے امامت سنبھالتے ہی ترقی، تعلیم اور انسانی فلاح پر زور دیا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی اور سماجی ترقی بھی ضروری ہے۔ AKDN کے ذریعے انہوں نے تعلیم، صحت، دیہی ترقی، ثقافتی تحفظ اور معاشی خود کفالت کے عالمی نیٹ ورک قائم کیے، جو آج بھی 30 سے زائد ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

پہلا تاریخی دورہ: 1960ء – (اندھیرے سے روشنی کی طرف)

1960ء میں شاہ کریم الحسینی کا پہلا دورہ گلگت بلتستان کے لیے سنگ بنیاد ثابت ہوا۔ 20 سے 26 اکتوبر تک یہ دورہ گلگت، غذر، ہنزہ اور چترال کا احاطہ کرتا تھا۔ یہ تقریباً 1400 سال بعد کسی امام کا خطے کا براہ راست دورہ تھا۔ ہنزہ میں جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ آپ نے کیا دیکھا تو انہوں نے جواب دیا: "I saw horrible poverty there"۔ یہ جملہ آج بھی مقامی بزرگوں کی زبان پر ہے۔

دورے کے دوران انہوں نے جماعت خانوں میں "دیدار" فرمائے۔ لوگوں نے براہ راست امام کی زیارت کی اور ان کی ہدایات حاصل کیں۔ اس دورے نے روحانی طور پر ایک نئی روح پھونک دی۔ لوگوں میں امید پیدا ہوئی کہ اب تبدیلی آئے گی۔ امام نے کمیونٹی لیڈرز کو تعلیم، صحت اور معاشی خود انحصاری پر زور دیا۔ نتیجتاً "Diamond Jubilee Schools" جیسے پروگراموں کو منظم شکل ملی، جو 1940-60 کی دہائی میں شروع ہو چکے تھے۔

اس دورے نے امام کے ذہن میں خطے کی ترقی کا خاکہ تیار کیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو بااختیار بنانے، خواتین کی شمولیت اور کمیونٹی کی خود کفالت پر تاکید کی۔ یہ دورہ صرف روحانی نہیں بلکہ ترقیاتی ویژن کا آغاز بھی تھا۔

1970-80 کی دہائی: اداروں کی بنیاد اور AKRSP کا قیام

1960ء کے دورے کے بعد امام نے مسلسل نگرانی رکھی۔ 1970ء کی دہائی میں 'Aga Khan Health Services (AKHS)" اور "Aga Khan Foundation" کے ذریعے ماں اور بچوں کی صحت کے پروگرام شروع ہوئے۔ prenatal care، ویکسینیشن، غذائی شعور اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز (CHWs) کی تربیت نے دور دراز دیہاتوں تک رسائی ممکن بنائی۔

1982ء میں 'AKRSP" کا قیام ان کی Silver Jubilee کا تحفہ تھا۔ یہ پروگرام کمیونٹی لیڈرشپ پر مبنی تھا۔ مقامی لوگوں کو "Village Organizations (VO)" اور "Women Organizations (WO)" میں منظم کیا گیا۔ ان تنظیموں نے سیونگ، مائیکرو فنانس، آبپاشی، زراعت کی بہتری اور چھوٹے کاروبار شروع کیے۔ World Bank کی رپورٹس کے مطابق پہلے دس سالوں میں ایک ملین لوگوں کی اوسط آمدنی تقریباً دگنی ہو گئی۔

اے کے آر ایس پی ( AKRSP ) نے ہزاروں انفراسٹرکچر پروجیکٹس مکمل کیے: پل، سڑکیں، مائیکرو ہائیڈرو پاور، پانی کی سپلائی اور سینیٹیشن۔ "WASEP (Water and Sanitation Extension Programme)" نے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو نمایاں طور پر کم کیا۔ 1983ء میں "Karimabad" میں "Aga Khan Girls Academy" کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جو لڑکیوں کی تعلیم میں انقلاب کا پیش خیمہ بنا۔

1987ء میں Passu (گوجال) کا دورہ تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔ 20 نومبر 1987ء کو AKRSP کے کور آفس میں انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں لکھا:. "I have spent here in the Northern Areas one of the most inspiring and exciting weeks of my life... Centuries of poverty and despair... appear to be fading into the past."
(میں نے یہاں شمالی علاقوں میں اپنی زندگی کے سب سے زیادہ متاثر کن اور ولولہ انگیز ہفتوں میں سے ایک گزارا ہے... صدیوں کی غربت اور مایوسی... اب ماضی میں مدھم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔)
یہ الفاظ AKRSP کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔

1990-2000 کی دہائی: (توسیع، ثقافتی بحالی اور انسانی وسائل کی ترقی)

اس دور میں AKDN کی سرگرمیاں مزید پھیل گئیں۔ "Aga Khan Trust for Culture (AKTC)" شگر قلعہ، التت قلعہ، بلتت قلعہ اور خپلو پیلس کی بحالی کی۔ یہ قلعے اب میوزیم، ثقافتی مراکز اور ہوٹلوں کے طور پر کام کر رہے ہیں، جو ہیرٹیج ٹورزم کو فروغ دے رہے ہیں۔ Baltit Fort کی بحالی نے متعدد UNESCO Asia-Pacific Heritage Awards جیتے۔

"Professional Development Center North (PDCN)" کا 2000ء میں افتتاح ہوا، جو ٹیچرز کی تربیت کا اہم مرکز بنا۔ امام نے اس موقع پر تاکید کی کہ عمارتیں بنانا کافی نہیں، معیاری انسانی وسائل درکار ہیں۔ مائیکرو فنانس، مائیکرو انٹرپرائزز اور سیاحت کے پروگراموں نے نئی نوکریاں پیدا کیں۔

2000-2017: پائیدار ترقی، آفتوں سے نمٹنے اور آخری دورے

2000ء کے بعد دورے جاری رہے۔ "Serena Hotels" 'First Microfinance Bank" اور Accelerate Prosperity نے سیاحت، entrepreneurship اور مالی شمولیت کو فروغ دیا۔ Focus Humanitarian Assistance (FOCUS) نے قدرتی آفات (سیلاب، زلزلہ، برفانی تودے) کے لیے کمیونٹی preparedness پروگرام شروع کیے، جن میں ہزاروں رضاکار تربیت یافتہ ہوئے۔
AKDN نے telemedicine، Aga Khan University کے ذریعے جدید صحت سہولیات اور AKU Examination Board کے ذریعے تعلیمی معیار بلند کیا۔ 2017ء ان کا آخری بڑا دورہ تھا، جس نے کمیونٹی کو نئی ہمت بخش دی۔
امام کے ان دوروں کے علاقے پر اثرات: ( ایک جائزہ)

معاشی اثرات:
AKRSP نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔ زراعت کی بہتری، 18 MW سے زائد ہائیڈرو پاور، سولر آبپاشی، 4,700 سے زائد انفراسٹرکچر پروجیکٹس، 51 ملین درخت لگانا اور 131,912 ہیکٹر نئی زمین کی ترقی نے خطے کو بدل دیا۔ مائیکرو فنانس نے لاکھوں روپے کی سیونگ اور لونز ممکن بنائے۔ سیاحت اب اہم معاشی ستون ہے۔ World Bank مطالعات کے مطابق آمدنی میں دگنا اضافہ ہوا۔

تعلیمی انقلاب:

لڑکیوں کی انرولمنٹ میں زبردست اضافہ۔ Diamond Jubilee Schools، Aga Khan Academies، PDCN اور scholarships نے ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز اور پیشہ ور پیدا کیے۔ AKESP کی سکولز نے معیار بلند کیا۔ EDIP جیسے پروگراموں نے دور دراز علاقوں میں تعلیم کو رسائی دی۔

صحت اور سماجی ترقی:

AKHS اور AKRSP نے شرح اموات کم کی، ویکسینیشن، غذائی پروگرام اور WASEP نے پانی کی صفائی ممکن بنائی۔ خواتین بااختیار ہوئیں؛ WO نے انہیں فیصلہ سازی میں شامل کیا۔ gender equality اور social inclusion میں بہتری آئی۔

ثقافتی اور ماحولیاتی اثرات:

فورٹس کی بحالی نے heritage tourism کو فروغ دیا۔ ماحولیاتی پروگرامز نے جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور climate resilience بڑھایا۔ passive solar greenhouses اور نئی زرعی تکنیکوں نے غذائی تحفظ یقینی بنایا۔

سماجی ہم آہنگی اور governance:

امام نے pluralism، ethical governance اور civil society پر زور دیا۔ مختلف برادریوں کے درمیان تعاون بڑھا۔ AKDN نے حکومت کے ساتھ پارٹنرشپ میں کام کیا، جو مقامی governance کو مضبوط کرتا رہا۔

روحانی اور اخلاقی اہمیت

ہر دورہ (1960، 1987، 2000، 2017) نے جماعت کو spiritual strength دی۔ "Salgirah" (23 اکتوبر) اب بھی بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ امام نے تاکید کی کہ ترقی صرف مادی نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور ذہنی بھی ہونی چاہیے۔ ان کا مشورہ تھا: کمیونٹیز خود ذمہ دار بنیں، merit، transparency اور accountability کو اپنائیں۔ ان کی تعلیمات نے لوگوں کو امید، خود اعتمادی اور عالمی شہری بننے کا احساس دلایا۔

چیلنجز اور مستقبل کی راہ

ترقی کے باوجود آئینی حیثیت، انفراسٹرکچر کی کمی، climate change، قدرتی آفات اور بازار کی رسائی جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ AKDN کا کمیونٹی owned ماڈل انہیں حل کرنے میں مددگار ہے۔ 2025ء میں امام کی وفات کے بعد 50ویں امام شاہ رحیم الحسینی نے یہ میراث آگے بڑھائی ہے۔ 2026ء میں ان کا متوقع دورہ تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک بدلتی ہوئی حقیقت

شاہ کریم الحسینی کے دوروں اور AKDN کی خدمات نے گلگت بلتستان کو پسماندہ علاقے سے ترقی کے ماڈل میں تبدیل کر دیا۔ آج یہ خطہ بہتر تعلیم، صحت، معاشی مواقع، ثقافتی فخر اور سماجی ہم آہنگی کا حامل ہے۔ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدلیں، خواتین بااختیار ہوئیں، نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہو رہے ہیں۔

امام کا ویژن نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ مستقبل کی روشنی بھی ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ انہیں "روشنی کا سفر" کہتے ہیں۔ یہ سفر جاری ہے – تعلیم، خود کفالت، اخلاقیات اور انسانی ترقی کی طرف۔ ان کی میراث نئی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی اور خطے کو مزید ترقی کی راہ پر لے جائے گی۔

ماخذات: ( یہ مضمون AKDN کی آفیشل رپورٹس، World Bank مطالعات، مقامی تاریخی دستاویزات اور معتبر ذرائع سے اخذ کیا گیا ہے، چترال میں یہ صورتحال قدرے مختلف ہے)

جین زی امام آغا خان پنجم شاہ رحیم الحیسینی ان دنوں دیدار کیلیے پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود ہیں۔ وژن اور ملنساری می...
26/05/2026

جین زی امام

آغا خان پنجم شاہ رحیم الحیسینی ان دنوں دیدار کیلیے پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود ہیں۔ وژن اور ملنساری میں اپنے پر دادا سلطان محمد شاہ کاعکس ہیں۔

سلطان محمد شاہ کے کریڈٹ پہ بہت کچھ ہے۔لیگ آف نیشز کی صدارت، مسلم لیگ کی صدارت، شملہ وفد کی قیادت، لندن گول میز کانفرنس، عمان سے گوادر کی خریداری، فلاحی نیٹ ورک، اور بہت کچھ۔

مگر جو کام سب سے بڑا ہے،وہ برصغیر کے مسلم سماج میں جدید علوم کی ترویج ہے۔ جدید علوم کی قدر انہی کو ہوسکتی ہے جنکی کتابیں ضبط ہوئی ہوں اور لائبریریاں جلائی گئی ہوں۔ صدیوں تک جنہوں نے جلاوطنیاں اور تنہائیاں کاٹی ہوں۔ محتسب سے چھپ چھپاکر یونانی فلسفہ پڑھا ہو۔

ہم اسماعیلیوں کی تاریخ میں صرف حسن صباح کے قلع الموت کے بارے میں جانتے ہیں، وہ بھی غلط جانتے ہیں۔ چھاپہ مار فکشن نگاروں نے ہمیں قلع الموت کی حشیش تو دکھا دی، ان خفیہ حلقوں کے بارے میں نہیں بتایا جن سے جلاوطن مسلم فلاسفر اور سائنسدان وابستہ تھے۔

سلطان محمد شاہ کو نکال دیں تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ ادھوری ہے۔ ایک لاکھ جیب سے دیے، 29 لاکھ کیلیے شہر شہر جھولی پھیلائی، تب جاکر ایم اے او کالج کو (علی گڑھ) یونیورسٹی کا درجہ ملا۔

علی گڑھ کے بڑے ناموں میں ایک یہی تھے جو عورت کی شمولیت کے بغیر ترقی کےایجنڈے کو نامکمل سمجھتے تھے۔بچیوں کیلیے انہوں اسکول کالجز کا الگ سے جال بچھایا۔

ان کا قول ہے،اگر میرے دو بچے ہوتے، ایک بیٹا ایک بیٹی، میری استعداد ایک بچے کو تعلیم دینے کی ہوتی، میں بیٹی کو تعلیم دیتا۔اس قول کے اثرات گوجال اورغذرکے علاقوں میں لڑکیوں کی شرح خواندگی کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

پچانوے سے ستانوے فیصد تک شرح خواندگی صرف قول کا نتیجہ نہیں ہے۔اس میں عمل بھی شامل ہے۔امامت کے پچاس سال پورے ہوئے تو عقیدت مندوں نےآغا خان سلطان محمد شاہ کوسونے میں تولا۔ سونے اور نذرانوں کی رقم بچیوں کی تعلیم کیلیے ہنزہ اور چترال بھجوادی۔ یہ کہانی امامت کے ساٹھ سال پورے ہونے پر پھر سے دہرائی گئی۔جو کچھ ہے اسی اچھائی کے صدقے ہے۔

شاہ کے بعد شاہ کے پوتے شاہ کریم الحسینی مسند پر آئے۔وہ کم بولتے تھے زیادہ کرتے تھے۔انکی پوری زندگی اپنے دادا کے خوابوں کی تعبیر میں گزری۔دادا کی فلاحی سوچ کو منظم کر کے ایک عالمگیر تحریک کی صورت دی۔

ساتھ ہی ایک ایسا مزاج تشکیل دینے میں خود کو وقف کیا جو فطرت سے ہم آہنگ ہو۔ جس میں ٹھہراو ہو۔ جس کے لیے انسانی حقوق قانون کا نہیں، طبعیت کا معاملہ ہو۔ جس کیلیے مکالمے کا مطلب بولنے کی آزادی نہ ہو، بلکہ سننے کا حوصلہ ہو۔ صنفی برابری معمول کی بات ہو۔

جو برتری اور تسلط کے شوق سے پاک ہو۔ جو خدمت کے بدلے عقیدے نہ خریدتا ہو۔تہذیبوں کے ساتھ تصادم کے بجائے اپنے اور دوسرے کے بیچ مشترک قدریں ڈھونڈتا ہو۔ پرنس نے کسی بھی تصادم سے بچنے کیلیے یہ سب اخوان الصفا کے مفکروں کی طرح خاموشی اور تدبر کے ساتھ کیا۔

اب آغا خان پنجم شاہ رحیم الحسینی کا زمانہ ہے۔ پر دادا کے خواب پورے ہوچکے اور مزاج تقریبا پنپ چکا۔ اب دائرہ بڑھانے کا وقت ہے۔

پرنس رحیم مسند سے اتر کر لوگوں کی دسترس میں آرہے ہیں۔جین زی کو سن رہے ہیں اور بچوں کو پیار کررہے ہیں۔نالج ایکسچینج اورعالمی شراکت داری کی سوچ کو نئے رخ پر لے جارہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ کو چیلینج اور مصنوعی ذہانت کو ہدف کے طور پر لے رہے ہیں۔بھائی چارہ جیسے الفاظ کو لغت سے مٹاکر جینڈر نیوٹرل الفاظ کو رواج دے رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے تعلیم سے محروم کروڑوں بچوں کو کارامد بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ذہنی صحت کو اہمیت دے رہے ہیں۔کھیلوں کو رابطے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔میراتھون ریس میں مسلسل حصہ لے رہے ہیں۔

کہہ رہے ہیں، کھیل ذاتی نظم و ضبط اور برداشت سکھاتے ہیں۔ہارجیت کے آداب سکھاتے ہیں۔مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔آپ لوگ عمر کے جس حصے میں بھی ہوں، دن میں کچھ وقت جسمانی صحت کیلیے ضرور نکالیں۔

انکی گفتگو سن کر ایک عید یاد آتی ہےجو ہنزہ میں گزری۔اتفاق سے کل عید ہے۔عید کی نماز ہم نے عطا آباد جھیل کے کنارے گلمت کے ایک میدان میں ادا کی۔ اس حسین تجربے پر الگ سے ایک کالم بنتا ہے۔

مُکی نے بیس منٹ کی مختصر گفتگو میں پندرہ منٹ صحت کو دیے۔بالائی علاقوں میں دل دماغ کے بڑھتے ہوئے امراض کو انہوں نے آکسیجن اور لائف اسٹائل کے ساتھ جوڑا۔ نیند پوری کرنے پر زور دیا۔صبح جلدی اٹھنے، اچھی غذا لینے اور پابندی سے ورزش کرنے کی ترغیب دی۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے منبروں سے دھیمے لہجے میں زندگی کی بات ہوتی ہے۔

امامت کا حلف لیتے ہوئے شاہ رحیم نے دنیا بھر کے اسماعیلیوں سے براہ راست گفتگو کی۔انہوں نے دو فرمان جاری کیے۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایسا کردار ادا کرو کہ مثال قائم ہوجائے۔اپنے اپنے ملکوں کے وفادار شہری بن کر رہو۔

شہری وفاداری والی بات آج کتنی اہم ہوگئی ہے یہ بیرون ملک مقیم مسلمان اب بھی نہیں سمجھ پارہے۔خاکم بدہن، سنبھلاو نہ آیا تو وقت انہیں کڑی آزمائش میں ڈالنے والا ہے۔

احساس کہیں نہ کہیں موجود ہے مگر تربیت آڑے آرہی ہے۔ غلبے کی نفسیات اور برتری کا احساس انہیں کھائے جا رہا ہے۔

ہمارے امیگرینٹس شمولیت اور شراکت کو پسپائی سمجھتے ہیں۔آغا خان سوئم اسے تہذیب سمجھتے تھے۔اس لیے انہوں نے پچھلے زمانے میں ہی سمجھا دیا تھا کہ ایک طرف امام کا فرمان ہو دوسری طرف ملک کا آئین ہو، تم نے آئین کا وفادار رہنا ہے۔

آج جب امریکا اور یورپی ممالک میں سسٹم اور امیگرینٹس کے بیچ تصادم کے امکانات بڑھ گئے ہیں تو پرنس رحیم نے بات کو پہلے ہی خطبے میں دہرانا ضروری سمجھا۔

شاہ رحیم الحسینی دیدار کیلیے جہاں گئے، تین باتوں پر زور دیا۔مثبت سوچ، رواداری اور جدید تعلیم۔وہ جانتے ہیں کہ کہاں کتنا بولنا ہے۔

دنیا جہاں میں وہ جین ایڈیٹنگ، گرین انرجی اور مصنوعی ذہانت پر بات کر رہے ہیں۔شمال پہنچے تو سادہ سی ایک بات کہی۔ مثبت سوچ کو جگہ دو اور انگریزی سیکھ لو۔مقدر کے سکندر بن جاوگے۔

فرنود عالم

25/05/2026

Sire Yazdano Giko horo tu Aam mo Joshe, Khowar Kalam, Mystical Khowar poetry on the occasion of Deedar Garmchashma Chitral,

24/05/2026

When Khowar melody meets the devotion of the heart.
A soulful tribute to the Imam of the Time, woven into the rich, mystical fabric of Khowar poetry. Listening to this is like watching the sunrise over the mountains—pure, illuminating, and peaceful.

Didar update
23/05/2026

Didar update

23/05/2026

A Century of Vision: From Aligarh to AKU 🎓
​Education has always been the cornerstone of the Aga Khan development network. Journey with us from the early 20th century, where Aga Khan III championed the cause of Muslim education at Aligarh Muslim University, to the modern era, where Aga Khan University stands as a global beacon of healthcare and higher education.
​A legacy of enlightenment that never stops.

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Faizan Ali, Nizam Uddin, Abdul Jabar Khan, Alam Khan, Hab...
23/05/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Faizan Ali, Nizam Uddin, Abdul Jabar Khan, Alam Khan, Habib Ullah, Хусния Киматова, Fasliyar Khan, Khatidja Hussain, اَلِیشَان شہنشاہ, Mubarak Ali, Abdul Raheem, Nazir Hussain, Noor Madad

23/05/2026

Hazir Imam landed in Parwak Upper Chitral,

Endereço

Lisbon

Website

Notificações

Seja o primeiro a receber as novidades e deixe-nos enviar-lhe um email quando Ismailis of the North publica notícias e promoções. O seu endereço de email não será utilizado para qualquer outro propósito, e pode cancelar a subscrição a qualquer momento.

Entre Em Contato Com A Organização

Envie uma mensagem para Ismailis of the North:

Em destaque

Compartilhar