Ismailis of the North

Ismailis of the North This is an association of Ismaili Muslims in Northern region World
(1)

نورِ ہدایت کا سفر: کیلگری میں دوسرے پُر نور دیدار کے فیض سے عاشقانِ امام کے دلوں کو سیراب کرنے کے بعد، مولانا حاضر امام ...
26/07/2026

نورِ ہدایت کا سفر:
کیلگری میں دوسرے پُر نور دیدار کے فیض سے عاشقانِ امام کے دلوں کو سیراب کرنے کے بعد، مولانا حاضر امام علیہ السلام اپنے بخت ور فرزندان شہزادہ عرفان اور شہزادہ سنان کے ہمراہ البرٹا سے برٹش کولمبیا کے لیے روانہ ہوئے اور ونکوور کی مبارک سرزمین پر قدم رنجا فرمایا۔

جیسے ہی امامِ زمان کا طیارہ ونکوور اترا، فضا تعظیم اور شکر گزاری کی روح سے معطر ہو گئی۔ ہوائی اڈے پر کینیڈین حکومت کی اعلیٰ شخصیات نے امام الوقت علیہ السلام کا پرجوش اور پروقار استقبال کیا۔
استقبال کرنے والے معززین میں برٹش کولمبیا کی لیفٹیننٹ گورنر آنریبل وینڈی کوچیا (The Honourable Wendy Cocchia)، کینیڈا کی سینیٹر آنریبل فرح محمد (The Honourable Farah Mohamed)، اور رکنِ پارلیمنٹ برائے ونکوور-گرانول طالب نور محمد (Taleeb Noormohamed) شامل تھے۔ ان کے ہمراہ جماعت کے رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے بھی نہایت والہانہ انداز میں حاضری دی اور خوش آمدید کہا۔

مرشدِ کامل کے قدم جہاں جہاں پڑتے ہیں، وہاں رحمت و برکت کی بارش ہوتی ہے اور دل شکر گزاری کے سجود میں جھک جاتے ہیں۔

رحمت، خلوص اور خدمتِ خلق کا عظیم الشان سفر: ونکوور میں مولانا حاضر امام علیہ السلام کی برکتوں کا نزول برٹش کولمبیا:آج کا...
26/07/2026

رحمت، خلوص اور خدمتِ خلق کا عظیم الشان سفر: ونکوور میں مولانا حاضر امام علیہ السلام کی برکتوں کا نزول
برٹش کولمبیا:
آج کا دن ونکوور کی سرزمین کے لیے ایک مبارک اور تاریخی دن ثابت ہوا، جب مولانا حاضر امام علیہ السلام نے کینیڈا کی اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ مل کر پائیدار رہائش (Affordable Housing)، بزرگوں کی دیکھ بھال، کھیلوں اور سماجی بنیادی ڈھانچوں کے نئے اور دور رس منصوبوں کا آغاز فرمایا۔ اس بابرکت تقریب کے دوران کینیڈا اور دنیا بھر میں انسانیت کی بہتری کے لیے دو اہم تاریخی معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

"بلڈنگ ٹوگیدر" (Building Together) کے عنوان سے منعقدہ اس پُروقار تقریب میں کینیڈا کی وزیرِ خارجہ اینیٹا آنند، برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی، گورنر، ونکوور، برنابی اور پورٹ موڈی کے میئرز، اور حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدے داران نے شرکت کی۔ ان کے ساتھ جماعت اور AKDN (آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک) کی قیادت اور رضاکار بھی اس تاریخی لمحے کے شاہد بنے۔

اس موقع پر دو اہم اور عالمی نوعیت کے معاہدے طے پائے:
پہلا معاہدہ (Build Canada Homes اور اسماعیلی کونسل فار کینیڈا کے درمیان):
اس معاہدے کے تحت جنریشنز (Generations) ماڈل کے ذریعے سستے اور نسل در نسل ایک ساتھ رہنے کے لیے گھروں کی تعمیر کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ ایسے مسکن ہوں گے جہاں نہ صرف چھت میسر ہوگی بلکہ صحت، بزرگوں کی دیکھ بھال، کمیونٹی کچن اور بچوں کی ابتدائی تعلیم کی سہولیات بھی ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔
دوسرا معاہدہ (FinDev Canada اور آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ کے درمیان):
اس معاہدے کا مقصد جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ جیسے ترقی پذیر خطوں میں توانائی، زراعت، انفراسٹرکچر اور مالیاتی خدمات کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کو ممکن بنانا ہے۔

اس موقع پر معزز مہمانوں نے جنریشنز برنابی، جنریشنز ٹرائی سٹیز و جماعت خانہ، اور برنابی لیک سپورٹس و کلچرل سینٹر کے تعمیراتی خاکوں (Architectural Renderings) پر اپنے دستخط بھی کیے۔ جبکہ جنریشنز ونکوور کا کام پہلے ہی جاری ہے جو 2026 میں مکمل ہوگا۔ یہ تمام منصوبے کینیڈا میں اسماعیلی امامت اور جماعت کی نصف صدی پر محیط خدمتِ خلق کا ایک اور سنہری باب ہیں۔

بارگاہِ امامت سے جاری ہونے والے حکمت و دانائی پر مبنی ارشادات نے حاضرین کے دلوں میں نور اور بصیرت بھر دی۔ مولانا حاضر امام علیہ السلام نے فرمایا:
"بحیثیت اسماعیلی مسلمان، اسلام سے ہماری سمجھ یہ ہے کہ ایمان کا عملی اظہار انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں میں ہونا چاہیے، اور خود انحصاری اور خدمتِ خلق کو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث بننا چاہیے۔ جن منصوبوں کو ہم آج شروع کر رہے ہیں، وہ اسی اخلاقی قدر کو عمل میں لاتے ہیں۔"
امامِ وقت علیہ السلام نے مزید ارشاد فرمایا:
"نئے گھر، بزرگوں کی دیکھ بھال اور بچوں کی تعلیم کو اس طرح ایک ساتھ لایا جائے گا کہ نسلوں کے درمیان تعلق مضبوط ہو۔ گھروں، مشترکہ جگہوں، اور دیکھ بھال و تعلیم کے مراکز کا باہمی رشتہ عزت، کشادگی اور برادری کو ایک مجسم شکل دے گا۔"

یہ منصوبے ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدِنظر رکھ کر بنائے جا رہے ہیں، جہاں قدرتی نباتات، باغات، اور پرندوں و تتلیوں کی حفاظت کے لیے ماحول فراہم کیا جائے گا۔

وزیرِ خارجہ اینیٹا آنند نے جماعت کی دہائیوں پر محیط خدمات، سخاوت اور انسان دوستی کو سراہتے ہوئے کہا:
“کینیڈا آپ کی خدمات اور سخاوت کی وجہ سے زیادہ مضبوط ہے۔ انسان کی بہتری اور ترقی کے لیے آپ کا عزم قابلِ قدر ہے، اور ہم تہہِ دل سے آپ کے شکر گزار ہیں۔"

میئر ونکوور کین سم نے سٹی کونسل کی جانب سے متفقہ طور پر مولانا حاضر امام علیہ السلام کو شہر کے اعلیٰ ترین اعزاز "سیوک میرٹ میڈل" (Civic Merit Medallion) سے نوازا اور امامت کی بے لوث انسانی خدمات کا اعتراف کیا۔
پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے امامِ زمان کی قیادت کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا:
“عالی جناب! امن، ماحولیاتی تحفظ، اور غربت کے خاتمے کے لیے آپ کا مسلسل عزم ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ اس بے یقینی کے دور میں، آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم ان قدروں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، یہی وہ لنگر ہیں جو ہمیں طوفان میں محفوظ رکھیں گے اور نہ صرف اس ملک بلکہ پوری دنیا کو جوڑ کر رکھیں گے۔”

امامِ وقت کا وجودِ مسعود، کائنات کے لیے رحمت، محبت اور امید کا وہ روشن منار ہے جو ظلمتوں میں راستے منور کرتا ہے۔
اللہ تعالی اسماعیلی امامت اور جماعت کی ان مقدس کوششوں کو بابرکت فرمائے اور انسانیت کو سدا اس سائے سے فیضیاب رکھے۔ آمین ثم آمین

یاعلی مدد کے ساتھ
ایڈمن

The Ismaili India Ismailis of the North The Ismaili TheIsmaili UK TheIsmaili Tanzania TheIsmaili Pakistan

کیلگری میں فیضِ دیدار اور محبت کے نذرانے۔کیلگری کا BMO سینٹر ان تاریخی اور مبارک لمحات کا شاہد بنا جب مولانا حاضر امام ع...
25/07/2026

کیلگری میں فیضِ دیدار اور محبت کے نذرانے۔

کیلگری کا BMO سینٹر ان تاریخی اور مبارک لمحات کا شاہد بنا جب مولانا حاضر امام علیہ السلام نے ایڈمنٹن اور پریریز کی جماعتوں کو اپنے دو یکے بعد دیگرے پُر نور دیدار کے شرف سے نہال فرمایا۔ اس بقعہ نور محفل میں امامِ وقت علیہ السلام کے ساتھ ان کے بخت ور فرزندان، شہزادہ عرفان اور شہزادہ سنان بھی جلوہ افروز تھے۔

دیدار کے ان مقدس لمحات نے عشاق کے مرجھائے ہوئے دلوں کو نئی زندگی بخشی اور فضائیں بندگی و شکر گزاری کی خوشبو سے مہک اٹھیں۔

ہر دیدار کے بابرکت سیشن کے اختتام پر، جماعت کی جانب سے مولانا حاضر امام علیہ السلام کی خدمتِ عالیہ میں دو انتہائی شاہکار اور معنی خیز آرٹ انسٹالیشنز (Art Installations) طورِ نذرانہ پیش کی گئیں:
۱. اقراء: علم و حکمت کا زندہ کتب خانہ (IQRA: A Living Library of Knowledge and Wisdom)
پہلا تحفہ "اقراء" کے نام سے پیش کیا گیا۔ یہ لکڑی کا ایک نفیس اور شاہکار بک کیس (Bookcase) ہے، جو امامِ وقت کی اس ہدایتِ مبارکہ سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے کہ "مطالعہ اور قرأت ہی ہمدردی اور باہمی تفہیم کا راستہ ہے"۔ اس میں اصل کتب، دستکاریاں اور نوادرات شامل کیے گئے ہیں جو جماعت کے تنوع، ثقافتی پس منظر اور علمی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔

۲. قطراتِ رحمت (Drops of Mercy)
دوسرا تحفہ "قطراتِ رحمت" تھا، جو امامِ زمان کی نسل در نسل ایک دوسرے کی دیکھ بھال اور محبت (Intergenerational Care) کی ہدایت کا آئینہ دار ہے۔

اس انسٹالیشن کے مرکز میں ایک مرکزی قطرہ بنایا گیا ہے جو خداوندِ کریم کی رحمانیت اور رحمت کی علامت ہے۔
اس کے گرد پچاس بارش کے قطرے سجائے گئے ہیں، جو نوجوانوں کے خدمت اور دیکھ بھال کے وعدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہمارے بزرگوں کی حکمت، دعاؤں اور نصیحتوں پر مبنی الفاظ اور کمیونٹی کے فنکارانہ کاموں کی ایک خوبصورت تصویر نگاری شامل کی گئی ہے۔

امامِ الوقت علیہ السلام کا ہر فرمودہ ہمارے لیے ہدایت کا منار ہے اور ان کی نظرِ کرم، روح کو سیراب کرنے والی وہ رحمت ہے جو نسلوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔

ہماری دعا ہے کہ ان مبارک ایام کی برکات ہر دل میں سدا قائم رہیں اور جماعت ہمیشہ امام کے سائے میں اتحاد اور علم کے نور سے منور رہے۔ آمین ثم آمین

یاعلی مدد
ایڈمن


The Ismaili India Ismailis of the North The Ismaili TheIsmaili UK TheIsmaili Tanzania TheIsmaili Pakistan

نورِ ہدایت کا ورودِ مسعود: کینیڈا میں امامِ وقت علیہ السلام کی پُربرکت تشریف آوریآج کا سورج دلوں میں نویدِِ بہار اور روح...
24/07/2026

نورِ ہدایت کا ورودِ مسعود: کینیڈا میں امامِ وقت علیہ السلام کی پُربرکت تشریف آوری

آج کا سورج دلوں میں نویدِِ بہار اور روحوں میں ایک وکھری راحت لے کر طلوع ہوا۔ واجب الاطاعت اور قائم بالامر مولانا حاضر امام علیہ السلام اپنے بابرکت دورہٴ کینیڈا کے دوسرے مرحلے میں کیلگری، البرٹا کے سرسبز و شاداب افق پر جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔

اس منور سفر میں شہزادہ عرفان اور شہزادہ سنان بھی امامِ وقت علیہ السلام کی معیت میں موجود ہیں۔ جیسے ہی امامِ زمانہ کا قدمِ مبارک زمین پر پڑا، سرکاری نمائندگان اور جماعت کی قیادت کے وفد نے نہایت والہانہ انداز میں ان کا استقبال کیا۔ شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، کیلگری کے میئر، جیریمی فارکس نے مولانا حاضر امام علیہ السلام کی خدمتِ عالیہ میں شہر کے روایتی اور باوقار سفید ہیٹ (White Hats) بطور تحفہ پیش کیے۔

مرید کی زندگی میں دیدارِ امام، روح کی بالیدگی اور قلبی سکون کا وہ آبِ حیات ہے جس کی پیاس فقط بندگی اور محبت سے بجھتی ہے۔ کل کا دن تاریخ کے روشن صفحات میں درج ہونے جا رہا ہے۔ امامِ وقت علیہ السلام ایڈمنٹن اور پریریز (Prairies) کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے اپنے روحانی بچوں کو اپنے شرفِ دیدار سے نہال فرمائیں گے۔

اس مقدس موقع کی خاطر، علاقے بھر کے رضاکار (Volunteers) شب و روز اپنے جذبہ خدمت، محبت اور عقیدت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ مقامات کی سجاوٹ، انتظام اور عشاق کے لیے راحت و آسائش کے سامان مہیا کیے جا رہے ہیں تاکہ جب مرشد اپنے مریدوں کے سامنے آئے، تو ہر دل شکر گزاری اور نور سے منور ہو جائے۔

اس روحانی سفر کی مزید خوشخبریاں اور ایمان افروز لمحات بہت جلد آپ کی خدمت میں پیش کیے جائیں گے۔
The Ismaili India Ismailis of the North The Ismaili TheIsmaili UK TheIsmaili Tanzania TheIsmaili Pakistan

سردینیا (اٹلی) کے خوبصورت ساحلی علاقے پورٹو چیرو (Porto Cervo) میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران، مقامی حکام نے شہر ک...
10/07/2026

سردینیا (اٹلی) کے خوبصورت ساحلی علاقے پورٹو چیرو (Porto Cervo) میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران، مقامی حکام نے شہر کے مرکزی چوک (پلازا) کو مولانا شاہ کریم کے نامِ سے منسوب کر دیا۔ اس موقع پر ایک یادگاری مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی گئی، جو اس بنجر خطے کو ایک حسین اور ترقی یافتہ ساحلی جنت میں تبدیل کرنے کے لیے ان کی لازوال اور بصیرت انگیز خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

​اس پُرنور اور جذباتی تقریب میں مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی بنفسِ نفیس رونقِ افروز تھے، جبکہ آپ کے ہمراہ پرنس امین، پرنس عرفان اور پرنس سنان بھی موجود تھے۔ حاضر امام علیہ السلام نے اپنے خطاب میں، جس کا کچھ حصہ انہوں نے اطالوی زبان میں ارشاد فرمایا، اپنے والدِ محترم کو دیے گئے اس بعد از وفات اعزاز پر مقامی حکام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

​مولانا حاضر امام نے فرمایا:
​ایک چوک (پلازا) دراصل ملاقاتوں، یادوں اور برادری کا مرکز ہوتا ہے۔ میرے والدِ محترم کے نام کو اس جگہ سے منسوب کرنا، ان کی یادوں کو پورٹو چیرو کے دل میں بسانے جیسا ہے—ان لوگوں، فنِ تعمیر، مناظر اور اس سمندر کے درمیان جس سے انہیں بے پناہ محبت تھی۔ میں اور میرا خاندان اس جذباتی اور خوبصورت خراجِ عقیدت پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

​جب مولانا شاہ کریم نے 1960 کی دہائی کے آغاز میں پہلی بار سردینیا کے علاقے 'مونٹی ڈی مولا' کا دورہ کیا تھا، تو یہ سڑکوں اور بجلی سے محروم ایک سنگلاخ اور بنجر زمین تھی۔ لیکن ان کی شفقت، رہنمائی اور لازوال محبت نے اس ویرانے کو 'لا کوسٹا سمی رالڈا' (The Emerald Coast - زمرد کا ساحل) جیسے شاہکار میں بدل دیا۔ انہوں نے اس ترقی کے دوران نہ صرف مقامی وسائل کا استعمال کیا بلکہ قدرت کے حسن کو بھی آنچ نہ آنے دی۔

​حاضر امام شاہ رحیم الحسینی نے اس عظیم الشان منصوبے کی فکری گہرائی پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس کام نے ان کے والد کو ان تمام چیزوں کو ایک جگہ یکجا کرنے کا موقع دیا جن سے انہیں والہانہ لگاؤ تھا: یعنی تعمیرات، دستکاری، قدرتی مناظر، حسن اور طویل المدتی انسانی ترقی۔

​آرزاکینا (Arzachena) کے میئر رابرٹو راگنیڈا نے مرحوم امام کے پہلے دورے کو جذباتی انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ تعمیرات کو ماحول پر حاوی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے فطرت کے رنگوں میں گھل مل جانا چاہیے۔ میئر نے اعتراف کیا:
​"پرنس کریم نے اس مٹی سے محبت کی اور اس کے لیے ایک ایسے پائیدار مستقبل کا خواب دیکھا جو کارخانوں اور ماحول کی تباہی سے پاک ہو۔ ان کے پاس وہ الہامی بصیرت تھی جس نے سمجھا کہ مقامی شناخت اور قدرتی ورثہ ہی مشترکہ ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ آج اس چوک کا نام رکھنا اور اس یادگار کا افتتاح، ہماری سچی عقیدت کا اظہار ہے۔"

​میئر نے اس تاریخی موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی کو آرزاکینا کی اعزازی شہریت پیش کی جائے گی—یہ وہی اعزاز ہے جو 1965 میں ان کے والدِ گرامی کو دیا گیا تھا۔

​سردینیا کے خود مختار خطے کی صدر، الیسنڈرا ٹوڈے نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم صرف ایک چوک کا افتتاح نہیں کر رہے، بلکہ ہم سردینیا کی تاریخ کو بدلنے والے ایک عظیم نام اور وژن کو نسلوں کے حافظے کے حوالے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا فیض صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے یہاں روزگار، جدت اور نوجوانوں کے لیے امیدوں کے نئے چراغ روشن کیے۔
​آج یہ ساحل دنیا بھر کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور سیاحت کا ایک حسین امتزاج بن چکا ہے، جہاں اب بھی ترقی کے ساتھ ساتھ سمندری حیات کا تحفظ اور ماحول دوستی پہلی ترجیح ہے۔

​تقریب کے اختتام پر، مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی نے تمام مقامی عہدیداروں، فنکاروں اور اپنے والدِ گرامی کی یاد کو دلوں میں زندہ رکھنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے فرمایا:
​"اگر آج وہ ہمارے درمیان ہوتے، تو اس عزت افزائی پر ان کا دل بھر آتا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ چاہتے کہ یہ لمحہ مستقبل کی طرف دیکھنے کا ہو۔ وہ چاہتے کہ ہم اس خطے کی دیکھ بھال اسی تخیل، نظم و ضبط اور امانت داری کے احساس کے ساتھ کریں جس نے اس کی تخلیق کو ممکن بنایا تھا۔"
Ismailis of the North The Ismaili India The Ismaili TheIsmaili Tanzania TheIsmaili UK TheIsmaili Pakistan

جرمنی کی سرزمین پر امام الوقت علیہ السلام کی آمد۔۔۔ آج کا دن تاریخ کے پنوں پر ایک سنہری اور یادگار دن کے طور پر درج ہو گ...
05/07/2026

جرمنی کی سرزمین پر امام الوقت علیہ السلام کی آمد۔۔۔
آج کا دن تاریخ کے پنوں پر ایک سنہری اور یادگار دن کے طور پر درج ہو گیا ہے۔ دلوں کی دھڑکن، روحوں کا چین، اور ہدایت کا سرچشمہ، امیر المومنین مولانا حاضر امام شاہ رحیم لحسینی اپنے تین روزہ مبارک دورے پر برلن، جرمنی تشریف لا چکے ہیں۔

ہوائی اڈے پر جرمن حکومت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ برطانیہ، جرمنی اور سویڈن کی اسماعیلی کونسلوں کے صدور نے دلی محبت کے ساتھ حاضر امام کا استقبال کیا۔

کل کا دن براعظم یورپ اور بالخصوص جرمنی میں مقیم اسماعیلی جماعت کے لیے کسی عید سے کم نہیں ہوگا۔ تاریخ میں پہلی بار، حاضر امام جرمنی کی سرزمیں پر اپنے مریدوں کو روحانی دیدار کی لازوال نعمت سے سرفراز فرمائیں گے۔

ہزاروں مریدین ایسے ہیں جن کے لیے یہ ان کی زندگی کا پہلا دیدار ہوگا۔ یہ وہ لمحہ ہے جس کا انتظار صدیوں جیسا طویل محسوس ہو رہا تھا، اور اب وہ گھڑی آ پہنچی ہے جب پیاسی آنکھیں اپنے نورِ امامت کے دیدار سے منور ہوں گی۔

پچھلے کئی ہفتوں سے جماعت کا ہر بچہ، جوان اور بزرگ اسی ایک دن کی تیاریوں میں دن رات مگن ہے۔
ہر سو جشن کا سماں ہے اور روحیں وجد میں ہیں۔
جماعت نے دن رات ایک کر کے اس تاریخی استقبال کی تیاریاں کی ہیں۔ سجاوٹیں، انتظامات اور سب سے بڑھ کر اپنے دلوں کو اس پاکیزہ آمد کے لیے تیار کیا ہے۔ ہر آنکھ شکرانے کے آنسوؤں سے نم ہے اور ہر زبان پر اپنے امام کے لیے والہانہ محبت کے نغمے ہیں۔

یہ صرف ایک دورہ نہیں، بلکہ یہ روح کا روح سے ملاپ ہے، یہ ایک امام کا اپنے مریدوں پر بے پناہ سایۂ شفقت اور رحمت کا اظہار ہے۔ مولا پاک اس مبارک دیدار کو تمام مریدین کے لیے ظاہری اور باطنی برکتوں کا سبب بنائے، اور ہر مرید کے دل کو ایمان کی روشنی سے منور فرمائے۔امین یا رب العالمین
شکریہ یا علی مدد

ایڈمن دی اسماعیلی آف دی نارتھ
The Ismaili Ismailis of the North The Ismaili India

01/06/2026

Ismaili update with Aziz from Bangladesh.

29/05/2026

A Legacy of Knowledge, Humanity, and Spiritual Leadership
Why Ismailis Take Pride in Their Imam and Their Identity

In a world increasingly divided by intolerance, sectarianism, and social unrest, there are still communities quietly contributing to humanity through knowledge, compassion, and service. Among them is the global Ismaili Muslim community — a small but remarkably influential Muslim minority guided by a long tradition of spiritual leadership, intellectual progress, and humanitarian service.
For generations, the Ismaili Imams have championed education, dignity, pluralism, and human development, not only for their own followers but for society at large. Their contributions have left a lasting mark across South Asia, Africa, Central Asia, and beyond.
One of the most significant milestones associated with this vision was the support and encouragement given to modern Muslim education in the Indian subcontinent, including institutions such as the Aligarh Muslim movement. Later, institutions like Aga Khan University and the Aga Khan Hospital emerged as symbols of excellence in healthcare and education, serving people of every faith and background without discrimination.
The legacy of service extends even further. From rural health centers and schools to economic development initiatives and cultural preservation projects, thousands of institutions established under the guidance of the Ismaili Imamat continue to uplift vulnerable communities across different regions. These efforts reflect a deeper spiritual philosophy rooted in compassion, coexistence, and the dignity of humanity.
At the heart of this tradition lies a distinctly Sufi and ethical understanding of Islam — one that values wisdom over hatred, service over division, and knowledge over ignorance. The Ismaili interpretation of faith emphasizes that true religion should heal hearts, unite communities, and inspire moral responsibility toward others.
This vision became especially important during a time when sections of Muslim society resisted modern education, particularly for women. While conservative voices sought to restrict female education, Imam Sultan Muhammad Shah Aga Khan III strongly advocated for the intellectual empowerment of Muslim women. He believed that no nation could progress if its daughters remained deprived of knowledge. His reforms encouraged countless Muslim families to educate their daughters and embrace social advancement.
As his influence and popularity grew, criticism also emerged from religious hardliners who viewed modernist and progressive interpretations of Islam with suspicion. Yet notable intellectuals, including poet-philosopher Allama Muhammad Iqbal, are remembered for recognizing the sincerity, devotion, and intellectual spirit within the Ismaili community. Historical references mentioned by Javed Iqbal suggest that Iqbal held deep respect for communities devoted to the love of the Prophet’s family and committed to intellectual growth and service.
Today, the Ismaili community continues to stand as an example of peaceful coexistence, volunteerism, and civic responsibility. Across the globe, Ismailis are known for building schools, hospitals, community centers, and humanitarian initiatives that benefit humanity regardless of religion or ethnicity.
For many observers, this legacy represents a powerful reminder that Islam’s true spirit is not found in anger or division, but in mercy, wisdom, education, and service to mankind.
In times when humanity searches for bridges instead of walls, such examples deserve not only recognition — but appreciation.
Courtesy: Zaeem Khan

"آغا خان چہارم ( شیعہ اسماعیلہ امام شاہ کریم الحسینی) کا مختلف ادوار میں گلگت بلتستان آمد اور اُس کے اثرات" تحریر: Abdul...
27/05/2026

"آغا خان چہارم ( شیعہ اسماعیلہ امام شاہ کریم الحسینی) کا مختلف ادوار میں گلگت بلتستان آمد اور اُس کے اثرات"

تحریر: Abdul Salam Naz

شیعہ اسماعیلہ مسلم کمیونٹی کے روحانی پیشوا، حضرت شاہ کریم الحسینی، جنہیں دنیا بھر میں آغا خان چہارم کے نام سے جانا جاتا ہے، نے گلگت بلتستان کی تقدیر بدل دی۔ 1957ء میں صرف 20 سال کی عمر میں امامت سنبھالنے کے بعد ان کے متعدد تاریخی دوروں نے نہ صرف روحانی بیداری پیدا کی بلکہ خطے کی معاشی، سماجی، تعلیمی، صحت اور ثقافتی ترقی میں ایک مکمل انقلاب برپا کر دیا۔ یہ علاقہ اس وقت شدید غربت، جغرافیائی تنہائی، عدم رسائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار تھا۔ ان کے ویژنری قیادت، "Aga Khan Development Network (AKDN)" اور خاص طور پر "Aga Khan Rural Support Programme (AKRSP)" نے اس خطے کو پسماندگی سے نکال کر پائیدار ترقی کا عالمی ماڈل بنا دیا۔
(یہ مضمون ان کے مختلف ادوار کے دوروں، تاریخی پس منظر، ترقیاتی اقدامات اور دور رس اثرات پر تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے۔)

تاریخی پس منظر اور امامت کا آغاز

شاہ کریم الحسینی 13 دسمبر 1936ء کو سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا حضرت سلطان محمد شاہ آغا خان سوم کی وفات کے بعد 1957ء میں انہوں نے امامت سنبھالی۔ اس وقت گلگت بلتستان (سابقہ شمالی علاقہ جات) کے اسماعیلی کمیونٹی صدیوں سے اماموں کے براہ راست رابطے سے محروم تھی۔ علاقے میں غربت، جہالت اور بنیادی ڈھانچے کی شدید کمی تھی۔ 80 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے تھی، کوئی جدید سڑکیں، ہسپتال یا سکول نہ تھے۔ لوگ بنیادی طور پر زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتے تھے، جو موسموں اور قدرتی خطرات کا شکار رہتے تھے۔

امام نے امامت سنبھالتے ہی ترقی، تعلیم اور انسانی فلاح پر زور دیا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ مادی اور سماجی ترقی بھی ضروری ہے۔ AKDN کے ذریعے انہوں نے تعلیم، صحت، دیہی ترقی، ثقافتی تحفظ اور معاشی خود کفالت کے عالمی نیٹ ورک قائم کیے، جو آج بھی 30 سے زائد ممالک میں کام کر رہے ہیں۔

پہلا تاریخی دورہ: 1960ء – (اندھیرے سے روشنی کی طرف)

1960ء میں شاہ کریم الحسینی کا پہلا دورہ گلگت بلتستان کے لیے سنگ بنیاد ثابت ہوا۔ 20 سے 26 اکتوبر تک یہ دورہ گلگت، غذر، ہنزہ اور چترال کا احاطہ کرتا تھا۔ یہ تقریباً 1400 سال بعد کسی امام کا خطے کا براہ راست دورہ تھا۔ ہنزہ میں جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ آپ نے کیا دیکھا تو انہوں نے جواب دیا: "I saw horrible poverty there"۔ یہ جملہ آج بھی مقامی بزرگوں کی زبان پر ہے۔

دورے کے دوران انہوں نے جماعت خانوں میں "دیدار" فرمائے۔ لوگوں نے براہ راست امام کی زیارت کی اور ان کی ہدایات حاصل کیں۔ اس دورے نے روحانی طور پر ایک نئی روح پھونک دی۔ لوگوں میں امید پیدا ہوئی کہ اب تبدیلی آئے گی۔ امام نے کمیونٹی لیڈرز کو تعلیم، صحت اور معاشی خود انحصاری پر زور دیا۔ نتیجتاً "Diamond Jubilee Schools" جیسے پروگراموں کو منظم شکل ملی، جو 1940-60 کی دہائی میں شروع ہو چکے تھے۔

اس دورے نے امام کے ذہن میں خطے کی ترقی کا خاکہ تیار کیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو بااختیار بنانے، خواتین کی شمولیت اور کمیونٹی کی خود کفالت پر تاکید کی۔ یہ دورہ صرف روحانی نہیں بلکہ ترقیاتی ویژن کا آغاز بھی تھا۔

1970-80 کی دہائی: اداروں کی بنیاد اور AKRSP کا قیام

1960ء کے دورے کے بعد امام نے مسلسل نگرانی رکھی۔ 1970ء کی دہائی میں 'Aga Khan Health Services (AKHS)" اور "Aga Khan Foundation" کے ذریعے ماں اور بچوں کی صحت کے پروگرام شروع ہوئے۔ prenatal care، ویکسینیشن، غذائی شعور اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز (CHWs) کی تربیت نے دور دراز دیہاتوں تک رسائی ممکن بنائی۔

1982ء میں 'AKRSP" کا قیام ان کی Silver Jubilee کا تحفہ تھا۔ یہ پروگرام کمیونٹی لیڈرشپ پر مبنی تھا۔ مقامی لوگوں کو "Village Organizations (VO)" اور "Women Organizations (WO)" میں منظم کیا گیا۔ ان تنظیموں نے سیونگ، مائیکرو فنانس، آبپاشی، زراعت کی بہتری اور چھوٹے کاروبار شروع کیے۔ World Bank کی رپورٹس کے مطابق پہلے دس سالوں میں ایک ملین لوگوں کی اوسط آمدنی تقریباً دگنی ہو گئی۔

اے کے آر ایس پی ( AKRSP ) نے ہزاروں انفراسٹرکچر پروجیکٹس مکمل کیے: پل، سڑکیں، مائیکرو ہائیڈرو پاور، پانی کی سپلائی اور سینیٹیشن۔ "WASEP (Water and Sanitation Extension Programme)" نے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو نمایاں طور پر کم کیا۔ 1983ء میں "Karimabad" میں "Aga Khan Girls Academy" کا سنگ بنیاد رکھا گیا، جو لڑکیوں کی تعلیم میں انقلاب کا پیش خیمہ بنا۔

1987ء میں Passu (گوجال) کا دورہ تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔ 20 نومبر 1987ء کو AKRSP کے کور آفس میں انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں لکھا:. "I have spent here in the Northern Areas one of the most inspiring and exciting weeks of my life... Centuries of poverty and despair... appear to be fading into the past."
(میں نے یہاں شمالی علاقوں میں اپنی زندگی کے سب سے زیادہ متاثر کن اور ولولہ انگیز ہفتوں میں سے ایک گزارا ہے... صدیوں کی غربت اور مایوسی... اب ماضی میں مدھم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔)
یہ الفاظ AKRSP کی کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔

1990-2000 کی دہائی: (توسیع، ثقافتی بحالی اور انسانی وسائل کی ترقی)

اس دور میں AKDN کی سرگرمیاں مزید پھیل گئیں۔ "Aga Khan Trust for Culture (AKTC)" شگر قلعہ، التت قلعہ، بلتت قلعہ اور خپلو پیلس کی بحالی کی۔ یہ قلعے اب میوزیم، ثقافتی مراکز اور ہوٹلوں کے طور پر کام کر رہے ہیں، جو ہیرٹیج ٹورزم کو فروغ دے رہے ہیں۔ Baltit Fort کی بحالی نے متعدد UNESCO Asia-Pacific Heritage Awards جیتے۔

"Professional Development Center North (PDCN)" کا 2000ء میں افتتاح ہوا، جو ٹیچرز کی تربیت کا اہم مرکز بنا۔ امام نے اس موقع پر تاکید کی کہ عمارتیں بنانا کافی نہیں، معیاری انسانی وسائل درکار ہیں۔ مائیکرو فنانس، مائیکرو انٹرپرائزز اور سیاحت کے پروگراموں نے نئی نوکریاں پیدا کیں۔

2000-2017: پائیدار ترقی، آفتوں سے نمٹنے اور آخری دورے

2000ء کے بعد دورے جاری رہے۔ "Serena Hotels" 'First Microfinance Bank" اور Accelerate Prosperity نے سیاحت، entrepreneurship اور مالی شمولیت کو فروغ دیا۔ Focus Humanitarian Assistance (FOCUS) نے قدرتی آفات (سیلاب، زلزلہ، برفانی تودے) کے لیے کمیونٹی preparedness پروگرام شروع کیے، جن میں ہزاروں رضاکار تربیت یافتہ ہوئے۔
AKDN نے telemedicine، Aga Khan University کے ذریعے جدید صحت سہولیات اور AKU Examination Board کے ذریعے تعلیمی معیار بلند کیا۔ 2017ء ان کا آخری بڑا دورہ تھا، جس نے کمیونٹی کو نئی ہمت بخش دی۔
امام کے ان دوروں کے علاقے پر اثرات: ( ایک جائزہ)

معاشی اثرات:
AKRSP نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔ زراعت کی بہتری، 18 MW سے زائد ہائیڈرو پاور، سولر آبپاشی، 4,700 سے زائد انفراسٹرکچر پروجیکٹس، 51 ملین درخت لگانا اور 131,912 ہیکٹر نئی زمین کی ترقی نے خطے کو بدل دیا۔ مائیکرو فنانس نے لاکھوں روپے کی سیونگ اور لونز ممکن بنائے۔ سیاحت اب اہم معاشی ستون ہے۔ World Bank مطالعات کے مطابق آمدنی میں دگنا اضافہ ہوا۔

تعلیمی انقلاب:

لڑکیوں کی انرولمنٹ میں زبردست اضافہ۔ Diamond Jubilee Schools، Aga Khan Academies، PDCN اور scholarships نے ہزاروں ڈاکٹرز، انجینئرز اور پیشہ ور پیدا کیے۔ AKESP کی سکولز نے معیار بلند کیا۔ EDIP جیسے پروگراموں نے دور دراز علاقوں میں تعلیم کو رسائی دی۔

صحت اور سماجی ترقی:

AKHS اور AKRSP نے شرح اموات کم کی، ویکسینیشن، غذائی پروگرام اور WASEP نے پانی کی صفائی ممکن بنائی۔ خواتین بااختیار ہوئیں؛ WO نے انہیں فیصلہ سازی میں شامل کیا۔ gender equality اور social inclusion میں بہتری آئی۔

ثقافتی اور ماحولیاتی اثرات:

فورٹس کی بحالی نے heritage tourism کو فروغ دیا۔ ماحولیاتی پروگرامز نے جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور climate resilience بڑھایا۔ passive solar greenhouses اور نئی زرعی تکنیکوں نے غذائی تحفظ یقینی بنایا۔

سماجی ہم آہنگی اور governance:

امام نے pluralism، ethical governance اور civil society پر زور دیا۔ مختلف برادریوں کے درمیان تعاون بڑھا۔ AKDN نے حکومت کے ساتھ پارٹنرشپ میں کام کیا، جو مقامی governance کو مضبوط کرتا رہا۔

روحانی اور اخلاقی اہمیت

ہر دورہ (1960، 1987، 2000، 2017) نے جماعت کو spiritual strength دی۔ "Salgirah" (23 اکتوبر) اب بھی بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ امام نے تاکید کی کہ ترقی صرف مادی نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور ذہنی بھی ہونی چاہیے۔ ان کا مشورہ تھا: کمیونٹیز خود ذمہ دار بنیں، merit، transparency اور accountability کو اپنائیں۔ ان کی تعلیمات نے لوگوں کو امید، خود اعتمادی اور عالمی شہری بننے کا احساس دلایا۔

چیلنجز اور مستقبل کی راہ

ترقی کے باوجود آئینی حیثیت، انفراسٹرکچر کی کمی، climate change، قدرتی آفات اور بازار کی رسائی جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ AKDN کا کمیونٹی owned ماڈل انہیں حل کرنے میں مددگار ہے۔ 2025ء میں امام کی وفات کے بعد 50ویں امام شاہ رحیم الحسینی نے یہ میراث آگے بڑھائی ہے۔ 2026ء میں ان کا متوقع دورہ تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک بدلتی ہوئی حقیقت

شاہ کریم الحسینی کے دوروں اور AKDN کی خدمات نے گلگت بلتستان کو پسماندہ علاقے سے ترقی کے ماڈل میں تبدیل کر دیا۔ آج یہ خطہ بہتر تعلیم، صحت، معاشی مواقع، ثقافتی فخر اور سماجی ہم آہنگی کا حامل ہے۔ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدلیں، خواتین بااختیار ہوئیں، نوجوان عالمی سطح پر کامیاب ہو رہے ہیں۔

امام کا ویژن نہ صرف تاریخ کا حصہ ہے بلکہ مستقبل کی روشنی بھی ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ انہیں "روشنی کا سفر" کہتے ہیں۔ یہ سفر جاری ہے – تعلیم، خود کفالت، اخلاقیات اور انسانی ترقی کی طرف۔ ان کی میراث نئی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی اور خطے کو مزید ترقی کی راہ پر لے جائے گی۔

ماخذات: ( یہ مضمون AKDN کی آفیشل رپورٹس، World Bank مطالعات، مقامی تاریخی دستاویزات اور معتبر ذرائع سے اخذ کیا گیا ہے، چترال میں یہ صورتحال قدرے مختلف ہے)

Endereço

Lisbon

Website

Notificações

Seja o primeiro a receber as novidades e deixe-nos enviar-lhe um email quando Ismailis of the North publica notícias e promoções. O seu endereço de email não será utilizado para qualquer outro propósito, e pode cancelar a subscrição a qualquer momento.

Entre Em Contato Com A Organização

Envie uma mensagem para Ismailis of the North:

Atalhos

Em destaque

Compartilhar