ای بائبل کا رفاقت پروگرام E Bible Fellowship - URDU

ای بائبل کا رفاقت پروگرام E Bible Fellowship - URDU The purpose for eBible Fellowship (Urdu) page is to share the truths of the Bible to the Urdu speaking people of the world.

06/09/2026

دوزخ زمین پر آتا ہے٬ مطالعہ نمبر 3

06/06/2026

دوزخ زمین پر آتا ہے٬ مطالعہ نمبر 2

05/16/2026
05/14/2026

بھارت سے ایک اور شخص نے EBF کی پوسٹ "دنیا اتنی زیادہ تقسیم کیوں ہے؟" پر جواب دیا:

"میں لارڈ ہری نارائن کے سوا کسی اور رب کو نہیں جانتا۔ یہ دنیا اسی کی ہے۔

۔EBF کا جواب۔

اب مزید نہیں۔ اب نہیں، جب سے مسیح نے 21 مئی 2011 کو اس پر اختیار حاصل کر لیا۔

مکاشفہ 11 باب 15-18 آیات۔

اور جب ساتویں فرِشتہ نے نرسِنگا پھُونکا تو آسمان پر بڑی آوازیں اِس مضمُون کی پَیدا ہُوئیں کہ دُنیا کی بادشاہی ہمارے خُداوند اور اُس کے مسِیح کی ہو گئی اور وہ ابدُالآباد بادشاہی کرے گا۔
اور چَوبِیسوں بُزُرگوں نے جو خُدا کے سامنے اپنے اپنے تخت پر بَیٹھے تھے مُنہ کے بل گِر کر خُدا کو سِجدہ کِیا۔
اور یہ کہا کہ اَے خُداوند خُدا۔ قادِرِ مُطلَق! جو ہے اور جو تھا۔ ہم تیرا شُکر کرتے ہیں کِیُونکہ تُو نے اپنی بڑی قُدرت کو ہاتھ میں لے کر بادشاہی کی۔
اور قَوموں کو غُصّہ آیا اور تیرا غضب نازِل ہُؤا اور وہ وقت آ پہُنچا ہے کہ مُردوں کا اِنصاف کِیا جائے۔

05/14/2026

ایک ہندی بولنے والے شخص نے EBF کی ہندی زبان میں پوسٹ "دنیا اتنی تقسیم کیوں ہے؟" پر تبصرہ کیا:

"Christian ads should be ban on X"

اس پر EBF کا جواب:

"شاید آپ خدا کے کلام یعنی بائبل کے بارے میں چلنے والے اشتہار کو ہٹا سکتے ہیں،
لیکن آپ نہ اُس کے انصاف سے بچ سکتے ہیں اور نہ اُس کے کلام کے فیصلے سے۔"

یوحنا 12 باب 48 آیت۔
"جو مُجھے نہِیں مانتا اور میری باتوں کو قُبُول نہِیں کرتا اُس کا ایک مُجرم ٹھہرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کِیا ہے آخری دِن وُہی اُسے مُجرم ٹھہرائے گا۔

05/06/2026

دوزخ زمین پر آتا ہے٬ مطالعہ نمبر 1

دوزخ زمین پر آتا ہے٬ مطالعہ نمبر 1بذریعہ کرس میکن٬ دراصل ای بائبل کی رفاقت کے٬ 21 جون 2024 کے اجتماع سے٬ 8 فروری 2025 کے...
05/06/2026

دوزخ زمین پر آتا ہے٬ مطالعہ نمبر 1

بذریعہ کرس میکن٬ دراصل ای بائبل کی رفاقت کے٬ 21 جون 2024 کے اجتماع سے٬ 8 فروری 2025 کے اجتماع کیلئے دوبارہ نشر کیا گیا۔
میں نے سوچا کہ ایسی تعلیم کو دیکھنا اچھا ہوگا جو بائبل سے 21 مئی 2011 سے ہم پر نازل کی ہے٬ وہ تاریخ جس نے عدالت کے دن کی شروعات پر نشان لگایا ہے۔ یہ تعلیم یہ ہے کہ خدا دنیا پر عدالت لارہا ہے٬ اُس نے زمین کو ’دوزخ‘ میں بدل دیا ہے۔ دوزخ زمین پر آگیا ہے۔ یہ یہاں ہے٬ اور ہم خدا کے غضب کے وقت میں زمین پر رہ رہے ہیں٬ اور زمین ایک بہت بڑے قبرستان میں تبدیل ہوگئی ہے٬ روحانی طور پر بات کر رہا ہوں۔
یہ مطالعہ تین مطالعات کی سیریز کے تعارف کے طور پر کام کرے گا جو زمین پر آنے والے جہنم کی تصویر کو دریافت کرتے ہیں۔ خدا نے 21 مئی 2011 پر آسمان کا دروازہ بند کیا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو بائبل سکھاتی ہے۔ ہم یہ پیدائش 7 باب اور دوسرے صحیفوں سے جانتے ہیں٬ جہاں خدا نے اس تصور ’’آسمان کا دروازہ بند کرنے‘‘ کو مہر کر دیا تھا۔ جب خدا نے وہ دروازہ بند کر دیا٬ اُس نے مؤ‏ثر طریقے سے زمین کے تمام غیر نجات یافتہ باشندوں کو ہلاک کردیا۔
اُن لوگوں کے لئے جو بچائے گئے٬ ہم بھی ابھی تک عدالت کے دن میں ہیں۔ ہم کہیں نہیں گئے ہیں کیونکہ اُٹھایا جانا ابھی واقع نہیں ہوا ہے٬ اور ہم باقی بچے ہوئے زمین پر رہ رہے ہیں٬ حالانکہ ہم اپنی روح میں ابدی زندگی رکھتے ہیں۔ یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم ’’مردوں میں زندہ‘‘ ہیں٬ لیکن زمین دوزخ کی حالت میں ہے۔ دنیا کے غیر نجات یافتہ لوگوں کے لئے٬ اُن کی قسمت پر مہر لگادی گئی ہے٬ اور وہ آخرکار جسمانی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔
یہ تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو کلیسیائی دور میں یا تاریخ کے کسی اور وقت میں کبھی نہیں سکھائی گئی۔ کم از کم میں نے خدا کے بارے میں کوئی ایسی تعلیم نہیں دیکھی جو تمام لوگوں پر اپنا غضب اور عدالت کو نازل کرتی ہو جبکہ وہ ابھی تک اپنے کاموں میں مشغول ہیں۔ یعنی سورج اب بھی چمک رہا ہے٬ 24 گھنٹے کے دن گذر رہے ہیں٬ اور لوگ کام پر جارہے ہیں٬ یا چھٹیوں پر جارہے ہیں٬ وغیرہ۔ یہ اس لحاظ سے غیر معمولی حالات ہیں کہ اس سے پہلے کوئی بھی نہیں سمجھتا تھا کہ یہ چیزیں ’’دوزخ‘‘ کی حالت میں رونما ہوں گی۔
پوری تاریخ میں٬ ’’دوزخ یا جہنم‘‘ کا خیال تھا٬ جہاں صرف عذاب سچ مچ تھا٬ اور صرف ’’دانتوں کا پیسنا‘‘ تھا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ ایسی جگہ ہوگی جہاں لوگ سچ مچ آگ میں ہمیشہ کے لئے خدا کے غضب کا شکار ہوں گے٬ اور وہ جہنم نامی اس حقیقی جگہ کو کبھی نہیں چھوڑ سکیں گے۔ یہ لامحدود طور پر ہمیشہ چلے گا۔
خدا کا آسمان کا دروازہ بند کرنے کا خیال٬ لیکن پھر بھی سالوں تک اسے چلتے رہنے دیتا ہے٬ ایک ایسا خیال ہے جسے زیادہ تر لوگ مناسب نہیں سمجھتے۔ بائبل کے ثبوتوں کے مطابق عدالت٬ 21 مئی 2011 سے 2033 تک جاری رہے گی٬ اور 22 سال ہوں گے جب آسمان کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کوئی نجات نہیں ملے گی۔ بچے اب بھی پیدا ہو رہےہیں٬ اور اب٬ مزید نجات نہیں ہے۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں٬ ’’آنے والے دنوں میں مزید نجات نہیں ہوگی٬ یہ اچھا نہیں ہے۔‘‘
لیکن ہم ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں٬ ’’دوزخ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیں٬ ’’خدا آخری دن بدکاروں کی عدالت کرے گا٬ اور وہ اُنہیں دوزخ میں ڈ الے گا٬ اور وہ وہاں ہمیشہ تک دُکھ اُٹھائیں گے۔‘‘ ابدیت کا 22 سالوں سے موآزنہ کریں۔ اگر کسی کو لفظی معنوں کے مطابق اتھاہ گڑھے میں پھینکا جائے٬ اور وہاں ہمیشہ کے لئے رونا اور دانتوں کا پیسنا ہو تو پھر مجھے بتائیں کہ کون سا منظر واقعی ظالمانہ ہے؟ کیا 22 سالوں کی سزا دینا ظالمانہ ہے یا ہمیشہ کےلئے؟ دائمی عدالت کا موازنہ اُس وقت سے کریں جس میں ہم عدالت کے دن میں زمین پر رہ رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی 21مئی 2011 سے لے کر تقریباََ 13 سال اس میں سے گذر چکے ہیں٬ یہ مشکل رہا ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے دُکھی اور تکلیف دہ رہ چکا ہے٬ لیکن اس زمین پر ایسے وقت بھی آئے ہیں٬ جب لوگوں کو تکلیف دہ چیزوں کا سامنا کرناپڑا ہے٬ اور پھر بھی کچھ لوگ ’’ساحلِ سمندر‘‘ پر ہیں٬ یا وہ فلورا میں چھٹیوں وغیرہ پر ہیں۔ وہ خدا کےغضب میں اور عدالت کے دن میں ادھر اُدھر جارہے ہیں۔ وہ اب بھی مزے کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے تھا۔
یہ ہمیں کیا بتاتا ہے؟ کچھ کہہ سکتے ہیں٬ ’’ٹھیک ہے٬ اس لئے میں اس پر یقین نہیں کرتا۔ اگر لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں میں مزے کر رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں٬ تو یہ سزا نہیں ہے۔‘‘ مگر وہ یہ پھر بھی کہتے ہیں٬ ’’یہ بہت ظالمانہ ہے٬ کہ 22 سالوں میں کوئی نجات نہیں ہے۔ یہ بہت زیادہ سزا ہے۔‘‘ ایک طرف تو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ٬ خدا کا غضب کافی نہیں ہے٬ اور دوسری طرف٬ اُس کا غضب بہت ظالمانہ ہے۔ میں اُن سے کہوں گا٬ ’’اپنا ذہن بنائیں‘‘ عدالت کا یہ دن٬ جس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے٬ وہ خدا کی بھلائی اور مہربانی ہے٬ یہاں تک کہ اس کے غضب اور شدید غصے میں بھی اُس نے غیر نجات یافتہ لوگوں کو عدالت کے دن میں اپنی زندگیاں گذارنے کی اجازت دی حالانکہ دنیا دوزخ میں بدل چکی ہے۔
اس کا کیا مطلب ہے کہ زمین ’’دوزخ‘‘ میں بدل چکی ہے؟ جب خدا نے (آسمان کا) دروازہ بند کیا تو اُس نے تمام زندہ انسانوں کی تقدیر پر مہر لگادی۔ یہ زمین پر رہنے والوں٬ ہم سب پر لاگو ہوتا ہے۔ خدا نے ہماری قسمت پر مہر لگادی ہے۔ یہ قائم اور دائم ہے اور ہماری روحوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ چنے ہوئے لوگوں کے لئے٬ ہمیں مسیح میں نئی مخلوق کے طور پر٬ دوبارہ پیدا کیا گیا ہے٬ اور ہمارے پاس ابدی زندگی ہے٬ اور ہمارے پاس اُس آخری دن میں اپنے ابدی روحانی جسموں کو حاصل کرنے کا وعدہ اور توقع ہے۔ ہمارے تمام گناہ دُھل گئے ہیں اور ہم باریک سفید کتان کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں٬ جو مقدسوں کی راستبازی ہے٬ جو مسیح کی راستبازی ہے۔ 21 مئی 2011 کو کچھ ایسا ہوا جو اُس سے پہلے صرف اُس وقت ہوا تھا جب ایک شخص مر گیا تھا۔
جب لوگ مرتے ہیں٬ تو اُن کی تقدیر بند ہو جاتی تھی۔ جب ایک شخص جیتا رہتاہے٬ تو آپ اُس شخص کی طرف سے خداوند سے دُعا اور التجا کر سکتے تھے۔ اگر آپ کا کوئی عزیز ہوتا٬ جس نے غیرنجات یافتہ ہونے کا ہر ثبوت دیا ہوتا٬ آپ دعاؤ ‏ں میں خداوند سے التجا کر سکتے تھے۔ ’’اے خداوند! رحم کر!‘‘ دہائیاں اسی طرح گذر سکتی ہیں۔ پھر ایک دن لفظ آتا ہے: ’’آپ کا بیٹا مر گیا ہے۔ چنے ہوئے ماں اور باپ کو رنج و غم ہوتا اور پھر وہ اُس بیٹے کے لئے دعا کرنا بند کر دیتے۔
یاد رکھیں کہ داؤ ‏د نے بت سبع سے پیدا ہونے والے بچے کے معاملے میں کیا کیا تھا۔ جب تک وہ بچہ زندہ تھا اُس نے روزہ رکھا٬ اور وہ اُس بچے پر خدا کے رحم کی دُعا کرتا رہا۔ اُس نے خود کو مجرم محسوس کیا کیونکہ یہ بت سبع کے ساتھ داؤ ‏د کے گناہ کے لئے خدا کی سزا تھی۔ خدا اس گناہ کے لئے بچے کو زمہ دار نہیں ٹھہرا رہا تھا٬ لیکن یہ خدا کی مرضی تھی کہ بچے کو مختصر زندگی ملے۔ تب داؤ ‏د کے نوکر نے آکر بتایا کہ بچہ مر گیا ہے٬ پھر داؤ ‏د اُٹھا٬ اپنا منہ دھویا۔ اور کھانا کھایا٬ اور اُس نے دُعا کرنا چھوڑ دی کیونکہ جسمانی موت نے بچےکی قسمت پر مہر لگادی تھی۔
کسی بھی شخص کی طبعی موت اُس کی روحانی تقدیر پر٬ اُس کی موت کی گھڑی مہر ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی جنگوں یا طاعون کی بیماری کے دوران بہت زیادہ جسمانی اموات ہوتی تھیں۔ زرا پہلی جنگ عظیم کو دیکھیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہسپانوی فلو سے تقریباََ 100 ملین لوگ مارے گئے٬ اور ساتھ ہی کئی ممالک کے لاکھوں جوانوں کی جنگ میں کئی اقوام میں سے موت ہوئی۔ یہ مرنے والے اُن نوجوانوں کے والدین کے لئے ایک ہولناک بات ہوتی۔ حالیہ دباء سے٬ زیادہ تر ہلاکتیں بوڑھوں کی تھیں٬ لیکن ہسپانوی فلو کے معاملے میں٬ اس نے زیادہ تر نوجوان افرادکو متاثر کیا۔ اُن کے والدین کو اس حقیقت کے ساتھ دکھ پہنچا کہ اُن کا بچہ مر گیا تھا٬ اور اُن کی ابدی قسمت پر مہر لگ گئی تھی۔ اگر وہ بچ جاتے تو سکون ہوتا۔ اور اگر وہ غیر نجات یافتہ رہتے تو اُن کے والدین کے لئے یہ اور بھی تکلیف دہ ہوتا۔
نوجوانوں کو اس محبت کی گہرائی کا احساس نہیں ہوتا جو زیادہ تر والدین ان کےلئے رکھتے ہیں۔ لہذا جب ایک بچہ مر جاتا ہے اور نجات کا کوئی ثبوت نہیں ہے٬ یہ بہت افسوس ناک ہے۔ اب بچہ چلا گیا ہے٬ اور نجات کا کوئی امکان نہیں ہے٬ اس کے باوجود کے ایک مخصوص کلیسیا کی طرف سے سکھائے گئے جھوٹے عقیدے سے جو سکھاتا ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے٬ اُس کا زندہ عزیز کلیسیا کو پیسے دیتا ہے تو اُن کےعزیز کی روح کو ایسا کرنے سے آسمان کی بادشاہی کے قریب کیا جا رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے معاملات میں کلیسیائیں جھوٹ بولتی ہیں۔ لیکن یہ ایک بہت ہی حقیر جھوٹ ہے! ایک بار جب کوئی شخص مر جاتا ہے٬ اس شخص کی قسمت پر مہر لگ جاتی ہے٬ اور پھر بھی اس کلیسیا نے جھوٹی اُمیدیں دلانے سے بہت سا پیسہ کمایا ہے۔ لیکن خدا کا ایک برگزیدہ بچہ جھوٹی اُمید سے محبت نہیں کرتا یہ ہمیں اُداس کرتا ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ حزقی ایل 13 باب٬ 22 آیت میں جھوٹے وعدوں کے بارے میں کیا کہتی ہے:

’’اس لئے کہ تم نے جھوٹ بول کر صادق کے دل کو اُداس کیا جس کو میں نے غمگیں نہیں کیا اور شریر کی مدد کی ہے تاکہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنی بری روش سے باز نہ آئے۔‘‘

زندگی کا وعدہ جو ’’جھوٹی اُمید‘‘ سے آتا ہے خدا کے چنے ہوئے بچے کو خوش نہیں کرتا کیونکہ یہ سچائی نہیں ہے۔ ہم مسیح کی آواز سنتے ہیں٬ اس لئے جب ہمیں جھوٹی کلیسیائیں کہتی ہیں٬ ’’تم نے مسیح کو قبول کیا٬ اور اب تم جنت میں جارہے ہو‘‘٬ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک جھوٹا وعدہ ہے۔ یہ غلط ہے۔ اور پھر بھی شریر جواب دیں گے٬ ’’یہ بہت اچھا ہے٬ میں بچ گیا ہوں٬ اب مجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب میں نیچے اُتر گیا ہوں اور مسیح کو قبول کیا ہے۔ خدا اور میرے درمیان سب ٹھیک ہے۔‘‘ انہیں جھوٹ سے دھوکہ ملا ہے۔
ایک بار پھر٬ ماضی میں مرنے والے شخص کی قسمت پر مہر لگادی۔ زیادہ تر حصے کیلئے٬ لوگوں نے خدا کے ساتھ اس کے بارے میں بحث نہیں کی۔ جب بھی کوئی مر گیا تو اس کی جان کس نے لی؟ خدا نے لی۔ خدا زندگی دیتا اور زندگی لیتا ہے۔ وہ خدا ہے٬ اور وہ یہ ہی کرتا ہے۔ وہ زندگی کو خلق کرتا ہے اور ختم کرتا ہے۔ جب کوئی کار ایکسیڈ ینٹ٬ بیماری سے٬ یا جنگ میں مرتا ہے٬ تو وہ خدا کی مرضی سےمرتا ہے۔ یہ اُس شخص کے مرنے کا وقت تھا٬ اُس شخص کے لئے خدا کے وقت نامہ یا منصوبہ کے مطابق۔ یہ سب کے لئے سچ ہے۔ جو خدا نے کیا ہم اُس کے بغیر ایک دن بھی زندہ رہنے والے نہیں ہیں٬ اور نہ ہی ہم اس دن کے آنے سے پہلے مرتے ہیں۔
موت ہماری قسمت پر مہر لگادیتی ہے اور یہ ہی دوزخ کی بڑی خصوصیت ہے٬ جو کہ قبر ہے۔ جب آپ قبر میں جاتے ہیں تو یہ حتمی ہے۔ چنے ہوؤ ‏ں کےلئے٬ آخری دن اُٹھائے جائیں گے٬ لیکن اس زندگی میں٬ غیر نجات یافتہ لوگوں کی موت حتمی ہے۔ 21 مئی 2011 پر خداوند نے یہ ہی کیا۔ اُس نے دروازہ بند کر کے انسانوں کی روحوں کی حالت کو حتمی شکل دی٬ اور یہ وجہ ہے کہ اب زمین ’’جہنم‘‘ جیسی ہے۔
لوگ ’’دوزخ‘‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں خاص طور پر جب وہ اپنی زندگی میں مشکلات اور پریشانیوں سے گذر رہے ہوں۔ جب اُن سے پوچھا جائے کہ وہ کیسے کر رہے ہیں٬ تو وہ جواب دیتے ہیں٬ ’’یہ جہنم تھا!‘‘ یہ دراصل بائبل کی سچی تعلیم کے زیادہ قریب ہے جو کلیسیاؤ ‏ں کے ماننے کے بارے میں ہے۔ ماضی میں اگر کوئی کہتا٬ ’’میں جہنم سے گذر رہا ہوں‘‘٬ ہم سوچتے٬ ’’یار٬ تم نہیں جانتے جہنم کیا ہے؟‘‘ ہم سمجھتے تھے کہ دوزخ ہمیشہ کے عذاب کی جگہ ہے۔
بنیادی طور پر جہنم عذاب کی جگہ ہے لیکن اب یہ زمین پر ہو رہی ہے۔ اس میں کم از کم دو چیزیں شامل ہیں:
(1) اس میں آسمان کا بند دروازہ ہے۔
(2) خدا زمین کے باشندوں کو مصیبتیں دے رہا ہے۔
ہم اپنے ناخون اُکھڑنے کی طرح کے عذاب کا سامنا نہیں کر رہے ہیں٬ بلکہ ہم رنج و غم اور پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں٬ اور وہ بڑھ رہے ہیں٬ خاص طور پر جب دنیا کے لوگ دروازے کے بند ہونے اور اجازت نہ ہونے کے بارے میں زیادہ سُنتے ہیں۔ ابدی زندگی کا کوئی امکان نہیں ہے جب تک کہ خدا نے اُس شخص کو 21 مئی 2011 سے پہلے بچایا نہ ہو۔
آیئے اُس لفظ کا جائزہ لیں جس کا ترجمہ ’’جہنم‘‘ ’’دوزخ‘‘ یا ’’پاتال‘‘ کیا گیا ہے۔ زبور 9 خدا کی عدالت پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔

’’زبور 9: 17آیت: شریر پاتال میں جائیں گے۔ یعنی وہ سب قومیں جو خدا کو بھول جاتی ہیں۔‘‘

یہ آیت عبرانی متوازی کا استعمال کرتی ہے٬ جہاں آیت کا دوسرا حصہ پہلے حصے کی طرح ہی بات کرتا ہے۔ پس شریر تمام قومیں ہیں۔ یہ یقینی طور پر ہمیں اُس وقت کے بارے میں بتا رہی ہے جب تمام قومیں خدا کے غضب کی زد میں آتی ہیں٬ اور وہ ’’جہنم‘‘ میں بدل جاتی ہیں٬ جو کہ قبر ہے۔
لفظ ’’دوزخ‘‘ عبرانی لفظ ’’شی اول‘‘ ہے اور یہ تقریباََ 31 بار ’’پاتال‘‘ کے طور پر ترجمہ کیا گیا ہے اور تقریباََ 31 بار ہی اس کا ترجمہ ’’قبر‘‘ کے طور پر کیا گیا ہے٬ جیسا کہ ہم گنتی کی کتاب میں دو بار دیکھتے ہیں جہاں زمین کھل گئی اور خدا کے خلاف باغی اتھاہ گڑھے میں اُترگئے۔ وہ نیچے قبر میں چلے گئے یا دوزخ میں اُتر گئے جسے گڑھے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مکاشفہ 9 باب میں جہاں خدا نے دوزخ کو ’’اتھا گڑھا‘‘ کہا ہے۔
ہم سوچتے ہیں کہ نیا عہدنامہ پرانے عہدنامہ سے زیادہ دوزخ کے بارے میں ظاہر کرتا ہے٬ لیکن یہ سچ نہیں ہوگا۔ پرانے عہدنامے میں عبرانی لفظ ’’شی اولزیور‘‘ کا ذکر تقریباََ 65 بار کیا گیا ہے۔ نئے عہدنامہ میں٬ اصطلاح ’’دوزخ‘‘ کا ذکر تقریباََ 23 مرتبہ ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ اس طرح سے 12 بار کیا گیا ہے۔
یونانی لفظ ’’جی نا‘‘ اور 10 مرتبہ یہ یونانی لفظ ’’ہیڈ یز‘‘ سے ہے٬ اور ایک بار یونانی لفظ ’’ٹار ٹارو‘‘ سے۔ آخری مثال 2- پطرس 2 باب: 4 آیت میں ظاہر ہوتی ہے٬ جہاں یہ کہتی ہے کہ باغی فرشتوں کو جہنم میں ڈ الا جائے گا۔ یونانی لفظ ’’ ہیڈ یز‘‘ کا ترجمہ ایک بار ’’قبر‘‘ کے طور پر ہوا۔ 1 کرنتھیوں 15باب 55 آیت میں:

’’1- کرنتھیوں 15 باب: 55 آیت: اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنگ کہاں رہا؟‘‘

لہذا ہم اس لفظ کو موت اور قبر یا موت اور دوزخ سے منسلک دیکھتے ہیں٬ جو ہمیں مکاشفہ 20 باب: 13-14 آیات کی یاد دلاتا ہے:

’’مکاشفہ 20 باب: 13 آیت : اور سمندر نے اپنے اندر کے مردوں کو دے دیا اور موت اور عالم ارواح نے اپنے اندر کے مردوں کو دے دیا اور اُن میں سے ہر ایک کے اعمال کے موافق اُس کا انصاف کیا گیا۔ ٬14 پھر موت اور عالم ارواح آگ کی جھیل میں ڈ الے گئے۔ یہ آگ کی جھیل دوسری موت ہے۔‘‘

دونوں صورتوں میں٬ لفظ ’’دوزخ‘‘ یونانی لفظ ’’ہیڈ یز‘‘ کا ترجمہ ہے۔ 1- کرنتھیوں 15 باب میں یہ ’’موت اور قبر‘‘ کا حوالہ دیتا ہے٬ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ موت اور قبر کو دوزخ یا عالم ارواح میں ڈ الا جاتا ہے٬ یعنی آگ کی جھیل۔ جب ہم اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ خدا نے عہدنامہ قدیم میں اس عبرانی لفظ شی اولاز ’’قبر‘‘ کو کس طرح استعمال کیا ہے٬ اور نئے عہدنامہ میں جہاں ہیڈیز کین کا ترجمہ ’’قبر‘‘ کے طور پر بھی کیا گیا ہے٬ تو ہم دیکھتے ہیں کہ ’’عالم ارواح‘‘ میں نیچے جانا٬ قبر میں جانا ہے۔ اس لفظ کا بنیادی خیال یہ ہی ہے۔
دوسری طرف٬ یونانی لفظ ’’جی نا‘‘ ایک عبرانی لفظ سے نکلا ہے٬ جس کا ترجمہ ’’ہنوم‘‘ کے طور پر کیا جاتا ہے٬ جیسا کہ وادی ہنوم میں٬ جسے زبع کی وادی بھی کہا جاتا ہے٬ جہاں خوفناک واقعیات رونما ہوئے٬ جہاں بچوں کو قربانی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ یہ قتل کی جگہ تھی٬ اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ متی 5 باب کی ایک آیت میں یونانی لفظ استعمال ہوا ہے۔

’’متی 5 باب: 30 آیت: اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو اُس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہ ہی بہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ جائے۔‘‘

لفظ جہنم یونانی لفظ ’’جی نا‘‘ ہے۔
چنانچہ عبرانی لفظ ’’شی اول‘‘ کے ساتھ٬ اس کا ترجمہ اکثر ’’قبر‘‘ کے طور پر کیا جاتا ہے٬ اور جب خدا نے آسمان کا دروازہ بند کر دیا٬ تو اُس نے سب کی قسمت پر مہر لگادی٬ اور اُس نے اس معنیٰ میں دنیا کو ’’جہنم‘‘ میں بدل دیا۔
چلیں مکاشفہ 9 باب کی طرف رجوع کریں٬ جہاں ہمیں اس کی تفصیل مل سکتی ہے کہ خداوند نے 21 مئی 2011 کو کیا کیا۔ یہ مکاشفہ 9 باب: 1-2 آیات میں کہتی ہے:

’’مکاشفہ 9 باب: 1 آیت: اور جب پانچویں فرشتہ نے نرسنگا پھونکا تو میں نے آسمان سے زمین پر ایک ستارہ گرا ہوا دیکھا اور اُسے اتھاہ گڑھے کی کُنجی دی گئی۔ 2: اور جب اُس نے اتھاہ گڑھے کو کھولا تو گڑھے میں سے ایک بڑی بھٹی کا سا دھواں اُٹھا اور گڑھے کے دھویں کے باعث سے سورج اور ہوا تاریک ہوگئی۔‘‘

یہ ستارہ کس کی نمائندگی کرتا ہے؟ زمین پر گرنے کا کیا مطلب ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ خدا اپنی زبان میں بالکل درست ہے٬ اور ہر لفظ کا مقصد اور معنیٰ ہوتا ہے۔ ہم اسے بعد میں سمجھنے کی کوشش کریں گے٬ لیکن اس سے پہلے کہ ہم ایسا کریں٬ آیئے٬ تیسرے حصے کی عدالت کے بارے میں پڑھنے کے لئے پچھلے باب پر واپس چلیں۔ سات فرشتے تھے جن کے پاس سات نرسنگے تھے٬ اور جب وہ بجاتے تھے تو مختلف چیزوں کے تیسرے حصہ پر عدالت آئی۔

’’مکاشفہ 8 باب: 9 آیت: اور سمندر کی تہائی جان دار مخلوقات مرگئی اور تہائی جہاز تباہ ہوگئے۔ 10: اور جب تیسرے فرشتہ نے نرسنگا پھونکا تو ایک بڑا ستارہ مشعل کی طرح جلتا ہوا آسمان سے ٹوٹا۔۔۔‘‘

کیا یہ جانا پہچانا لگتا ہے؟ اس طرح اگلا باب شروع ہوتا ہے۔ پھر یہ مکاشفہ 8 باب: 10-11 آیات میں کہتی ہے:

’’مکاشفہ 8 باب: 10 آیت: اور جب تیسرے فرشتے نے نرسنگا پھونکا تو ایک بڑا ستارہ مشعل کی طرح جلتا ہوا آسمان سے ٹوٹا اور تہائی دریاؤ ‏ں اور پانی کے چشموں پر آ پڑا۔ 11: اُس ستارے کا نام ناگ دونا کہلاتا ہے اور تہائی پانی ناگ دونے کی طرح کڑوا ہوگیا اور پانی کے کڑوا ہونے سے بہت سے آدمی مرگئے۔‘‘

مکاشفہ 8 باب میں چار فرشتوں نے نرسنگا پھونکا٬ اور جب بھی وہ نرسنگا پھونکتے تھے٬ تیسرے حصے پر عدالت آتی تھی٬ جس کا تعلق خدا کے چنے ہوؤ ‏ں سے ہو سکتا ہے٬ جیسا کہ ہم زکریاہ 13 باب: 8-9 آیات میں دیکھتے ہیں:

’’زکریاہ 13 باب: 8 آیت: اور خداوند فرماتا ہے سارے ملک میں دو تہائی قتل کئے جائیں گے اور مریں گے لیکن ایک تہائی بچ رہیں گے۔ 9: اور میں اس تہائی کو آگ میں ڈ ال کر چاندی کی طرح صاف کروں گا اور سونے کی طرح تاؤ ‏ں گا۔ وہ مجھ سے دُعا کریں گے اور میں ان کی سنوں گا۔ میں کہوں گا یہ میرے لوگ ہیں اور وہ کہیں گے خداوند ہی ہمارا خدا ہے۔‘‘

یہاں زکریاہ 13 باب میں تیسرا حصہ خدا کے لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے٬ لیکن مکاشفہ 8 باب میں٬ یہ ’’تیسرے حصے‘‘ پر عدالت کو بیان کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خدا ہمیں اپنے چُنے ہوئے لوگوں کا انصاف کرنے کے بارے میں نہیں بتا رہا ہے٬ بلکہ وہ اُن لوگوں کی عدالت کر رہا ہے جو اُس کے لوگ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہیں ہیں۔ وہ مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ کلیسیاؤ ‏ں میں ہیں٬ لیکن وہ خدا کے حقیقی برگزیدہ نہیں ہیں۔ خدا نے خبردار کیا تھا کہ عدالت خدا کے گھر سے شروع ہوگی٬ لہذا مکاشفہ 8 باب اس ’’تیسرے حصے‘‘ پر عدالت ہے۔
ویسے کیا پہلے چار نرسنگے ترتیب وار تھے؟ ہم جانتے ہیں کہ کلیسیاؤ ‏ں پر عدالت پورے 23 سال کی تھی۔ اس 23 سالہ بڑی مصیبت کے دو حصے تھے٬ جس میں 2300 صبح اور شام کا پہلا حصہ تھا٬ اور پھر 6100 دن دوسرا حصہ تھا٬ جو اسے 8400 دن یا عین 23 سال بناتا ہے۔ لیکن ہم اس 23 سال کی مدت سے نہیں گذر سکے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ وقت کی ایک خاص طوالت پہلا نرسنگا تھا یا دوسرا نرسنگا تھا٬ وغیرہ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ تمام واقعیات ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں٬ اور خدا صرف فرشتوں کی زبان کا استعمال کر رہا ہے٬ ایک نرسنگا بجا کر٬ ایک مخصوص روحانی معنیٰ بیان کرنے کے لئے٬ لہذا جب ہم چوتھے فرشتے کی آواز پر پہنچتے ہیں٬ تو تعداد عالمگیریت کی طرف اشارہ کرتی ہے٬ جو پوری اجتماعی جماعت کی عدالت پر لاگو ہوتی ہے۔ اور یہ جاننا ضروری ہے٬ کیونکہ مکاشفہ 9 باب میں٬ پانچواں فرشتہ نرسنگا پھونکے گا اور چھٹا اور ساتواں نرسنگا پھونکے گا۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں تاریخ کے مطابق ہیں٬ اور پھر وہ ہر فرشتے کی مدت کے بارےمیں اپنے منظرنامے پیش کرتے ہیں٬ خاص طور پر 21 مئی 2011 سے٬ اور کس طرح کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر اپنے غلط (وقت نامہ) کے حسابات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے٬ ’’اچھا یہ واقعی پانچواں نرسنگا تھا٬ اور اب ہم چھٹے نرسنگے کے دور میں ہیں۔ لیکن آخری تین نرسنگے پانچوی٬ چھٹے اور ساتویں بیک وقت پھونکتے ہیں۔ اسے دوسرے طریقے سے بیان کرنےکے لئے٬ ہم جانتے ہیں کہ عدالت کا دن 21 مئی 2011 کو شروع ہوا٬ اور یہ پانچویں٬ چھٹے اور ساتویں نرسنگے کا وقت تھا۔ تینوں نرسنگوں کی آواز نے اشارہ دیا کہ عدالت کا دن آگیا ہے۔ ان آخری تین نرسنگوں کی آوازوں میں سے ہر ایک کے بارے میں جو کچھ ہم پڑھتے ہیں وہ مجموعی طور پر عدالت کے دن کے لئے درست ہے اور نہ صرف عدالت کے دن کے ایک خاص حصے کے لئے۔
مکاشفہ 8 باب اور ’’تیسرے حصے کی عدالت پر واپس جانا یہ کلیسیاؤ ‏ں کی نمائندگی کرتا ہے۔ خدا کے گھر سے عدالت شروع ہوئی۔ یہ وہیں سے شروع ہوئی۔ مکاشفہ 8 باب بیان کرتا ہے کہ عدالت کلیسیاؤ ‏ں سے شروع ہوئی اور پھر مکاشفہ 9 باب دنیا کی عدالت پر پانچویں٬ چھٹے اور ساتویں نرسنگے کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ یہ مکاشفہ 8 باب: 13 آیت میں کہتی ہے:

’’مکاشفہ 8 باب: 13 آیت: اور جب میں نے پھر نگاہ کی تو آسمان کے بیچ میں ایک عُقاب کو اُڑتے اور بڑی آواز سے یہ کہتے سُنا کہ اُن تین فرشتوں کے نرسنگوں کی آوازوں کے سبب سے جن کا پھونکنا ابھی باقی ہے زمین کے رہنے والوں پر افسوس- افسوس-افسوس۔‘‘

یہاں تین ’’افسوس‘‘ ہیں۔ وہ کس سے بات کر رہے ہیں؟ وہ زمین کے باشندوں سے مخاطب ہیں۔ وہ زبان اس لئے اہم ہے کہ جو ہم یسعیاہ 24 باب میں پڑھتے ہیں٬ ایک ایسا باب جہاں خدا عدالت کے دن کو بیان کرتا ہے۔ یہ یسعیاہ 24 باب: 4-6 آیات میں کہتی ہے:

’’یسعیاہ 24 باب: 4 آیت: زمِین غمگِین ہوتی اور مُرجھاتی ہے۔ جہان بیتاب اور پژمردہ ہوتا ہے۔ زمین کے عالی قدر لوگ ناتواں ہوتے ہیں۔ (5) زمین اپنے باشندوں سے تجسس ہوئی کیونکہ انہوں نے شریعت کو عدول کیا۔ آئین سے منحرف ہوئے۔ عہد ابدی کو توڑا۔
(6) اس سبب سے لعنت نے زمین کو نگل لیا اور اُس کے باشندے مجرم ٹھہرے اور اسی لئے زمین کے لوگ بھسم ہوئے اور تھوڑے سے آدمی بچ گئے۔‘‘

واپس مکاشفہ 8 باب: 13 آیت پر آتے ہوئے٬ ہم پڑھتے ہیں٬ ’’زمین کے رہنے والوں پر٬ افسوس- افسوس- افسوس‘‘۔ پھر یہ یسعیاہ 24 باب: 17-19 آیات میں کہتی ہے:

’’یسعیاہ 24 باب: 17 آیت: اے زمین کے باشندے! خوف اور گڑھا اور دام تجھ پر مسلط ہیں۔
(18) اور یوں ہوگا کہ جو خوفناک آواز سُن کر بھاگے گڑھے میں گرے گا اور جو گڑھے سے نکل آئے دام میں پھنسے گا کیونکہ آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں اور زمین کی بنیادیں ہل رہی ہیں۔
(19) زمین بالکل اُجڑ گئی۔ زمین یکسر شکستہ ہوئی اور شدت سے ہلائی گئی۔‘‘

زمین کو ہلانے کی زبان کا تعلق جو کچھ ہم زبور 46: 2- 3 آیات میں پڑھتے ہیں اُس سے ہے٬ جو زمین کے ہلائے جانے والے اجزاء کو بیان کرتے ہیں۔
پھر یہ یسعیاہ 24 باب: 20 آیت میں آگے کہتی ہے:

’’یسعیاہ 24 باب: 20 آیت: وہ متوالے کی مانند ڈ گمگائے گی اور جھونپڑی کی طرح آگے پیچھے سرکائی جائے گی کیونکہ اُس کے گناہ کا بوجھ اُس پر بھاری ہوا۔ وہ گرے گی اور پھر نہ اُٹھے گی۔‘‘

زمین گرجائے گی۔ یہ بائبل کی تعلیم ہے جب وہ یہ کہتی ہے: ’’بابل گر گیا٬ گر گیا٬ مکاشفہ 14 باب: 8 آیت میں۔
کیا آپ نے غور کیا کہ یسعیاہ 24 باب: 18 آیت میں کیا کہا گیا ہے٬ ’’۔۔۔۔۔ کیونکہ آسمان کی کھڑکیاں کھُل گئی۔‘‘ ہم نے یہ پہلے کہاں سُنا ہے؟ پیدائش 7 باب: 10-11 آیات پر جائیں:

’’پیدائش 7 باب: 10 آیت: اور سات دن کے بعد ایسا ہوا کہ طوفان کا پانی زمین پر آگیا۔
(11) نوح کی عمر کا چھ سواں سال تھا کہ اُس کے دوسرے مہینے کی ٹھیک سترھویں تاریخ کو بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں۔‘‘

بلاشبہ آسمان بلندی پر ہے٬ اور وہ کھڑکیاں ’’دوسرے مہینے کی ٹھیک سترھویں تاریخ کو‘‘ کھلیں۔ 21 مئی 2011 کی تاریخ عبرانی کیلنڈ ر کی دوسرے مہینے کی سترھویں تاریخ کے نیچے لائن لگادی گئی تھی۔
لہذا یسعیاہ 24 باب میں٬ دنیا خدا کے غضب کے نیچے ہے۔ یہ زمین پر خدا کے غضب کے برسائے جانے کی ایک ہولناک تفصیل ہے٬ اور یہ طوفان کے ساتھ جڑتی ہے جب خدا نے طوفان کے تباہ کن پانیوں کو بہانے کے لئے آسمان کی کھڑکیاں کھول دیں۔
جہاں تک زمین کے باشندوں کا تعلق ہے تو آیئے ہم یرمیاہ 25 باب: 28-29 آیات کی طرف چلیں:

’’یرمیاہ 25 باب: 28 آیت: اور یوں ہوگا کہ اگر وہ پینے کو تیرے ہاتھ سے پیالہ لینے سے انکار کریں تو اُن سے کہنا کہ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ یقیناََ تم کو پینا ہوگا۔
(29) کیونکہ دیکھ میں اس شہر پر جو میرے نام سے کہلاتا ہے آفت لانا شروع کرتا ہوں اور کیا تم صاف بے سزا جھوٹ جاؤ ‏ گے؟ تم بے سزا نہ چھوٹو گے کیونکہ میں زمین کے سب باشندوں پر تلوار کو طلب کرتا ہوں رب الافواج فرماتا ہے۔‘‘

سب سے پہلے خدا نے اپنے نام سے پکارے جانے والے شہر پر عدالت شروع کی۔ عدالت خدا کے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم حزقی ایل 9 باب: 6 آیت میں دیکھتے ہیں٬ جہاں خدا نے اپنے مقدس سے شروع کرتے ہوئے سات تباہ کرنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور مکاشفہ 8 باب میں پہلے چار نرسنگے خدا کے غضب کا آغاز تھے٬ اس کے بعد زمین کے تمام باشندوں کے لئے تین مصیبتیں تھیں۔ دوبارہ خدا نے یرمیاہ 25 باب: 29 آیت میں کہا:

’’یرمیاہ 25 باب: 29 آیت: کیونکہ دیکھ میں اس شہر پر جو میرے نام سے کہلاتا ہے آفت لانا شروع کرتا ہوں اور کیا تم صاف بے سزا چھوٹ جاؤ ‏ گے؟ تم بے سزا نہ چھوٹو گے کیونکہ میں زمین کے سب باشندوں پر تلوار کو طلب کرتا ہوں۔ رب الافواج فرماتا ہے۔‘‘

پھر یہ یرمیاہ 25 باب: 30 آیت میں کہتی ہے:

’’یرمیاہ 25 باب: 30 آیت: اس لئے تو یہ سب باتیں اُن کے خلاف نبوت سے بیان کر اور اُن سے کہہ دے کہ خداوند بلندی پر سے گرجے گا اور اپنے مقدس مکان سے للکارے گا۔ وہ بڑے زور و شور سے اپنی چراگاہ پر گرجے گا۔ انگور لتاڑنے والوں کی مانند وہ زمین کے سب باشندوں کو للکارے گا۔‘‘

اسے دوبارہ دُہرایا جاتا ہے۔ خدا کا غضب زمین کے تمام باشندوں پر نازل ہوتا ہے۔
انگوروں کو روندنے کے بارے میں٬ ہم مکاشفہ 19 باب میں مزید پڑھتے ہیں جہاں ہم خداوند یسوع مسیح کے عدالت کے دن میں٬ کلمہ کے طور پر آنے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ ہم مکاشفہ 19 باب: 15 آیت میں پڑھتے ہیں:

’’مکاشفہ 19 باب: 15 آیت: اور قوموں کے مارنے کے لئے اُس کے مُنہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حکومت کرے گا اور قادر مطلق خدا کے سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور روندے گا۔‘‘

یہ وہ ’’افسوس‘‘ ہیں جن کا زمین کے باشندے سامنا کر رہے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جسے آخری آیت میں مکاشفہ 8 باب: 13 آیت میں بیان کیا گیا ہے:

’’مکاشفہ 8 باب: 13 آیت: اور جب میں نے پھر نگاہ کی تو آسمان کے بیچ میں ایک عقاب کو اُڑتے اور بڑی آواز سے یہ کہتے سُنا کہ اُن تین فرشتوں کے نرسنگوں کی آوازوں کے سبب سے جن کا پھونکنا ابھی باقی ہے زمین کے رہنے والوں پر افسوس- افسوس- افسوس!‘‘

تین مصیبتیں یا تین نرسنگے ہوں گے۔ ہم نے یسعیاہ 24 باب: 20 آیت میں دیکھا کہ زمین گر جائے گی٬ اور پھر نہ اُٹھے گی۔
مکاشفہ 18 باب میں ہمیں ایک پرہیز ملتا ہے جو واقعی اُس وقت نمایاں ہوتا ہے جب خدا بابل٬ یا دنیا پر اپنی عدالت کے آنے کی بات کرتا ہے۔ یہ مکاشفہ 18 باب: 2 آیت میں کہتی ہے:
’’مکاشفہ 18 باب: 2 آیت: اُس نے بڑی آواز سے چلا کر کہا کہ گر پڑا۔ بڑا شہر بابل گر پڑا اور شیاطین کا مسکن اور ہر ناپاک روح کا اڈ ا اور ہرناپاک اور مکروہ پرندہ کا اڈ ا ہوگیا۔‘‘

ویسے لفظ ’’اڈ ا‘‘ وہی لفظ ہے جسکا ترجمہ ٬’’قید‘‘ ہے۔ یاد رکھیں شیطان کو اتھاہ گڑھے میں ڈ الا گیا تھا٬ اور پھر یہ کہتی ہے کہ اُسے قید سے چھوڑا گیا٬ مکاشفہ 20 باب: 7 آیت میں۔ ’’اتھاہ گڑھا‘‘ یا ’’دوزخ‘‘ قید ہے۔ یہاں ہم پر ’’بدروح‘‘ کی قید اور ہر ناپاک اور نفرت انگیز پرندے کی ’’قید‘‘ کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ بابل گر گیا اور وہ قید میں بدل گیا۔
آپ دیکھتے ہیں کہ ایک قیدی بند ہے اور وہ باہر نہیں آسکتا۔ اُسے آزادی نہیں ہے۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے جب کوئی مرتا ہے اور اُسے قبر میں دفن کیا جاتا ہے۔ وہ مر چکے ہیں کوئی فرار یا نجات نہیں ہے۔
ہم پہلے ہی یسعیاہ 24 باب: 20 آیت کو پڑھتے ہیں٬ لیکن یہ یسعیاہ 24 باب: 21 آیت میں کہتی ہے:

’’یسعیاہ 24 باب: 21 آیت: اور اُس وقت یوں ہوگا کہ خداوند آسمانی لشکر کو آسمان پر اور زمین کے بادشاہوں کو زمین پر سزا دے گا۔
(22) اور وہ اُن قیدیوں کی مانند جو گڑھے میں ڈ الے جائیں جمع کیئے جائیں گے اور وہ قیدخانہ میں قید کئے جائیں گے اور بہت دنوں کے بعد اُن کی خبر لی جائے گی۔‘‘

خدا کا غضب زمین پر ہے٬ اور وہ قیدیوں کی طرح جمع ہیں۔ بابل گر گیا ہے۔ اور یہ ہر بدروح اور مکروہ پرندوں کے قید خانے میں بدل گیا ہے۔ بابل دنیا ہے۔
یرمیاہ 25 باب میں خدا بابل کی بات کرتا ہے٬ اور یہ یرمیاہ 25 باب: 12 آیت میں کہتی ہے:

’’یرمیاہ 25 باب: 12 آیت:خداوند فرماتا ہے جب ستر برس پورے ہوں گے تو میں شاہ بابل کو اور اُس قوم کو اور کسدیوں کے ملک کو اُن کی بدکرداری کے سبب سے سزا دوں گا اور میں اُسے اُجاڑوں گا کہ ہمیشہ تک ویران رہے۔‘‘

ستر سال بڑی مصیبت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پھر سے یرمیاہ 25 باب: 12 آیت میں خدا کہتا ہے٬ ’’۔۔۔۔۔۔ میں شاہ بابل کو اور اُس قوم کو اور کسدیوں کے ملک کو اُن کی بدکرداری کے سبب سے سزا دوں گا اور میں اُسے اُجاڑوں گا۔‘‘
بابل کا بادشاہ اور ’’وہ قوم‘‘ شیطان کی اور دنیا کے غیر نجات یافتہ لوگوں کی ایک تصویر ہے۔
پھر یہ یرمیاہ 25 باب: 13 آیت میں کہتی ہے:

’’یرمیاہ 25 باب: 13 آیت: اور میں اُس ملک پر اپنی سب باتیں جو میں نے اُس کی بابت کہیں یعنی وہ سب جو اُس کتاب میں لکھی ہیں جو یرمیاہ نے نبوت کر کے سب قوموں کو کہہ سنائیں پوری کروں گا۔‘‘

ایک اور آیت جو ظاہر کرتی ہے کہ بابل دنیا کی واضع نمائندگی کرتا ہے یرمیاہ 51 باب: 49 آیت میں ہے:

’’یرمیاہ 51 باب: 49 آیت: جس طرح بابل میں بنی اسرائیل قتل ہوئے اسی طرح بابل میں تمام ملک کے لوگ قتل ہوں گے۔‘‘

بابل اسرائیل کے مقتولوں کے گرنے کا سبب بنا٬ جو خدا کی عدالت کی ایک تصویر ہے اور جو کلیسیاؤ ‏ں سے شروع ہوئی٬ جیسا کہ شیطان اور اُس کی بادشاہی نے اجتماعی کلیسیا کو تباہ کر دیا تھا۔ لہذا اس آیت کے دوسرے حصے میں خدا کی طرف سے بدلہ بیان کیا گیا ہے۔ ’’۔۔۔۔ اُسی طرح بابل میں تمام ملک کے لوگ قتل ہوں گے۔‘‘
چنانچہ جب ہم پڑھتے ہیں٬ ’’بابل گر گیا٬ گرگیا ہے۔‘‘ ہم دیکھتے ہیں یہ دو دفعہ ہے۔ کیوں؟ ہم پیدائش 41 باب: 32 آیت میں پڑھتے ہیں:

’’پیدائش 41 باب: 32 آیت: اور فرعون نے جو یہ خواب دو دفعہ دیکھا تو اس کا سبب یہ ہےکہ یہ بات خدا کی طرف سے مقرر ہو چکی ہے اور خدا اُسے جلد پورا کرے گا۔‘‘

یوسف فرعون کے خوابوں کی تعبیر کر رہا تھا٬ اور وہ خواب دوگنا ہوگئے کیونکہ یہ خدا کی طرف سے قائم کیا گیا تھا٬ اور وہ جلد ہی اسے پورا کرے گا۔
مکاشفہ 14 باب: 8 آیت٬ جو کہتی ہے٬ ’’بابل گر گیا٬ گر گیا‘‘٬ بائبل میں 1900 سالوں سے موجود ہے۔ پھر بھی خدا اعلان کر رہا تھا کہ یہ قائم ہو چکا ہے اور جلد ہی پورا ہو جائے گا۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جب یسوع نے کہا٬ ’’دیکھو! میں جلد آتا ہوں۔‘‘ اُس نے یہ مکاشفہ کی کتاب میں تین بار کہا۔۔۔ کچھ لوگ ہنس کر کہیں گے ’’یہ کیسی جلدی ہے؟ ہم اکیسویں صدی میں ہیں٬ لیکن یسوع نے یہ پہلی عیسوی صدی میں کہا٬ تو یہ جلدی کیسے آرہا ہے؟‘‘ یہ اس لحاظ سے جلدی ہوگا کہ یہ پہلے ممکنہ طور پر جلدی ہو جائے بجائے اس کے کہ خدا اپنے منصوبہ پر کام کرے۔ وہاں ایک کلیسیائی دور رہا تھا٬ اور وہاں کلیسیائی دور کو ختم ہونا تھا٬ اور وہاں ایک (طویل) عدالت کےدن کو ہونا تھا۔ پھر خدا جلدی آتا ہے٬ جب ایک دفعہ سب کچھ پورا ہو چکا٬ پھر وہ ایک دم سے آتا ہے٬ جیسا کہ یہ متی 24 باب: 29 آیت میں کہتی ہے: ’’اور فوراََ اُن دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا۔۔۔‘‘ وہاں دیر نہ ہوگی۔ یہ وقت ہے اختتام بہت تیز اور فوری ہے۔
ہم بائبل میں٬ کتنی بار پڑھتے ہیں٬ بابل گر گیا٬ گر گیا؟ یہ تین جگہوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ مکاشفہ 14 باب: 8 آیت میں ظاہر ہوتا ہے:

’’مکاشفہ 14 باب: 8 آیت: پھر اُس کے بعد ایک اور دوسرا فرشتہ یہ کہتا ہوا آیا کہ گر پڑا۔ وہ بڑا شہر بابل گر پڑا جس نے اپنی حرامکاری کی غضب ناک مے تمام قوموں کو پلائی۔‘‘

اگر آپ پڑھنا جاری رکھیں گے تو آپ عدالت کے دن میں خدا کے غضب کے پیالے میں سیکھیں گے۔
یہ جملا پرانے عہدنامہ میں یسعیاہ 21 باب میں آتا ہے۔ یہ یسعیاہ 21 باب: 6-9 آیات میں کہتی ہے:

’’یسعیاہ 21 باب: 6 آیت: کیونکہ خداوند نے مجھے یوں فرمایا کہ جا نگہبان بٹھا۔ وہ جو کچھ دیکھے سو بتائے۔
(7) اُس نے سوار دیکھے جو دو دو آتے تھے اور گدھوں اور اُنٹوں پر سوار۔ اور اُس نے بڑے غور سے سُنا۔
(8) تب اُس نے شیر کی سی آواز سے پکارا اے خداوند! میں اپنی دیدگاہ پر تمام دن کھڑا رہا اور میں نے ہر رات پہرے کی جگہ پر کاٹی۔
(9) اور دیکھو سپاہیوں کے غول اور اُن کے سوار دو دو کر کے آتے ہیں۔ پھر اُس نے یوں کہا کہ بابل گر پڑا٬ گر پڑا اور اُس کے معبودوں کی سب تراشی ہوئی مورتیں بالکل ٹوٹی پڑی ہیں۔‘‘

ہم بابل کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں کیونکہ ہم دنیا کے اداروں کی عوامی تضحیک اور تمسخر کو دیکھتے ہیں۔ کیا آپ کسی ایسے ادارے کا نام لے سکتے ہیں جو آج انتہائی قابل احترام ہے۔ کیا یہ سائنسی برادری ہے؟ کیا یہ تعلیمی نظام ہے؟ نہیں۔ کیا یہ نیوز میڈ یا ہے؟ نہیں۔ کیا یہ کھیل اور تفریحی ادارہ ہے؟ نہیں۔ حکومت کی کس شاخ نے احترام کو برقرار رکھا ہے؟ کیا یہ عدالتی نظام ہے؟ نہیں۔ اور یہ صرف امریکہ میں نہیں ہے٬ بلکہ دنیا بھر میں ایسی حکومتیں ہیں جو اپنے سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈ النے کی کوشش کر رہی ہیں۔
دنیا کے زوال کا تعلق دنیا کے جھوٹے خداؤ ‏ں سے ہے۔ دنیا کے ہر ادارے کو اُس بلندی پر پہنچا دیا گیا ہے جس کا وہ مستحق نہیں ہے یہاں تک کہ خود کو خدا کی جگہ پر رکھ دیا جائے۔ مثال کے طور پر٬ سائنس دان کا لفظ خدا کےکلام سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ خدا متفکر خدا ہے٬ اور عدالت کے دن میں وہ دنیا کے اداروں کو گرا رہا ہے۔ وہ اُن کو سرعام شرمندہ کر رہا ہے۔
دنیا بے نقاب ہو رہی ہے۔ یہ بابل کی ’’ہرہنگی‘‘ ہے٬ جیسا کہ یہ ہمیں یسعیاہ 47 باب: 3 آیت میں بتاتی ہے:

’’یسعیاہ 47 باب: 3 آیت: تیرا بدن بے پردہ کیا جائے گا بلکہ تیرا ستر بھی دیکھا جائے گا۔ میں بدلہ لوں گا۔۔۔۔‘‘

ہم مکاشفہ 18 باب: 9-10 آیات میں پڑھتے ہیں:

’’مکاشفہ 18 باب: 9 آیت: اور اُس کے ساتھ حرامکاری اور عیاشی کرنے والے زمین کے بادشاہ جب اُس کے جلنے کا دھواں دیکھیں گے تو اُس کےلئے روئیں گے اور چھاتی پیٹیں گے۔
(10) اور اُس کے عذاب کے ڈ ر سے دور کھڑے ہوئے کہیں گے اے بڑے شہر! اے بابل! اے مضبوط شہر! افسوس! افسوس! گھڑی ہی بھر میں تجھے سزا مل گئی۔‘‘

لفظ ’’الاس‘‘ وہی لفظ ہے جس کا ترجمہ افسوس ہے۔ اگر آپ اس باب کو پڑھیں تو بابل کے زوال کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ اور یہ دلچسپ بات ہے۔ وہاں لوگ اسے ’’جلتا‘‘ دیکھ رہے ہیں٬ اور وہ غمگین اور غم زدہ ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں٬ افسوس٬ ہائے٬ جیسے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کی دولت اُن سے چھین لی گئی ہے لیکن اب ان کی دولت کو اُن سے چھین لیا گیا ہے٬ وہ ایک امیر شہر میں تھے جسے تباہ کیا جا رہا ہے۔ اُن کی تمام دولت کو ضائع کیا جا رہا ہے۔
پھر ہم مکاشفہ 18 باب: 15 سے 19 آیات میں پڑھتے ہیں:

’’مکاشفہ 18: 15 آیت: اُن چیزوں کے سوداگر جو اُس کے سبب سے مالدار بن گئے تھے اُس کے عذاب کے خوف سے دور کھڑے ہوئے روئیں گے اور غم کریں گے۔
(16) اور کہیں گے افسوس! افسوس! وہ بڑا شہر جو مہین کتانی اور ارغوانی قرمزی کپڑے پہنے ہوئے اور سونے اور جواہر اور موتیوں سے آراستہ تھا۔
(17) گھڑی ہی بھر میں اُس کی اتنی بڑی دولت برباد ہوگئی۔ اور سب ناخدا اور جہاز کے سب مسافر اور ملاح اور جتنے سمندر کا کام کرتے ہیں۔
(18) جب اُس کے جلنے کا دھواں دیکھیں گے تو دور کھڑے ہوئے چلائیں گے اور کہیں گے کونسا شہر اس بڑے شہر کی مانند ہے؟
(19) اور اپنے سروں پر خاک ڈ الیں گے اور روتے ہوئے اور ماتم کرتے ہوئے چلا چلا کر کہیں گے افسوس! افسوس! وہ بڑا شہر جس کی دولت سے سمندر کے سب جہاز والے دولت مند ہوگئے گھڑی بھر میں اُجڑ گیا۔‘‘

جن الفاظ کا ترجمہ ’’ویران‘‘ اور ’’اُجڑانے والی‘‘ سے کیا گیا ہے٬ وہی یونانی لفظ لوقا 11 باب: 17 آیت٬ اور متی 12 باب: 25 آیت میں استعمال ہوئے ہیں٬ جو کہ مرقس 3 باب: 24-26 آیات کی عبارت کے برابر ہیں٬ یہ لوقا 11 باب: 17 آیت میں بھی کہتی ہے:

’’لوقا 11 باب: 17 آیت: مگر اُس نے اُن کے خیالات کو جان کر اُن سے کہا جس سلطنت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔‘‘

جس لفظ کا ترجمہ ’’ویران‘‘ کیا گیا ہے٬ مصبوطی کا [عدد 2049] دو بار استعمال کیا گیا ہے۔ اور اسی سیاق و سباق میں متی 12 باب: ٬25 سلطنت اور گھر میں پھوٹ کے حوالہ سے استعمال ہوا ہے۔
یہ مکاشفہ کی کتاب میں بھی تین بار استعمال ہوا ہے۔ دو بار یہ مکاشفہ 18 باب میں بابل کے گرنے کے حوالہ سے استعمال ہوا٬ اور ویران ہونے کے حوالہ سے استعمال ہوا ہے۔ لہذا تین بار بابل کے گرنے کے حوالہ سے استعمال ہوا٬ اور دو بار شیطان اور اُس کی سلطنت کے حوالہ سے استعمال ہوا ہےیا گھر کے بارے میں۔
تاریخی طور پر٬ ذرا دانی ایل 5 باب کو دیکھیں۔ ستر سالوں کے بعد٬ جو بڑی مصیبت کو ظاہر کرتا ہے۔ دیوار پر ایک تحریر لکھی تھی٬ اور دانی ایل کو اس کی تعبیر بتانے کے لئے بلایا گیا۔ یہ بابل کی بادشاہت کا اختتام تھا٬ اور تحریر میں کہا گیا تھا٬ ’’ منے٬ منے٬ تقیل و فرسین۔‘‘ دانی ایل نے اس کی تعبیر کس طرح سے کی؟ یہ دانی ایل 5 باب: 25-28 آیات میں کہتی ہے:

’’دانی ایل 5 باب: 25 آیت: اور وہ نوشتہ یہ ہے منے٬ منے٬ تقیل و فرسین۔
(26) اور اس کے معنی یہ ہیں منے یعنی خدا نے تیری مملکت کا حساب کیا اور اُسے تمام کر ڈالا۔
(27) تقیل یعنی تو ترازو میں تولا گیا اور کم نکلا۔
(28) فریس یعنی تیری مملکت منقسم ہوئی اور مادیوں اور فارسیوں کو دی گئی۔‘‘

بابل شیطان کی بادشاہت کی ایک تمثیل ہے٬ جیسا ہم یسعیاہ 14 باب: 4 آیت میں پڑھتے ہیں:

’’یسعیاہ 14 باب: 4 آیت: تب تو شاہ بابل کے یہ مثل لائے گا اور کہے گا کہ ظالم کیسا نابود ہوگیا! اور غاصب کیسا نیست ہوا!‘‘

اگرچہ اس باب میں بابل کے بادشاہ کو ’’شیطان‘‘ نہیں کہا گیا ہے٬ لیکن یہ ظاہر ہے۔
اور یہاں دانی ایل 5 باب میں٬ بابل کا بادشاہ ستر سال بعد اُسی رات مارا جائے گا٬ اور مادی اور فارسی اور بادشاہ سائرس (دائرس) حیرت میں٬ اسی رات اُس کی بادشاہت چھین لیں گے۔ (مسیح رات میں چور کی مانند آتا ہے۔) بابل گر گیا ہے٬ گر گیا ہے٬ اور یہ بڑی مصیبت کے بعد ہے۔ کیا آپ نے دیکھا وقت نامہ کس طرح پورا ہوتا ہے؟ تب شیطان کا گھر گرتا ہے۔ یہ عدالت کے دن میں تقسیم ہے۔
ہم بائبل میں واضع طور پر بائبل میں دنیا کے گرنے کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ یہ دلچسپ ہو سکتا ہے اگر آپ نے خبروں کی سُرخیوں پر غور کرنے کے لئے وقت نکالا اور آپ ان کو تقسیم اور پھوٹ پڑنے جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ اور تقسیم کے تمام مترادفات۔ آپ اسے بار بار ہوتا ہوا دیکھیں گے٬ کیونکہ ہم اس وقت پر ہیں۔
دوبارہ مکاشفہ 18 باب میں ہم پڑھتے ہیں٬ ’’ایلاس٬ ایلاس تین دفعہ٬ یا افسوس! افسوس!‘‘ یہ دوگنا کیوں ہے٬ یہ خدا کی طرف سے قائم ہے٬ اور جلد ہی مکمل ہو جائے گا۔ خدا نے پہلے ہی اس میں بہت کچھ پورا کر دیا ہے۔ لیکن ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے٬ اُس نے عدالت کی تکمیل شروع کر دی ہے۔
خداوند کی مرضی سے ہم مکاشفہ 9 باب پر واپس آئیں گے٬ اور یاد رکھیں کہ زمین پر گرنے والے ستارے کی نشاندہی کرنے کی کوشش کریں گے٬ مکاشفہ 8 باب میں ستارہ پانی کے تیسرے حصے پر گرا٬ اور کلیسیاؤ ‏ں پر فیصلہ آیا۔ اس ستارے کو ’’افسنتین‘‘ کہا جاتا تھا۔ اگر یہ یسوع ہےتو اسے یہ نام سے کیوں کہا جائے گا؟ یہ ہی ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

Address

E Bible Fellowship, P. O. Box 1393 Sharon Hill
Sharon Hill, PA
19079

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ای بائبل کا رفاقت پروگرام E Bible Fellowship - URDU posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share