01/26/2026
زرد صحافت
سہیل وڑائچ کا نئے صوبوں( بالخصوص سرائیکی صوبہ ) بارے تاریخی حقائق کو مسخ کر کے لکھا گیا کالم. جسمیں موصوف ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں تین سو سالہ موجودہ خطہ کے جغرافیہ کو چھیڑا گیا تو بھیانک نتائج کے ڈراوے دے رہا ہے. اس جاہل مطلق کواتنا پتہ ہونا چاہئے کہ سرائیکی دو جون ١٨١٨ سے پہلے علیحدہ صوبہ اور سلطنت تھی بلکہ رنجیت سنگھ نے بھی سرائیکی وسیب کے علیحدہ صوبائی بندوبست کو جاری رکھا جو انگریزوں کے مکمل قبضہ تک جاری رہا. سرائیکی ریاست بہاولپور مغربی پاکستان صوبہ میں انضمام سے پہلے تک خود مختار ریاست کی حیثیت سے قائم رہی بعد ازاں 1970 میں ون یونٹ کے خاتمہ پر بذریعہ فوجی ایکشن اسے پنجاب میں شامل کر دیا گیا. سہیل وڑائچ نے تاریخی حقائق کے برعکس جھوٹ اور غلط بیانی کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنیکی کی بھونڈی اور ناکام کوشش کی جسمیں وہ خود بینقاب ہو گیا. سرائیکی وسیب اپنے تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی، تجارتی اور لسانی تناظر میں انتظامی یونٹ کی بجائے اپنے قومی تشخص کی بنیاد پر سرائیکی صوبہ چاہتے ہیں. اسٹیبلشمنٹ کے چاپلوس صحافی اور سیاستدان ملک کو 60 سال پیچھے ون یونٹ کے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں جسکی تمام مظلوم اقوام بھرپور مزاحمت کرینگی
عبید خواجہ
تیاری تو بہت عرصے سے کی جارہی تھی مگر اب کھچڑی تیار...