04/02/2026
آج ایک چھوٹے سے بلی کے بچے کو دیکھا
اکیلا سہما سا
پتہ چلا اس کی ماں اسے چھوڑ کر جاچکی ہے
جانورں کی جبلت میں اللہ نے یہ رویہ رکھا ہے جب کوئی بچہ نارمل/صحت مند نہیں ہوتا تو اس کی ماں اسے قدرت کے حوالے کرکے آگے بڑھ جاتی ہے
انسان اشرف المخلوقات ہے
وہ ایسا نہیں کرتا
ایک ماں جو بچے کو نو مہینے اپنے جسم کے اندر پروان چڑھاتی ہے
اس کی پیاری سی مسکراہٹ کو دیکھنے، اس کے ساتھ کھیلنے اور اس کی زبان سے ماں سننے کی امید باندھتی ہے
بے حد مشقت سے اسے جنم دیتی ہے
جب وہ بچہ دنیا میں آتا ہے اور وہ ارد گرد کے نارمل بچوں سے مختلف ہوتا ہے تو وہ پریشان ضرور ہوتی ہے مگر اس کی محبت کم نہیں ہوتی ناں ہی وہ اسے قدرت کے حوالے کرتی ہے
بلکہ وہ اس کے لیے زیادہ دل و جاں سے حساس ہوجاتی ہے اور اس کا خیال رکھتی ہے
مگر یہ نارمل کیا ہے ؟
ہم اکثر نارمل کے پیمانے بنالیتے ہیں
مگر اللہ کی ہر تخلیق اپنی جگہ مکمل ہے
جس کی یاددہانی قرآن میں اللہ نے کئی جگہوں پر کروائی ہے
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿95:4﴾
کہ بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ۔
وہ بچہ جسے ہم نارمل نہیں سمجھتے اللہ تعالیٰ اسے بھی اپنی بہترین تخلیق قرار دے رہے ہیں۔ ان کے سوچنے کا مختلف انداز اور ان کے الگ رویے اللہ کی حکمت کا حصہ ہیں
اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں ہر آن اللہ کو یاد کرنے اور غور وفکر کرنے والوں کی دعا بیان کرتے ہیں
رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿191:3﴾
اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ کارخانہ بے مقصد نہیں پیدا کیا ہے ۔ تو اس بات سے پاک ہے ( کہ کوئی عبث کام کرے ) ۔ سو تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔
ہمارا رب تو کوئی عبث کام کرتا ہی نہیں، لیکن اگر ہمیں ارد گرد کسی بچے میں کوئی عیب نظر آرہا ہے تو ہم شاید ان میں سے نہیں جن کا ذکر اللہ نے محبت سے یہاں کیا ہے
جب اس رب کریم نے اپنے بارے میں یہ کہہ دیا کہ
فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ14:23﴾
۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ! بہترین پیدا کرنے والا ۔
وہ تو احسن الخالقین ہے اور ہم اس کی تخلیق میں کیسے نقص تلاش کرتے ہیں؟ یہ کیسے سوچ لیتے ہیں کہ یہ کمی یا عیب ہے جو اس انسان کی پیدائش میں ہے۔ جبکہ ہمارا رحمٰن رب توکہتا ہے
الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ (32:7)
اس نے ہر چیز کو بہترین انداز سے پیدا کیا۔
آج کے دن اس تحریر اور ان آیات کو آٹیزم کے پیرائے میں رکھ کر ان پر غور کریں،
یہ اللہ کی تخلیق کا ایک منفرد رنگ ہے
ہر Autistic بچہ یا فرد اپنے اندر ایک خاص ترتیب، ایک خاص دنیا اور ایک خاص حکمت لے کر آتا ہے
وہ دنیا کو ہم سے مختلف دیکھتے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں کوئی عیب ہے
بلکہ وہ مختلف ہیں اور اسی فرق میں حسن ہے
کچھ بچے الفاظ سے نہیں، احساس سے بات کرتے ہیں
کچھ شور سے نہیں، خاموشی میں دنیا بساتے ہیں
اور کچھ ہمیں صبر، قبولیت اور بے لوث محبت سکھانے آتے ہیں
جب اللہ فرماتا ہے کہ
"میں نے ہر چیز کو بہترین انداز سے پیدا کیا"
تو اس میں ہر وہ بچہ شامل ہے۔جو دنیا کو ایک مختلف نظر سے دیکھتا ہے۔
آئیے آج تدبر کریں اور اپنا زاویہ بدلیں کیونکہ
لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ(190:3)
عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
یاسمین کھتری
لائف کوچ
پی آر سی پاکستان