Emmanuel Gospel Ministries

Emmanuel Gospel Ministries Major Article of the Ministries ;
Christianity is not a religion it’s a relationship between God a

ڈھلتا سایہ father'sDay کے موقع پر پاسٹر واشنگٹن ندیم (میری لینڈ امریکہ)کا دل میں گھر کر لینے والا روحانی افسانہ پڑھنے کو...
06/15/2026

ڈھلتا سایہ father'sDay کے موقع پر پاسٹر واشنگٹن ندیم (میری لینڈ امریکہ)کا دل میں گھر کر لینے والا روحانی افسانہ پڑھنے کو ملے گا .

06/04/2026
تپتی ریت، ابلتے چشم: مسیحی زید اور باطنی جراحیاردو ادب اور مسیحی روحانیت دونوں کے لحاظ سے انتہائی خوبصورت اور متوازن ہے۔...
05/23/2026

تپتی ریت، ابلتے چشم: مسیحی زید اور باطنی جراحی

اردو ادب اور مسیحی روحانیت دونوں کے لحاظ سے انتہائی خوبصورت اور متوازن ہے۔ اس میں تضاد (Contrast) کا جو رنگ ہے ۔ یعنی ایک طرف صحرا کی گرمی اور دوسری ہے۔یعنی ظرف روح کو تر و تازہ کرنے والے چشمے. سے۔ وہ پڑھنے والے کے دل میں مضمون کو آگے پڑھنے کا نجس اور گہرا اشتیاق پیدا کرے گا۔

وہ رات عجیب تھی—خاموش… مگر بولتی ہوئی،اندھیری… مگر دل کی گہرائیوں میں اترتی ہوئی۔ایک مسافر، تھکا ہارا،زندگی کے جنگل کی ب...
05/07/2026

وہ رات عجیب تھی—
خاموش… مگر بولتی ہوئی،
اندھیری… مگر دل کی گہرائیوں میں اترتی ہوئی۔

ایک مسافر، تھکا ہارا،
زندگی کے جنگل کی بے رحم راہوں میں بھٹک رہا تھا۔
نہ کوئی نشان، نہ کوئی ہمسفر، نہ کوئی چراغ۔

ہوا کی سرگوشیاں اُس کے کانوں سے ٹکرائیں—
“آ… ہماری طرف آ…
ہم بھی تلاش میں، تو بھی تلاش میں…”

وہ ٹھہر گیا۔
قدم جیسے زمین میں دھنس گئے ہوں۔

“یہ کیسی دنیا ہے؟
یہ جنگل… مگر اس میں یہ کیسا میلہ ہے؟”

ہر طرف چمک تھی—
ہنسی کی بازگشت،
محفلوں کی روشنی،
دلکش چہرے، نرم وعدے…

04/25/2026

شک کا بنجر صحرا یا یقین کا رواں دریا
تاریخ کے اوراق پر جب ہم ٹھہر کر غور کرتے ہیں، تو ایک نہایت خوبصورت اور گہرا الٰہی منصوبہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ بنی اسرائیل کی مصر سے رہائی کوئی اچانک واقعہ نہ تھا، بلکہ یہ اُس وعدے کی تکمیل تھی جو خدا نے ابراھام سے کیا تھا—کہ اُس کی نسل کو ایک خاص قوم بنایا جائے گا اور انہیں ایک مخصوص سرزمین دی جائے گی۔
یہی وہ نسل تھی جو یعقوب سے چلی، جس کا نام خدا نے بدل کر اسرائیل رکھا—اور یوں ایک شخص کا نام ایک قوم کی پہچان بن گیا۔ یہ تبدیلی محض نام کی نہ تھی، بلکہ ایک روحانی شناخت تھی—خدا کے ساتھ عہد کی پہچان۔
خدا کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس قوم کو بت پرست اقوام کے اثر سے نکال کر اپنی پاک حضوری میں لے آئے، اور انہیں وعدے کی سرزمین تک پہنچائے۔ مگر یہ سفر صرف جغرافیائی نہ تھا، بلکہ دلوں کی تبدیلی کا سفر تھا—ایمان، فرمانبرداری اور بھروسے کا سفر۔
جب وہ مصر کی غلامی سے نکلے، تو یہ صرف زنجیروں سے آزادی نہ تھی، بلکہ ایک روحانی امتحان کی ابتدا تھی۔ خدا نے اپنے بندے موسی کے ذریعے انہیں نجات دی۔ سمندر کو چیر کر راستہ بنایا، دشمنوں کو شکست دی، اور اپنی حضوری کو بادل اور آگ کے ستون میں ظاہر کیا۔
یہ سب نشانیاں اس بات کا اعلان تھیں کہ خدا اُن کے ساتھ ہے—ہر لمحہ، ہر قدم۔
لیکن اس سب جلال اور قدرت کے باوجود، دلوں کی دنیا کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی۔
معجزات آنکھوں کے سامنے تھے، مگر یقین دلوں میں نہ اُتر سکا۔
راستہ واضح تھا، مگر اعتماد کمزور تھا۔
خدا قریب تھا، مگر انسان کا دل دور بھٹک رہا تھا۔
انہوں نے اپنے باپ ابراھام کی طرح ایمان نہ رکھا، جس نے اندیکھے وعدوں پر بھی بھروسہ کیا تھا۔ اس کے برعکس، وہ اپنی انسانی خواہشات، خوف اور وقتی مشکلات کے تابع ہو گئے۔ جہاں صبر درکار تھا وہاں شک پیدا ہوا، جہاں شکر ہونا چاہیے تھا وہاں شکایت نے جنم لیا۔
یوں، ایک ایسا سفر جو وعدے کی تکمیل کی طرف جا رہا تھا، دلوں کی کمزوری کے باعث بھٹکنے لگا۔
یہ منظر ہمیں آئینہ دکھاتا ہے—
کہ خدا کی حضوری اور اُس کے معجزات بھی اُس دل کو قائم نہیں رکھ سکتے جو یقین سے خالی ہو۔
اصل سوال آج بھی وہی ہے:
کیا ہم وعدوں کے وارث بننا چاہتے ہیں، یا حالات کے غلام رہنا چاہتے ہیں؟
کیونکہ خدا کا منصوبہ ہمیشہ کامل ہوتا ہے،
مگر اُس منصوبے تک پہنچنے کے لیے انسان کا دل بھی ایمان سے بھرپور ہونا ضروری ہے
-----------------
یہ عجیب تضاد ہے: آنکھوں سے معجزے دیکھنے کے باوجود دل کا اندھا رہ جانا۔ جب پانی نہ ملا تو شکوہ، جب کھانا کم لگا تو شکایت، جب مشکلات آئیں تو ماضی کی غلامی ہی بہتر لگنے لگی۔ وہی مصر جس میں وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، انہیں آزادی سے زیادہ محفوظ محسوس ہونے لگا۔ یہ شک کا بنجر صحرا تھا—جہاں امید سوکھ جاتی ہے، اور ایمان کی کونپلیں مرجھا جاتی ہیں۔
شک انسان کو صرف سوال کرنے پر نہیں اُکساتا، بلکہ اسے خدا کی قدرت پر بدگمان بھی بنا دیتا ہے۔ یہ دل میں ایسی خشکی پیدا کرتا ہے جہاں شکرگزاری کی جگہ ناشکری لے لیتی ہے، اور اعتماد کی جگہ خوف۔ بنی اسرائیل کا چالیس دن کا سفر چالیس سال میں بدل گیا—یہ فاصلے کا نہیں، دل کی حالت کا مسئلہ تھا۔
اس کے برعکس، یقین ایک رواں دریا کی مانند ہے۔ جب دل یقین سے بھر جاتا ہے تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔ مشکلات بھی انسان کو توڑنے کے بجائے سنوارتی ہیں۔ یقین یہ سکھاتا ہے کہ اگر خدا ساتھ ہے تو صحرا بھی راستہ بن جاتا ہے، اور اگر شک دل میں ہو تو راستہ بھی صحرا بن جاتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا دل کس طرف جھکا ہوا ہے؟ کیا ہم ہر مشکل میں شک کا بیج بوتے ہیں، یا یقین کا چراغ جلاتے ہیں؟
زندگی کا سفر بھی بنی اسرائیل کے سفر کی طرح ہے۔ ہمیں بھی کبھی پیاس، کبھی بھوک، کبھی خوف کا سامنا ہوتا ہے۔ مگر ہر امتحان میں ایک دعوت چھپی ہوتی ہے—شک کے بنجر صحرا میں بھٹکنے کی یا یقین کے دریا میں بہنے کی۔
جو لوگ شک کو تھام لیتے ہیں، وہ راستہ کھو دیتے ہیں۔
اور جو یقین کو پکڑ لیتے ہیں، وہ منزل پا لیتے ہیں۔
پس انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے:
شک کا صحرا… یا یقین کا رواں دریا
پیارے بھائیو اور بہنو،
آج ہم ایک گہرے روحانی سچ پر غور کرتے ہیں: شک انسان کو صحرا میں بھٹکا دیتا ہے، جبکہ یقین اُسے خدا کے وعدوں تک پہنچا دیتا ہے۔
بنی اسرائیل کا سفر، جسے ہم خروج کی کتاب میں پڑھتے ہیں،یہ صرف تاریخ نہیں بلکہ ہمارے ایمان کا آئینہ ہے۔ خدا نے انہیں مصر کی غلامی سے نکالا، اور اپنی حضوری کے نشان دیے—
“خداوند دن کو بادل کے ستون میں اور رات کو آگ کے ستون میں اُن کے آگے آگے چلتا تھا تاکہ اُن کی راہنمائی کرے” (خروج 13:21)
یہ خدا کی قربت کی واضح تصویر ہے۔ مگر اس کے باوجود، وہ بار بار شک میں گرتے رہے۔
شک: دل کا بنجر صحرا
جب ہم گنتی کی کتاب اور خروج کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں .تو ہمیں بنی اسرائیل کی شکایات نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا:
“کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے…” (خروج 16:3)
یہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ دل کی حالت تھی۔ انہوں نے خدا کے معجزات دیکھے، مگر اُن پر بھروسہ نہ کیا۔
بائبل ہمیں خبردار کرتی ہے:
“دیکھو، ایسا نہ ہو کہ تم میں کسی کا دل بے ایمان ہو کر زندہ خدا سے پھر جائے” (عبرانیوں 3:12)
شک دل کو سخت کر دیتا ہے، اور انسان کو خدا کی حضوری سے دور لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا چالیس دن کا سفر چالیس سال میں بدل گیا۔
یقین: رواں دریا
اس کے برعکس، ایمان ہمیں آگے بڑھانا ہوتا ہے عبرانیوں کے خط میں لکھا ہے:
“ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور ان دیکھی چیزوں کا ثبوت ہے” (عبرانیوں 11:1)
یقین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب راستہ نظر نہ آئے، تب بھی خدا راستہ بنا رہا
یسوع مسیح نے فرمایا:
“تمہارا دل نہ گھبرائے؛ تم خدا پر ایمان رکھتے ہو، مجھ پر بھی ایمان رکھو” (یوحنا 14:1)
یہ دعوت ہے—خوف سے نکل کر ایمان میں داخل ہونے کی۔
شک یا ایمان—انتخاب ہمار
پطرس کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے۔ جب وہ پانی پر چل رہا تھا، تو جب تک اُس کی نظر یسوعؑ پر رہی، وہ قائم رہا۔ مگر جیسے ہی اُس نے ہوا کو دیکھا، وہ ڈوبنے لگا۔
یِسُوع نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لِیا اور اُس سے کہا اَے کم اِعتِقاد تُو نے کِیُوں شک کِیا؟ (متی 14:31)
یہی ہماری زندگی ہے۔ جب ہم حالات کو دیکھتے ہیں، ہم ڈرتے ہیں۔ جب ہم مسیح کو دیکھتے ہیں، ہم چلتے ہیں۔
پیارے عزیزو،
ہماری زندگی بھی ایک سفر ہے—یا تو شک کے صحرا میں، یا ایمان کے دریا میں۔
شک ہمیں پیچھے لے جاتا ہے.ایمان ہمیں وعدوں کی زمین تک لے جاتا ہے.
آج خدا ہمیں بلاتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو پرکھیں.
کیا ہم بنی اسرائیل کی طرح شک میں ہیں؟
یا ہم یسوع مسیح پر ایمان رکھنے کے بحث یقین میں چل رہے ہیں؟
شک نہیں… ایمان
خوف نہیں… بھروسہ
صحرا نہیں… دریا
کیونکہ جو ایمان رکھتا ہے، وہ خدا کی قدرت کو دیکھتا ہے

شک کا بنجر صحرا یا یقین کا رواں دریا. پڑھیں اور برکت پائیں .
04/25/2026

شک کا بنجر صحرا یا یقین کا رواں دریا. پڑھیں اور برکت پائیں .

Emmanuel Memorial Church. Village Dhing Shah District Kasur Pakistan. Project of Emmanuel Gospel Ministries. Keep it in ...
04/23/2024

Emmanuel Memorial Church. Village Dhing Shah District Kasur Pakistan. Project of Emmanuel Gospel Ministries.
Keep it in your prayer.

In the worship of Palm Sunday, God's servant pastor Washington Nadeem Emmanuel (Maryland USA) preached the word to the G...
03/24/2024

In the worship of Palm Sunday, God's servant pastor Washington Nadeem Emmanuel (Maryland USA) preached the word to the God .

Address

Randallstown
Maryland City, MD
21133

Telephone

+14439854652

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Emmanuel Gospel Ministries posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Emmanuel Gospel Ministries:

Share