Ghamidi Center of Islamic Learning

Ghamidi Center of Islamic Learning Located in Dallas, TX. Ghamidi Center of Islamic Learning - an initiative of Al-Mawrid U.S. GET THE APP To Ask Questions and Join Community Discussions!

06/15/2026

Is Exaggeration for Reconciliation Considered Lying? | Javed Ghamidi

06/15/2026

Why God's Vision Not Mentioned in Quran? | رؤیتِ باری تعالیٰ کا ذکر قرآن میں کیوں نہیں؟ | Ammar Nasir

06/15/2026

Tazkeer bil Quran | Surah Ar-Ra'd | Verses 01-03 | البیان | Javed Ghamidi | Shahnawaz Zaidi | GCIL

A verse for today:an invitation to reflect, to understand, and to live with greater clarity.آج کی آیت:ایک یاددہانی، ایک ...
06/15/2026

A verse for today:an invitation to reflect, to understand, and to live with greater clarity.

آج کی آیت:ایک یاددہانی، ایک نصیحت، ایک رہنمائی۔

06/15/2026

Rare Scholarly Discussions of Javed Ghamidi | غامدی صاحب کے نایاب علمی مباحث | Khabarnama

06/15/2026

Aspiring for Higher Ranks in the Hereafter | آخرت میں بلندی چاہنا | Moiz Amjad

06/14/2026

تکفیر اور توہینِ رسالت: مذہبی جبر کی آخری پناہ گاہیں

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ
14/6/2026

محترم محمد حسن الیاس کا مضمون "تکفیر اور توہینِ رسالت: مذہبی جبر کی آخری پناہ گاہیں" ہمارے دینی اور فکری ماحول میں ایک نہایت اہم بحث کو ازسرِنو سامنے لاتا ہے۔ اس مضمون کی قدر و قیمت صرف اس میں نہیں کہ اس نے تکفیر اور توہینِ رسالت کے موضوعات پر رائج مذہبی رویوں کا تاریخی اور سماجی تجزیہ پیش کیا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ اس نے دین، اقتدار، مذہبی اتھارٹی اور انسانی حرمت کے باہمی تعلقات پر سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
اس مضمون کا بنیادی نکتہ وہی ہے جس کی طرف میں طویل عرصے سے توجہ دلاتا رہا ہوں: انبیا علیہم السلام اور ان کے سچے وارثین کا منصب لوگوں پر داروغہ بننا، ان کے ایمان و کفر کے قطعی فیصلے صادر کرنا یا ان کی آخرت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینا نہیں ہے۔ ان کا کام اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا، حق کو واضح کرنا، خیر کی بشارت دینا اور برے انجام سے خبردار کرنا ہے۔ اس کے بعد انسان اپنے رب کے سامنے خود جواب دہ ہے۔ قرآن مجید بار بار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ رسولوں کی ذمہ داری ابلاغ اور انذار ہے، جبکہ حساب و کتاب اور جزا و سزا کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ قیامت ہی وہ دن ہے جب اللہ انسانوں کے عقائد، اعمال اور نیتوں کے بارے میں آخری اور قطعی فیصلہ فرمائے گا۔
اسی اصول کی بنا پر کسی کلمہ گو کے ایمان کا حتمی فیصلہ کرنا یا لوگوں کے باطن کے بارے میں فیصلہ کن احکام صادر کرنا ہمیشہ نہایت حساس اور خطرناک عمل رہا ہے۔ علمی اختلاف، فکری نقد اور عقائد کے باب میں بحث و تمحیص اپنی جگہ ایک علمی ضرورت ہے، لیکن اسے انسانوں کے ایمان اور نجات کے فیصلوں میں تبدیل کر دینا ایک مختلف اور کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
اس ضمن میں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ایک منظم معاشرے میں ریاست کی ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود ہیں۔ اگر کوئی عمل یا رویہ معاشرتی فساد، تشدد، بدامنی، شہری حقوق کی پامالی یا اجتماعی نظم کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے تو ریاست کو اس میں مداخلت کا حق بلکہ ذمہ داری حاصل ہے۔ تاہم ریاستی اختیار کا تعلق معاشرتی نظم اور قانونی ذمہ داریوں سے ہے، نہ کہ لوگوں کے باطن، ان کے اخروی انجام یا خدا کے ہاں ان کے مقام کے فیصلے سے۔ یہ امتیاز دینی دعوت اور سیاسی اقتدار کے حدود کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
يہ مضمون ایک ایسی بحث کے طور پر خوش آیند ہے جو مذہبی اختلافات کو تکفیر اور تفسیق کے دائروں سے نکال کر علمی مکالمے، اخلاقی ذمہ داری اور قرآنی اصولوں کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں اس فکر کی جڑیں نئی نہیں ہیں۔ یہ وہی روح ہے جسے ندوۃ العلماء نے اپنے ابتدائی دور میں نمایاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی اور مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہم اللہ کی علمی و فکری کاوشوں میں بھی یہی رجحان نمایاں نظر آتا ہے کہ امت کے اختلافات کو علمی سطح پر سمجھا جائے، دعوت و اصلاح کو اصل مرکز بنایا جائے، اور دین کو فرقہ وارانہ غلبے یا باہمی تکفیر کے بجائے اخلاقی و روحانی بیداری کا ذریعہ بنایا جائے۔ ان اکابر کی فکر میں امت کی وحدت، دعوتِ دین، اخلاقی تجدید اور علمی وسعت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، نہ کہ ایک دوسرے کے ایمان کا محاسبہ۔
اس پس منظر میں محمد حسن الیاس کا یہ مضمون ایک ایسے مکالمے کی طرف دعوت دیتا ہے جس کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے؛ ایک ایسا مکالمہ جس میں دلیل، اخلاق، تحمل اور علمی دیانت کو مذہبی اشتعال، سماجی دباؤ اور فتوائی سیاست پر فوقیت حاصل ہو۔ اگر ہماری دینی روایت کو اپنے بہترین اصولوں کی طرف لوٹنا ہے تو ہمیں اسی سمت میں پیش قدمی کرنا ہوگی، جہاں دعوت ہے مگر جبر نہیں، اختلاف ہے مگر نفرت نہیں، تنقید ہے مگر تکفیر نہیں، اور جہاں آخری فیصلہ انسانوں کے نہیں بلکہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔

06/14/2026

AL BAYAN - Surah AL Nisa - Part 14 - Verses (71 - 82) - Dubbed in English - Javed Ahmed Ghamidi

06/14/2026

No Spiritual Purification Despite Outward Practice | ظاہری عمل کے باوجود تزکیۂ نفس نہ ہونا | Hassan Ilyas

06/14/2026

Dars-e-Hadith | Part 389 | Rasool Allah ﷺ Ki Namaz-11 | Javed Ghamidi

Address

3620 N Josey Lane #230
Carrollton, TX
75007

Opening Hours

Monday 10:30am - 2:30pm
Tuesday 10:30am - 2:30pm
Wednesday 10:30am - 2:30pm
Thursday 10:30am - 2:30pm
Friday 10:30am - 2:30pm
Saturday 11:45am - 2:15pm
Sunday 11:45am - 2:15pm

Telephone

+19723705083

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghamidi Center of Islamic Learning posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ghamidi Center of Islamic Learning:

Share