08/25/2026
تاریخ کی عظیم ترین شخصیت
امریکا سے ایک کتاب چھپی ہے، جس کا نام ہے ایک سو۔ اس کتاب میں ساری انسانی تاریخ کے ایک سو ایسے آدمیوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے، مصنف کے نزدیک، انسانی تاریخ پر سب سے زیادہ اثرات ڈالے۔ کتاب کا مصنف مذہبی طور پر عیسائی اور تعلیمی طور پر سائنس داں ہے۔ مگر اپنی فہرست میں اس نے نمبر ایک پر نہ حضرت مسیح کا نام رکھا ہے اور نہ نیوٹن کا۔ اس کے نزدیک وہ شخصیت جس کو اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے نمبر ایک پر رکھا جانا چاہیے، وہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ آپ نے انسانی تاریخ پر جو اثرات ڈالے، وہ کسی بھی دوسری شخصیت، خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، نے نہیں ڈالے۔
مصنف نے آپ کے کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:
He was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels.
–Dr. Michael H. Hart, The 100, New York, 1978
آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے۔ مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی۔
انگریز مورخ ٹامس کارلائل (1795–1881ء) نے پیغمبرِ اسلام کو انبیاء کا ہیرو قرار دیا تھا۔ امریکن رائٹر مائیکل ہارٹ (Dr. Michael H. Hart, b. 1932) نے آپ کو ساری انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انسان قرار دیا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی عظمت اتنی واضح ہے کہ وہ صرف آپ کے پیروؤں کے ایک ’عقیدہ‘ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ ایک مسلمہ تاریخی واقعہ ہے اور ہر آدمی جو تاریخ کو جانتا ہے، وہ مجبور ہے کہ اس کو بطورِ واقعہ تسلیم کرے۔
کوئی شخص اوپر نظر ڈالے تو اُس کو ہر طرف آسمان چھایا ہوا نظر آئے گا۔ اِسی طرح انسانی زندگی میں جس طرف بھی دیکھا جائے، پیغمبرِ اسلام کے اثرات نمایاں طور پر اپنا کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ساری بہترین قدریں اور تمام اعلیٰ کامیابیاں جن کو آج اہمیت دی جاتی ہے، وہ سب آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے براہِ راست یا بالواسطہ نتائج ہیں۔
مذہبی اداروں میں شخصیت پرستی کے بجائے خدا پرستی کس نے قائم کی؟ اعتقادیات کو توہمات کے بجائے حق کی بنیاد کس نے عطا کی؟ سائنس میں فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کو مسخر کرنے کا سبق کس نے دیا؟ سیاسیات میں نسلی شہنشاہیت کے بجائے عوامی حکومت کا راستہ کس نے دکھایا؟ علم کی دنیا میں خیال آرائی کے بجائے حقیقت نگاری کی طرح کس نے ڈالی؟ سماج کی تنظیم کے لیے ظلم کے بجائے عدل کی بنیاد کس نے فراہم کی؟ جواب یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں انسان کو پیغمبرِ اسلام سے ملیں۔ آپ کے سوا کوئی نہیں ہے جس کی طرف حقیقی طور پر اِن کارناموں کو منسوب کیا جا سکے۔ دوسرے تمام افراد آپ کے انقلابی دھارے کو استعمال کرنے والے ہیں، نہ کہ اُس کو وجود میں لانے والے۔
مولانا وحید الدین خان، پیغمبر انقلاب، صـ ۶-۷