31/05/2026
مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی ختم کرنا: ایک تاریخی ناانصافی؟
تحریر: سردار تمور عزیز کشمیری
صدر کشمیر کونسل سویڈن
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستیں صرف چند سیاسی نشستیں نہیں بلکہ ایک تاریخی عہد، ایک قومی ذمہ داری اور کشمیر کاز کے ساتھ وابستگی کی علامت ہیں۔ آج بعض حلقوں کی جانب سے ان نشستوں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ چونکہ مہاجرین پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
یہ مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ کشمیر کاز، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خود پاکستان کے آئینی مؤقف سے بھی ٹکراتا ہے۔
مہاجرین کون ہیں؟
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 1947، 1965، 1971 اور بعد ازاں مختلف ادوار میں اپنے گھر، زمینیں، جائیدادیں اور اپنے آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر ہجرت کی۔ ان کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا حصہ ہیں۔
اگر آج یہ کہا جائے کہ چونکہ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی ختم کر دی جائے، تو یہ دراصل ان قربانیوں کو فراموش کرنے کے مترادف ہوگا۔
12 نشستیں کیوں دی گئیں؟
مہاجرین کی نشستوں کا تصور اس بنیاد پر دیا گیا تھا کہ یہ لوگ آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ہیں۔ ان کی اصل شناخت، ریاستی شہریت (State Subject) اور ان کا حقِ واپسی برقرار ہے۔
یہ نشستیں اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہ لوگ مستقل طور پر پاکستان کے شہری نہیں بنے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک ایک عارضی سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔
آرٹیکل 257 اور پاکستان کا مؤقف
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 واضح کرتا ہے:
“جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور ریاست کے تعلقات عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔”
اس آئینی شق سے واضح ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی جموں و کشمیر کے عوام کی علیحدہ شناخت ختم نہیں کی۔
اگر مہاجرین کی نمائندگی ختم کر دی جائے تو دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان خود ان لوگوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم نہیں کرتا۔
کیا یہ مہاجرین کو بے وطن بنانے کی طرف قدم ہوگا؟
یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔
پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں رہنے کے باوجود جب حکومتی پالیسی بدلی تو لاکھوں افغانوں کو واپس جانا پڑا۔
اگر کل کو کوئی حکومت یہ مؤقف اختیار کرے کہ مہاجرینِ کشمیر پاکستان کے مستقل باشندے نہیں ہیں، تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟
یہ لوگ کہاں جائیں گے؟
کون انہیں قبول کرے گا؟
ان کی اصل زمینیں تو آج بھی لائن آف کنٹرول کے اُس پار ہیں۔
روہنگیا مسلمانوں کی مثال
میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کو پہلے ان کی سیاسی نمائندگی سے محروم کیا گیا، پھر ان کی شہریت پر سوال اٹھایا گیا، اور بالآخر لاکھوں لوگ دنیا کے مختلف ممالک میں بے وطن ہو گئے۔
یقیناً مہاجرینِ کشمیر اور روہنگیا کی صورتحال ایک جیسی نہیں، لیکن ایک بنیادی اصول مشترک ہے:
جب کسی قوم کی شناخت، نمائندگی اور سیاسی حیثیت کو کمزور کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
نادرا، شناختی ریکارڈ اور مہاجرین کی حیثیت
پاکستان کے پاس مہاجرینِ جموں و کشمیر کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔
نادرا کے فیملی رجسٹریشن سسٹم، شناختی کارڈز اور دیگر سرکاری دستاویزات میں ان کے مہاجر پس منظر اور ریاستی تعلق کا ریکارڈ محفوظ ہے۔
یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خود انہیں ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد سمجھتا ہے۔
اگر ان کی اسمبلی نمائندگی ختم کر دی جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوگا:
کیا ان کی ریاستی شناخت بھی ختم ہو جائے گی؟
کشمیر کاز کو نقصان
مہاجرین کی نشستیں صرف افراد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگوں کے حقِ خودارادیت کی علامت ہیں۔
اگر یہ نشستیں ختم ہو جاتی ہیں تو بھارت عالمی سطح پر یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ خود پاکستان نے بھی مہاجرین اور مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کی نمائندگی کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے۔
یہ کشمیر کاز کے لیے ایک نقصان دہ پیغام ہوگا۔
حل کیا ہے؟
اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔
نشستوں کی تقسیم، انتخابی طریقہ کار اور نمائندگی کے نظام پر بحث ہو سکتی ہے۔
لیکن مہاجرین کی نمائندگی کو مکمل طور پر ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی نمائندگی کو مزید شفاف، مؤثر اور حقیقی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی اور تاریخی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
اختتامیہ
مہاجرینِ جموں و کشمیر کوئی بوجھ نہیں، بلکہ کشمیر کی جدوجہد کا زندہ باب ہیں۔
ان کی نمائندگی ختم کرنا صرف 12 نشستوں کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کی قربانیوں، شناخت اور تاریخی حق کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
کشمیر کاز اس وقت مضبوط ہوگا جب ہم اپنے ہر مہاجر، ہر متاثرہ خاندان اور ہر اس شخص کو ساتھ لے کر چلیں گے جس نے اس جدوجہد کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کی شناخت، ریاستی حیثیت اور سیاسی نمائندگی کو محفوظ رکھا جائے، نہ کہ اسے ختم کرنے کی کوشش ۔۔