Kashmir Council Sweden

Kashmir Council Sweden Kashmir Council Sweden (KCS) is an organization which represent the people of Occupied Kashmir. Registered
Organisationsnummer
802549-2821

31/05/2026

مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی ختم کرنا: ایک تاریخی ناانصافی؟

تحریر: سردار تمور عزیز کشمیری

صدر کشمیر کونسل سویڈن

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستیں صرف چند سیاسی نشستیں نہیں بلکہ ایک تاریخی عہد، ایک قومی ذمہ داری اور کشمیر کاز کے ساتھ وابستگی کی علامت ہیں۔ آج بعض حلقوں کی جانب سے ان نشستوں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ چونکہ مہاجرین پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

یہ مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ کشمیر کاز، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خود پاکستان کے آئینی مؤقف سے بھی ٹکراتا ہے۔

مہاجرین کون ہیں؟

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 1947، 1965، 1971 اور بعد ازاں مختلف ادوار میں اپنے گھر، زمینیں، جائیدادیں اور اپنے آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر ہجرت کی۔ ان کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا حصہ ہیں۔

اگر آج یہ کہا جائے کہ چونکہ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی ختم کر دی جائے، تو یہ دراصل ان قربانیوں کو فراموش کرنے کے مترادف ہوگا۔

12 نشستیں کیوں دی گئیں؟

مہاجرین کی نشستوں کا تصور اس بنیاد پر دیا گیا تھا کہ یہ لوگ آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ہیں۔ ان کی اصل شناخت، ریاستی شہریت (State Subject) اور ان کا حقِ واپسی برقرار ہے۔

یہ نشستیں اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہ لوگ مستقل طور پر پاکستان کے شہری نہیں بنے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک ایک عارضی سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔

آرٹیکل 257 اور پاکستان کا مؤقف

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 واضح کرتا ہے:

“جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور ریاست کے تعلقات عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔”

اس آئینی شق سے واضح ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی جموں و کشمیر کے عوام کی علیحدہ شناخت ختم نہیں کی۔

اگر مہاجرین کی نمائندگی ختم کر دی جائے تو دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان خود ان لوگوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم نہیں کرتا۔

کیا یہ مہاجرین کو بے وطن بنانے کی طرف قدم ہوگا؟

یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔

پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں رہنے کے باوجود جب حکومتی پالیسی بدلی تو لاکھوں افغانوں کو واپس جانا پڑا۔

اگر کل کو کوئی حکومت یہ مؤقف اختیار کرے کہ مہاجرینِ کشمیر پاکستان کے مستقل باشندے نہیں ہیں، تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟

یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

کون انہیں قبول کرے گا؟

ان کی اصل زمینیں تو آج بھی لائن آف کنٹرول کے اُس پار ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی مثال

میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کو پہلے ان کی سیاسی نمائندگی سے محروم کیا گیا، پھر ان کی شہریت پر سوال اٹھایا گیا، اور بالآخر لاکھوں لوگ دنیا کے مختلف ممالک میں بے وطن ہو گئے۔

یقیناً مہاجرینِ کشمیر اور روہنگیا کی صورتحال ایک جیسی نہیں، لیکن ایک بنیادی اصول مشترک ہے:

جب کسی قوم کی شناخت، نمائندگی اور سیاسی حیثیت کو کمزور کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

نادرا، شناختی ریکارڈ اور مہاجرین کی حیثیت

پاکستان کے پاس مہاجرینِ جموں و کشمیر کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

نادرا کے فیملی رجسٹریشن سسٹم، شناختی کارڈز اور دیگر سرکاری دستاویزات میں ان کے مہاجر پس منظر اور ریاستی تعلق کا ریکارڈ محفوظ ہے۔

یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خود انہیں ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد سمجھتا ہے۔

اگر ان کی اسمبلی نمائندگی ختم کر دی جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوگا:

کیا ان کی ریاستی شناخت بھی ختم ہو جائے گی؟

کشمیر کاز کو نقصان

مہاجرین کی نشستیں صرف افراد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگوں کے حقِ خودارادیت کی علامت ہیں۔

اگر یہ نشستیں ختم ہو جاتی ہیں تو بھارت عالمی سطح پر یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ خود پاکستان نے بھی مہاجرین اور مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کی نمائندگی کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے۔

یہ کشمیر کاز کے لیے ایک نقصان دہ پیغام ہوگا۔

حل کیا ہے؟

اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔

نشستوں کی تقسیم، انتخابی طریقہ کار اور نمائندگی کے نظام پر بحث ہو سکتی ہے۔

لیکن مہاجرین کی نمائندگی کو مکمل طور پر ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی نمائندگی کو مزید شفاف، مؤثر اور حقیقی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی اور تاریخی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔

اختتامیہ

مہاجرینِ جموں و کشمیر کوئی بوجھ نہیں، بلکہ کشمیر کی جدوجہد کا زندہ باب ہیں۔

ان کی نمائندگی ختم کرنا صرف 12 نشستوں کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کی قربانیوں، شناخت اور تاریخی حق کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

کشمیر کاز اس وقت مضبوط ہوگا جب ہم اپنے ہر مہاجر، ہر متاثرہ خاندان اور ہر اس شخص کو ساتھ لے کر چلیں گے جس نے اس جدوجہد کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کی شناخت، ریاستی حیثیت اور سیاسی نمائندگی کو محفوظ رکھا جائے، نہ کہ اسے ختم کرنے کی کوشش ۔۔

28/05/2026
27/05/2026

President Kashmir Council Sweden
Sardar Tamur Aziz Kashmiri Message on Hajj and EId!

میں، سردار تیمور عزیز کشمیری، صدر کشمیر کونسل سویڈن، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کسی بھی ایسی تجویز کی مخالفت کریں گے ج...
24/05/2026

میں، سردار تیمور عزیز کشمیری، صدر کشمیر کونسل سویڈن، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کسی بھی ایسی تجویز کی مخالفت کریں گے جو کشمیر کی تقسیم کا کوئی فارمولا پیش کرے، چاہے وہ پاکستان کی طرف سے ہو یا ہندوستان کی طرف سے۔ یہ جموں و کشمیر کے عوام، ان شہداء، ان ماؤں، ان بچوں، ان خواتین کے ساتھ زیادتی ہوگی جن پر ظلم ہوا۔ یہ اُن 2.5 سے 3 لاکھ کشمیری نوجوانوں کی قربانیوں کی توہین ہوگی جنہیں قتل کیا گیا۔ اگر آزاد کشمیر کو الگ صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک بہت بڑا غلط قدم ہوگا۔ اس سے نہ صرف کشمیر کے اسٹیٹس کو نقصان پہنچے گا بلکہ کشمیر کاز کو بھی دھچکا لگے گا۔ پاکستان کا جو 78 سالہ موقف ہے، وہ بھی کمزور ہوگا۔

With Arif Kisana – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
20/05/2026

With Arif Kisana – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

20/05/2026

آزاد کشمیر کے نوجوان آخر مایوس کیوں ہیں؟

یہ سوال آج ہر گھر، ہر گلی اور ہر نوجوان کے دل میں موجود ہے۔
آخر کیوں ایک ایسا خطہ جس کے لوگوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں، جس کے بزرگوں نے نظریۂ پاکستان کے لیے جدوجہد کی، آج وہاں کا نوجوان بے چینی، مایوسی اور غصے کا شکار ہے؟

اس کی سب سے بڑی وجہ وہ روایتی سیاست ہے جس نے آزاد کشمیر کو عوامی ریاست کے بجائے چند خاندانوں، قبضہ مافیا، سرمایہ دار طبقے اور طاقتور سیاسی گروہوں کی جاگیر بنا دیا۔

دہائیوں سے یہی چہرے اقتدار میں آتے رہے۔
پاکستان سے کشمیر کے نام پر امداد لی گئی، فنڈز لیے گئے، ترقی کے وعدے کیے گئے… مگر افسوس وہ پیسہ عوام تک کبھی نہ پہنچا۔
وہی وسائل محلات، بڑی گاڑیوں، پروٹوکول، بیرون ملک جائیدادوں اور شاہانہ طرزِ زندگی پر خرچ ہوتے رہے۔

غریب مزید غریب ہوتا گیا،
نوجوان بے روزگار ہوتا گیا،
اور عام آدمی اپنے ہی وطن میں محرومی کی تصویر بن گیا۔

سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ان سیاستدانوں کی کرپشن، لوٹ مار اور نااہلی کا غصہ آہستہ آہستہ پاکستان کے خلاف مایوسی میں بدلنے لگا۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قصور پاکستان کا نہیں، بلکہ اُن لوگوں کا ہے جنہوں نے پاکستان سے آنے والی مدد کو اپنی ذاتی دولت بنا لیا۔

انہوں نے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، انصاف اور امید دینے کے بجائے صرف نفرت، تقسیم اور مایوسی دی۔
تاکہ عوام الجھے رہیں اور ان کی خاندانی سیاست ہمیشہ قائم رہے۔

مگر اب وقت بدلنے کا ہے۔

آزاد کشمیر کا نوجوان جاگ رہا ہے۔
وہ اب سمجھ چکا ہے کہ اس کے مسائل کا حل انہی پرانے چہروں کے پاس نہیں۔
وہ ایک ایسی قیادت چاہتا ہے جو عوام کی ہو، نوجوانوں کی ہو، نظریۂ پاکستان پر یقین رکھتی ہو، اور کشمیر کو ایک جدید، باوقار اور خوددار ریاست بنانا چاہتی ہو۔

جموں کشمیر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اسی تبدیلی کی آواز ہے۔
یہ پارٹی صرف اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ ایک نئے نظام، نئی سوچ اور نئی قیادت کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔

ہم آزاد کشمیر کے ہر نوجوان، ہر محبِ پاکستان اور ہر باشعور انسان سے اپیل کرتے ہیں کہ آگے آئیں، اس تحریک کا حصہ بنیں، اور ان خاندانی سیاسی مافیاز سے نجات کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔

یہ جنگ کسی ایک فرد کی نہیں…
یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست کو عوام کے ہاتھ میں واپس دیا جائے۔

پاکستان زندہ باد
کشمیر پائندہ
تحریر سردار تیمور عزیز
چیرمین JKSDP

Adress

Rörvägen 57
Stockholm
11164

Öppettider

Måndag 09:00 - 17:00
Tisdag 09:00 - 17:00
Onsdag 09:00 - 17:00
Torsdag 09:00 - 17:00
Fredag 09:00 - 17:00
Lördag 09:00 - 17:00

Telefon

+46720342894

Aviseringar

Var den första att veta och låt oss skicka ett mail när Kashmir Council Sweden postar nyheter och kampanjer. Din e-postadress kommer inte att användas för något annat ändamål, och du kan när som helst avbryta prenumerationen.

Dela