Kashmir Council Sweden

Kashmir Council Sweden Kashmir Council Sweden (KCS) is an organization which represent the people of Occupied Kashmir. Registered
Organisationsnummer
802549-2821

https://www.facebook.com/share/14eQDt8ZFz8/?mibextid=wwXIfr
14/06/2026

https://www.facebook.com/share/14eQDt8ZFz8/?mibextid=wwXIfr

فیلڈ ماشل سے درخواست۔

مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں — مزید خونریزی کسی کے مفاد میں نہیں

آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ہم پندرہ سے زائد قیمتی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جس کی تلافی کبھی ممکن نہیں۔ ہر شہید کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماں، ایک باپ، ایک بیوی، ایک بھائی اور ایک پوری برادری غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔

میں، سردار تیمور عزیز کشمیری، صدر کشمیر کونسل سویڈن، ریاست پاکستان کی قیادت، چیف آف آرمی اسٹاف ،سید عاصم منیر ، وزیر اعظم پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ فوری طور پر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے اور تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

راولاکوٹ، جو میرا آبائی شہر ہے، ان حالیہ واقعات میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ وہاں کے لوگوں نے بہت دکھ اور تکلیف دیکھی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ غصے، نفرت اور تصادم کے بجائے صبر، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔

میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، دانشوروں اور اوورسیز کشمیری و پاکستانی کمیونٹی سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگ پر تیل ڈالنے کے بجائے امن، مفاہمت اور قومی یکجہتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اختلاف رائے ہر معاشرے میں ہوتا ہے، لیکن جب خون بہنا شروع ہو جائے تو تمام فریقوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر عوام کے مفاد کو ترجیح دیں۔ مزید جانوں کا ضیاع نہ پاکستان کے حق میں ہے، نہ کشمیر کے حق میں اور نہ ہی کسی سیاسی یا سماجی تحریک کے حق میں۔

آئیں ہم سب مل کر امن، انصاف، برداشت اور مکالمے کے راستے کو مضبوط کریں۔

کشمیر زندہ باد
پاکستان زندہ باد

سردار تیمور عزیز کشمیری
صدر، کشمیر کونسل سویڈن

کشمیر کونسل سویڈن کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سفیر پاکستان کو یادداشت پیشکشمیر کونسل سویڈن نے آزاد...
09/06/2026

کشمیر کونسل سویڈن کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سفیر پاکستان کو یادداشت پیش

کشمیر کونسل سویڈن نے آزاد جموں و کشمیر، بالخصوص راولاکوٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں حالیہ افسوسناک واقعات کے تناظر میں پاکستان کے سفیر برائے سویڈن، عزت مآب جناب بلال حیی صاحب کو ایک باضابطہ یادداشت (Memorandum) پیش کی ہے۔

اس یادداشت میں کشمیر کونسل سویڈن نے 8 اور 9 جون کے واقعات میں ہونے والی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ:

▪️ ریاست بھر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

▪️ 8 اور 9 جون کے واقعات اور ہلاکتوں کی مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ حقائق قوم کے سامنے آسکیں اور ذمہ داران کا تعین ہو سکے۔

▪️ ریاست میں امن و امان کی فوری بحالی کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات، تحمل اور بردباری کا راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔

▪️ عوام کے بنیادی اور جمہوری حق، یعنی پرامن احتجاج، آزادی اظہار رائے اور اپنی آواز بلند کرنے کے حق کا مکمل احترام کیا جائے۔

▪️ جاں بحق ہونے والے تمام افراد، خواہ وہ عام شہری ہوں یا سکیورٹی اداروں سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا جائے اور مناسب معاونت فراہم کی جائے۔

کشمیر کونسل سویڈن کا مؤقف ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام امن، انصاف، استحکام اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات کا حل طاقت یا تصادم میں نہیں بلکہ مکالمے، انصاف، برداشت اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان، بطور انتظامی اتھارٹی، اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور ایسے اقدامات کرے گی جو ریاست میں امن، استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کا باعث بنیں۔

09/06/2026
Kashmir Council Sweden strongly Condemned the killing in Rawalakot AJK!! Use of un necessary force in the state is unacc...
09/06/2026

Kashmir Council Sweden strongly Condemned the killing in Rawalakot AJK!! Use of un necessary force in the state is unacceptable!!
Peace must be restored not with violence but with talks!!

On behalf of the Kashmir Council Sweden, we strongly condemn the recent incident in Rawalakot and call for immediate acc...
06/06/2026

On behalf of the Kashmir Council Sweden, we strongly condemn the recent incident in Rawalakot and call for immediate accountability. The use of live fire on protestors returning from a peaceful demonstration is unacceptable. We urge the administration to immediately file a First Information Report (FIR) and conduct a thorough investigation into the circumstances of this tragedy. Every aspect must be examined—from the underlying causes of the martyrdom to the chain of events leading to the opening of fire. Justice must be served, and the reasons behind this devastating situation must be transparently uncovered. The safety and democratic rights of all citizens must be protected without compromise.

06/06/2026

The Tragic Death of Shazeb and the Growing Political Crisis in Azad Jammu & Kashmir

By Sardar Tamur Aziz Kashmiri

President, Kashmir Council Sweden

The recent events in Rawalakot have once again highlighted the deep political tensions and growing unrest in Azad Jammu & Kashmir (AJK). The tragic death of young activist Shazeb, reportedly associated with the Joint Awami Action Committee (JAAC), has shocked the people of the region and raised serious concerns about the handling of political disagreements and public dissent.

According to media reports, Shazeb lost his life during a firing incident in Rawalakot, while several others, including activist Umar Nazeer Kashmiri, sustained injuries. Following the incident, protesters gathered outside the hospital and demanded an impartial investigation into the circumstances surrounding the death. The incident has further intensified an already tense political atmosphere across the region.

At the same time, reports indicate that dozens of political activists and members of the Joint Awami Action Committee have been detained in various parts of Azad Kashmir. Authorities have stated that these actions are being taken under existing legal provisions, while activists argue that such measures are aimed at suppressing legitimate political dissent.

The current crisis is closely linked to the ongoing debate regarding the 12 reserved seats for refugees of Jammu and Kashmir residing in Pakistan. The issue has generated strong emotions and differing opinions across society. While some view the matter as a constitutional and administrative question, others consider it a matter directly connected to representation, identity, and the historical sacrifices of Kashmiri refugees.

Regardless of political positions, the death of any citizen during a political dispute is a matter of profound concern. Democracies are strengthened through dialogue, consultation, and peaceful engagement—not through violence, confrontation, or loss of life.

The people of Jammu and Kashmir have endured decades of conflict, uncertainty, and political division. They deserve institutions that can address disagreements through democratic means while protecting the rights and dignity of every citizen. Any allegation surrounding the use of force must be thoroughly and transparently investigated so that the truth can emerge and public confidence can be restored.

I extend my deepest condolences to the family of Shazeb, whose death has left a community in mourning. I also wish a full and speedy recovery to Umar Nazeer Kashmiri and all those who were injured during these events.

At this critical moment, restraint, wisdom, and dialogue are needed from all stakeholders. Escalation will only deepen divisions, whereas constructive engagement can help preserve peace, stability, and democratic values in Azad Jammu & Kashmir.

The people of Kashmir have sacrificed too much over the decades. Their future should be shaped through peaceful democratic participation, mutual respect, and justice for all.

Sardar Tamur Aziz Kashmiri
President, Kashmir Council Sweden

31/05/2026

مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی ختم کرنا: ایک تاریخی ناانصافی؟

تحریر: سردار تمور عزیز کشمیری

صدر کشمیر کونسل سویڈن

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستیں صرف چند سیاسی نشستیں نہیں بلکہ ایک تاریخی عہد، ایک قومی ذمہ داری اور کشمیر کاز کے ساتھ وابستگی کی علامت ہیں۔ آج بعض حلقوں کی جانب سے ان نشستوں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ چونکہ مہاجرین پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہو چکے ہیں، اس لیے انہیں آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

یہ مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ کشمیر کاز، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خود پاکستان کے آئینی مؤقف سے بھی ٹکراتا ہے۔

مہاجرین کون ہیں؟

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے 1947، 1965، 1971 اور بعد ازاں مختلف ادوار میں اپنے گھر، زمینیں، جائیدادیں اور اپنے آباؤ اجداد کی قبریں چھوڑ کر ہجرت کی۔ ان کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا حصہ ہیں۔

اگر آج یہ کہا جائے کہ چونکہ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی ختم کر دی جائے، تو یہ دراصل ان قربانیوں کو فراموش کرنے کے مترادف ہوگا۔

12 نشستیں کیوں دی گئیں؟

مہاجرین کی نشستوں کا تصور اس بنیاد پر دیا گیا تھا کہ یہ لوگ آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ہیں۔ ان کی اصل شناخت، ریاستی شہریت (State Subject) اور ان کا حقِ واپسی برقرار ہے۔

یہ نشستیں اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ یہ لوگ مستقل طور پر پاکستان کے شہری نہیں بنے بلکہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک ایک عارضی سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔

آرٹیکل 257 اور پاکستان کا مؤقف

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 واضح کرتا ہے:

“جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان اور ریاست کے تعلقات عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیے جائیں گے۔”

اس آئینی شق سے واضح ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی جموں و کشمیر کے عوام کی علیحدہ شناخت ختم نہیں کی۔

اگر مہاجرین کی نمائندگی ختم کر دی جائے تو دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان خود ان لوگوں کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم نہیں کرتا۔

کیا یہ مہاجرین کو بے وطن بنانے کی طرف قدم ہوگا؟

یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔

پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان میں رہنے کے باوجود جب حکومتی پالیسی بدلی تو لاکھوں افغانوں کو واپس جانا پڑا۔

اگر کل کو کوئی حکومت یہ مؤقف اختیار کرے کہ مہاجرینِ کشمیر پاکستان کے مستقل باشندے نہیں ہیں، تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟

یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

کون انہیں قبول کرے گا؟

ان کی اصل زمینیں تو آج بھی لائن آف کنٹرول کے اُس پار ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی مثال

میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کو پہلے ان کی سیاسی نمائندگی سے محروم کیا گیا، پھر ان کی شہریت پر سوال اٹھایا گیا، اور بالآخر لاکھوں لوگ دنیا کے مختلف ممالک میں بے وطن ہو گئے۔

یقیناً مہاجرینِ کشمیر اور روہنگیا کی صورتحال ایک جیسی نہیں، لیکن ایک بنیادی اصول مشترک ہے:

جب کسی قوم کی شناخت، نمائندگی اور سیاسی حیثیت کو کمزور کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

نادرا، شناختی ریکارڈ اور مہاجرین کی حیثیت

پاکستان کے پاس مہاجرینِ جموں و کشمیر کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

نادرا کے فیملی رجسٹریشن سسٹم، شناختی کارڈز اور دیگر سرکاری دستاویزات میں ان کے مہاجر پس منظر اور ریاستی تعلق کا ریکارڈ محفوظ ہے۔

یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خود انہیں ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد سمجھتا ہے۔

اگر ان کی اسمبلی نمائندگی ختم کر دی جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوگا:

کیا ان کی ریاستی شناخت بھی ختم ہو جائے گی؟

کشمیر کاز کو نقصان

مہاجرین کی نشستیں صرف افراد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگوں کے حقِ خودارادیت کی علامت ہیں۔

اگر یہ نشستیں ختم ہو جاتی ہیں تو بھارت عالمی سطح پر یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ خود پاکستان نے بھی مہاجرین اور مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کی نمائندگی کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے۔

یہ کشمیر کاز کے لیے ایک نقصان دہ پیغام ہوگا۔

حل کیا ہے؟

اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔

نشستوں کی تقسیم، انتخابی طریقہ کار اور نمائندگی کے نظام پر بحث ہو سکتی ہے۔

لیکن مہاجرین کی نمائندگی کو مکمل طور پر ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی نمائندگی کو مزید شفاف، مؤثر اور حقیقی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے سیاسی اور تاریخی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔

اختتامیہ

مہاجرینِ جموں و کشمیر کوئی بوجھ نہیں، بلکہ کشمیر کی جدوجہد کا زندہ باب ہیں۔

ان کی نمائندگی ختم کرنا صرف 12 نشستوں کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کی قربانیوں، شناخت اور تاریخی حق کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

کشمیر کاز اس وقت مضبوط ہوگا جب ہم اپنے ہر مہاجر، ہر متاثرہ خاندان اور ہر اس شخص کو ساتھ لے کر چلیں گے جس نے اس جدوجہد کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر کی شناخت، ریاستی حیثیت اور سیاسی نمائندگی کو محفوظ رکھا جائے، نہ کہ اسے ختم کرنے کی کوشش ۔۔

Adress

Rörvägen 57
Stockholm
11164

Öppettider

Måndag 09:00 - 17:00
Tisdag 09:00 - 17:00
Onsdag 09:00 - 17:00
Torsdag 09:00 - 17:00
Fredag 09:00 - 17:00
Lördag 09:00 - 17:00

Telefon

+46720342894

Aviseringar

Var den första att veta och låt oss skicka ett mail när Kashmir Council Sweden postar nyheter och kampanjer. Din e-postadress kommer inte att användas för något annat ändamål, och du kan när som helst avbryta prenumerationen.

Dela