Visa information

Visa information A platform from where you can get all type of visa related information

30/05/2025

ایک وقت تھا کہ دوسرے ممالک خاص طور پر مغربی ممالک میں انکی لوکل مینوفیکچرنگ بھی ہوتی تھی اور وہاں کی بنی چیزیں کارکردگی اور پائیداری میں اپنی مثال سمجھی جاتی تھیں۔
پھر دور بدلا اور منافع کی گوشوارے مرتب ہونے لگے اخراجات اور آمدن کا حساب کتاب لگایا جانے لگا چین نے دنیا بھر میں پرائس وار میں مغربی ممالک کو پچھاڑنا شروع کر دیا اور مغربی ممالک کو سب سے زیادہ نقصان لیبر کاسٹ میں پیش آنے لگا تو انہوں نے اپنی کمپنیز کو وہاں منتقل کرنا شروع کیا جہاں لیبر بہت سستی تھی خاص طور پر ایشین اور کچھ افریقی ممالک میں۔
ہم جب پی آئی اے میں تھے تو کسی یورپی یا عرب ملک سے واپس آنے والوں کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں بڑے بڑے بیگ پکڑے ہوتے تھے جو وہاں سے خریدی گئی روز مرہ کی چیزوں سے بھرے ہوتے تھے اور ایسے ہی بڑے دو تین سوٹ کیس وہ بک کروا کے بھی آئے ہوتے تھے۔
جب ان سے کبھی بات ہوتی تو وہ بتاتے کہ یہ عام استعمال کی گھریلو چیزیں ہیں جو وہ ساتھ لے کے جا رہے ہیں۔
ہمارا ان سے کہنا ہوتا تھا کہ بھائی یہ سب چیزیں تو پاکستان میں بھی اس سے بہت کم قیمت یں دستیاب ہیں اس پر انکا کہنا ہوتا تھا
مگر وہ دوبئی سعودیہ قطر کویت وغیرہ سے تو نہیں آئی ناں ہم جن کو یہ چیزیں دیتے ہیں انکا اصرار ہوتا ہے کہ چیز باہر سے آئی ہو۔
آپ یقین کیجیے کہ ہر سال دوسرے ممالک سے انیوالے ہمارے محنت کش بھائی اس باہر کی چیز کی وجہ سے اپنا اربوں کا نقصان تو کرواتے ہی ہیں مگر ملک کو بھی بھاری زرمبادلہ سے محروم کرتے ہیں اور اس چیز کے لیے کرتے ہیں جو یہاں بھی اسی ملک سے امپورٹ ہو کے آتی ہے جہاں سے اس ملک میں گئی تھی جہاں سے ہمارے یہ محنت کش بھائی خرید کے اپنے ملک لاتے ہیں۔
ساتھ ہی وہ سامان کی مقرر کردہ حد سے بھی تجاوز کرے پر ایکسسز بیگج کی قیمت الگ سے ادا کرتے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ عرب ممالک سے آنے والے ہر مسافر کے ہاتھ میں دو عدد ٹینگ کے بڑے ڈبے لازمی ہوتے تھے جس سے ایک دفعہ تو ہمیں شک ہوا کہ شاید یہ کسی ائیر لائن ایجنٹ کی طرف سے پرموشن کا حصہ ہیں کہ ایک ٹکٹ کے ساتھ دو ڈبے فری مگر مسافروں سے پوچھنے پر یہ پتہ چلا کہ یہ خریدے گئے ہیں اور گھر والوں نے کہہ رکھا ہے کہ ضرور لانے ہیں۔
یہی ٹینگ کے ڈبے پاکستان میں ہر جگہ پر دستیاب تھے مگر وہی بات کہ
باہر سے تو نہیں آئے ناں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف گلف ممالک سے ہر سال دو ملین سے زیادہ لوگ پاکستان آتے ہیں ان میں سے ہر شخص اگر پانچ سو ریال یا درہم کی بھی شاپنگ کر کے لائے تو یہ سالانہ ایک ارب ریال یا درہم سے زیادہ بنتے ہیں اور یہ وہ چیزیں ہیں جو چین سے ان ممالک میں بھیجی گئی ہیں اور اسی چین سے پاکستان نے بھی برآمد کر رکھی ہوتی ہیں۔
کہنا یہ کہ کہ صرف سوچ میں چھوٹی چھوٹی بہتری کر لی جائے تو کافی کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔
ناصر بٹ

29/05/2025

Dear Pakistanis Kindly plant any of the following trees at your house/parks/roads etc, it will cost less than Rs 200. Ou...
29/05/2025

Dear Pakistanis

Kindly plant any of the following trees at your house/parks/roads etc, it will cost less than Rs 200. Our city is highly affected by environmental changes. Resulting in abnormally hot weather, heat waves and reduction in raining. Below are some environment friendly trees and do not require any additional care and also are not expensive. Request your family members, friends, neighbors, colleagues, relatives and your childrens to plant trees as much as you can.
Below are local name of trees.

1) Gulmohar🌴
2) Neem🌱
3) Amaltas🌴
4) Lignum/Rohida🌱
5) Peepal🌴

Forward to others.

🌴Lets Plant A Tree🌴

We need to do it now. no one else will do it for our future. Tell your friends and relatives to do the same start with your own street own house area

Post Credit: Kashif On Bike

28/05/2025

🚫 Say NO to Begpackers! 🚫

Don’t be fooled! These travelers are exploiting their privilege—using strong passports to enter countries and then relying on their "white skin advantage" to guilt-trip locals into funding their vacations. This is called , and it’s not okay.

They started in places like Thailand, Malaysia, and Cambodia, but after backlash, some have now turned to Pakistan. We should NOT encourage this behavior. Real travelers budget responsibly—they don’t beg from locals who work hard for their money.

If you see them, ignore them. Don’t fund their privilege.

نہ جانے اللہ پاک کو اسکی کون سی ادا پیاری لگی کہ جہاز کو واپسی لوٹ کر آنا پڑا ، اور کون کہتا معجزوں کا زمانہ اب نہیں رہا...
27/05/2025

نہ جانے اللہ پاک کو اسکی کون سی ادا پیاری لگی کہ جہاز کو واپسی لوٹ کر آنا پڑا ، اور کون کہتا معجزوں کا زمانہ اب نہیں رہا معجزے آج بھی ہوتے ہیں ☺️

لبيك اللهم لبيك 💕

زیر نظر تصویر لیبیا سے تعلق رکھنے والا "عامر" نامی شخص کی ہے

یہ شخص اس سال حج کی نیت سے عازم سفر ہوا تو ایئرپورٹ پہ نام میں (القذ اافی) ہونے کے سبب سیکورٹی کلیئرنس نہیں دیا گیا اور جہاز عامر کے بغیر ہی پرواز کر گیا
لیکن کچھ فنی خرابی کے سبب کچھ ہی دیر میں جہاز کو واپس اسی ایئرپورٹ پہ لینڈنگ کرنا پڑی تو ایک بار پھر عامر نے کوشش کی کہ وہ بھی حج بیت اللہ کے لیے جہاز میں سوار ہو مگر پائلٹ نے جہاز کے دروازے کھولنے سے انکار کر دیا اور ٹیکنیکل کلیرنس کے بعد جہاز ایک بار پھر پرواز کر گیا
لیکن ایک بار پھر فنی خرابی کے سبب واپس لینڈنگ کرنا پڑی
عامر نے اس بار پھر سفر کی کوشش کی مگر پھر انکار ہوا
اور جہاز پرواز کر گیا
لیکن تیسری بار پھر فنی خرابی کے باعث جہاز کو واپس لوٹنا پڑا
اس بار پائلٹ نے کہا کہ جب تک "عامر" جہاز میں سوار نہیں ہوتا وہ جہاز نہیں اڑائیں گے
اس بار عامر کو سیکورٹی کلیئرنس کے بعد جہاز کے مسافروں میں شامل کیا گیا اور جہاز بخیر وعافیت سعودیہ کے ائیرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔

زیارت بیت اللہ الحرام کے لیے قبولیت اصل ہے

کچھ لوگ زمین پہ غیر معروف ہیں لیکن عرش پہ معروف و محبوب ہیں

خلا بازوں کے ٹواٸلٹ اور ٹوٹتے تارےخلاٸی سٹیشنز پر تحقیقات کے لٸے ماھر ساٸنٹسٹ خلاباز متعین ھوتے ھیں۔ ہر چھ ماہ بعد عالمی...
26/05/2025

خلا بازوں کے ٹواٸلٹ اور ٹوٹتے تارے
خلاٸی سٹیشنز پر تحقیقات کے لٸے ماھر ساٸنٹسٹ خلاباز متعین ھوتے ھیں۔ ہر چھ ماہ بعد عالمی خلائی اسٹیشن میں ان کی شفٹ تبدیل ہوتی ہے۔ اس دوران چھ ماہ کی خشک خوراک کا ذخیرہ خلاء بازوں کے ساتھ بھیجا جاتا ہے، یہاں خلا میں خشک خوراک کو پانی میں نرم کرکے کھایا جاتا ہے۔ عالمی خلائی اسٹیشن کے ٹوائلٹ کی تصویر آپ نیچے دیکھ سکتے ہے، یہ ویکیوم کلینر کی طرح انسانی فضلے کو suck کرتا ہے، اور فضلے کو ایک کنٹینر میں جمع کیا جاتا ہے، بعدازاں اس کنٹینر کو زمین کے atmosphere میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں کنٹینر ہوا کی رگڑ کے باعث جل کر راکھ ہوجاتا ہے....
اسی خاطر میرا دنیا کے رومینٹک لوگوں کو مشورہ ہوگا کہ ہر ٹوٹتے تارے کو دیکھ کر wish نہیں مانگنی چاہیے...

25/05/2025

یہ باتیں پلے سے باندھ لیں !  سانحہ سکردو ایک دل دہلا دینے والا حادثہ ہے ۔جس میں گجرات کے چار دوست حادثے کا شکار ہونے کے ...
25/05/2025

یہ باتیں پلے سے باندھ لیں !
سانحہ سکردو ایک دل دہلا دینے والا حادثہ ہے ۔جس میں گجرات کے چار دوست حادثے کا شکار ہونے کے بعد ۔۔۔نہ جانے کتنی دیر بعد اور تکلیف سے گزرنے کے بعد موت کا شکار ہوئے ۔۔۔اور پھر سات دن تک ان کے اجسام کھلے آسمان تلے پڑے رہے ۔۔
زندگی کا محافظ رب کریم ہے لیکن حفاظتی اسباب اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ کبھی بھی دوستوں یا فیملی کے ساتھ سیر کرنے جائیں تو یہ باتیں یاد رکھیں ۔
سب سے پہلے تو ڈرائیونگ !
یاد رکھیں شاہراہ ریشم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں ۔۔جبکہ جگلوٹ سکردو روڈ اس سے بھی بڑا عجوبہ ہے ۔۔ایسے بے پناہ راستے اب شمالی علاقہ جات میں جا بجا بن چکے ہیں ۔۔۔گلگت سے چترال سڑک بن رہی ہے ۔۔شمشال کا ٹریک بذات خود ایک عجوبہ ہے ۔۔استور سڑک کا ابتدائی بیس پچیس کلو میٹر کا حصہ شدید خطرناک ہے ۔۔۔یہاں سڑکیں پہاڑوں کے ساتھ گھومتی ہوئ جاتی ہیں ۔۔سڑک خالی ہے تو گاڑی بھگانے کا جی چاہتا ہے ، تب ساٹھ ستر کی سپیڈ پر چلتی گاڑی کے سامنے یک دم سڑک ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔اگر ڈرائیور نے سڑک پر رہنا ہے تو اسے اسی رفتار پر موڑ کاٹنا ہوگا ۔۔۔اور اگر نہ کاٹ سکا تو پھر سینکڑوں فٹ گہری کھائی یا پھر ٹھاٹھیں مارتا دریا اس کا مقدر ہے ۔

مقامی افراد اور ڈرائیور بھی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں لیکن بہت کم ۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سینکڑوں بار ان راہوں پر سفر کیا ہوتا ہے ۔۔ایک ایک کھڈا اور ایک ایک موڑ ان کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے ۔۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار پر کس موڑ سے قابو رکھتے ہوے گاڑی موڑی جاسکتی ہے ۔۔۔مقامی افراد جب بھی حادثہ کا شکار ہونگے اس کی پچانوے فیصد وجہ اوور لوڈنگ یا حدرفتار سے زیادتی ہوگی ۔۔۔
اب تمام بڑے شہروں سے گلگت ،استور ،سکردو وغیرہ کے لیے بس ،کوسٹر اور ویگنیں چلتی ہیں ۔۔مطلوبہ مقام پر پہنچ کر مقامی ڈرائیور اور گاڑی کرایہ پر حاصل کریں اور جہاں جی چاہے وہاں جائیں ۔۔۔مقامی ڈرائیور آپ کا محافظ بھی ہوگا اور گائیڈ بھی ۔۔۔اور آپ کو بالکل کہیں بھی یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ گاڑی خراب ہوگئ تو کیا ہوگا ۔۔۔یہ نئی گاڑیاں ۔۔۔بیسویں صدی کی دلہن کی طرح اکڑ جائیں تو جلدی مانتی بھی نہیں ہیں ۔۔۔کیونکہ ان کی پوری مشین ایک کمپیوٹر سے منسلک ہوتی ہے اور ان کا مستری بھی شمالی علاقہ میں ہر جگہ نہیں ملتا ۔۔۔اور ایسی صورت میں یا گاڑی لاد کر لے جائیں یا پھر خراب حالت میں چلانے کی کوشش کریں جوکہ سیدھا سیدھا موت سے پنگا لینے والی بات ہے ۔۔۔
اگر جیپ کرایہ پر لینا جیب پر بھاری ہو تو قریباً ہر جگہ سواریوں والی جیپیں چلتی ہیں جو آپ کو معاشی استحکام بھی دیتی ہیں اور مقامی افراد اور ان کی اقدار کو سمجھنے کا موقع بھی ۔۔۔
فیری میڈوز کا ٹریک چیخیں نکلوانے والا ٹریک مشہور ہے ۔۔لیکن حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں مقامی افراد کے علاؤہ کسی کو گاڑی لیجانے کی اجازت نہیں ۔۔۔بھلے آپ کے پاس V8 انجن کی حامل جدید گاڑی ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔گذشتہ دنوں جدید ترین فرانسیسی رافیل جہاز کے خاک نشین ہونے کی وجہ بھی طیارے کی خامی نہیں بلکہ اس کو اڑانے والے پائلٹوں کی نااہلی اور مدمقابل کی قابلیت تھی ۔۔۔یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے ۔۔جدید گاڑی نہیں بلکہ قابل ڈرائیور ۔۔۔۔اس بات کو تمام حضرات پلے باندھ لیں ۔۔۔کبھی بھی آپ حضرات ایسے ڈرائیور کے ساتھ سفر نہ کریں جو پہلی دوسری یا تیسری بار ان علاقوں کی جانب جارہا ہو۔۔۔جس کے ہمراہ جارہے ہیں اس سے ضرور پوچھیں ۔۔۔
بھائ پہلے کتنی بار گئے ہو ؟
ٹریول کمپنیوں کی اکثریت بھی ناتجربہ کار ڈرائیور بھرتی کرکے کام چلاتی ہے تاکہ کم زیادہ سے زیادہ رقم بٹوری جاسکے ۔۔۔
تو پہلا اصول یہ سمجھ لیں کہ ڈرائیور چاہے آپ خود ہیں یا کوئ اور انتہائ کہنہ مشق ہونا چاہیے ۔۔۔اور اگر کوئ تیس سال سے گاڑی چلا رہا ہے لیکن ان راہوں سے ناآشنا ہے تو اناڑی ہے ۔۔۔
پھر بھی اگر خود گاڑی چلا کر لیجانا ضروری ہے تو جہاں اتنا خرچ ہوتا ہے وہاں جانے سے پہلے گاڑی کے بریک پیڈز ،کلچ پلیٹ ودیگر ضروری پرزہ جات کی جانچ ضرور کروا لی جائے ۔۔
ضروری معلومات لیتے وقت یہ ضرور معلوم کریں کہ وہاں کون سے نیٹ ورک کے سگنل آتے ہیں ۔۔اس کی سم ساتھ ضرور رکھیں ۔۔اور اگر ایسی جگہ جارہے ہیں جہاں صرف ایس کام چلتا ہے تو وہاں ایس کام یا یو فون کی سم استعمال کریں ۔۔۔
اسی طرح آئ فون اور دیگر ایسے مہنگے فون جن میں سم نہیں چلتی ان کے ساتھ بٹن والا نوکیا کو ضرور رکھیں ۔۔۔سگنل کھینچنے کے معاملہ میں آج بھی نوکیا پہلے نمبر پر ہے ۔
گاڑی چلاتے تصاویر بنانا ،گانے لگانا اور پھر من پسند گانے بدلنا ،سٹیک ،سنیپ ،لائیو وڈیو ،ٹک ٹاک ،واٹس ایپ اسٹیٹس ،فیس بک سٹوری ۔۔۔۔۔یہ سب دور حاضر کے وہ خوفناک جن ہیں جو پلک جھپکتے میں ہمیں کسی گہری آندھی کھائ یا کسی ٹھاٹھیں مارتے مچلتے دریا میں دھکیل سکتے ہیں ۔۔۔ان جنات سے ضرور دوستی رکھیں لیکن گاڑی چلانے کے دوران نہیں ۔۔۔
انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کریں ۔۔جہاں آپ کو اندراج کے لیے روکا جائے وہاں رکیں اور مکمل معلومات فراہم کریں ۔۔۔
بارش یا خراب موسم میں فورا کوشش کریں کسی محفوظ جگہ پر رک جائیں ۔۔کوئ بھی ایسی جگہ جو قدرے کشادہ ہو ۔۔یہاڑ کے دامن میں گاڑی کھڑی کرنے سے گریز کریں ۔۔۔
آجکل بہت سی جگہوں پر نیٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے ۔۔۔اپنی لائیو لوکیشن اپنے کسی قابل بھروسہ آدمی کے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔۔۔یہ بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔۔۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ طویل سفر ،تھکاوٹ اور نیند کا مکمل نہ ہونا بھی ہے ۔۔
سوشل میڈیا پر دکھائ جانیوالی دیگر چیزوں کی طرح سیاحت کا بھی صرف ایک پہلو دکھایا جاتا ہے ۔۔۔پہاڑ ،دریا ،جھیلیں ،جنگل ،برف زار ،سرسبز میدانوں میں گھومتے رنگ برنگی تصاویر ۔۔۔اور پھر سوشل میڈیا جو کہ پچاس فیصد دکھاوے اور حقیقت سے دور جعل سازی وملمع کاری کا ایک دلکش مجموعہ ہے اس سے متاثر ہوکر لوگ دھڑا دھڑ سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔کوشش کریں اپنے قریب ترین مقام کا انتخاب کریں ۔۔۔یقین مانیں ہمارے اردگرد پورے ملک میں بہت خوبصورتی ہے ۔۔۔

ان پہاڑوں پر دل کے قافلے چلا کرتے تھے اور میلوں پیدل چلا کرتے تھے ۔۔۔گاڑیوں کے قافلوں نے جہاں ان کا حسن گہنا دیا ہے وہاں ہمہ وقت سر پر لٹکتی ایک تلوار بھی موجود ہے ۔۔۔نہ جانے کب فون کی گھنٹہ بجے اور کب کیا اطلاع آئے ۔۔۔یا فون ملنا ہی بند ہو جائے ۔۔۔۔
بہت کچھ ہے کہنے کو ۔۔۔۔لیکن شاید میں کہہ نہ پاؤں
اپنی غلطی کو انتظامیہ اور اداروں کے کھاتے ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوا جاسکتا ۔۔۔اداروں میں خامیاں ضرور ہیں ۔۔لیکن ہمیں بھی اپنا احتساب ضرور کرنا ہوگا ۔۔۔
فیض احمد فیض کے چند اشعار سانحہ سکردو کے مرحومین کی نظر ۔۔۔
نوید اشرف خان

( لوگوں کی کثیر تعداد شمالی علاقوں کا رخ کر رہی ہے ۔۔ سیاحوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اس پوسٹ کو جتنا شئیر کرسکتے ہیں کیجیے ۔۔۔یہ بھی صدقہ جاریہ ہے )

Adress

Stockholm

Webbplats

Aviseringar

Var den första att veta och låt oss skicka ett mail när Visa information postar nyheter och kampanjer. Din e-postadress kommer inte att användas för något annat ändamål, och du kan när som helst avbryta prenumerationen.

Kontakta Organisationen

Skicka ett meddelande till Visa information:

Dela