We love ALLAH

We love ALLAH We Love ALLAH

اے سبب پیدا کرنے والے رب کوئی خوبصورت سبب بنا کر اُن تمام راہوں کو ہموار کر دے جن کے لیے دل پریشان ہے (آمین)
18/07/2026

اے سبب پیدا کرنے والے رب کوئی خوبصورت سبب بنا کر اُن تمام راہوں کو ہموار کر دے جن کے لیے دل پریشان ہے (آمین)

بے شک کربلا کے مالک ، امام حسینؑ ، مظلومانہ حالت میں شہید کیے گئے آپؑ غم سے نڈھال ، پیاسے اور انتہائی مصیبت زدہ تھے امام...
18/07/2026

بے شک کربلا کے مالک ، امام حسینؑ ، مظلومانہ حالت میں شہید کیے گئے آپؑ غم سے نڈھال ، پیاسے اور انتہائی مصیبت زدہ تھے امام محمد باقرؑ سے روایت ہے "بے شک کربلا کے مالک امام حسینؑ کو مظلوم ، غم زدہ ، پیاسا اور شدید مصیبت میں شہید کیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر لازم قرار دیا ہے کہ جو شخص بھی غمگین ، مصیبت زدہ ، گناہگار ، پریشان حال ، رنجیدہ ، پیاسا یا کسی بیماری و تکلیف میں مبتلا ہو ، پھر امام حسین بن علیؑ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دعا کرے اور آپؑ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی دور فرماتا ہے ، اس کی دعا قبول کرتا ہے ، اس کے گناہ معاف فرماتا ہے ، اس کی عمر میں برکت عطا کرتا ہے اور اس کے رزق میں وسعت پیدا فرماتا ہے پس اے صاحبانِ بصیرت عبرت حاصل کرو" حوالہ: کامل الزیارات ، صفحہ 168

قرآن پاک میں بندوں کو شکر ادا کرنے کے احکامات بار بار کیوں آتے ہیں ﴿وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾(اور میرا شکر ادا ...
18/07/2026

قرآن پاک میں بندوں کو شکر ادا کرنے کے احکامات بار بار کیوں آتے ہیں ﴿وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾(اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو)﴿أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ﴾ (کہ میرا بھی شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی)
﴿اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا﴾ (اے آلِ داؤد شکر گزاری کے اعمال کرو) جبکہ جب "حمد" (تعریف) کا ذکر آتا ہے ، تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن ہمیں یہ کہنا سکھاتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾(سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے) ﴿وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ﴾ (اور کہو کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں) "حمد" اور "شکر" کے درمیان ایک ایسا باریک فرق ہے جس سے بہت سے لوگ غافل ہیں شکر : کسی مخصوص نعمت یا کسی ایسے احسان پر ہوتا ہے جو آپ تک پہنچا ہو آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں رزق پر ، صحت پر ، کسی مصیبت سے نجات پر ، یا ہدایت ملنے پر اسی طرح آپ اپنے والدین کا شکر ادا کرتے ہیں اس احسان پر جو انہوں نے آپ کے ساتھ کیا اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ﴾(میرا بھی شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی) حمد : یہ شکر سے کہیں زیادہ وسیع ہے آپ اللہ کی "حمد" بیان کرتے ہیں کیونکہ وہ الرحمن ہے ، الرحیم ہے ، الحکیم ہے ، العلیم ہے ، الرزاق ہے اور معاف کرنے والا ہے خواہ آپ نے اپنی زندگی میں ان صفات کے اثرات کو (براہِ راست) محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو آپ اللہ کے عطا کرنے سے پہلے ، اس کے کمال پر اس کی حمد کرتے ہیں آپ اس کی حکمت پر اس کی حمد کرتے ہیں ، چاہے وہ حکمت آپ کی نظروں سے اوجھل ہی کیوں نہ ہو آپ اس کے فیصلوں اور تقدیر پر اس کی حمد کرتے ہیں ، چاہے آپ ان کے پیچھے چھپے رازوں کو نہ سمجھ پائیں اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾(سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے) کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی عظمت کا احاطہ کر لیا ہے جو ہم اس نعمت کی اصل قدر جان سکیں (نہیں ، لیکن ہم اس کے کمالِ تخلیق پر اس کی حمد کرتےہیں)
اور اللہ نے فرمایا: ﴿وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ﴾ (اور کہو کہ سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے) پس یہ اللہ کی توحید کے کمال اور اس کے ہر عیب سے پاک ہونے پر اس کی "حمد" ہے ، اس لیے نہیں کہ یہ صرف مجھ پر کوئی خاص نعمت ہے ، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے کمال کی وجہ سے خود ہی حمد کے لائق ہے اسی لیے اہل علم فرماتے ہیں: "شکر" احسان (نعمت) پر ہوتا ہے ، جبکہ "حمد" احسان پر بھی ہوتی ہے اور اللہ کی تمام صفاتِ کمال پر بھی ہوتی ہے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ گویا قرآن آپ کو سب سے پہلے یہ سکھاتا ہے کہ آپ اپنے رب کی نعمتوں کو گننے سے پہلے خود اپنے رب کو پہچانیں ، اور اس کی عطا پر نظر ڈالنے سے پہلے اس کے کمال کی ہیبت و عظمت سے اپنے دل کو بھر لیں یہ اللہ کی ہم پر بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں چند آسان سے کلمات سکھائے اور ان پر عظیم اجر رکھا جب آپ حاضرِ قلب (جاگتے ہوئے دل) کے ساتھ کہتے ہیں: "الحمد للہ" تو گویا آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہر طرح کی تعریف ، تمام صفاتِ کمال اور مطلق ثناء صرف اور صرف اکیلے اللہ ہی کے لیے ہے اسی لیے نبی کریمﷺ کو جب کوئی ایسی بات پہنچتی جس سے آپ مسرور (خوش) ہوتے تو فرماتے: الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات (سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی نعمت سے تمام اچھے کام پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں) اور جب آپﷺ کو کوئی ایسی بات پہنچتی جو ناگوار ہوتی (تکلیف دہ ہوتی) تو فرماتے: الحمد لله على كل حال (ہر حال میں سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں) پس "حمد" کا یہ سلسلہ نعمتوں کے ختم ہونے سے منقطع نہیں ہوتا اور نہ ہی آزمائش آنے پر رکتا ہے ، کیونکہ حمد کا تعلق تقدیر کے فیصلوں سے پہلے خود اللہ کی ذات سے ہے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری زبانوں کو اپنے ذکر سے تر رکھے ، دلوں کو اپنی حمد اور شکر سے آباد فرمائے ، اور اپنے اس فرمان کی حقیقت عطا فرمائے: ﴿وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾(اور میرے بندوں میں سے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہیں) اے اللہ تیرے ہی لیے حمد ہے یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے ، اور تیرے ہی لیے حمد ہے جب تو راضی ہو جائے ، اور تیرے ہی لیے حمد ہے رضا کے بعد بھی ، اور تیرے لیے ایسی حمد ہے جو تیرے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہو.

حضرت بہلول داناؒ رحمتہ اللہ علیہ ایک عظیم بزرگ وہ عظیم صوفی بزرگ جنھوں نے دنیا کی نظروں میں "دیوانہ" بن کر حق و سچ کا وہ...
18/07/2026

حضرت بہلول داناؒ رحمتہ اللہ علیہ ایک عظیم بزرگ وہ عظیم صوفی بزرگ جنھوں نے دنیا کی نظروں میں "دیوانہ" بن کر حق و سچ کا وہ علم بلند کیا کہ دنیا انہیں ہمیشہ کے لیے "بہلول دانا" (عقل مند بہلول) ماننے پر مجبور ہو گئی آئیے تاریخِ اسلام کے اس درخشندہ ستارے کی زندگی اور ان کے ایمان افروز واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں: ولادت اور خاندانی پس منظر (ابتدائی دور) اصل نام: وہب بن عمرو پیدائش: آپ عراق کے تاریخی شہر کوفہ کے ایک انتہائی معزز ، متمول (امیر) اور پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئے آپ کا شمار اپنے وقت کے شرفاء میں ہوتا تھا اور بعض روایات کے مطابق آپ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے قریبی رشتہ دار تھے فقیری اور درویشی اختیار کرنے سے پہلے آپ کوئی عام انسان نہیں تھے ، بلکہ اپنے وقت کے بہت بڑے جید عالم، فقیہ اور دانشور تھے آپ کی علمی قابلیت کا یہ عالم تھا کہ حکومتِ وقت آپ کو سلطنت کا سب سے بڑا قاضی (جج) بنانا چاہتی تھی جب آپ نے بغداد کے ویرانوں اور کھنڈرات کو اپنا مسکن بنا لیا ، تو اسی دورِ درویشی کا ایک انتہائی خوبصورت واقعہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے: ایک دن حضرت بہلول دانا بغداد کے ایک راستے کے کنارے بیٹھے مٹی سے چھوٹے چھوٹے گھر (گھروندے) بنا رہے تھے اسی دوران خلیفہ ہارون الرشید کی ملکہ "ملکہ زبیدہ" کا وہاں سے گزر ہوا ملکہ نے جب ایک بزرگ کو بچوں کی طرح مٹی سے کھیلتے دیکھا تو پاس آ کر پوچھا: "بہلول یہ کیا کر رہے ہو" بہلول دانا نے معصومیت سے سر اٹھایا اور فرمایا: "میں جنت کے محل بنا کر بیچ رہا ہوں"
​ملکہ زبیدہ ، جو ایک نیک دل خاتون تھیں ، انہوں نے بہلول کی دلجوئی کے لیے پوچھا: "بہلول ، کیا تم یہ محل میرے ہاتھ بیچو گے اس کی قیمت کیا ہے" بہلول دانا نے فرمایا: "ہاں بالکل اس کی قیمت صرف چند درہم (سکے) ہے" ملکہ نے فوراً وہ رقم بہلول کے ہاتھ پر رکھ دی اور مسکراتے ہوئے اپنے محل کی طرف چلی گئیں بہلول نے وہ پیسے وہیں غریبوں میں بانٹ دیے
​خلیفہ ہارون الرشید کا خواب:اسی رات خلیفہ ہارون الرشید نے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں موجود ہے ، جہاں ایک انتہائی عالی شان ، خوبصورت اور یاقوت و زمرّد سے بنا ہوا محل ہے خلیفہ جب اس محل کے قریب جانے لگا تو فرشتوں نے اسے روک دیا ہارون الرشید نے پوچھا: "یہ کس کا محل ہے" فرشتوں نے جواب دیا: "یہ تمہاری بیوی ملکہ زبیدہ کا محل ہے ، جو انہوں نے بہلول سے خریدا ہے" خلیفہ کی جب آنکھ کھلی تو وہ بہت بے چین ہوا اور صبح ہوتے ہی وہ دوڑا ہوا اسی جگہ پہنچا جہاں بہلول دانا بیٹھے مٹی کے گھر بنا رہے تھے ہارون الرشید نے بڑے اشتیاق سے کہا: "بہلول یہ مٹی کا گھر مجھے بیچو گے اس کی کیا قیمت ہے" بہلول دانا نے خلیفہ کی طرف دیکھا ، مسکرائے اور فرمایا: "ہاں بیچوں گا ، لیکن اس کی قیمت تمہاری پوری سلطنت کی دولت اور آدھی دنیا کی حکومت ہے" ہارون الرشید حیران رہ گیا اور کہنے لگا: "بہلول یہ کیا بات ہوئی کل میری بیوی کو تو تم نے یہ محل صرف چند سکوں میں دے دیا اور آج مجھ سے پوری سلطنت مانگ رہے ہو" بہلول دانا نے ایک تاریخی اور حکمت سے بھرپور جواب دیا ، انہوں نے فرمایا: "ہارون میری بات غور سے سنو تمہاری بیوی (ملکہ زبیدہ) نے جب وہ سودا کیا تھا تو بن دیکھے ، صرف غیب پر یقین اور ایمان کے ساتھ کیا تھا (اس لیے سستا مل گیا) اور تم رات کو جنت میں اس محل کی حقیقت اور رونق اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے ہو ، اس لیے اب قیمت بہت زیادہ ہے سودا تو بن دیکھے ایمان کا ہوتا ہے" ہارون الرشید یہ لاجواب جواب سن کر دنگ رہ گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے حضرت بہلول دانا نے اپنی پوری زندگی حق کی راہ میں وقف کرنے کے بعد تقریباً 197 ہجری (بمطابق 812/813 عیسوی) میں اس دارِ فانی سے کوچ فرمایا آپ کا مزارِ اقدس آج بھی بغداد (عراق) میں موجود ہے ، جہاں دنیا بھر سے لوگ بڑی عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے ہیں.

اسلام کہتا ہے کہ اپنی توجہ وہاں مرکوز کرو جہاں سے تمہاری زندگی اُبھرتی ہے اُس ہستی کو اپنے اندر محسوس کرو جو قائم ہے  صو...
17/07/2026

اسلام کہتا ہے کہ اپنی توجہ وہاں مرکوز کرو جہاں سے تمہاری زندگی اُبھرتی ہے اُس ہستی کو اپنے اندر محسوس کرو جو قائم ہے صوفیوں اور درویشوں کی تمام زندگی “ یا حی یا قیوم “ کا زکر کرتے گزر جاتی ہے جس سے تمام حیات ہے ، اُس حی سے جو تمام حیات کا منبہ ہے ربط میں سستی اور کاہلی سے اندر حیات کا مادہ ماند پڑنے لگتا ہے اپنی روشنی کے مطابق جیو اپنے اندر اپنی روشنی پاؤ اور کسی خوف کے بغیر اس کے مطابق جیو یہ ہستی ہے ، اس کا حصہ ہیں ہستی جو کچھ ہونے کی خواہاں ہے ، وہ موجود ہے اسے استعمال کرو اسے حقیقت بناؤ کسی چیز سے مت چمٹو اور مصائب بھری زندگی مت گزارو فطرت اللہ کے گھر کا دروازہ ہے جو لوگ فطرت سے قریب نہیں ہوتے وہ اللہ کی قُربت کے حصول میں بھی کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں.

یا الہی میرے عصیاں مجھ کو شرماتے ہیں اب بخش دے مجھ کو محمد مصطفیٰﷺ کے واسطے.
17/07/2026

یا الہی میرے عصیاں مجھ کو شرماتے ہیں اب بخش دے مجھ کو محمد مصطفیٰﷺ کے واسطے.

اہلِ تصّوف کے نزدیک عبادت کے وقت ذاتِ الہٰی کی دید میں گُم ہونے کا نام نماز ہے تمام عبادات کی جان یہی نماز ہے اسی سے انس...
16/07/2026

اہلِ تصّوف کے نزدیک عبادت کے وقت ذاتِ الہٰی کی دید میں گُم ہونے کا نام نماز ہے تمام عبادات کی جان یہی نماز ہے اسی سے انسان قربِ الہٰی کے منازل طے کرتا ہُوا اونچے سے اونچے مکان یعنی عرش رب العالمین تک پہنچ سکتا ہے.

حضرت امام محمد باقرؑ روایت فرماتے ہیں: ایک مرتبہ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان خانۂ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ اسی دوران حض...
16/07/2026

حضرت امام محمد باقرؑ روایت فرماتے ہیں: ایک مرتبہ اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان خانۂ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ اسی دوران حضرت امام علی بن الحسین زین العابدینؑ بھی طوافِ کعبہ میں مشغول تھے امامؑ عبادتِ الٰہی میں اس قدر محو تھے کہ آپؑ نے عبدالملک کی طرف ایک نظر بھی نہ ڈالی
عبدالملک نے جب دیکھا کہ ایک باوقار شخصیت اس کے آگے طواف کر رہی ہے اور اس کی شاہانہ حیثیت کی کوئی پروا نہیں کر رہی ، تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: "یہ کون شخص ہے جو ہمارے سامنے طواف کر رہا ہے ، مگر ہماری طرف التفات تک نہیں کرتا" لوگوں نے جواب دیا: "یہ علی بن الحسین زین العابدینؑ ہیں" عبدالملک نے فوراً حکم دیا:"انہیں میرے پاس لاؤ"
امام زین العابدینؑ کو اس کے پاس لایا گیا عبدالملک نے کہا: "اے علی بن الحسین میں تو تمہارے والد کا قاتل نہیں ہوں ، پھر تم میرے پاس کیوں نہیں آتے" امامؑ نے نہایت وقار اور جلال کے ساتھ فرمایا: "میرے والد کے قاتل نے ان کی دنیا تو چھین لی ، لیکن میرے والد نے اپنے صبر ، استقامت اور راہِ اللہ میں شہادت کے ذریعے اس کی آخرت تباہ کر دی اگر تم بھی اسی انجام کو پسند کرتے ہو تو یہی راستہ اختیار کر لو" امامؑ کے اس دوٹوک جواب نے عبدالملک کو خاموش کر دیا اس نے لہجہ بدلتے ہوئے کہا: "نہیں ، میرا وہ مقصد نہیں میری خواہش صرف یہ ہے کہ آپ ہمارے پاس آیا کریں تا کہ ہماری دنیا کی نعمتوں سے بھی کچھ فائدہ اٹھائیں" یہ سن کر امام زین العابدینؑ خاموشی سے بیٹھ گئے ، اپنی ردا زمین پر بچھائی ، پھر بارگاہِ الٰہی میں نہایت خضوع سے دعا کی: "اے میرے پروردگار اپنے اولیاء کی وہ عزت و حرمت اس شخص کو دکھا دے جو تو نے اپنے ہاں ان کے لیے مقرر کر رکھی ہے" دعا ختم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز منظر ظاہر ہوا دیکھتے ہی دیکھتے امامؑ کی بچھائی ہوئی ردا درخشاں ، قیمتی اور بے مثال موتیوں سے بھر گئی ان موتیوں کی چمک ایسی تھی کہ ان کی شعاعیں نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھیں عبدالملک اور اس کے درباری یہ منظر دیکھ کر حیرت و سراسیمگی میں گم ہو گئے امام زین العابدینؑ نے عبدالملک کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: "جس بندے کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی عزت و منزلت ہو ، وہ تیری دنیا اور اس کی دولت کا محتاج کیسے ہو سکتا ہے" پھر امامؑ نے دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا:"اے میرے رب ان موتیوں کو واپس لے لے ، مجھے ان کی کوئی حاجت نہیں" چنانچہ وہ تمام موتی اسی طرح غائب ہو گئے جیسے ظاہر ہوئے تھے اس طرح امامؑ نے نہ صرف اپنی بے نیازی کا عملی ثبوت پیش کیا بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ اللہ کے اولیاء دنیا کی دولت کے طلبگار نہیں ہوتے اگر وہ چاہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا کے خزانے عطا فرما سکتا ہے ، لیکن ان کی نگاہ ہمیشہ رضائے الٰہی اور آخرت کی نعمتوں پر ہوتی ہے ، نہ کہ دنیا کی فانی چمک دمک پر اولیائے الٰہی کی حقیقی عزت و عظمت اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتی ہے ، نہ کہ دنیاوی حکومتوں اور تخت و تاج سے اہلِ بیتؑ دنیا کے خزانوں پر قدرت رکھنے کے باوجود زہد ، قناعت اور بے نیازی کو اختیار کرتے ہیں دنیا کی دولت ان کے لیے مقصد نہیں بلکہ اگر ظاہر بھی ہوتی ہے تو صرف اللہ کی قدرت اور اپنے مقامِ ولایت کو نمایاں کرنے کے لیے حوالہ علامہ محمد باقر مجلسی ، بحار الأنوار ، جلد 46 ، صفحہ 120 (بحوالہ: الخرائج والجرائح)

جو لوگ حصْرت محمد مصطفٰےؐ سے صرف اپنے  خونی رشتے و نسبت پر اترا کر دوسروں کو نیچ اور غیر نبیؐ اللہ سمجھتے ہیں ان کا یہ ع...
16/07/2026

جو لوگ حصْرت محمد مصطفٰےؐ سے صرف اپنے خونی رشتے و نسبت پر اترا کر دوسروں کو نیچ اور غیر نبیؐ اللہ سمجھتے ہیں ان کا یہ عمل اس حقیقت کی واصْع دلیل اور گواہی دیتا ہے کہ وہ فقر محمدیؐ کی شان و راز اور مولا علیؑ کی ولایت و امامت کے راز اور اس کے فیصْ سے نا واقف و محروم ہیں (القرآن) (وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین) اور ہم نے آپؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے (حدیث مبارکہ) ( خلقت سدات من صلبی و خلقت العلما من صدر و خلقت الفقرا من نور اللہ تعالٰی ترجمہ سدات کو میری صلب سے پیدا کیا گیا ہے اور علما کو میرے سینے سے پیدا کیا گیا ہے اور فقرا کو اللہ تعالٰی کے نور سے پیدا کیا گیا ہے.

رسول اللّٰهﷺ نے فرمایا: “جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللّٰه عن...
15/07/2026

رسول اللّٰهﷺ نے فرمایا: “جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللّٰه عنہ کو دیکھ لے” حوالہ: السلسلة الصحيحة ، حدیث نمبر: ۴۰۰۳ اس حدیث میں رسول اللّٰهﷺ نے حضرت حسین بن علی رضی اللّٰه عنہ کی عظیم فضیلت اور جنت میں ان کے بلند مقام کو بیان فرمایا ہے ، یعنی جو شخص دنیا میں اہلِ جنت میں سے کسی فرد کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو اسے حضرت حسین بن علی رضی اللّٰه عنہ کو دیکھنا چاہیے ، کیونکہ وہ رسول اللّٰهﷺ کے محبوب نواسے ، اہلِ بیت کے عظیم فرد اور جنتی لوگوں میں سے ہیں ، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو حضرت حسین رضی اللّٰه عنہ اور تمام اہلِ بیت سے محبت ، عقیدت اور احترام کا تعلق رکھنا چاہیے ، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص حضرت حسین رضی اللّٰه عنہ کی سیرت ، صبر ، بہادری ، حق پسندی اور دین کے لیے دی گئی قربانی کا مطالعہ کرے اور ان کی اچھی صفات کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرے تو یہ اہلِ بیت سے سچی محبت کی علامت ہوگی ، یہ حدیث ہمیں حضرت حسین بن علی رضی اللّٰه عنہ کے بلند مرتبے اور فضیلت کا یقین دلاتی ہے اور یہ تعلیم دیتی ہے کہ اہلِ بیت سے محبت ایمان ، ادب اور رسول اللّٰهﷺ سے محبت کا اہم تقاضا ہے.

Adress

Storagatan 21
Sigtuna
19335

Telefon

+46708538074

Webbplats

Aviseringar

Var den första att veta och låt oss skicka ett mail när We love ALLAH postar nyheter och kampanjer. Din e-postadress kommer inte att användas för något annat ändamål, och du kan när som helst avbryta prenumerationen.

Kontakta Organisationen

Skicka ett meddelande till We love ALLAH:

Dela