01/08/2026
#پاکستان میں لیتھیم بیٹریوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ مستقبل میں پرانی بیٹریوں کا محفوظ انتظام ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اگر ری سائیکلنگ کا مؤثر نظام نہ بنایا گیا تو ماحولیاتی آلودگی، آگ لگنے کے خطرات اور قیمتی دھاتوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔ تاہم بروقت ری سائیکلنگ انڈسٹری قائم کرکے اس چیلنج کو معاشی موقع میں بدلا جا سکتا ہے:
لیتھیم بیٹری کی ری سائیکلنگ ایک خاص صنعتی عمل ہے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے:
بیٹری کو محفوظ طریقے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے تاکہ آگ لگنے کا خطرہ نہ رہے۔
بیٹری کو کھول کر پلاسٹک، ایلومینیم، کاپر اور دیگر حصے الگ کیے جاتے ہیں۔
شریڈنگ (Shredding) کے ذریعے بیٹری کو چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس سے ایک کالا پاؤڈر بنتا ہے جسے Black Mass کہتے ہیں۔ اسی میں لیتھیم، نکل، کوبالٹ اور مینگنیز موجود ہوتے ہیں۔
کیمیائی عمل (Hydrometallurgy) یا حرارتی عمل (Pyrometallurgy) کے ذریعے یہ قیمتی دھاتیں الگ کی جاتی ہیں۔
نکالی گئی دھاتوں سے دوبارہ نئی لیتھیم بیٹریاں یا دیگر صنعتی مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔
لیکن یہ مکمل طور پر صنعتی عمل ھے۔ گھر پر اسطرح کے عمل سے خطرناک قسم کے ریکشن اور آگ لگنے کا اندیشہ ھو سکتا ھے۔