Islamic Values

Islamic Values Non-Sectarian

01/05/2026
01/05/2026
17/04/2026

ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﻣﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ ......... !!!!
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞؒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﮯ۔ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﯾﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺗﯽ ﺭﮨﮯ۔ ﮈﺍﮐﻮ ﺑﻮﻻ : ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ! ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺳﺐ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﮯ۔

ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﺞ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ۔ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻑ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﮩﺘﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ :
ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻮﺑﮧ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﮮ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﻠﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ ﺍﺱ ﺑﮯﺧﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﻥ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﮐﮯ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ !!!
ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ : ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﮭﺎ، ﺟﺲ ﻧﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﺐ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﮯ؛ ﺧﺪﺍ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺁﺧﺮ ﮐﮭﻮﻝ ﮈﺍﻟﮯ ...... !!!
ﺗﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﮮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ، ﮐﺘﻨﮯ ﮨﯽ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭ ﮨﻮ۔۔۔ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺑﻨﺪ ﻣﺖ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ۔
ﺟﺘﻨﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺯﻭﺭ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﺎﺭ ﻣﺖ ﻣﺎﻧﻨﺎ۔

ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮭﻼ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﻌﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮨﯽ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺱ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺰﺭ ﮨﻮ ﮔﺎ !!!

ﻗُﻞْ ﻳَﺎ ﻋِﺒَﺎﺩِﻱَ ﺍﻟَّﺬِﻳﻦَ ﺃَﺳْﺮَﻓُﻮﺍ ﻋَﻠَﻰٰ ﺃَﻧﻔُﺴِﻬِﻢْ ﻟَﺎ ﺗَﻘْﻨَﻄُﻮﺍ ﻣِﻦ ﺭَّﺣْﻤَﺔِ ﺍﻟﻠَّـﻪِ ۚ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّـﻪَ ﻳَﻐْﻔِﺮُ ﺍﻟﺬُّﻧُﻮﺏَ ﺟَﻤِﻴﻌًﺎ ۚ ﺇِﻧَّﻪُ ﻫُﻮَ ﺍﻟْﻐَﻔُﻮﺭُ ﺍﻟﺮَّﺣِﻴﻢُ ﴿٥٣﴾ ﻭَﺃَﻧِﻴﺒُﻮﺍ ﺇِﻟَﻰٰ ﺭَﺑِّﻜُﻢْ ﻭَﺃَﺳْﻠِﻤُﻮﺍ ﻟَﻪُ ﻣِﻦ ﻗَﺒْﻞِ ﺃَﻥ ﻳَﺄْﺗِﻴَﻜُﻢُ ﺍﻟْﻌَﺬَﺍﺏُ o
ﺍﮮ ﻧﺒﯽ ' ( ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﻏﻔﻮﺭ ﺭﺣﯿﻢ ﮨﮯ - ] ﺍﻟﺰﻣﺮ - ٥٣ [
ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ۔۔۔ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺸﺖ ﻣﺖ ﮐﺮنا

06/03/2026

اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کی نگرانی کا احساس رکھو، کیونکہ اللہ کا تقویٰ ہی خیر کا سبب اور شر سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں سے ملنے والا اجر ان کے لیے کہیں بہتر ہوتا، کاش وہ جانتے۔”

اے اللہ کے بندو! کتنے ہی ایسے الفاظ ہیں جو انسان کی زبان سے نکلتے ہیں اور وہی اس کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں، اور کتنی ہی افواہیں ایسی ہوتی ہیں جو لوگوں کی تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“انسان ایک ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں ستر سال تک گرتا چلا جاتا ہے۔”

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
تم بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھو گے جو فحاشی اور ظلم سے تو بچتے ہیں، لیکن ان کی زبان زندہ اور مردہ لوگوں کی عزتیں چیرتی رہتی ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

اے اللہ کے بندو! قلم بھی دو زبانوں میں سے ایک زبان ہے اور لکھنا ہاتھ کی زبان ہے، لہٰذا اپنے ہاتھ کو لکھنے سے اسی طرح بچاؤ جس طرح اپنی زبان کو بولنے سے بچاتے ہو، کیونکہ قیامت کے دن ہاتھ اور زبان دونوں انسان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“جس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔”

جس شخص کے اعمال اچھے ہوتے ہیں اس کی گفتگو بھی کم ہوتی ہے اور وہ صرف وہی بات کرتا ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“انسان جو بھی بات کہتا ہے اس کے پاس ایک نگہبان فرشتہ موجود ہوتا ہے جو اسے لکھ لیتا ہے۔”

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اے ابن آدم! تیرے لیے ایک نامہ اعمال کھول دیا گیا ہے اور دو معزز فرشتے مقرر کر دیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف۔ جو دائیں طرف ہے وہ تیری نیکیاں لکھتا ہے اور جو بائیں طرف ہے وہ تیرے گناہ لکھتا ہے۔

مومن سمجھدار اور ہوشیار ہوتا ہے۔ وہ شبہات میں نہیں آتا اور نہ ہی وہ اپنے فیصلے گمان اور اندازوں پر قائم کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بدگمانی سے منع فرمایا اور کہا:
“بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔”

افواہوں کی خرابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ دین میں فتنے کا سبب بنتی ہیں۔ اسی کے ذریعے جھوٹی احادیث اور من گھڑت باتیں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ، تابعین اور سلف صالحین کی طرف منسوب کر دی جاتی ہیں۔

افواہیں پھیلانا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ ایک پرانا طریقہ ہے جسے منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی استعمال کیا۔ وہ ہر موقع سے فائدہ اٹھا کر اسلام اور نبی اسلام ﷺ پر اعتراضات اور شکوک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے تھے، جیسا کہ واقعۂ افک میں ہوا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔”

امام سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب صرف یہ خواہش رکھنا کہ بے حیائی پھیل جائے اتنی بڑی وعید کا سبب ہے، تو پھر وہ شخص کتنا بڑا گناہگار ہوگا جو اسے پھیلانے اور عام کرنے کی کوشش کرے۔

فتنوں کے زمانے میں پروپیگنڈا بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو بھڑکانے کی کوششیں تیز ہو جاتی ہیں، اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب افواہیں زیادہ پھیلتی ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے درمیان افواہیں پھیلانے والوں کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔

اور چونکہ بعض لوگ افواہوں کو فوراً سچ سمجھ کر آگے پھیلا دیتے ہیں، اس لیے قرآن نے انہیں اس سے منع کیا اور سچی اور درست بات کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کیا کرو۔”

افواہوں سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دل کو شبہات اور خواہشات سے محفوظ رکھا جائے اور کانوں کو افواہیں سننے سے بچایا جائے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے:
“اور تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ان کی باتیں سنتے ہیں۔”

مفسرین کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ ان کی باتیں سن کر ان پر یقین کر لیتے ہیں۔

افواہ کو بغیر تحقیق کے آگے پھیلانا گناہ اور جھوٹ میں شریک ہونے کے برابر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔”

افواہوں کو روکنے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن رکھا جائے اور اصل یہ سمجھا جائے کہ وہ بے قصور ہے۔ بغیر دلیل کے اس پر الزام لگانا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر بغیر کسی جرم کے تہمت لگاتے ہیں، وہ بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔”

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس شخص کے بارے میں بدگمانی سے بچو جس کا ظاہر اچھا ہو، کیونکہ انسان کبھی کبھی کسی وہم کی بنیاد پر بدگمانی کر لیتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔

ندامت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی خبر کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔”

افواہوں کی ایک اور خرابی یہ ہے کہ وہ غیبت کا سبب بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم تو اس سے نفرت کرتے ہو۔”

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جس طرح تم طبعاً اس چیز سے نفرت کرتے ہو اسی طرح شریعت میں بھی اس سے بچو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں پر حملہ کرتے تھے۔”

افواہوں کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دلوں کو خراب کرتی ہیں، لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرتی ہیں، گھروں کو تباہ کرتی ہیں اور مسلمانوں کے درمیان محبت کو ختم کر دیتی ہیں۔ لہٰذا مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے، خبروں کی تحقیق کرے اور لوگوں کے درمیان سچائی اور بھلائی کو پھیلائے۔

05/03/2026

اسلامی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ جس میں اُمت کو اپنے آپسی اختلاف بھُلا کر آپس میں جڑے رہنے کا سبق ملتا ہے۔

اسلامی تاریخ میں یہ واقعہ ملتا ہے کہ جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان فتنۂ صفین کے دور میں داخلی کشمکش جاری تھی تو رومی بادشاہ نے یہ گمان کیا کہ مسلمان آپس میں الجھے ہوئے ہیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حملہ کیا جا سکتا ہے، مگر اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اسے دو ٹوک پیغام دیا گیا کہ اگر تُو نے مسلمانوں کی سرزمین کی طرف قدم بڑھایا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور میں اپنے تمام اختلافات ایک طرف رکھ کر ایک صف میں کھڑے ہو جائیں گے اور پھر تجھے ایسی شکست دی جائے گی کہ تیرا نام و نشان باقی نہیں رہے گا؛ چنانچہ اس واضح اعلان نے رومیوں کو یہ پیغام دے دیا کہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات اپنی جگہ، مگر خارجی دشمن کے مقابلے میں امت ایک جسم کی مانند متحد ہے، اور یہی پیغام سن کر رومی بادشاہ نے حملے کا ارادہ ترک کر دیا

آج اُمت کو ایسے ہی لیڈروں کی ضرورت ہے۔

19/12/2025

� قرآن سے آج کا پیغام – ہمارے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ

اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ آیت 47 میں بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:

يا بني إسرائيل اذكروا نعمتي التي أنعمت عليكم وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى العالمين ۔

“اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر کیں اور یہ کہ میں نے تمہیں (اپنے زمانے کے) تمام لوگوں پر فضیلت دی تھی۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنی بے شمار نعمتیں یاد دلاتا ہے: فرعون کی غلامی سے نجات، انبیاء کی بعثت، آسمانی ہدایات، من و سلویٰ، اور صحراء میں بادلوں کا سایہ۔ ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا کہ انہیں جو فضیلت ملی تھی وہ مطلق اور دائمی نہیں تھی بلکہ اطاعت اور شکر کے ساتھ مشروط تھی۔

جب انہوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانی کی، دین کو ٹکڑوں میں بانٹا اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا، تو وہ فضیلت ان سے لے کر امتِ مسلمہ کو عطا کر دی گئی۔

❓ سوال یہ ہے کہ آج ہم مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟

اگر ہم دیانت داری سے جائزہ لیں تو ہمیں اپنی حالت میں بنی اسرائیل جیسی کئی علامات دکھائی دیتی ہیں:

• نعمتیں بے شمار ہیں مگر شکر کم ہے
• قرآن موجود ہے مگر زندگی سے دور
• عبادات ہیں مگر معاملات میں کوتاہی
• زبان پر دین، عمل میں دنیا
• ظلم، دھوکہ، سود، وعدہ خلافی عام ہوتی جا رہی ہے

قرآن ہمیں واضح اصول بتاتا ہے:
“اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے” (الرعد: 11)

یہی پیغام آج ہمارے لیے بھی ہے۔ عزت، قیادت اور اللہ کی مدد محض دعوؤں سے نہیں بلکہ اطاعت، عدل، امانت اور اخلاق سے ملتی ہے۔

🌱 امید کی بات یہ ہے کہ امتِ محمد ﷺ کے لیے توبہ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے۔ اگر ہم فرداً فرداً اپنی اصلاح شروع کریں، قرآن کو سمجھ کر اپنائیں، اور دین کو مکمل نظامِ حیات مان لیں تو اللہ کی رحمت آج بھی ہمارے شاملِ حال ہو سکتی ہے۔

🔹 یہ آیت ہمیں الزام دینے نہیں بلکہ اپنا محاسبہ کرنے
کی دعوت دیتی ہے۔
🔹 کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بنی اسرائیل کی تاریخ پڑھتے رہیں اور وہی غلطیاں خود دہراتے جائیں۔

اللہ ہمیں سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

31/10/2025

فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾٪
اردو:
سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا
تفسیر مکی:
١٥٢۔١ پس ان نعمتوں پر تم میرا ذکر کرو اور شکر کرو۔ کفران نعمت مت کرو۔ذکر کا مطلب ہر وقت اللہ کو یاد کرنا ہے، یعنی اُس کی تسبیح اور تکبیر بلند کرو اور شکر کا مطلب اللہ کی دی ہوئی قوتوں اور توانائیوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرنا ہے۔ خداداد قوتوں کو اللہ کی نافرمانی میں صرف کرنا، یہ اللہ کی ناشکر گزاری (کفران نعمت) ہے شکر کرنے پر مزید احسانات کی نوید اور ناشکری پر عذاب شدید کی وعید ہے۔ جیسے (لَئِنْ شَکَرْ تُمْ لَاَزَیْدَنَّکُمْ ْ وَلَئِنَ کَفَرْ تُمْ اِنَّ عذَابِیْ لَشَدِیْد) (ابراھیم۔٧)(152)

Address

Makkah

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Values posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share