Dil-chasp dunyawi maloomat

Dil-chasp dunyawi maloomat Islamic and interesting stories page

جنید حفیظ راجن پور میں پیدا ہوا اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں پری میڈیکل اسٹڈی...
27/05/2024

جنید حفیظ راجن پور میں پیدا ہوا اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں پری میڈیکل اسٹڈیز میں گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد لاہور، پاکستان کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کی۔ 2006 میں اس نے ملتان کی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں انگریزی ادب پر ​​توجہ مرکوز کرنے کے لیے میڈیکل کی تعلیم چھوڑ دی۔ 2009 میں، فلبرائٹ اسکالر کے طور پر اس نے جیکسن اسٹیٹ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے جیکسن، مسیسیپی کا سفر کیا جہاں اس نے امریکی ادب، فوٹو گرافی اور علاج معالجے میں مہارت حاصل کی۔
وہ 2011 میں گریجویٹ طالب علم اور انگلش ڈیپارٹمنٹ کے وزٹنگ لیکچرر کے طور پر BZU ملتان واپس آیا اور کالج آف ڈیزائن میں بھی پڑھاتا رہا۔
اپنی آمد کے فوراً بعد اسے اسلام پسند بنیاد پرست گروپ کی جانب سے شدید ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بے گناہ شخص ہے جو توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں 2013 سے جیل میں بند ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی براہ راست نگرانی کے لیے ان کا ایک اور موزوں کیس ہے اور انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔
وہ عقلمند اور روشن دماغ ہے۔
10 سال سے قید تنہائی میں ہے
اس کے کیس کی سماعت کے دوران کئی ججوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
اس کے وکیل کو ان کے چیمبر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
ایک روشن دماغ جس کے پاس نہ کوئی وکیل موجود ہے اور نہ ہی کوئی جج اس کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔ آخری سماعت 29 مئی 2023 کو ہوئی تھی۔ ایک سال بغیر کسی سماعت کے گزر گیا۔
اسی طرح ایک دن ایک حساس شخص جیل میں مر جائے گا۔

سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نےمیڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں انکا داخلہ ہوا تھا۔  بلوچستان کے ضلع قلات سے...
26/05/2024

سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نےمیڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں انکا داخلہ ہوا تھا۔

بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر محمد اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی تعلیم کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج سے حاصل کی مگر اُنھوں نے اسی کالج کی عمارتوں کی تعمیر میں بطور مزدور کام بھی کیا اور بعد میں اس سے منسلک ہسپتال میں سرجن بھی رہے۔

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کی زندگی کی کہانی ہم نے ان کے کلینک میں نہیں سنی بلکہ ان کے ساتھ ان تمام جگہوں پر گئے جہاں اُنھوں نے تعلیم کے حصول کے دوران مزدورکی حیثیت سے کام کیا۔

بولان میڈیکل کالج کی پرانی عمارت جو کہ اب مکمل طور پر کالج کے ہاسٹل میں تبدیل ہو گئی ہے، کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ڈاکٹر اعظم ہاسٹل کے کمرہ نمبر 16 کے سامنے دیر تک کھڑے رہے جہاں کالج میں داخلے سے لے کر فارغ التحصیل ہونے تک وہ مقیم رہے۔

ان کے موبائل فون میں یہاں مزدوری کرنے کی ایک یادگار تصویر بھی محفوظ ہے، جس میں ان کے ہاتھ میں بیلچہ ہے۔

نئے بولان میڈیکل کالج، اس کے ہاسٹلز اور بولان میڈیل کمپلیکس ہسپتال کی عمارت، جہاں وہ مزدوری کرتے رہے، میں ہمیں لے جانے کے بعد وہ ہمیں اس مقام پر لے گئے جہاں ان کے ایک دوست نے ایک دن مزدوری کرتے ہوئے ان کی تصویر لی تھی۔

یہ عجیب حسن اتفاق تھا کہ جب وہ اس جگہ پر ہمیں لے کر گئے تو وہاں پر ایک عمر رسیدہ شخص اورایک نوجوان مزدوری میں لگے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر اعظم نے اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے عمر رسیدہ مزدور کے ہاتھ سے بیلچہ لے کر ریڑھی میں مٹی بھی بھری۔



’میں اپنے والد پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹروں سے بہت زیادہ متاثر تھے اور ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔

’قلات سے مجھے میڈیکل کی سیٹ مل گئی لیکن میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات کے حوالے سے میں اپنے والد پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا جو محکمہ ریلویز میں ملازم تھے۔ میں نے سوچا کہ کوئی پارٹ ٹائم کام شروع کروں تاکہ کالج اور ہاسٹل کی فیس اور دیگر اخراجات پورے کرسکوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس وقت کالج کے ساتھ نئے بولان میڈیکل کالج اور بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کی عمارتوں پر کام جاری تھا اور یہ ہاسٹل سے صرف چند قدم کے فاصلے پر تھے، اس لیے اُنھوں نے وہاں محنت مزدوری کے لیے ذہن بنایا۔

’میں وہاں ٹھیکیدار کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ اُنھیں ایک شفٹ میں کام دیا جائے تو اُنھوں نے مجھے میری خواہش کے مطابق کہا کہ آپ شام کی شفٹ میں آ جائیں۔ اس طرح میں نے وہاں ایک مزدور کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ’میرے والد نے کافی منع کیا کہ آپ کام نہیں کریں بلکہ پڑھیں لیکن میں نے اپنے ابو کو منع کیا اور کہا کہ میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت کروں گا۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ وہ دن کو کالج میں پڑھتے اور پھر شام کو زیر تعمیر عمارت جاتے جہاں ان کا روپ مزدور کا ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح رات گئے تک محنت مزدوری کرنے کے بعد تھوڑا بہت آرام کرتے اور اس کے بعد پھر کلاس اور لائبریری میں ہوتے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس وقت ان کی دیہاڑی 30 روپے ہوتی تھی اور اس طرح تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اچھی خاصی رقم بنتی تھی۔

مزدوری کے دوران بھی کتابیں ساتھ ہوتی تھیں‘

اُنھوں نے بتایا کہ ’چونکہ مزدوری میری مجبوری تھی اور میرا اچھا خاصا وقت مزدوری پر صرف ہوتا تھا اس لیے میری کوشش ہوتی تھی کہ مزدوری کے دوران بھی کچھ پڑھا کروں، اس لیے اپنی کتابیں بھی ساتھ لے جاتا تھا۔‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے کہا کہ ’ایک دن میں ریت اور سیمنٹ کے مکسچر سے بھری ریڑھی جب عمارت میں اوپر لے جا رہا تھا تو ریڑھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔

’بدقسمتی سے اس وقت ٹھیکیدار بھی وہاں موجود تھا۔ ٹھیکیدار ریڑھی کو گرتے اور سیمنٹ کو ضائع ہوتے دیکھ کر غصے میں آ گیا۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ’ٹھیکیدار نے مجھے کہا کہ آپ کو تو کام کرنا نہیں آتا، اس لیے آپ کام چھوڑ کر چلے جائیں۔ میں نے ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ دوبارہ ایسا نہیں ہو گا لیکن اُنھوں نے مجھے نکال دیا۔‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کے مطابق اُنھوں نے ٹھیکیدار سے کہا کہ اگر مزید کام کرنے نہیں دیتے تو بے شک مت کرنے دیں لیکن کم از کم اس روز کی دیہاڑی تو پوری ہونے دیں لیکن وہ سیمنٹ کے ضائع ہونے پر اتنا ناراض تھا کہ مجھے دیہاڑی پوری نہیں کرنے دی بلکہ آدھی مزدوری یعنی 15 روپے دے کر فارغ کیا۔‘

ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ بعد میں اُنھیں ریڈیو پاکستان پر خبریں پڑھنے کا موقع ملا اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی والوں نے بھی انھیں خبروں کا ترجمہ کرنے اور پڑھنے کے لیے بلا لیا، جس سے ان کے اخراجات پورے ہوتے رہے۔



جب ٹھیکیدار مریض بن کر سرجن اعظم بنگلزئی کے پاس آیا

سرجن اعظم بنگلزئی نے کہا کہ جنرل سرجری میں ایم ایس کرنے کے بعد سرجن کی حیثیت سے اُن کی تقرری بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں ہوئی۔

ایک دن میری او پی ڈی میں ڈیوٹی تھی تو میں نے دیکھا وہی ٹھیکیدار اپنے بیٹے کے ساتھ ایک پرچی لے کر میرے پاس آیا۔

’ٹھیکیدار بوڑھا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پہچان لیا لیکن وہ مجھے نہیں پہچانتا تھا۔ میں نے اس کا نام لیا اور اسے اپنے پاس بلایا تو وہ حیران ہوا کہ یہ شخص کس طرح مجھے جانتا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ جب ٹھیکیدار اُن کے پاس آیا تو اُنھوں نے اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا، جس پر ٹھیکیدار نے ان سے پوچھا کہ وہ اُنھیں کس طرح جانتے ہیں۔

اعظم بنگلزئی نے بتایا کہ ٹھیکیدار کو وہ بہت زیادہ تو یاد نہیں تھے لیکن جب اُنھوں نے کئی باتیں یاد کروائیں تو وہ کام سے نکالنے کی بات پر رو پڑے اور کہا کہ ’میں نے آپ کو کام سے نکال کر ظلم کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ٹھیکیدار کو بتایا کہ آپ نے کوئی ظلم نہیں کیا کیونکہ ویسے بھی وہ میری منزل نہیں تھی بلکہ میری منزل یہ تھی جہاں آج میں پہنچا ہوں۔‘

والدہ کا آخری دیدار نہیں کر سکا‘

ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ جب وہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں پوسٹ گریجویشن کر رہے تھے تو ایک رات اُنھیں ایک خاتون کا آپریشن کرنا پڑا۔

’یہ عجیب اتفاق تھا کہ جس وقت میں وہ آپریشن کر رہا تھا تو مجھے کوئٹہ سے فون آیا اور بتایا گیا کہ کوئٹہ میں آپ کی والدہ کو ایمرجنسی میں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

’دوسرا عجیب اتفاق یہ تھا کہ جس خاتون کی میں آپریشن کررہا تھا وہ معدے کے زخم کی مریضہ تھی جبکہ میری والدہ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھی۔ جب میں آپریشن کرنے کے بعد نکلا اور والدہ کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا گئی ہیں۔‘

’اگرچہ میں فرض کی بجا آوری کے باعث اپنی والدہ کا آخری دیدار نہیں کرسکا لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس دوران میں نے ایک خاتون کی زندگی بچائی۔‘

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ نئے بولان میڈیکل کالج، اس کے ہاسٹل اور بولان میڈیکل کمپلیکس کی عمارتوں کے سامنے سے گزرتے ہیں، تو فخر محسوس کرتے ہیں۔

’مجھے یہاں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ان عمارتوں میں میری محنت اور پسینے کی خوشبو ہے۔‘

( یہ معلومات بی،بی،سی،اردو سے احذ کی گئی ہے۔)
_________________
(ڈاکٹر عرفان)

آج کا دن شق القمر کا واقعہ  اور ہندو راجہ قسط نمبرا مئی 617 ء کی چھ تاریخ تھی اوائل شب کا خوشگوار وقت تھا جنوبی ہندوستاں...
24/05/2024

آج کا دن
شق القمر کا واقعہ
اور ہندو راجہ
قسط نمبرا
مئی 617 ء کی چھ تاریخ تھی اوائل شب کا خوشگوار وقت تھا
جنوبی ہندوستاں کی ریاست مالابار (کیرالہ) کا ہندو راجہ چکراوتی فرماس چند خاص مشیروں اور ملکہ کے ساتھ اپنی راجدھانی کنڈولنگر میں واقع شاہی محل کی چھت پر کھڑا تھا
چیرا خاندان سے تعلق رکھنے والے اس راجہ کا لقب چرا من پیرو مل تھا اور وہ جنوبی ہند کا سب سے طاقتور حکمران تھا اس کی ریاست سارے جنوبی ہندوستان میں سیلون
(سری لنکا) سے سندھ تک کےپھیلی ہوئی تھی

چودھویں کا چاند اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا
صاف و شفاف آسمان پر لاکھوں ستارے جگنوؤں کی ٹمٹما رہے تھے
کہ اچانک اس کی نگاہ چاند پر پڑی
چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا پھر دونوں ٹکڑے ایک دوسرے سے دور ہونے لگے
اس نے اپنی ملکہ اور وزیروں کو اس طرف متوجہ کیا
سب حیران نگاہوں سے یہ ناقابل یقین منظر دیکھنے لگے
پھر ان کے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ٹکڑے ایک بار پھر جڑ گئے جیسے کبھی علیحدہ ہوئے ہی نہ تھے
راجہ بے چین ہوگیا اس نے فوراً ریاست کے سارے نجومیوں اور ماہرین فلکیات کو حاضر ہونے کا حکم دیا ان میں سے کئی لوگوں نے بھی شق القمر کا یہ واقعہ دیکھا تھا
راجہ کے استفسار پر انہوں نے اسے بتایا کہ عرب کی سرزمین پر اس آخری نبی ﷺ کا ظہور ہو چکا ہے جس کا ذکر ہندوؤں کی ساری کتب میں کالکی اوتار کے نام سے موجود ہے اور یہ معجزہ اسی کے ہاتھوں سر زد ہوا ہے
راجہ یہ سن کر بے تاب ہوگیا اسکی بھوک پیاس غائب ہوگئی راتوں کی نیند اڑ گئی اس نے محل میں ہونے والی پوجا پاٹ میں شرکت بند کردی
اور حکم دیا کہ سرزمین عرب کے کسی شخص کو تلاش کرکے اس کی خدمت میں پیش کیا جائے
اتفاق سے کچھ عرصے کے بعد سر زمین عرب کے تاجروں کا ایک بحری جہاز وہاں لنگر انداز ہوا اس میں چند مسلمان تاجر بھی موجود تھے جن کی سربراہی ایک ایرانی النسل صحابی حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ کر رہے تھے
تاجروں کا یہ وفد راجہ پیرو مل کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیلون جانے کی اجازت طلب کی
راجہ نے ان سے حضور اکرم صلعم ﷺ اور شق القمر کے بارے میں پوچھا جس پر حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے اسے تفصیل سے آگاہ کیا
راجہ نے انہیں اس شرط پر سیلون جانے کی اجازت دے دی کہ واپسی پر وہ اس سے مل کر جائیں گے
اور یوں سیلون سے واپسی پر جب یہ تاجر دوبارہ راجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس دوران راجہ اپنی سلطنت کی باگ دوڑ اپنے بیٹے کے حوالے کر چکا تھا اور حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رسول اکرم صلعم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلعم ﷺ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوا اس کا اسلامی نام تاج الدین رکھا گیا
یہ واقعہ حدیث کی تقربیاً سب ہی کتابوں میں موجود ہے
کچھ عرصہ آپ ﷺ کی خدمت میں رہنے کے بعد وہ چند صحابہ کے ساتھ جن میں حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے واپس کیرالہ روانہ ہوا
راستے میں یمن کی بندرگاہ الظفر میں بیمار ہونے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملا
عمان کے شہر صلالہ میں اس صحابی رسول ﷺ کی قبر آج بھی موجود ہے اور روز ہزاروں لوگ نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے وہاں حاضر ہوتے ہیں
صلالہ وہ خوش نصیب شہر ہے جسےچار پیغمبروں کی مستقل میزبانی کا بھی شرف حاصل ہے
حضرت ہود علیہ اسلام
حضرت ایوب علیہ السلام
حضرت عمران علیہ اسلام
حضرت صالح علیہ السلام
مرنے سے پہلے راجہ نے اپنے بیٹوں اور بھانجے کے نام خطوط لکھے تاکہ
حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ کو کوئی دقّت نہ ہو
چنانچہ انہوں نے رسول اکرم صلعم ﷺ اور راجہ کی ہدایت پر اپنا سفر جاری رکھا اور کیرالہ پہنچ کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت شروع کردی
آپ کی تعلیمات کا اثر تھا کہ راجہ کا بھا نجااور بیٹا بھی مسلمان ہوگئے
آپ نے 629ء میں ہندوستان کی پہلی مسجد کیرالہ کے شہر متھالہ کڈولنگر میں قائم کی
یہ مسجد آج بھی موجود ہے
پرتگیزوں نے 1504ء میں کڈولنگر پر قبضہ کرنے کے بعد اس مسجد کو تباہ کر دیا تھا
لیکن 1506ء میں اسے دربارہ تعمیر کیا گیا
1984ء میں اس مسجد کی ازسرنو تعمیر ہوئی
ایک روایت کے مطابق حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جنوبی ہندوستان میں بارہ مساجد قائم کیں جن میں سے چار آج بھی موجود ہیں

حضرت مالک بن دینار رَضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے اپنی بقیہ زندگی کیرالہ میں گزار دی اور وہیں فوت ہوئے
انہوں نے بہت لمبی عمر پائی
آپ کا مقبرہ کیرالہ کے شہر کساراگاڈ تھلنگرہ میں مسجد مالک دینار کے احاطہ میں ہے
اور آج بھی اسلام کی کبریائی اور صداقت کی علامت کے طور موجود ہے
(جاری ہے )
از تحریر
ڈاکڑ تصور اسلم بھٹہ

(نیز اس بلاگ کا زیادہ تر مواد
Dr M G S Narayan
کی کتاب
Kerala through the Ages
سے ماخوذ ہے

بچپن میں انگلستان کا ذکر کتابوں میں کچھ ایسا ہوتا تھا
09/01/2024

بچپن میں انگلستان کا ذکر کتابوں میں کچھ ایسا ہوتا تھا

ایک سویڈش شہری کام سے نکلنے کے فوراً بعد گھر واپس آنے کے لیے ٹرین کا انتظار کر رہی ھے۔ اس نے اپنے ڈنر کے لیے ایک برگر خر...
06/01/2024

ایک سویڈش شہری کام سے نکلنے کے فوراً بعد گھر واپس آنے کے لیے ٹرین کا انتظار کر رہی ھے۔ اس نے اپنے ڈنر کے لیے ایک برگر خریدا ھوا ھے۔ اس شہری کا نام ایلوا جوہانسن ھے اور یہ سویڈن کی وزیر لیبر ھے۔ اس کے پاس کاروں کا کوئی قافلہ نہیں ھے، اس کے پاس محافظوں کی کوئی لائن نہیں ھے۔ اس کے پاس مددگار بھی نہیں ہیں۔ سویڈن ایک امیر، ترقی یافتہ ملک ھے، لیکن وہ عوامی فنڈز کے استعمال میں بہت محتاط ہیں! ترقی پذیر ممالک اس خاتون سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کا استعمال سیکھ سکتے ہیں۔۔۔

یہ 1972 کے آس پاس کی شعبہ انگریزی کراچی یونیورسٹی کی طالبات ہیں. ان میں سے ایک کو آپ ضرور جانتے ہوں گے... پہچانیں .
28/12/2023

یہ 1972 کے آس پاس کی شعبہ انگریزی کراچی یونیورسٹی کی طالبات ہیں. ان میں سے ایک کو آپ ضرور جانتے ہوں گے... پہچانیں .

27/12/2023

میں ابھی 15 سال کا تھا جب ابا زبردستی مجھے اپنے کسی دوست کے جنازے میں شامل ہونے کے لیے ساتھ لے گئے. جس کو میں جانتا تک نہیں تھا.
جب ہم وہاں پہنچے تو میں ایک کونا لیے میت کو دفنانے کے لیے قبرستان لے جانے کے وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا،
خوب زندگی جیو بیٹے، ہمیشہ خوش رہو کیونکہ وقت بدل جاتا ہے، مجھے دیکھو میں اب تمہاری طرح زندگی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا. وہ جو اپنے ہاتھ سے میرا سر سہلا رہا تھا ہاتھ ہٹایا اور چلا گیا.
جنازہ نماز کے بعد جب میت کا آخری دیدار کرایا جا رہا تھا تو ابا نے زور دیا کے میت کا آخری دیدار کر کے اسے الوداع کرو اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کرو.
کفن میں لپٹی میت کو دیکھ کر میں چونک گیا. وہ شخص جو میرا سر سہلاتے ہوئے مجھے دعاؤں سے نواز رہا تھا، مجھے زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کی تجویز دے رہا تھا، وہی کفن میں لپٹا پڑا تھا!
اگلے کچھ سالوں تک، میں ڈراونے خواب اور ذہنی کیفیت درست نہ ہونے کی باعث ٹھیک سے سو نہیں پایا. میں تنہائی سے خوفزدہ رہنے لگا اور رات کے وقت بتیاں جلائے رکھتا تھا، میں نے گھر سے باہر نکلنا، دوستوں کے ساتھ کھیلنا گھومنا پھرنا سب چھوڑ چکا تھا. کتنے ہی ماہرِ نفسیات سے بھی ملا. پر کوئی فائدہ نہ ہوا.
کئی سال بعد میں نے ایک ناقابلِ یقین راز دریافت کیا جس نے میری زندگی بدل دی.
مجھے دعائیں دینے اور زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کی تجویز دینے والا اس مرے ہوئے شخص کا جڑوا بھائی تھا.😕

سیلف میڈ جناح کی کہانی! محمد علی جناح کی کہانی ایک حقیقی سیلف میڈ شخص کی داستان ہے۔ کراچی کے وزیر مینشن میں سترہ افراد ک...
25/12/2023

سیلف میڈ جناح کی کہانی!

محمد علی جناح کی کہانی ایک حقیقی سیلف میڈ شخص کی داستان ہے۔ کراچی کے وزیر مینشن میں سترہ افراد کے ساتھ بسنے والے جناح، جن کا بچپن تین مرلے کے مکان میں گزرا، نے اپنی قابلیت کے دم پر بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ اُن کی کہانی، ایک سیلف میڈ شخص کی کہانی ہے۔

ایک وقت تھا جب جناح کے والد پونجا جناح پر چوّن روپے کا قرض تھا۔ جناح نے دوستوں سے ادھار لے کر وہ قرض چکایا۔ انگلستان بھی قرض لے کر پہنچے. پھر وہ دور آیا جب بمبئی میں جناح کی وکالت نے شہرت پائی اور وہ ایک مقبول وکیل بن گئے۔ انہوں نے بمبئی میں مالا بار ہلز کے علاقے میں ایک بنگلہ خریدا اور وہاں قیام پاکستان تک رہے۔ اُن کی وصیت میں یہ بنگلہ اُن کی بہن فاطمہ جناح کے نام کر دیا گیا۔

1930 کی دہائی میں جناح لندن کے مہنگے ترین علاقے ہیمپسٹیڈ میں ایک وسیع و عریض بنگلے میں رہتے تھے جہاں ان کی خدمت کے لیے برطانوی سٹاف موجود رہتا تھا. ان کی بینٹلے گاڑی ایک برطانوی شوفر چلاتا تھا. انڈین اور آئرش خانساماں رکھے ہوئے تھے. بلیئرڈ کھیلنا پسند تھا.

قائداعظم نے لندن میں مے فئیر علاقے میں سات فلیٹ خریدے، جنہیں انہوں نے کرائے پر دیا اور بعد میں بیچ دیا۔ انہوں نے کراچی اور لاہور میں بھی جائیدادیں خریدیں۔ جناح نے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری بھی کی اور مختلف کمپنیوں کے شیئرز خریدے، جس سے انہیں بھاری آمدن ہوتی تھی۔

جناح کو سگار کا بہت شوق تھا، لیکن ان کے پسندیدہ برانڈز کے بارے میں مخصوص تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ عام طور پر، اس دور کے ممتاز شخصیات کیوبا اور ڈومینیکن ریپبلک کے سگار کو ترجیح دیتے تھے، جیسے کہ کوہیبا، مونٹیکرسٹو، اور ڈیوڈوف۔ بیماری کی حالت میں بھی کریون اے کے پچاس سگریٹ روز پیتے تھے.

جناح کی گاڑیوں کا انتخاب ان کے زوقِ کی نمایاں مثال ہے۔ ان کے پاس برطانیہ کی مشہور لگژری گاڑیاں جیسے کہ رولز روئس اور بینٹلے تھیں۔ یہ گاڑیاں نہ صرف ان کے معیارِ زندگی کی نمائندگی کرتی تھیں، بلکہ ان کی معیاری اور بہترین پسند کو بھی ظاہر کرتی تھیں۔

جناح کا لباس کا انتخاب ان کی شخصیت کے سنجیدہ اور باوقار پہلو کو ظاہر کرتا تھا۔ وہ عموماً سیاہ کوٹ، سفید شرٹ، اور ٹائی پہنتے تھے۔ ان کے سوٹ دنیا کے مشہور ترین سیویل رو کے مشہور درزیوں سے تیار کیے جاتے تھے، جو ان کے انتخاب کی باریک بینی اور شان کو ظاہر کرتے تھے۔ ان کے سوٹس کی فٹنگ، کپڑے کی کوالٹی، اور انداز انہیں ایک ممتاز وکیل اور سیاست دان کے طور پر پہچان دلوائی تھی۔ جناح کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کی وارڈروب میں 200 سے زیادہ سوٹ لٹکے ہوتے تھے اور انہوں نے کبھی بھی ایک ریشمی ٹائی دوسری دفعہ نہیں پہنی.

جناح صاحب کی شاندار اور روایتی فیشن سینس کی وجہ سے خواتین میں ان کی بڑی پذیرائی تھی۔ شملہ میں وائسرائے کے ڈنر پر ان سے ملاقات کے بعد، ایک برطانوی جنرل کی بیوی نے اپنی ماں کو انگلینڈ میں لکھا: "ڈنر کے بعد، میری بات چیت مسٹر جناح کے ساتھ تھی۔ ان کی شخصیت بہت متاثر کن ہے۔ وہ بہت خوبصورت انگریزی بولتے ہیں۔ وہ اپنے لباس اور اطوار سے مشہور اداکار ڈو ماریے کی طرح لگتے ہیں، جب کہ ان کی انگریزی برک کے خطبات سے کم نہیں ہے۔ میں ہمیشہ سے ان سے ملنا چاہتی تھی اور اب میری یہ خواہش پوری ہوئی۔"

ان کی 'خوبصورت انگریزی' کا سہرا ان کی نوجوانی کے دوران شیکسپیئر کی کتابیں پڑھنے اور اداکاری میں دلچسپی کو جاتا ہے۔ ان کی بہن اکثر ان کی شیکسپیئر پڑھنے کی محبت کو کراچی میں ان کی رہائش پر رات کے کھانے کے بعد خاندان کو سناتی تھیں۔ 1893 میں لندن میں طالب علمی کے دوران انہیں ایک تھیٹریکل کمپنی کے ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی تھی، لیکن انہوں نے اس میں شمولیت اختیار نہیں کی کیونکہ وہ ہمیشہ بیرسٹر بننے کی خواہش رکھتے تھے اور ان کا رجحان سیاست کی طرف تھا۔

ان کی دولت کا اگر آج کے حساب سے تخمینہ لگایا جائے تو وہ ارب پتی تھے۔ ایک ایسا ارب پتی جس نے اپنا سفر تقریباً مفلسی سے شروع کیا تھا۔ ان کی زندگی ہر پاکستانی کے لیے ایک مثال ہے۔ جب پاکستان بنا تو اس کا بانی ایک ایسا شخص تھا، جس نے اپنی زندگی خود تراشی. یہ الگ بات کہ بعد میں پاکستان میں کامیابی اور کامیاب لوگوں سے نفرت عام ہوگئی جو کہ ایک لگ کہانی ہے.

عارف انیس

(تحقیق، سعد خان /یاسر پیرزادہ/عارف انیس)

25/12/2023

معروف سندھی ادیب امر جلیل نے اسلام آباد میں ایک بنگالی باورچی رکھا۔ وہ مہمانوں کے سامنے کہتا " ذلیل صاحب چائے لاؤں؟"
ذلیل صاحب کچھ اور تو نہیں چاہیے؟

جلیل صاحب نے بارہا سمجھایا کہ میں جلیل ہوں، ذلیل نہیں لیکن باورچی وہی بلاتا

کسی اور بنگالی نے اس کا حل بتایا کہ چونکہ بنگالی "ج" کی اواز "ز" نکالتے ہیں اور "ز" کو "ج" پڑھتے ہیں اس لئے آپ اسے اپنا نام جلیل کی بجائے Zaleel لکھ کر دیں وہ درست Pronounce کرے گا

جب اسپیلنگ Z سے لکھ کر دی تو اب باورچی نام بلاتے وقت کچھ تھوڑا طنزیہ سا کہا کرتا،
"جلیل صاحب چائے لاؤں؟"

جلیل صاحب کہنے لگے "اب ڈبل مسئلہ ہوگیا ہے، پہلے وہ مجھے ذلیل کہتا تھا اور جلیل سمجھتا تھا لیکن اب وہ مجھے جلیل پکارتا ہے اور ذلیل سمجھتا ہے"

اگر تم جی جاؤ!’’اگر تم اسی لمحے مر جاؤ، پھڑک جاؤ، تمہارا دم نکل جائے تو تمہارے ساتھ کیا کچھ مر جائے گا؟‘‘ دنیا کے مشہور ...
23/12/2023

اگر تم جی جاؤ!

’’اگر تم اسی لمحے مر جاؤ، پھڑک جاؤ، تمہارا دم نکل جائے تو تمہارے ساتھ کیا کچھ مر جائے گا؟‘‘ دنیا کے مشہور ترین موٹیویشنل سپیکرز میں سے ایک ، سیاہ فام امریکی لیز براؤن نے چھید دینے والی آنکھوں سے اپنے ناظرین کو گھورا اور اپنے مخصوص لہجے میں گرجا ۔ ’’اگر تم ابھی مر جاؤ تو کیا کچھ اپنے ساتھ لے مرو گے؟ ; کتنے خواب؟ کتنے خیال؟ کتنے آئیڈیاز؟ کتنا کمال؟ یہ سب کچھ ایسے صندوق کی مانند تمہارے ساتھ قبر میں چلا جائے گا ۔ جو کبھی کھلا ہی نہیں ۔ اور اگر ایسا ہی ہے تو اب تک تم شاید جیون کی سطح پر خراشیں ڈال رہے ہو، اندر پہنچے ہی نہیں ہو‘‘ ۔

میں نے ایک لحظے کے لیے براؤن کے دہلا دینے والے سوال کو سوچا اور پھر خیال آیا کہ وہ صرف مجھ سے ہی نہیں وہاں بھرے ہال میں موجود پانچ سو افرادسے بھی مخاطب تھا ۔ وہ سب میری طرح اس کے پسلیوں میں گھونسا مارنے والے سوال کے سحر میں مبتلا تھے ۔ ’’اگر تم اس لمحے مر جاؤ تو کیا کچھ اپنے ساتھ لے مرو گے؟ ‘‘ ۔ ’’آئی رفیوز ٹو ڈائی این ان لوڈ لائف" ۔ میں مرنے سے انکار کرتا ہوں کہ ابھی تو میں نے جینا شروع بھی نہیں کیا ۔ ایک تیس سال کی آس پاس کی عمر کا سفیدفام نوجوان اٹھا اور لرزتے ہوئے لہجے چیخا ۔ اس کی دیکھا دیکھی اور لوگ بھی کھڑے ہو گئے ۔ اکثر کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ شاید یہ اپنی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا اثر تھا ۔

’’ میں بھی اربوں دوسرے انسانوں کی طرح دیر سے اٹھتی تھی، دیر تک بستر میں پڑے رہنے کی کوشش کرتی تھی ۔ ٹی وی دیکھتی تھی،سیاستدانوں کی مکاریاں اور چالبازیوں سے لطف اندوز ہوتی تھی ۔ ایک خاصا بڑا حصہ فیس بک پہ یا کسی دوسرے سوشل میڈیاپر دوستوں پر جملے کستی تھی ۔ اور وہ سارے کام جو مجھے آج کرنے ہوتے تھے، کل کے لیے رکھ لیتی تھی ۔ حتی کہ مجھے 22 سال کی عمر میں کینسر تشخیص ہو گیا اور مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس صرف آج ہے کل تو کبھی نہیں آئے گا‘‘.

رائل سوسائٹی آف آرٹس کے پرشکوہ ہال میں 25سالہ اولیویا نے مجھے بتایا تھا ۔ اس نے حال ہی میں "اگر 10سال سے پہلے میں مر جاؤں،" کے عنوان سے ایک نیٹ ورک قائم کیا تھاجس میں آنے والے لوگ اپنی زندگی کو موثر بنانے کے حوالے سے عہدوپیماں کرتے تھے ۔ وہ خواب جن کی تعبیر دیکھنا اور وہ وعدے جن کا ایفا ہونا ضروری تھا،اس سے پہلے کہ ان کا دم نکل جائے ۔ کیسے کیسے سورما،کیسے کیسے شہسوار،کہانی کار، گلوکار، مرد میدان اپنی زندگی کے بہترین جوہر کو کھوجے بغیر رخصت ہو جاتے ہیں ۔ اور بدلے میں ہمارے پاس جواز ہوتا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہر کر گذرنے والے کے پاس جواز ہوتا ہے اور وہ کر گذرتاہے ۔

حتیٰ کہ ایک اینٹ بھی کچھ بننا چاہتی ہے ۔ نوے کی دھائی کے اندر اس فلم میں ووڈی ہیریسن کا وہ جملہ ایک تیر کی طرح یاداشت میں پیوست ہو گیا ۔ ’’ایون اے برک وانٹس ٹو بی سم تھنگ‘‘ حتیٰ کہ ایک اینٹ بھی کچھ بننا چاہتی ہے ۔ اور وہ چاہتی ہے کہ اس کاوجود ٹھکانے لگ جائے ، اس کا ہونا کام آجائے ۔ وہ دیوار کعبہ، مسجدنبوی، کسی الحمرا، تاج محل، کسی درسگاہ کا حصہ بننا چاہتی ہے ۔ تاکہ وہ اپنے ہونے کو ثابت کر سکے ۔ حتیٰ کہ ایک اینٹ بھی کچھ بننا چاہتی ہے اور ہم تو پھر بھی انسان ہیں ۔

ہمیں کونسی دیوار اپنے خوابوں تک پہنچنے سے روکتی ہے؟ ۔ ہمارے عزائم اور ہماری حقیقت کے درمیان کیا حائل ہو جاتا ہے؟ دو چیزیں ایک ڈراور دوسرا اس اذیت سے چھٹکارہ جو ہمیں اپنے تن من پر وارد کرنی پڑتی ہے ۔ کبھی سوچا کہ خوف کیا کچھ کھا جاتا ہے؟ ساری امیدیں اور سارے خواب ۔ مانا کہ حالات خراب ہو ں گے،مانا کہ موسم ناسازگارہے، ہوا تند ہے، اور زندگی کہرے کی دیواروں میں لرزاں ہے، مانا کہ چراغ ہوا کے مقابل ہے مگر یاد رہے کہ کسی بھی حالت میں ڈرنا ایک چوائس ہے ۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کے نامی گرامی پیغمبر، سائنسدان،سلطنتوں کی بنیادیں کھڑی کرنے والے شہنشاہ،لیڈر، فلسفی، بدترین حالات میں کیسے پیدا ہوتے، بڑے ہوتے اور دنیا کو زیروزبر کر پاتے؟

’’میک اے ڈینٹ ان دی یونیورس‘‘ اپنے ارد گرد کی کائنات میں دراڑڈال دو ۔ پوری دنیا کو جھٹکا دو ۔ ایپل کے بانی سٹیوجابزنے جب مٹھیاں بھینچ کر کہا تھاتو اس کو لبلبے کے کینسر سے لڑتے ہوئے کئی سال ہو چکے تھے ۔ اگر وہ اسی لمحے مر جاتا تو اس کے ساتھ کیا کچھ مر جاتا ۔ چنانچہ اس نے اس لمحے مرنے سے انکار کر دیا جب تک اس کا جینا کام نہیں آگیا ۔ جہاں تک اذیت سے بھاگنے کی بات رہی تو وہ بھی ہمارے اختیار میں ہے ۔ لیکن ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جینا خود ایک اذیت ناک عمل ہے ۔ بڑے سے بڑے سورما کی زندگی میں بھی وہ لمحات آتے ہیں جب زندگی اس کے گوڈے ، گٹے توڑکر اسے نیچے لٹادیتی ہے ۔ یقین رکھیں ۔ آپ کے آس پاس موجود آپ کے تمام تر ہیروز ان لمحات سے گذر چکے ہیں ۔ بس فرق یہ ہے کہ انہوں نے ٹوٹے پھوٹے اجزاء کو سنبھالتے ہوئے، پنجوں کے بل، ایڑیوں کے بل رینگنے کو ترجیح دی ۔ ٹوٹی پھوٹی ٹانگوں پر شکستہ وجود کو استوار کر لیناہی وہ عمل ہے جس کے بعد کہانی کے سارے جن آپ کے قابو میں آ جائیں گے ۔

’’تمہیں معلوم ہے کہ ہم انسانوں کا مسئلہ کیا ہے؟ ہمارامسئلہ یہ ہے کہ ہم تخیل کے زور پر نہیں بلکہ یاداشت کے زور پر جیتے ہیں‘‘ ۔ دنیا کے ذہین ترین لوگوں میں سے ایک اور این ایل پی کے بانی رچرڈبینڈلر نے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا ۔ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ جو ہم دس سال پہلے تھے ، ایک سال پہلے تھے، یا کل تھے، آج بھی وہیں پہ رُکے ہوئے ہیں‘‘ ۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر نیا دن ایک نیا جہان ہوتا ہے ۔ اس دن وہ سب کچھ ہو ہو سکتا ہے جو آج تک نہیں ہوا ۔ اور اس دن ضروری نہیں وہ کچھ ہو جو ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے ۔ ہم جب چاہیں اپنی تاریخ کو ، یا دنیا کی تاریخ کو نئے سرے سے لکھ سکتے ہیں ۔ اس لیے کہ تاریخ بنانے والوں نے تاریخ ہمیشہ سے ایسے ہی لکھی ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگ جب صبح آنکھ کھولتے ہیں تو اخبار میں لکھے ہوئے تبصروں ،یا عینک کے پیچھے سے گھورتے ٹی وی پر موجود تجزیہ نگاروں ، یا کان پر پینسل ٹکائے ۔ بابوؤں ، یاسٹیتھوسکوپ اٹھائے ڈاکٹروں ، یا وعدوں اور امیدوں کی برف کے گولے بیچنے والے سیاستدانوں کو بہت سیریس لے لیتے ہیں ۔ ہمارا خیال ہے کہ ان میں سے کسی ایک نے جینے کا طریقہ،سلیقہ یا زائچہ بنا کر دینا ہے ۔ جبکہ ہم بھول جاتے ہیں کہ یہ سراسر ہمارا ذاتی فیصلہ ہے ۔ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں اور جو کرنا چاہتے ہیں اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے کتنے پاپڑ بیل سکتے ہی، کتنی قربانیاں دے سکتے ہیں ۔ اور بس دنیا بدلنے والے اور تاریخ لکھنے والے تجزیہ نگاروں ، ناکامیوں کی پیشن گوئیاں کرنے والے زائچہ نویسوں سے زیادہ مستقل مزاج ہوتے ہیں ۔ اور اسی بنا پر وہ اپنی مرضی کی دنیا تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ تاہم اگر آپ اپنی نیند ، بھوک ، ڈر اور جبلتوں پر قابو نہیں پا سکتے تو پھر آپ کے اندر خوابوں اور امیدوں کے صندوق مقفل ہی دنیا سے چلے جائیں گے ۔ خواب تو سبھی دیکھتے ہیں ۔ اصل چیز یہ ہے کہ آنکھ کھلنے کے بعد ہم کرتے کیا ہیں ۔ کیونکہ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے والے لوگ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ اکثر ان کی تعبیر تک پہنچ جاتے ہیں ۔

تو پیارے پڑھنے والے،یہ ہمارے بس میں ہے کہ ہم ڈرنے سے انکار کر دیں ۔ یوں وہ سب لوگ بے اثر ہو جائیں گے جو ہمارے ساتھ ڈرانے کی تجارت کرتے ہیں ۔ جو ہمیں نامعلوم اور ان ہونی آفتوں کو یاد کراتے ہیں ۔ جو ہمیں ماضی کے پچھتاوں کا اسیر رکھتے ہیں ۔ بس ہمیں اپنے آپ کو ماضی کے صندوق میں بند کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنے ماضی سے بڑے ہیں ۔ آپ آج ابھی اور اسی وقت وہ کرنا شروع کرسکتے ہیں جس کے لیے آپ کے اندر کب سے آواز آرہی ہے ۔ ہاں مشکلات ضرور آئیں گی مگر کائنات میں ’’ڈینٹ‘‘ڈالنے کا کام اتنا ہی بڑا ہے ۔

اگر تعلیم کم ہے تو زیادہ کر لو ، اگر استعداد کم ہے تو بڑھا لو، اگر وزن زیادہ ہے تو کھانا کم کر دواور بھاگنا شروع کر دو،اگر ملازمت نہیں ملتی تو بزنس شروع کر و کہ فلاح اسی میں ہے ۔ اگر لیڈروں سے مایوس ہو توخود لیڈر بن جاؤ ۔ مسیحا کا انتظار مت کرو، زیادہ مہارتیں سیکھو،زیادہ زبانیں بولو ، اپنی چربی گھلاؤ، ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر طعنے مت مارو کہ یہ تھڑدلوں کا کام ہے ۔ باتیں کم کرو ، کام زیادہ ۔ لوگوں کی باتوں کی طرف کم دھیان دو، کام کی طرف زیادہ کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ باتوں سے بڑی سچائی ہے ۔ اپنے اندر کی آواز سنو کہ کون سی کیسٹ چل رہی ہے ۔ اگر پسند نہیں تو اسے باہر نکال پھینکو ۔ شکایت مت کرو کہ دنیا مسائل کی طرف توجہ دلانے والوں نے نہیں ، مسائل حل کرنے والوں نے بدلی ہے ۔ آج ابھی اسی وقت ایک نیا آغاز ہے ۔ آج تم وہ سب کچھ بن سکتے ہو ،کر سکتے ہو جو تم کل تک نہیں تھے ۔ اس لیے کہ ایک اینٹ بھی کچھ بننا چاہتی ہے اور تم تو پھر بھی انسان ہو ۔

ذرا سوچو ! اگر تم اسی لمحے مرجاؤ تو کیا کچھ اپنے ساتھ لے مرو گے. لیکن اس سے بھی پہلے زرا یہ سوچو کہ اگر تم جی جاؤ، تو کیا کرامتیں، کیا معجزے کر گزرو گے؟

اگر تم جی جاؤ!!!!!!

21/12/2023

ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک مانگتی تھی۔
ایک شخص نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا کمانے کے قابل نہیں ہے ؟
تو اس بوڑھی عورت نے کہا کہ ھے تو پھر آپ یہاں کیوں بھیک مانگ رہی ہیں؟
بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔
میرا بیٹا نوکری کے لئے بیرون ملک گیا ہے۔ جاتے ہوئے اخراجات کے لئے مجھے کچھ رقم دے کر گیا تھا ،
وہ خرچ ہوگئی ہے ،
اسی وجہ سے میں بھیک مانگ رہی ہوں۔
اس شخص نے پوچھا - کیا آپ کا بیٹا آپ کو کچھ نہیں بھیجتا ہے؟
بوڑھی عورت نے کہا - میرا بیٹا ہر ماہ رنگا رنگ کاغذ بھیجتا ہے جسے میں گھر میں دیوار پر چپکا کر رکھتی ہوں۔
وہ شخص اس کے گھر گیا اور دیکھا کہ دیوار پر بینک کے 60 ڈرافٹ چسپاں کردیئے گئے ہیں۔
ہر ڈرافٹ 50،000 روپے کا تھا۔
تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ، وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے۔
اس شخص نے اسے ڈرافٹ کی اہمیت سمجھا دی تو وہ عورت بہت خوش بھی ہوئی اور حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی ہوئی کہ دولت ہوتے ہوئے بھی وہ بھیک مانگتی رہی ہے.
ہماری حالت بھی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے
ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم اسے اپنے منہ سے چومتے اور ماتھے پر لگا کر اپنے گھر میں رکھتے ہیں
لیکن ہم اس کا فائدہ صرف اس صورت میں اٹھاسکیں گے جب ہم اسے پڑھیں گے،
اس کے معنیٰ اور تفسیر کو سمجھیں گے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں لے آئیں گے۔
تب ہی ان شاءاللہ ہماری دنیا اور اس کے بعد کی زندگی دونوں بہتر ہوگی۔
بہت بڑا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے لیکن ہماری جہالت کی وجہ سے اس میں چھپے انعامات سے آج ہم سب محروم ہیں،
اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العالمین ۔
Mash'Allah سبحان الله

Address

Jeddah

Telephone

+966590557637

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil-chasp dunyawi maloomat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share