Voice of Islam

Voice of Islam "اللہ کی قسم تمہارے ذریعے ایک شخص کا ہدایت کی راہ پر چلنا ایک سو سرخ اونٹ ملنے سے کہیں بہتر ہے"
(سنن ابوداؤد:269)

یا اللّٰہ ہمارے ہر مشکل آسان فرما
18/03/2026

یا اللّٰہ ہمارے ہر مشکل آسان فرما

18/03/2026
‏سجدے کی حالت میں دماغ کا جائزہ لیا تو فائدوں نے سائنسدانوں کی آنکھیں کھول دیں جب نمازی سجدے میں جاتا ہے تو اسکا سر نیچے...
18/03/2026

‏سجدے کی حالت میں دماغ کا جائزہ لیا تو فائدوں نے سائنسدانوں کی آنکھیں کھول دیں
جب نمازی سجدے میں جاتا ہے تو اسکا سر نیچے زمین کو چھو رہا ہوتا ہے اور دھڑ ذرا اونچا ہوتا ہے۔ ہمارے تو ایمان کا حصہ ہے کہ اس حالت میں انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ سجدے میں جانے کے صرف روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی فائدے بھی ہیں۔ جب انسان اس حالت میں ہوتا ہے تو اسکا دماغ کچھ حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ عام طور پر جب ہم کھڑے ہوتے ہیں تو دل کو دماغ کی طرف خون پہنچانے کےلئے اضافی زور لگانا پڑتا ہے۔ لیکن جب سجدے کی حالت میں سر نیچے کو ہوتا ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے دماغ اور سرکی طرف خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے دماغ کے سامنے والے حصے کو تازہ آکسیجن سے بھرپور خون پہنچتا ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جو انسان کی نہ صرف شخصیت بناتا ہے بلکہ اسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ دباؤ اور تناؤ بھی کم کرتا ہے۔ یوں نماز میں رب کے سامنے اپنا سر جھکانے سے آپ اعصابی نظام کو ری فریش کرتے ہو اور دماغ کو صحت مند بناتے ہو۔ شائد اسی لئے ہم سجدے میں تسبیح کرتے ہیں کہ "پاک ہے میرا رب جو سب سے اعلیٰ ہے"..

22/02/2026

والدین کا نافرمان
کبھی فلاح نہیں پائے گا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“مسلمان آدمی پر حکمران کی اطاعت لازم ہے جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ جب وہ اللہ کی نافر...
22/02/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان آدمی پر حکمران کی اطاعت لازم ہے جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ جب وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو پھر کوئی اطاعت نہیں۔”

حوالہ: السلسلتہ ، حدیث نمبر: 1766

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے حکمران کی اطاعت کا اصول واضح فرمایا ہے، یعنی مسلمان پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات مانے اور نظم و ضبط کے ساتھ رہے، لیکن یہ اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک حکمران اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دے، اگر حکمران گناہ اور معصیت کا حکم دے تو پھر مسلمان کے لیے اس میں اطاعت جائز نہیں، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں اطاعت بھی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کے تابع ہے اور دین میں کسی بھی انسان کی بات اللہ کے حکم کے خلاف قبول نہیں کی جا سکتی، مثال کے طور پر اگر کوئی حکمران عدل، خیر اور امن کے کاموں کا حکم دے تو اس کی اطاعت کی جائے گی، لیکن اگر وہ ظلم، حرام یا دین کے خلاف کام کا حکم دے تو مسلمان اس میں اطاعت نہیں کرے گا، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اسلام عدل، حق اور اللہ کی فرمانبرداری کا دین ہے اور ہر اطاعت کی بنیاد اللہ کی اطاعت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جس نے صبح کے وقت 100 بار ‘سبحان اللہ وبحمدہ’ کہا، قیامت کے دن اس سے افضل عمل کسی کا نہ ہوگا سوائے...
22/02/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے صبح کے وقت 100 بار ‘سبحان اللہ وبحمدہ’ کہا، قیامت کے دن اس سے افضل عمل کسی کا نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ پڑھا ہو۔”

حوالہ: صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 2692

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ذکرِ الٰہی کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جو شخص صبح کے وقت سو مرتبہ “سبحان اللہ وبحمدہ” پڑھتا ہے اسے قیامت کے دن بہت بڑا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کا عمل لوگوں میں ممتاز ہوگا، سوائے اس کے جس نے اس سے بھی زیادہ ذکر کیا ہو، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کا ذکر آسان مگر بے حد اجر والا عمل ہے اور معمولی وقت میں عظیم ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ فجر کے بعد چند منٹ نکال کر یہ ذکر سو مرتبہ پڑھ لے تو وہ عظیم اجر کا مستحق بن سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ذکرِ الٰہی دلوں کو زندہ کرتا ہے اور قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جس نے (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں ...
22/02/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔”

حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 1903

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے روزے کی اصل روح کو واضح فرمایا ہے کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اخلاق اور کردار کی اصلاح کا نام ہے، اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں بھی جھوٹ، دھوکہ اور گناہوں کو نہ چھوڑے تو اس کا روزہ اپنی حقیقت اور مقصد کھو دیتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ روزے کے دوران اپنی زبان، آنکھوں اور اعمال کی حفاظت کرے اور ہر برائی سے بچے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹ بولے یا لوگوں کو تکلیف پہنچائے تو وہ روزے کے اصل مقصد یعنی تقویٰ کو حاصل نہیں کر پاتا، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ روزے کی قبولیت کا تعلق صرف ظاہری پرہیز سے نہیں بلکہ باطنی اصلاح اور سچے کردار سے ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جو شخص کسی مصیبت زدہ (بیمار یا معذور) کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے ‘الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي...
22/02/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص کسی مصیبت زدہ (بیمار یا معذور) کو دیکھ کر یہ دعا پڑھے ‘الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي…’ تو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہے گا۔”

حوالہ: سنن ترمذی ، حدیث نمبر: 3432

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے عافیت پر شکر ادا کرنے اور اللہ کی پناہ طلب کرنے کی تعلیم دی ہے، یعنی جب کوئی شخص کسی بیمار یا آزمائش میں مبتلا فرد کو دیکھے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے اس مصیبت سے محفوظ رکھا، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو اپنی صحت اور سلامتی پر غرور نہیں بلکہ شکر اور عاجزی اختیار کرنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی بیمار کو دیکھ کر دل میں یہ دعا پڑھے اور اللہ کا شکر ادا کرے تو وہ نہ صرف شکر گزار بنتا ہے بلکہ اللہ کی حفاظت کا مستحق بھی ہوتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ عافیت بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے اور اس پر شکر ادا کرنا مزید حفاظت اور رحمت کا سبب بنتا ہے۔

Address

Madinat Al Umal
Dammam
DAMMAM32253

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share