Karwan e Urdu Qatar

Karwan e Urdu Qatar Karwan-e Urdu Qatar Community

کاروان اردو قطرکے زیر اہتمام اعزازی شعری نشست ( دوحہ ) خیلجی ممالک میں اپنی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں پہچان رکھنے...
29/06/2025

کاروان اردو قطرکے زیر اہتمام اعزازی شعری نشست
( دوحہ ) خیلجی ممالک میں اپنی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں پہچان رکھنے والی ادبی تنظیم “ کاروان اردو قطر “ نے مورخہ 26 جون کو شام ساڑھے آٹھ بجے “کاشانہ عتیق انظر” پر ایک شاندار شعری نشست کا انعقاد کیا۔ اس شام کی منفرد وممتاز حیثیت تین بیرونی مہمانوں کی شرکت سے وابستہ تھی ۔ معروف افسانہ نگار ، شاعر اور نقاد پروفیسر غضنفر علی اور اپنے سخن و شخصیت سے گنگا جمنی تہذیب کی عملی و فکری نمائندگی کرنے والے شاعر ش*ذ جہانی ( آلوک سریواستو) کی ہندوستان سے اور کاٹ دار لہجے کے بھر پور شاعر یونس عظیم کی حیدرہ آباد، پاکستان سے آمد نے اس شام کی رونق اور وقار میں کافی اضافہ کردیا تھا۔
کاروان اردو قطر نے مہمانوں کا شایان شاں استقبال کرتے ہوے ان کی خدمت میں شال پیش کیا۔ اس محفل کو ان کی آمد سے منسوب کرتے ہوئے کاروان اردو قطر کے بانی صدر عتیق انظر نے کہا آج کی یہ شام دراصل ہمارے معزر مہمانوں سے ملاقات اور استفادے کا بہانہ ہے ۔ قطر میں موجود اہلیان اردو کے لیے بیک وقت ان تین باوقار مہمانوں کی آمد ایک خوشکوار اتفاق ہے اور اس کا جشن بہر حال بنتا ہے ۔
کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر راشد عالم نے شعراء اور سامعین کا پر تپاک استقبال کیا اور اردو زبان وادب کے فروغ و اشاعت کے لیے کاروان اردو قطر کی بے لوث اور مخلصانہ کوششوں کے یونہی جارو ساری رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
شعری دور سے پہلے پروفیسر غضنفر علی نے اپنا بہت ہی پر اثر افسانہ “ ڈگڈگی “ پیش کیا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا ۔ اس کے بعد پر تکلف عشائیہ کا دور چلا اور پھر شعری محفل کا آغاز ہوا۔ راقم اعظی اپنی خوبصورت غزل کے ساتھ مطلع سخن پر رونما ہوئے اور پوری محفل کو تابندہ و منور کردیا۔ بعد ازاں سید شکیل احمد ، ڈاکڑ راشد عالم ، مقصود انور مقصود ، عتیق انظر ، یونس عظیم ۔ ش*ذ جہانی اور پروفیسر غضنفر علی نے اپنے بہترین کلام پیش کیے اور سامعین سے بھرپور داد وتحسین وصول کی ۔
اس شعری نشست کی صدارت پروفیسر غضنفر علی نے فرمائی جبک مہمانان خصوصی اور اعزازی کی حیثیت سے ش*ذ جہانی اور یونس عظیم نے شرکت فرمائی ۔ نظامت کی ذمہ داری سید شکیل احمد نے بحسن وخوبی انجام دی ۔
کاروان اردو قطر کے نائب صدر ، محمد شاہد خان کے اظہار تشکر کے ساتھ اس خوبصوت اور یادگار شام کے اختتام کا اعلان ہوا۔
سید شکیل احمد
میڈیا سکریٹری

دوحہ میں جشن فرحت احساس اور عالمی مشاعرہ 2025 کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام کام یاب انعقاد دوحہ/31 جنوری 2025، رات آٹھ ب...
09/02/2025

دوحہ میں جشن فرحت احساس اور عالمی مشاعرہ 2025

کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام کام یاب انعقاد

دوحہ/31 جنوری 2025، رات آٹھ بجے کاروان اردو قطر نے ڈی پی ایس ایم آئی ایس آڈیٹوریم، الوکرہ، قطر میں اپنا چھٹا عالمی مشاعرہ منعقد کیا، یہ مشاعرہ جشن فرحت احساس کے نام سے معنون تھا۔
فرحت احساس کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے، وہ مابعد جدید شاعروں میں بہت اہم اور نمایاں ہیں۔ انہوں نے اردو اور فارسی زبانوں کی کلاسیکی شعری روایت کو اپنے زمانے کے مضامین اور اسلوب اظہار سے ہم آمیز کر کے ایک ایسا شعری بیانیہ ترتیب دیا ہے، جس میں کلاسیکی جمالیات کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے موجودہ دور کی انسانی صورت حال اور اس کے پیچیدہ تجربات کا فنی اظہار ممکن ہوا ہے۔ فرحت احساس کے شعری مضامین میں سیاسی جبر، اقتصادی استحصال ، اخلاقی وروحانی زوال اور جمالیاتی نابینائی کا دقیق اور گہرا احاطہ کرنے والا ایک ایسا اسلوب بیان نظر آتا ہے جو بہ یک وقت سہل بھی ہے اور مشکل بھی،البتہ یہی سہولت اور مشکل پسندی انہیں ان کے معاصرین کے درمیان ایک منفرد مقام اور امتیازی شان بھی عطا کرتی ہے۔
فرحت احساس ایک صاحب اسلوب نثر نگار بھی ہیں۔ انھوں نے دہلی سے شائع ہونے والے شمالی ہند کے سب سے بڑے اردور وز نامہ "قومی آواز" سے صحافتی وابستگی کے دوران تقریباً 500 کالم لکھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بہت سے ادبی اور تنقیدی مضامین بھی سپرد قلم کیے ہیں۔
2003 میں ہندوستان کے سب سے بڑے ادبی ادارہ ساہتیہ اکادمی نے ان کا مجموعہ کلام " میں رونا چاہتا ہوں" شائع کیا تھا۔ 2011 میں ان کی کتاب " شاعری نہیں ہے یہ" منظر عام پر آئی۔ 2017 میں انہوں نے اپنی کتاب " قشقہ کھینچ دیر میں بیٹھا" دیوناگری رسم الخط میں شائع کی۔
فرحت احساس 25 دسمبر 1950 عیسوی کو ہندوستان کے ایک تاریخی شہر بہرائچ (اتر پردیش) میں پیدا ہوے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی سے انگریزی اور اسلامیات کے مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1979 میں دہلی سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ "ہجوم "کے معاون مدیر کے طور پر کام کیا۔ 1987 میں اردو روزنامہ "قومی آواز" سے منسلک ہوئے اور کئی برس تک اس کے سنڈے ایڈیشن کی ادارت کی ۔ 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی سے منسلک ہوے اور وہاں سے شائع ہونے والے دو تحقیقی جرائد " اسلام اینڈ ماڈرن ایج " اور "اسلام اور عصر جدید" کی ادارت سے وابستہ رہے۔ اسی دوران انہوں نے آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی کی اردو سروس سے حالات حاضرہ پر گفتگو اور تجزیے بھی نشر کیے۔ فرحت احساس اپنی نظریاتی وسعت اور تجربات کی انفرادیت کے لیے معروف ہیں۔ اردو، ہندی، برج، اودھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے علاوہ انگریزی اور مغربی زبانوں کے ادب سے گہری دلچسپی ہے۔ ہندوستانی اور مغربی فلسفہ سے بھی گہرا شغف ہے۔ اس وقت آپ ریختہ فاؤنڈیشن میں چیف ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔
صاحب جشن جناب فرحت احساس کے علاوہ اس عظیم الشان عالمی مشاعرہ میں ہندوستان سے جناب منصور عثمانی، جناب طاہر فراز، محترمہ سپنا مولچندانی، جناب انل دوبے، اور جناب طارق فیض تشریف لائے تھے، جبکہ پاکستان کی نمائندگی جناب صبا جاوید اور جناب علی زریون نے فرمائی ، قطر سے مقامی شعرا کی نمائندگی جناب عتیق انظر، جناب راشد عالم راشد اور جناب زوارحسین زائر کے حصہ میں آئی ۔
تقریبا ساڑھے آٹھ بجے شام سے شروع ہو کر رات ایک بجے تک جاری رہنے والی اس خوبصورت اور با وقار تقریب کی صدارت صاحب جشن جناب فرحت احساس نے فرمائی، تقریب کے مہمان خصوصی قطر کے معروف بزنس مین اور سماجی کارکن جناب ثناء اللہ عبد الرحمن اور مہمان اعزازی اتلیام انفراٹیک کمپنی ، انڈیا کے بانی شری راجیش کمار مشرا جی تھے۔ سامعین کی صفوں میں قطر کے اردو دوستوں اور ادب نوازوں کی ایک بڑی تعداد جلوہ افروز تھی جن میں شعرا اور فنکاروں کے علاوہ انڈین کمیونٹی کے کامیاب بزنس مین، سماجی خدمت گار اور ادبی و ثقافتی تنظیموں کے عہدیدار اور ذمہ دار بطور خاص تشریف لائے تھے۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز جناب محمد فاروق آسامی ندوی نے قرآن کریم کی تلاوت اور ترجمہ سے فرمایا ، جس کے بعد کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب راشد عالم راشد کی درخواست پر سبھی حاضرین نے مرحوم حسن عبد الکریم چوگلے کی یاد میں د منٹ کے لیے خاموش کھڑے ہو کر ان کے لیے دعا ئے مغفرت کی ۔
اس تعزیتی کارروائی کے بعد کاروان اردو قطر کے چیئرمین، قطر کے معروف بزنس مین اور سماجی خدمت گار جناب عظیم عباس نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، اپنی تقریر میں انہوں نے صاحب جشن، شعرا کرام، مہمانان گرامی، اسپانسرز، اور سامعین کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کی شب ہمارے لیے بے حد اہم، تاریخی اور قیمتی ہے کہ ہمیں فرحت احساس جیسے عظیم شاعر کو روبرو سننے کا موقع ملے گا، عظیم عباس صاحب نے مزید فرمایا کہ اردو شعر وادب اور صحافت کے میدانوں میں فرحت احساس کی خدمات بے حد قدر و قیمت کی حامل ہیں جس کا ادراک کرتے ہوئے کاروان اردو قطر نے ان کی خدمت میں حاصل حیات ایوارڈ پیش کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ عظیم عباس صاحب نے اپنی تقریر میں مرحوم حسن عبد الکریم چوگلے کو بھی یاد کیا، مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے فرمایا کہ میں نے مرحوم حسن بھائی کے ساتھ ایک عمر گزاری ہے، بزنس، سماجی خدمات اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں شانہ بہ شانہ ان کے ساتھ کام کیا ہے اور سچ یہ ہے کہ آگے کا سفر ان کے بغیر بہت مشکل نظر آرہا ہے، لیکن تقدیر الہٰی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے سوا چارہ نہیں، اللہ تعالیٰ مرحوم حسن بھائی کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی فیملی کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ بخشے۔
استقبالیہ تقریر کے بعد ڈاکٹر نشاط احمد صدیقی نے صاحب جشن اور صدر مشاعرہ جناب فرحت احساس کی شخصیت اور خدمات کے بارہ میں ایک مختصر تعارف حاضرین کے سامنے پیش کیا جس کے بعد مہمان خصوصی جناب ثناء اللہ کے دست مبارک سے صاحب جشن کی خدمت میں حاصل حیات ایوارڈ اور ایک لاکھ روپے کا چیک پیش کیا گیا۔
بعد ازاں کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب راشد عالم راشد نے صاحب جشن کو اپنے خیالات اور تاثرات کے اظہار کی دعوت دی، صاحب جشن اور صدر مشاعرہ جناب فرحت احساس نے اپنی تاثراتی گفتگو میں کاروان اردو قطر کے چیئرمین، بانی صدر، نائب صدر، سکریٹری جنرل اور کاروان کی پوری انتظامیہ کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوے فرمایا کہ میں اس اعزاز کا مستحق تو نہیں ہوں اور جب پہلی بار جناب عتیق انظر نے مجھے اس جشن کے بارے میں بتایا تھا اس وقت بھی میں نے انکار ہی کیا تھا، البتہ رفتہ رفتہ ان کا اصرار میرے انکار پر غالب آگیا اور اس طرح آپ کے سامنے حاضری کا موقع مل رہا ہے۔ جناب فرحت احساس نے مابعد جدید دور میں اور بالخصوص ٹیکنالوجیکل ایڈوانسمنٹ کے بالمقابل شاعری کے فن اور مشاعروں کی تہذیب کو درپیش چیلینجز کا ذکر کرتے ہوے فرمایا کہ جب ہماری نسل کے لوگوں نے شعر کہنا شروع کیا تھا اس وقت شعرا کے درمیان ایک تقسیم بڑی واضح تھی اور وہ یہ تھی کہ عوامی شاعر مشاعروں کے ذریعےاپنے فن اور کلام کی تشہیر کرتے تھے جبکہ غیر عوامی شعرا رسالوں میں چھپتے تھے، لیکن سوشل میڈیا آنے کے بعد یہ تقسیم ختم ہوگئی ہے اور اب مشاعروں کے کم از کم معیار کو باقی رکھنے کے لیے بھی دیگر متبادل تدابیر سوچنے کی ضرورت ہے، مستقبل قریب میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کی آمد سے ان چیلینجز کی سنگینی مزید بڑھنے والی ہے۔
صاحب جشن کی نہایت مفید اور پر مغز تقریر کے بعد ان کے ہی دست مبارک سے کاروان کے یادگاری مجلہ کا اجرا عمل میں آیا، یہ مجلہ کاروان اردو قطر اور اس کی سرگرمیوں کے مختصر تعارف، صاحب جشن کے گوشے اور مشاعرے میں شامل شعرا کے کلام پر مشتمل ہے۔
یہاں تک تقریب کی کامیاب نظامت کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری اور دوحہ کے معروف شاعر جناب راشد عالم راشد نے کی، مجلہ کی رسم رونمائی کے بعد انہوں نے کاروان اردو قطر کے بانی صدر جناب عتیق انظر کو مائک پر بلایا تاکہ وہ صدر مشاعرہ اور صاحب جشن کا شکریہ ادا کریں اور نظامت کی مسند ممتاز شاعر اور منفرد ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی کے حوالہ کریں۔ عتیق انظر صاحب نے جناب منصور عثمانی کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ میں یہ بات پورے اعتماد اور ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت بر صغیر میں جناب منصور عثمانی سے بہتر اور کہنہ مشق ناظم مشاعرہ موجود نہیں ہے، ان کی نظامت، مشاعرے کی کام یابی کی ضمانت ہے، یہ ہماری اور قطر کے باذوق ادب دوستوں کی خوش قسمتی ہے کہ اس مشاعرہ کی نظامت جناب منصور عثمانی فرمائیں گے۔
جناب منصور عثمانی نے نظامت کی مسند سنبھالی اور کاروان اردو قطر کے چیئرمین عظیم عباس، بانی صدر عتیق انظر، نائب صدر شاہد خان، سکریٹری جنرل راشد عالم راشد، اور کاروان کے تمام ارکان وکارکنان کا شکریہ ادا کیا، بطور خاص عتیق انظر صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عتیق انظر صاحب ایک منفرد لب ولہجہ کے معتبر شاعر ہیں، لیکن جب یہ مشاعرہ منعقد ہوتا ہے تو ان کا شاعر پیچھے چلا جاتا ہے اور کاروان کا صدر سامنے آ جاتا ہے، اس کے لیے ہم ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی نے صاحب جشن اور صدر مشاعرہ جناب فرحت احساس کی تقریر کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ بارہ پندرہ منٹ کی اس تقریر میں موصوف نے فن شاعری، مشاعروں کی تہذیب اور عہد مابعد جدید کے ادبی، فنی اور سماجی چیلنجز کے تعلق سے جو علم ہم تک منتقل کیا وہ بلاشبہ دس بارہ کتابوں کا عطر ہے۔
بعد ازاں ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی نے مشاعرہ کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیااور اس شعر کے ساتھ مشاعرہ کے پہلے شاعر "طارق فیض" کو سامعین کے سامنے پیش کیا:
فکر غالب حسن میرمیری کماں کا پہلا تیر
طارق فیض سے شروع ہو کر مشاعرہ کی شمع جب فرحت احساس تک پہونچی تو رات کا ایک بج چکا تھا، قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ تین گھنٹوں کے اس دورانیہ میں گیارہ شاعروں نے اپنا کلام سنایا، ان میں نوخیز شعرا بھی تھے، مبتدی اور متوسط سطح کے شعرا بھی ، اور فرحت احساس، جاوید صبا اور منصور عثمانی جیسے بزرگ، کہنہ مشق اور استاد شعرا بھی ، لیکن شروع سے آخر تک سامعین کی دلچسپی مشاعرہ میں قائم رہی اور کسی بھی لمحہ ڈائس سے ان کا رابطہ کمزور نہیں ہوا جوکسی بھی کامیاب مشاعرے کے لیے ضروری ہے۔ مشاعرے کی اس تاریخی کامیابی میں جہاں ایک طرف بہت بڑا حصہ ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی کا رہا، وہیں دوسری طرف دوحہ کے باذوق سامعین کو بھی اس کامیابی کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ مندرجہ ذیل سطور میں کچھ منتخب اشعار بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ سند رہے اور قارئین بھی کسی حد تک مشاعرے کی اس سحر انگیزفضا کا حصہ بن سکیں۔
فرحت احساس:
صحرا کے سنگین سفر میں آب رسانی کم نہ پڑے
ساری آنکھیں بھر کر رکھنا دیکھو پانی کم نہ پڑے
ذہن مسلسل قصے سوچیں ہونٹھ مسلسل ذکر کریں
صبح تلک زندہ رہنا ہے، کہیں کہانی کم نہ پڑے
عشق نے سونپا ہے مجھ کو اک صحرا کی تعمیر کا کام
اور ہدایت کی ہے ذرہ بھر ویرانی کم نہ پڑے
زمیں نے لفظ اگایا نہیں بہت دن سے
کچھ آسماں سے بھی آیا نہیں بہت دن سے
یہ شہر وہ ہے کہ کوئی خوشی تو کیا دیتا
کسی نے دل بھی دکھایا نہیں بہت دن سے
ہم اپنی مملکت درد میں اکیلے ہیں
ہماری کوئی رعایا نہیں بہت دن سے
جاوید صبا:
ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی
دلیل کے بغیر بھی جواز کے بغیر بھی
مثال کیا کہ سر بسر ترا وجود شاعری
کلام کے بغیر بھی بیاض کے بغیر بھی
گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگی
نشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی
تری نگاہ خود نگر دلوں کو مات کر گئی
لڑائی کے بغیر بھی محاذ کے بغیر بھی
روا ہے عشق میں روا مگر یہ سجدۂ وفا
اذان کے بغیر بھی نماز کے بغیر بھی
منصور عثمانی:
ہونٹوں پہ سب کے جام کسی دوسرے کا ہے
یہ کیسا انتظام ترے میکدے کا ہے
میں نے تو زندگی کو ترے نام کر دیا
اب مجھ کو انتظار ترے فیصلے کا ہے
دیکھے ہے روز تجھ کو نئے رنگ روپ میں
کیسا بھلا نصیب ترے آئینے کا ہے
طاہر فراز:
اب کے برس ہونٹوں سے مرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی
تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی
کیسا پیار ، کہاں کی الفت ، عشق کی بات تو جانے دو
میرے لیے اب اس کے دل سے ہمدردی بھی ختم ہوئی
شجر ہجر ہے تازہ تازہ آنکھوں کی برساتوں سے
برگ وصل کی کیا پوچھو ہو اس کی نمی بھی ختم ہوئی
شاید زندہ رہنے کے آداب ہیں پیاس اور در بدری
میں نے جب ایسے سوچا تو مایوسی بھی ختم ہوئی
عتیق انظر:
دل کے آنگن میں کوئی یاد ستارہ چمکا
میری بے نور سی آنکھوں میں اجالا چمکا
شام کے ساتھ یہ دل ڈوب رہا تھا لیکن
یک بیک جھیل کے اس پار کنارا چمکا
ہر گلی شہر کی پھولوں سے سجی میرے لیے
ہر دریچے میں کوئی چاند سا چہرہ چمکا
کتنے تاروں نے لہو نذر کیا ہے اپنا
تب کہیں رات کے سینے سے سویرا چمکا
علی زریون:
پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے
جب عشق دیکھ لیں گے تو سر پر بٹھائیں گے
تو تو پھر اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا
ہم تیرے دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیں گے
غالبؔ نے عشق کو جو دماغی خلل کہا
چھوڑیں یہ رمز آپ نہیں جان پائیں گے
قبلہ کبھی تو تازہ سخن بھی کریں عطا
یہ چار پانچ غزلیں ہی کب تک سنائیں گے
آگے تو آنے دی جیے رستہ تو چھوڑیے
ہم کون ہیں یہ سامنے آ کر بتائیں گے
سپنا مولچندانی:
جب تلک وہ نظر نہیں آتا
درد دل کا ابھر نہیں آتا
جس کے حصہ میں ہوں سفر نامے
اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا
یہ محبت کی ایک خوبی ہے
عیب کوئی نظر نہیں آتا
کتنا دشوار ہے سفر میرا
جس میں کوئی شجر نہیں آتا
زوار حسین زائر:
میں نے اس کو اور میرے دل نے سمجھایا مجھے
تب کہیں جا کر میاں منطق سمجھ آیا مجھے
عشق کا آسیب ہے دیوار کے دونوں طرف
اپنے جیسا مل گیا ہے ایک ہمسایہ مجھے
کوئی آیا ہی نہیں ، آہٹ کہاں سے آئے گی
میں نے بتلایا مجھے اور میں نے سمجھایا مجھے
راشد عالم راشد:
حدیث دل سنانا تھا ٹھہر جاتے تو اچھا تھا
ہمارے خواب دل کے بھی سنور جاتے تو اچھا تھا
ہم ان کی خامشی کو بس رضامندی سمجھ بیٹھے
گزارش پر وہ پہلے ہی مکر جاتے تو اچھا تھا
خرد نے دشت کی دشواریوں پر ضوفشانی کی
جنوں میں ہم اگر حد سے گزر جاتے تو اچھا تھا
طارق فیض:
ذہن و دل میں جانے کیا کیا رکھا ہے
ان دونوں کو کس نے الجھا رکھا ہے
دل رہتا ہے ایسے میرے سینے میں
جیسے اس کو زندہ دفنا رکھا ہے
میں نے تیری یادوں کو زندہ رکھا
اور یادوں نے مجھ کو زندہ رکھاہے

ڈاکٹر نشاط صدیقی
(میڈیا سکریٹری کاروان اردو قطر)

گھاس کی طرح پڑے ہیں ہم لوگ نہ  بلندی  ہے  نہ  گہرائی  ہے*******میں رہنے والا شام وسحر سے پرے کا ہوں ڈالا گیا ہوں شام و س...
29/01/2025

گھاس کی طرح پڑے ہیں ہم لوگ
نہ بلندی ہے نہ گہرائی ہے
*******
میں رہنے والا شام وسحر سے پرے کا ہوں
ڈالا گیا ہوں شام و سحر کے حساب میں
****
بدن کے سرخ پرندے کبھی ذراہل بھی
لہو کی شاخ سے آگے ہے تیری منزل بھی
*****
یہ جو ہے خاک کا اک ڈھیرل بدن ہے میرا
وہ جو اڑتی ہوئی پھرتی ہے قبا میری ہے
*****
خواہش تھی آبشار محبت میں غسل کی
ہلکی سے اک پھوار ہی میں گُھل گیا بدن
******
~ فرحت احساس - Farhat Ehsas

तुम्हारे प्यार की ग़ज़लें  लबो रुख़सार की गज़लेंलगे जब भूख तब लगती सभी बेकार की ग़ज़ले।। हमेशा सज संवर कर राजधानी से चली लेकिन...
29/01/2025

तुम्हारे प्यार की ग़ज़लें लबो रुख़सार की गज़लें
लगे जब भूख तब लगती सभी बेकार की ग़ज़ले।।
हमेशा सज संवर कर राजधानी से चली लेकिन
हमारे गाँव तक पहुंची नहीं सरकार की ग़ज़लें।।
#डॉ_अनिलचौबे | .anilchoubey

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

جس کے حصہ میں ہوں سفر نامےاس  کے  حصہ میں  گھر نہیں آتاजिस के हिस्से में हों सफ़र-नामेउस के हिस्से में घर नहीं आताملیے م...
27/01/2025

جس کے حصہ میں ہوں سفر نامے
اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا
जिस के हिस्से में हों सफ़र-नामे
उस के हिस्से में घर नहीं आता


ملیے محترمہ سپنا ملچندانی سے
31 جنوری شام ساڑھے سات بجے

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

تمام ضابطے منسوخ ہوں علی زریون زمین پہ صرف محبت بحال کی جائےمحترم على زريون |   DPS- MIS Auditorium Al Wakrah 31st Janua...
27/01/2025

تمام ضابطے منسوخ ہوں علی زریون
زمین پہ صرف محبت بحال کی جائے
محترم على زريون |

DPS- MIS Auditorium Al Wakrah
31st January 2025
Time : 7:30 PM

ایک ہی پھول سے سب پھولوں کی خوشبو آئےاور  یہ جادو  اسے  آئے  جسے  اردو  آئےجاوید صبا - Jawaid Saba DPS-MIS AL-Wakra 31st...
26/01/2025

ایک ہی پھول سے سب پھولوں کی خوشبو آئے
اور یہ جادو اسے آئے جسے اردو آئے

جاوید صبا - Jawaid Saba

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

نظم : بہت خوبصورت ہو تم کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےتو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھناکہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہ...
26/01/2025

نظم : بہت خوبصورت ہو تم
کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے
تو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھنا
کہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم

ملیے طاہر فراز سے
31 جنوری شام ساڑھے سات بجے

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

جس صدی میں وفا کا چلن ہی نہیںہم   بنائے   گئے   اس  صدی  کے  لئےمنصور عثمانی | Mansoor Usmani ایک ممتاز اور مایہ ناز شاع...
25/01/2025

جس صدی میں وفا کا چلن ہی نہیں
ہم بنائے گئے اس صدی کے لئے
منصور عثمانی | Mansoor Usmani
ایک ممتاز اور مایہ ناز شاعر اور نظامت کے فن میں یکتا، محترم جناب منصور عثمانی صاحب جشنِ فرحتِ احساس کی زینت بننے جا رہے ہیں۔ ان کی خوشبوئے سخن اور فنِ نظامت کی دلکشی مشاعرے کو نہ صرف یادگار بلکہ محفل کو ادبی رنگوں سے آراستہ کر دے گی۔ ان کی شرکت بلاشبہ مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ضمانت سمجھی جاتی ہے

Karwan E Urdu Qatar is hosting it's Annual international Mushaira 2025 and Jashn e Farhat Ehsas on the 31st January at the DPS Auditorium from 7 pm onwards.

دوستو! کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام منفرد لب و لہجے کے ممتاز شاعر جناب فرحت احساس کے جشن اور عالمی مشاعرے میں آپ سب سے ...
23/01/2025

دوستو! کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام منفرد لب و لہجے کے ممتاز شاعر جناب فرحت احساس کے جشن اور عالمی مشاعرے میں آپ سب سے شرکت کی درخواست ہے۔ براہ کرم 31 جنوری 2025 کی تاریخ اس بڑی ادبی تقریب کے لیے محفوظ رکھیے۔
اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
فرحت احساس

صالح اقدار کے نمائندہ شاعر، نقاد، صحافی اور پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف انہتائی خوش اخلاق اور نیک انسان ڈاکٹر تابش مہدی ...
22/01/2025

صالح اقدار کے نمائندہ شاعر، نقاد، صحافی اور پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف انہتائی خوش اخلاق اور نیک انسان ڈاکٹر تابش مہدی (3 جولائی 1951ء –22 جنوری 2025ء) کے انتقال پر کاروان اردو قطر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتا ہے، اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام دے۔

ثقافتوں کی راجدھانی دوحہ میں محفل مذاکرہ و مشاعرہ"کاروان اردو قطر" کے زیر اہتمام عالمی یوم اردو اور قومی یوم تعلیم دوحہ ...
19/11/2024

ثقافتوں کی راجدھانی دوحہ میں محفل مذاکرہ و مشاعرہ
"کاروان اردو قطر" کے زیر اہتمام عالمی یوم اردو اور قومی یوم تعلیم
دوحہ 15 نومبر/کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام عالمی یوم اردو اور قومی یوم تعلیم کی مناسبت سے عظیم مفکر اور شاعر مشرق علامہ اقبال اور عظیم مجاہد آزادی اور صاحب طرز ادیب مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں بروز جمعہ رات 8 بجے الاندلس کلب ہال ، الہلال میں محفل مذاکرہ و مشاعرہ منعقد ہوئی۔ محفل کا مبارک آغاز جناب محمد فاروق ندوی آسامی کی پر کشش تلاوت قرآن مجید سے ہوا، انہوں نے عمدہ تجوید کے ساتھ کتاب ہدایت کی چند آیتیں تلاوت کیں اورسلیس اردو زبان میں ان کا ترجمہ بھی پیش فرمایا۔
تقریب کی صدارت کاروان کے چیرمین اور قطر کے معروف بزنس مین جناب عظیم عباس نے فرمائی، مہمان خصوصی کی حیثیت سے قطر کی معروف سماجی شخصیت اور المایا انٹرنیشنل گروپ کے جنرل مینیجر جناب واشو مولچندانی نے شرکت فرمائی، جبکہ مہمان اعزازی کی نشست کو قطر یونیورسٹی میں یونیسکو چیر برائے آبی ٹکنالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید زیدی نے رونق بخشی۔ کاروان کے بانی صدر اور معروف ادیب و شاعر جناب عتیق انظر بھی مہمانوں کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ کاروان کے نائب صدر جناب شاہد خان نے اس محفل کی کامیاب نظامت فرمائی۔ ناظم نے تمہیدی گفتگو کے بعد صدر محفل اور مہمانوں کا تعارف کرایا اور خطبہ استقبالیہ پیش کرنے کے لئے کاروان کے جنرل سکریٹری اور قطر کے معروف شاعر جناب راشد عالم راشدکو مدعو کیا۔
جناب راشد عالم راشد نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کاروان کی تاسیس کے محرکات پر مختصر روشنی ڈالی ، انہو ں نے فرمایا کہ اس کاروان کی بنیاد ہماری اجتماعی محنت ،ادب سے محبت اور اردو زبان سے لگاؤ پر رکھی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کاروان کی تاسیس کا ایک مقصد اردو زبان کے تہذیبی حسن اور تہذیبی پیغام کو عام کرنا بھی ہے، آخر میں انہوں نے معزز مہمانان، شعرائے کرام اور سامعین کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں آپ حضرات کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ کاروان نہ صرف زندہ ہے بلکہ اپنے پیغام کی اشاعت میں سرگرم عمل بھی ہے، ہمیں اس روح کو زندہ رکھنا ہے اور کاروان کے مشن کو مل جل کر آگے بڑھانا ہے۔
محفل مذاکرہ اور مشاعرہ دو حصوں پر مشتمل رہی، مذاکرہ کی تقریب یوں ہوئی کہ عالمی یوم اردو اور قومی یوم تعلیم کی مناسبت سے علی الترتیب شاعر مشرق علامہ اقبال اور عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیات پر دو مقالے پیش کئے گئے، عالمی یوم اردو اور شاعر مشرق علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی شخصیت پر معروف شاعر و ادیب سید شکیل احمد نے مقالہ پیش فرمایا جبکہ قومی یوم تعلیم اور عظیم مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر کاروان اردو قطر کے میڈیا سکریٹری ڈاکٹر نشاط احمد صدیقی نے مقالہ پیش کیا۔ سید شکیل احمد نے علامہ اقبال کی شخصیت پر مختصرا روشنی ڈالتے ہوئے عالمی یوم اردو کے تعلق سے اپنے خیالات کا تفصیلی اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ اردو کی بقا اور فروغ کے لیے مغرب کی روش پر چلتے ہوئے ایک دن کی فکرمندی اور تقریبات کافی نہیں ہیں، بلکہ یہ وطیرہ تو اپنی زبان اور اپنی تہذیب کی وسیع تر ذمہ داریوں سے پہلو تہی کا بہانہ اور اس ضمن میں اپنی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کا ایک عنوان ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اردو ایک مظلوم زبان ہے، ہندوستان میں وہ سرکاری سرپرستی سے محروم ہے اور اسے عوامی زندگی سے بے دخل کرنے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں ، زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ غیروں کے ساتھ ساتھ اسے اپنوں کی جفا کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو لوگ اردو زبان سے مستفید ہوتے ہیں وہ بھی اسے ثانوی درجہ دیتے ہیں، اپنی اولاد تک کو اردو سے نابلد رکھتے ہیں ، یہ تو بھلا ہو اسلامی مدارس کا جن کے طفیل اردو کے قاری پیدا ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے یہ زبان واقعتا زندہ ہے۔ ڈاکٹر نشاط احمد صدیقی نے قومی یوم تعلیم کی مناسبت سے عظیم مجاہد آزادی مولانا ابولکلام آزاد علیہ الرحمہ کی شخصیت کا مختصر تعارف پیش کیا جس میں مولانا آزاد کی عبقریت ، تحریک آزادی میں ان کے کردار ، آزاد ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کی ترتیب و تشکیل میں ان کا حصہ ، اسلامی علوم و فنون پر ان کی گہری نظر ، ان کی دور اندیشی اور مستقبل بینی کی طرف جستہ جستہ اشارے کیے، یہ ذکر بھی آیا کہ مولانا کا شمار ان گنے چنے رہنماؤں میں ہوتا ہے جو آخر تک متحدہ قومیت کے وکیل رہے اور تقسیم پر اپنی رضامندی کی مہر ثبت نہیں کی، وہ اس پر بھی راضی نہیں تھے کہ انہیں صرف مسلمانوں کا لیڈر کہا اور سمجھا جائے۔
مذکورہ دونوں مقالوں کے بعد تقریب کے دوسرے جزو یعنی مشاعرہ کا آغاز ہوا۔ دوحہ کی مختلف اردو تنظیموں سے وابستہ ممتاز شعرا نے اس تقریب میں اپنے کلام کا جادو جگایا، یہ تقریب اگرچہ بڑی مختصر نوٹس پر منعقد کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود تقریبا ایک درجن شعرا نے کاروان کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس مشاعرہ میں شرکت فرمائی اور اسے ایک کامیاب مشاعرہ بنا نے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ذیل کی سطور میں شریک بزم شعرا کا منتخب کلام پیش کیا جاتا ہے:
عتیق انظر
ڈر جو اندر ہے اسے باہر بنانا ہے مجھے
ایک نیزہ اور اس پر سر بنانا ہے مجھے
اے خدائے پاک مجھ کو کوئی تیشہ دی جیے
درد کی دیوار میں اک در بنانا ہے مجھے
عزیز نبیل
پیاس کی سوندھی مہک صحرا کی ویرانی میں رکھ
اور سیرابی کا دکھ بہتے ہوئے پانی میں رکھ
دیکھ کیسے سلطنت کی رونقیں بڑھ جائیں گی
مجھ سا اک خود سر بھی یعنی اپنی سلطانی میں رکھ
ندیم ماہر
زمینی خوشبوئیں سب آسمانی رنگ میرے ہیں
بنفشیں کاسنی اور ارغوانی رنگ میرے ہیں
رہوں گا میر وغالب کی ہمیشہ شاعری بن کر
میں اردو ہوں یہ سارے جاودانی رنگ میرے ہیں
مقصود انور مقصود
اب روز جزا برپا محشر سے بھی پہلے ہو
تصویر قیامت کی آنکھوں نے اتاری ہے
دستورِ محبت ہے محبوب کی دل جوئی
یہ سوچ کے ہر بازی محبوب سے ہاری ہے
زوار حسین زائر
کیسے آزاد ہیں زنجیر لیے پھرتے ہیں
آج تک ہم تری تصویر لیے پھرتے ہیں
پہلے ہم خواب لیے پھرتے تھے گلیوں گلیوں
اور اب خواب کی تعبیر لیے پھرتے ہیں
مظفر نایاب
طِفلانِ چمن، خوف زدہ، سہمے ہوے ہیں
اک صدمہء آزارِ ہوس ناک سے اب تک
محبوس ہے مدت سے مگر دیکھیے نایاب
آسودہ ہے نخچیر بھی فِتراک سے اب تک
قیصر مسعود
انا کی تیغ کو رکھا نیام میں اور پھر
گلاب میں نے خریدے عدوئے جاں کے لیے
بچشم خشک ادا کی ہے رسم نوحہ گری
وفور اشک ضروری نہیں فغاں کے لیے
آصف شفیع
چلے جو ناؤ تو گرداب کھینچ لیتا ہے
کوئی تو ہے جو پس آب کھینچ لیتا ہے
سب اس کی سمت چلے آئے ہیں تو حیرت کیا
وہ ماہتاب ہے، مہتاب کھینچ لیتا ہے
اشفاق دیشمکھ
بعد برسوں روبرو جب آگیا بچپن کا پیار
آج اس نے تم نہیں اور نہ ہی میں نے تو کہا
آخرش بیگم کی آئی تربیت بھی سامنے
احتراماً میرے بچوں نے اسے پھوپھو کہا

راشد عالم راشد
کیسی رونق پر کشش کیسی فضا تھی تم نہ تھے
گلستاں میں گل بھی تھا باد صبا تھی تم نہ تھے
مری ضرورت پہ وقت مجھ سے ہی تھا گریزاں
اب اس کی بے وقت مہربانی کا کیا کروں میں
سید شکیل احمد
صبح نو آئے بھی گر دست کرامات کے ساتھ
وہی ہونا ہے جو ہوتا رہا حالات کے ساتھ
چاندنی ابر کے پردے میں مزہ دیتی نہیں
آسمان کھل کے برستا ہی نہیں رات کے ساتھ

کاروان اردو قطر کے بانی صدر اور عالمی شہرت یافتہ استاد شاعر اور ادیب جناب عتیق انظر کے ساتھ ہی اس مشاعرہ کے شعرا کی فہرست مکمل ہو گئی ، اب ناظم تقریب نے اسٹیج کا رخ کیا اور مہمان اعزازی پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید زیدی کو اظہار خیال کی دعوت دی، پروفیسر زیدی نے دونوں عظیم شخصیات کے بارے میں اپنے خیالات کاتفصیل سے اظہار کیا،آپ نے فرمایا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال علیہ الرحمہ نےامت کو بیداری کا پیغام دیا اور اسے خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی، مغرب میں اسلامی فلسفہ کا تعارف کرایا اور ناموس رسالت کا دفاع کیا، ان کا یہ شعر ذات رسالت مآبﷺ سے ان کے والہانہ تعلق کی دلیل ہے۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
پروفیسر زیدی نے عظیم مجاہد آزادی مولانا ابولکلام آزاد کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا نے مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کے وقت سے ہی عوامی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا، اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک نہر کی صفائی میں آپ نے عملی حصہ لیا تھا، آپ نے مزید فرمایا کہ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ 1898 میں ہندوستان واپسی کے بعد آپ کا قیام کلکتہ میں ہوا، یعنی آپ نے اسی شہر سے انگریزوں کو ہندوستان سے بھگانے کی جدوجہد شروع کی جس شہر سے انگریز سترہویں صدی کے دوران ہندوستان میں داخل ہوئے تھے، آپ نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے جو نظام تعلیم قوم کو دیا وہ امیر و غریب کے لئے یکساں تھا، اس میں ٹیوشن اور کوچنگ انڈسٹری کا کوئی دخل نہیں تھا، بگڑتے بگڑتے یہ نظام تعلیم آج ایسا ہو چکا ہے کہ معیاری تعلیم غریب اور متوسط طبقات کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے۔
مہمان اعزازی کے بعد مہمان خصوصی جناب واشو مولچندانی نے اپنے خیالات کا اظہا ر کرتے ہوئے کاروان اردو قطر کے چیرمین جناب عظیم عباس کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ میں اسٹیج کا آدمی نہیں ہوں لیکن اردو شاعری سے محبت کرتا ہوں ہوں اس لیے جب عظیم بھائی کی طرف سے اس پروگرام میں شرکت کی دعوت ملی تو میں انکار نہیں کر سکا ۔
آخر میں تقریب کے صدر اور کاروان اردو قطر کے چیرمین جناب عظیم عباس کو صدارتی کلمات کے لیے دعوت دی گئی ، انہوں نے مہمانان گرامی ، خصوصا جناب واشو مولچندانی کا شکریہ ادا کیا، اسی طرح انہوں نے شعرائے کرام اور معزز سامعین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قطر میں مجھے چالیس برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، میں چونکہ ممبئی میں پلا بڑھا تھا اس لئے اردو سے کوئی خاص انسیت نہیں تھی، لیکن دوحہ میں میری ملاقات کچھ ایسے دوستوں سے ہوئی جن کی وجہ سے میں اردو سے قریب ہوا اور پھر رفتہ رفتہ اس زبان سے ایسی محبت ہوئی کہ اب اس کے بغیر گزارا ممکن نہیں لگتا، انہوں کہا کہ ہم چند دوست صناعیہ میں علی بن علی کی فیکٹری میں جمعرات کی شام کو اردو کی محفلیں سجاتے تھے، اینٹیں جوڑ کر نشستیں بنائی جاتی تھیں، میری ڈیوٹی چائے سرو کرنے کی ہوتی تھی ، ملک مصیب الرحمن کھانے کا انتظام کرتے تھے اور اس طرح چند لوگ مل کر شعری اور ادبی محفلیں سجایا کرتے تھے، اس وقت صناعیہ میں کچھ بھی نہیں تھا ، 6 بجے کے بعد ہر طرف ہو کا عالم ہوتا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک دوحہ میں اردو زبان اور تہذیب کے سفر پر نظر دوڑاتا ہوں تو ایک طرح کی خوشی اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے، ایسا یقین ہوتا ہے کہ حالات کیسے بھی ہوں یہ زبان کبھی مٹ نہیں سکے گی۔ اس وقت مجھے ان لوگوں کی بڑی یاد آرہی ہے جن سے اردو کے حوالے سے دوستیاں رہیں اور اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے بالخصوص صبیح بخاری صاحب جو اللہ کو پیارے ہو گئے اور جن سے میری گہری دوستی اور بے تکلفی تھی ، اسی طرح حسن چوگلے صاحب کو بھی میں بہت مس کرتا ہوں جو اب اپنے وطن ہندوستان میں مقیم ہیں، اسی لئے میں ان سبھی لوگوں سے جو قطر میں اردو کے لئے کسی بھی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں یہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ آپس میں مل جل کر کام کریں ، اردو کے اس سفر کو مزید آگے بڑھائیں اور نئی منزلوں سے روشناس کریں۔
صدارتی کلمات کے بعد ناظم تقریب نے کاروان اردو قطر کے رابطہ سکریٹری جناب سید رفیع الدین کو اظہار تشکر کے لئے مدعو کیا، جناب سید رفیع الدین نے تمام مہمانان ، شعرا اور سامعین کا ان کی شرکت کے لئے شکریہ ادا کیا۔
اس کے ساتھ ہی ناظم نے تقریب کے اختتام کا اعلان کیا اور حاضرین کو عشائیہ کے لئے مدعو کیا۔
ڈاکٹر نشاط صدیقی
(میڈیا سکریٹری کاروان اردو قطر)

Address

822
Madinat Khalifah
812002

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karwan e Urdu Qatar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Karwan e Urdu Qatar:

Share