Karwan e Urdu Qatar

Karwan e Urdu Qatar Karwan-e Urdu Qatar Community

آہ طاہر فراز/आह ताहिर फ़राज़ زندگی تیرے تعاقب میں ہماتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیںطاہر فراز دھیمے سروں کے ممتاز غزل گو، گی...
25/01/2026

آہ طاہر فراز/आह ताहिर फ़राज़
زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
طاہر فراز
دھیمے سروں کے ممتاز غزل گو، گیت کار اور عالمی سطح پر مشاعروں کے مقبول شاعر کل ممبئی سے آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ پچھلے سال وہ کاروان اردو کے مشاعرے اور جشنِ فرحت احساس میں دوحہ آئے تھے تو ٹھیک ٹھاک لگ رہے، ایسا بالکل نہیں محسوس ہوا کہ ایک سال بعد وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے بچھڑ جائیں گے، وہ ایک نہایت مخلص اور ملنسار انسان تھے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

ज़िंदगी तेरे तआक़ुब में हम
इतना चलते हैं कि मर जाते हैं

धीमे सुरों के प्रतिष्ठित ग़ज़लकार, गीतकार और अंतरराष्ट्रीय स्तर पर मुशायरों के लोकप्रिय शायर कल मुंबई से आख़िरत की यात्रा पर रवाना हो गए। वे एक अत्यंत सच्चे, मृदुभाषी और मिलनसार इंसान थे।
ईश्वर उनकी आत्मा को शांति प्रदान करे और सभी परिजनों एवं चाहने वालों को यह दुख सहने की शक्ति दे।

کاروان اردو قطر کے زیرِ اہتمام سولو ڈرامہ اور محفلِ مشاعرہدوحہ 27 دسمبر/کاروان اردو قطر کے زیرِ اہتمام بروز ہفتہ، رات 8 ...
01/01/2026

کاروان اردو قطر کے زیرِ اہتمام سولو ڈرامہ اور محفلِ مشاعرہ
دوحہ 27 دسمبر/کاروان اردو قطر کے زیرِ اہتمام بروز ہفتہ، رات 8 بجے، بیساکھی ریسٹورنٹ الوکرہ میں ایک پروقار ادبی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے پہلے حصے میں ایک سولو ڈرامہ پیش کیا گیا جبکہ دوسرے حصے میں ایک شاندار محفلِ مشاعرہ منعقد ہوئی۔
تقریب کا مبارک آغاز قاری کلیم اللہ ندوی کی پُراثر تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ انہوں نے عمدہ تجوید اور خوش الحانی کے ساتھ قرآنِ مجید کی چند آیات کی تلاوت کی۔
اس بزم کی صدارت معروف سماجی خدمت گار اور محبِ اردو جناب شیخ تنویر احمد نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے کینیڈا سے تشریف لائے ہوئے معروف ڈرامہ نگار، مترجم اور شاعر جناب جاوید دانش نے شرکت فرمائی، مہمان اعزازی کی نشست کو معروف نغمہ نگار اور اہم شاعر جناب شکیل اعظمی نے رونق بخشی، جناب افضل الہ آبادی اور جناب دل خیر آبادی بطور مہمان شاعر اسٹیج پر جلوہ افروز ہوے۔

کاروان اردو قطر کے جنرل سیکریٹری اور معروف شاعر ڈاکٹر راشد عالم راشد نے تقریب کی ابتدائی نظامت کی، تمہیدی گفتگو کے بعد انہوں نے صدرِ محفل اور معزز مہمانوں کو اسٹیج پر مدعو کیا، جہاں ان کی خدمت میں گلدستے اور ہدیۂ خلوص پیش کیے گئے۔ بعد ازاں خطبۂ استقبالیہ کے لیے کاروان کے صدر اور باکمال شاعر جناب عتیق انظر کو دعوت دی گئی۔
جناب عتیق انظر نے اپنے استقبالیہ کلمات میں ڈرامہ نگار جناب جاوید دانش کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور ان کے ڈرامے ’’ہاں، میرا رضی آٹسٹک ہے‘‘ پر مختصر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تمام مہمان شعرا، صدرِ محفل جناب شیخ تنویر احمد اور حاضرینِ محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوے بقیہ تقریب کی نظامت کے لیے کاروان کے میڈیا سیکریٹری، معتبر ادیب و شاعر جناب سید شکیل احمد کو مدعو کیا۔ موصوف نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے سے نظامت کے فرائض انجام دیے اور نپے تلے جملوں اور بر محل شعروں سے محفل کو زعفران زار بنا دیا،
ابتدا میں انہوں نے کاروان کے سرپرست جناب شیخ تنویر احمد کے والدِ محترم کے انتقال پر تعزیتی کلمات پیش کیے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
بعد ازاں ناظم تقریب نے کینیڈا سے تشریف لائے ہوئے معروف ڈرامہ نگار جناب جاوید دانش کے ڈرامے کی کتاب ’’ہاں، میرا رضی آٹسٹک ہے‘‘ کا تعارف پیش کیا اور صدر کاروان جناب عتیق انظر، صدر تقریب جناب شیخ تنویر احمد، مہمان اعزازی جناب شکیل اعظمی اور دیگر معززین کے ہاتھوں اس کی باضابطہ رونمائی کی گئی۔ پھر جناب جاوید دانش نے نہایت درد انگیز اور پُرسوز انداز میں یہ ڈرامہ پیش کیا، جس نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔
یہ ڈرامہ دراصل ایک ماں کے دل کی وہ صدا ہے جو اپنے آٹسٹک بچے کے حوالے سے سماج سے مکالمہ کرتی ہے اور آٹزم کے بارے میں بیداری پیدا کرتی ہے۔ یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کے احساسات و تجربات کی نمائندگی ہے جو آٹزم کے ساتھ جینے اور جِلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
یہ سولو پرفارمنس ڈرامہ انیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محبت، شمولیت اور انسانی احترام کا پیغام سرحدوں کا محتاج نہیں۔ امید ہے کہ یہ ڈرامہ ہمارے سماج میں آٹزم کے بارے میں مثبت رویّوں اور بہتر اجتماعی شعور کو فروغ دے گا۔
ڈرامے کے بعد محفلِ مشاعرہ کا آغاز ہوا، بزم اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب احمد اشفاق اور سکریٹری جناب راقم اعظمی کئ دعوت پر ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے مہمان شعرا کے ساتھ دوحہ کی مختلف اردو تنظیموں سے وابستہ ممتاز شعرا نے اپنے دلکش کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرہ رات گیارہ بجے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
ذیل کی سطور میں شریک محفل شعرا کا منتخب کلام پیش کیا جاتا ہے:
شکیل اعظمی
دلی ہر رات ہمیں خواب میں پکارتی ہے
اور ہم نیند میں رنگون سے بندھے ہوے ہیں
ایک کاٹو تو کئی اور رگیں کٹتی ہیں
جتنے رشتے ہیں سبھی خون سے بندھے ہوے ہیں
جاوید دانش
نظم ۔۔۔ در شن
میں خفتہ گہر سمندر کا تو شور مچاتی ندی
میں جاتی رات کا کوکب تو سبی صبح ساون کی
عتیق انظر
پھول کی ترقی کی بات ہوتی ہے لیکن
کتنی ادھ کھلی کلیاں
اپنے نرم پاؤوں میں آج بھی غلامی کی
بیڑیاں بجاتی ہیں
میں زمین پر رہ کر اپنے جیسے لوگو سے
دوستی کا قائل ہوں
کیوں مری محبت میں آسمان کی حوریں
چوڑیا ں بجاتی ہیں
عزیز نبیل
آسیب سا جیسے مرے اعصاب سے نکلا
یہ کون دبے پاؤں مرے خواب سے نکلا

گزر گیا تھا میں اپنی رو میں زمیں سے آگے خلا سے آگے
سو اب میں اپنی روانی روکے بچھڑنے والو کو تک رہا ہوں

احمد اشفاق
نام تیرا آگیا تھا درمیان گفتگو
میری آنکھوں کے جزیرے میں سمندر آگیا

شہر بے نور کو دے دینا بشارت اشفاق
ہم بھی سورج کو ہتھیلی پہ اٹھائے ہوئے ہیں
دل خیر آبادی
مجھ پہ صیاد یہ جفا نہ کرے
جسم سے بال و پر جدا نہ کرے

رب نے فرعون کو عبرت کے لیے دنیا میں
ایک سامان نمائش کا بنا رکھا ہے
افضل الہ آبادی
بچھا کے دل کا مصلی نماز پڑھتا ہوں
حریم جاں کا مؤذن کیا گیا ہے مجھے

مجھ کو اک ذرۂ خاکی ہی نہ سمجھو لوگو
کن مراحل سے میں گزرا ہوں بشر ہونے تک
مقصود انور مقصود
کھلتے نہیں ہیں لب مرے شاہوں کی شان میں
لکنت نہیں ہے دوستو میری زبان میں

وہ تپتی ریت پہ ننگے بدن سلا ہی دیا
میں چیختا رہا مقصود ہوں بلال نہیں
ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش
کسی کے بعد اندھیرا نہ ہوگا محفل میں
یہ رسم شمعیں جلانے کی برقرار رہے

چاند کوئی راستہ تکتا نہ ہو دہلیز پر
شام کو سورج کی دلچسپی بھی گھر جانے میں ہے
راشد عالم راشد
اور کتنے ہیں جہاں حد نظر کے آگے
اک سفر اور ہے ہر ایک سفر کے آگے

منتظر بیٹھا تھا میں آہٹ ہوئی آگے بڑھا
یوں لگا تم آ گئے لیکن ہوا تھی تم نہ تھے
راقم اعظمی
الزام میرے قتل کا ہے جن کے سروں پر
دنیا انہی لوگو کو بچانے میں لگی ہے
وہ بات تری آ کے مرے دل پہ لگی ہے
جو بات ابھی تو نے اشاروں میں کہی ہے
مہمان اعزازی جناب شکیل اعظمی نے اظہار خیال کرتے ہوے کاروان کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عتیق انظر نے بہت فکر انگیز نظمیں سنائیں انھوں نے دنیا میں ہونے والے ظلم و تشدد، نا انصافی، نسلی اور مذہبی بھید بھاواور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف بہت عمدہ نظمیں کہی ہیں جو ان کی کتاب "اچھے دن کا سوگ" میں چھپ چکی ہیں، یہ ان کا ایسا کام ہے جو انھیں زندہ رکھے گا، مہمان اعزازی نے صدر تقریب جناب شیخ تنویر احمد کی اردو دوستی اور سرپرستی کے جذبے کو سراہا اور ان کا استقبال کیا، مہمانِ خصوصی جناب جاوید دانش نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے منتظمین، شعرا اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ:
“یہ نشست بہت خصوصی تھی۔ عام طور پر مشاعروں میں ڈرامہ پیش نہیں کیا جاتا، مگر آپ نے نہ صرف سنا بلکہ دل سے سراہا۔ امید ہے آپ اس پیغام کو آگے بڑھائیں گے۔”
صدرِ مشاعرہ جناب شیخ تنویر احمد نے صدارتی کلمات میں کاروان اردو قطر، مہمانانِ گرامی خصوصاً جناب جاوید دانش، تمام شعرا اور معزز سامعین کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ مشاعروں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔
آخر میں کاروان کے سرپرست جناب یاور حسین نے تمام مہمانان، شعرا اور سامعین کا شکریہ ادا کیا، اس کے ساتھ ہی تقریب کے اختتام کا اعلان کیا گیا اور حاضرین کو عشائیے کی دعوت دی گئی۔
ڈاکٹر راشد عالم راشد
جنرل سیکریٹری، کاروان اردو قطر

کاروانِ اردو قطر کے زیر اہتمام خصوصی شعری نشست دوحہ میں معروف ادبی تنظیم کاروانِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر عتیق...
20/11/2025

کاروانِ اردو قطر کے زیر اہتمام خصوصی شعری نشست
دوحہ میں معروف ادبی تنظیم کاروانِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام ممتاز شاعر عتیق اَنظر کی رہائش گاہ پر ایک خوبصورت اور یادگار شعری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست کا مقصد ہندوستان سے تشریف لائے مشہور نغمہ نگار اور اہم شاعر جناب شکیل اعظمی اور معروف شاعر جناب عادل رشید کی آمد کا خیرمقدم اور ان کے اعزاز میں ایک ادبی محفل کا اہتمام تھا۔
نشست کی صدارت جناب شکیل اعظمی نے فرمائی جبکہ جناب عادل رشید نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے محفل کی شان میں اضافہ کیا اور نظامت کے فرائض جناب سید شکیل احمد نے ادا کیے، نشست کا ماحول نہایت پُرسکون، باوقار اور ادب دوست رہا، جہاں شعرا کے کلام کو دل کی گہرائیوں سے سراہا گیا۔
محفل کے آغاز میں معروف خوش گلو جناب ابوالخیر نے نعتیہ کلام پیش کیا بعد ازاں شعرا نے یکے بعد دیگرے اپنے منتخب اور معیاری کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ محفل میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
جناب شکیل اعظمی (صدرِ محفل)، جناب عادل رشید (مہمانِ خصوصی)، عتیق اَنظر (میزبانِ محفل)، عزیز نبیل احمد اشفاق، آصف شفیع، راشد عالم راشد، سید شکیل اور راقم اعظمی۔
ہر شاعر نے اپنے منفرد اسلوب، لب و لہجے اور فکری جہات سے بھرپور کلام پیش کیا، جسے سامعین نے دل کھول کر سراہا، غزلوں اور بطور خاص نظموں کی خوبصورت پیشکش نے محفل کو ایک خاص ادبی رنگ عطا کیا۔ نوجوان اور سینئر شعرا کا یکجا ہونا اور یکساں داد پانا اس بات کی علامت تھا کہ دوحہ میں اردو ادب کی محبت اور روایت پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔
آخر میں میزبانِ محفل عتیق اَنظر نے تمام شعرا اور شرکائے نشست کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کی ادبی نشستوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
یہ نشست کاروانِ اردو قطر کی ادبی سرگرمیوں میں ایک خوشگوار اضافہ ثابت ہوئی اور حاضرین کے لیے یادگار لمحوں کا خزانہ چھوڑ گئی۔
نشست رات ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوکر ساڑھے دس بجے اختتام پذیر ہوئی۔
سید شکیل احمد
(میڈیا سکریٹری کاروان اردو قطر)

کاروان اردو قطرکے زیر اہتمام اعزازی شعری نشست ( دوحہ ) خیلجی ممالک میں اپنی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں پہچان رکھنے...
29/06/2025

کاروان اردو قطرکے زیر اہتمام اعزازی شعری نشست
( دوحہ ) خیلجی ممالک میں اپنی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں پہچان رکھنے والی ادبی تنظیم “ کاروان اردو قطر “ نے مورخہ 26 جون کو شام ساڑھے آٹھ بجے “کاشانہ عتیق انظر” پر ایک شاندار شعری نشست کا انعقاد کیا۔ اس شام کی منفرد وممتاز حیثیت تین بیرونی مہمانوں کی شرکت سے وابستہ تھی ۔ معروف افسانہ نگار ، شاعر اور نقاد پروفیسر غضنفر علی اور اپنے سخن و شخصیت سے گنگا جمنی تہذیب کی عملی و فکری نمائندگی کرنے والے شاعر ش*ذ جہانی ( آلوک سریواستو) کی ہندوستان سے اور کاٹ دار لہجے کے بھر پور شاعر یونس عظیم کی حیدرہ آباد، پاکستان سے آمد نے اس شام کی رونق اور وقار میں کافی اضافہ کردیا تھا۔
کاروان اردو قطر نے مہمانوں کا شایان شاں استقبال کرتے ہوے ان کی خدمت میں شال پیش کیا۔ اس محفل کو ان کی آمد سے منسوب کرتے ہوئے کاروان اردو قطر کے بانی صدر عتیق انظر نے کہا آج کی یہ شام دراصل ہمارے معزر مہمانوں سے ملاقات اور استفادے کا بہانہ ہے ۔ قطر میں موجود اہلیان اردو کے لیے بیک وقت ان تین باوقار مہمانوں کی آمد ایک خوشکوار اتفاق ہے اور اس کا جشن بہر حال بنتا ہے ۔
کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر راشد عالم نے شعراء اور سامعین کا پر تپاک استقبال کیا اور اردو زبان وادب کے فروغ و اشاعت کے لیے کاروان اردو قطر کی بے لوث اور مخلصانہ کوششوں کے یونہی جارو ساری رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
شعری دور سے پہلے پروفیسر غضنفر علی نے اپنا بہت ہی پر اثر افسانہ “ ڈگڈگی “ پیش کیا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا ۔ اس کے بعد پر تکلف عشائیہ کا دور چلا اور پھر شعری محفل کا آغاز ہوا۔ راقم اعظی اپنی خوبصورت غزل کے ساتھ مطلع سخن پر رونما ہوئے اور پوری محفل کو تابندہ و منور کردیا۔ بعد ازاں سید شکیل احمد ، ڈاکڑ راشد عالم ، مقصود انور مقصود ، عتیق انظر ، یونس عظیم ۔ ش*ذ جہانی اور پروفیسر غضنفر علی نے اپنے بہترین کلام پیش کیے اور سامعین سے بھرپور داد وتحسین وصول کی ۔
اس شعری نشست کی صدارت پروفیسر غضنفر علی نے فرمائی جبک مہمانان خصوصی اور اعزازی کی حیثیت سے ش*ذ جہانی اور یونس عظیم نے شرکت فرمائی ۔ نظامت کی ذمہ داری سید شکیل احمد نے بحسن وخوبی انجام دی ۔
کاروان اردو قطر کے نائب صدر ، محمد شاہد خان کے اظہار تشکر کے ساتھ اس خوبصوت اور یادگار شام کے اختتام کا اعلان ہوا۔
سید شکیل احمد
میڈیا سکریٹری

دوحہ میں جشن فرحت احساس اور عالمی مشاعرہ 2025 کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام کام یاب انعقاد دوحہ/31 جنوری 2025، رات آٹھ ب...
09/02/2025

دوحہ میں جشن فرحت احساس اور عالمی مشاعرہ 2025

کاروان اردو قطر کے زیر اہتمام کام یاب انعقاد

دوحہ/31 جنوری 2025، رات آٹھ بجے کاروان اردو قطر نے ڈی پی ایس ایم آئی ایس آڈیٹوریم، الوکرہ، قطر میں اپنا چھٹا عالمی مشاعرہ منعقد کیا، یہ مشاعرہ جشن فرحت احساس کے نام سے معنون تھا۔
فرحت احساس کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے، وہ مابعد جدید شاعروں میں بہت اہم اور نمایاں ہیں۔ انہوں نے اردو اور فارسی زبانوں کی کلاسیکی شعری روایت کو اپنے زمانے کے مضامین اور اسلوب اظہار سے ہم آمیز کر کے ایک ایسا شعری بیانیہ ترتیب دیا ہے، جس میں کلاسیکی جمالیات کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے موجودہ دور کی انسانی صورت حال اور اس کے پیچیدہ تجربات کا فنی اظہار ممکن ہوا ہے۔ فرحت احساس کے شعری مضامین میں سیاسی جبر، اقتصادی استحصال ، اخلاقی وروحانی زوال اور جمالیاتی نابینائی کا دقیق اور گہرا احاطہ کرنے والا ایک ایسا اسلوب بیان نظر آتا ہے جو بہ یک وقت سہل بھی ہے اور مشکل بھی،البتہ یہی سہولت اور مشکل پسندی انہیں ان کے معاصرین کے درمیان ایک منفرد مقام اور امتیازی شان بھی عطا کرتی ہے۔
فرحت احساس ایک صاحب اسلوب نثر نگار بھی ہیں۔ انھوں نے دہلی سے شائع ہونے والے شمالی ہند کے سب سے بڑے اردور وز نامہ "قومی آواز" سے صحافتی وابستگی کے دوران تقریباً 500 کالم لکھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بہت سے ادبی اور تنقیدی مضامین بھی سپرد قلم کیے ہیں۔
2003 میں ہندوستان کے سب سے بڑے ادبی ادارہ ساہتیہ اکادمی نے ان کا مجموعہ کلام " میں رونا چاہتا ہوں" شائع کیا تھا۔ 2011 میں ان کی کتاب " شاعری نہیں ہے یہ" منظر عام پر آئی۔ 2017 میں انہوں نے اپنی کتاب " قشقہ کھینچ دیر میں بیٹھا" دیوناگری رسم الخط میں شائع کی۔
فرحت احساس 25 دسمبر 1950 عیسوی کو ہندوستان کے ایک تاریخی شہر بہرائچ (اتر پردیش) میں پیدا ہوے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی سے انگریزی اور اسلامیات کے مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1979 میں دہلی سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ "ہجوم "کے معاون مدیر کے طور پر کام کیا۔ 1987 میں اردو روزنامہ "قومی آواز" سے منسلک ہوئے اور کئی برس تک اس کے سنڈے ایڈیشن کی ادارت کی ۔ 1998 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی سے منسلک ہوے اور وہاں سے شائع ہونے والے دو تحقیقی جرائد " اسلام اینڈ ماڈرن ایج " اور "اسلام اور عصر جدید" کی ادارت سے وابستہ رہے۔ اسی دوران انہوں نے آل انڈیا ریڈیو اور بی بی سی کی اردو سروس سے حالات حاضرہ پر گفتگو اور تجزیے بھی نشر کیے۔ فرحت احساس اپنی نظریاتی وسعت اور تجربات کی انفرادیت کے لیے معروف ہیں۔ اردو، ہندی، برج، اودھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے علاوہ انگریزی اور مغربی زبانوں کے ادب سے گہری دلچسپی ہے۔ ہندوستانی اور مغربی فلسفہ سے بھی گہرا شغف ہے۔ اس وقت آپ ریختہ فاؤنڈیشن میں چیف ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔
صاحب جشن جناب فرحت احساس کے علاوہ اس عظیم الشان عالمی مشاعرہ میں ہندوستان سے جناب منصور عثمانی، جناب طاہر فراز، محترمہ سپنا مولچندانی، جناب انل دوبے، اور جناب طارق فیض تشریف لائے تھے، جبکہ پاکستان کی نمائندگی جناب صبا جاوید اور جناب علی زریون نے فرمائی ، قطر سے مقامی شعرا کی نمائندگی جناب عتیق انظر، جناب راشد عالم راشد اور جناب زوارحسین زائر کے حصہ میں آئی ۔
تقریبا ساڑھے آٹھ بجے شام سے شروع ہو کر رات ایک بجے تک جاری رہنے والی اس خوبصورت اور با وقار تقریب کی صدارت صاحب جشن جناب فرحت احساس نے فرمائی، تقریب کے مہمان خصوصی قطر کے معروف بزنس مین اور سماجی کارکن جناب ثناء اللہ عبد الرحمن اور مہمان اعزازی اتلیام انفراٹیک کمپنی ، انڈیا کے بانی شری راجیش کمار مشرا جی تھے۔ سامعین کی صفوں میں قطر کے اردو دوستوں اور ادب نوازوں کی ایک بڑی تعداد جلوہ افروز تھی جن میں شعرا اور فنکاروں کے علاوہ انڈین کمیونٹی کے کامیاب بزنس مین، سماجی خدمت گار اور ادبی و ثقافتی تنظیموں کے عہدیدار اور ذمہ دار بطور خاص تشریف لائے تھے۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز جناب محمد فاروق آسامی ندوی نے قرآن کریم کی تلاوت اور ترجمہ سے فرمایا ، جس کے بعد کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب راشد عالم راشد کی درخواست پر سبھی حاضرین نے مرحوم حسن عبد الکریم چوگلے کی یاد میں د منٹ کے لیے خاموش کھڑے ہو کر ان کے لیے دعا ئے مغفرت کی ۔
اس تعزیتی کارروائی کے بعد کاروان اردو قطر کے چیئرمین، قطر کے معروف بزنس مین اور سماجی خدمت گار جناب عظیم عباس نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، اپنی تقریر میں انہوں نے صاحب جشن، شعرا کرام، مہمانان گرامی، اسپانسرز، اور سامعین کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کی شب ہمارے لیے بے حد اہم، تاریخی اور قیمتی ہے کہ ہمیں فرحت احساس جیسے عظیم شاعر کو روبرو سننے کا موقع ملے گا، عظیم عباس صاحب نے مزید فرمایا کہ اردو شعر وادب اور صحافت کے میدانوں میں فرحت احساس کی خدمات بے حد قدر و قیمت کی حامل ہیں جس کا ادراک کرتے ہوئے کاروان اردو قطر نے ان کی خدمت میں حاصل حیات ایوارڈ پیش کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ عظیم عباس صاحب نے اپنی تقریر میں مرحوم حسن عبد الکریم چوگلے کو بھی یاد کیا، مرحوم کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے فرمایا کہ میں نے مرحوم حسن بھائی کے ساتھ ایک عمر گزاری ہے، بزنس، سماجی خدمات اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں شانہ بہ شانہ ان کے ساتھ کام کیا ہے اور سچ یہ ہے کہ آگے کا سفر ان کے بغیر بہت مشکل نظر آرہا ہے، لیکن تقدیر الہٰی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے سوا چارہ نہیں، اللہ تعالیٰ مرحوم حسن بھائی کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی فیملی کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ بخشے۔
استقبالیہ تقریر کے بعد ڈاکٹر نشاط احمد صدیقی نے صاحب جشن اور صدر مشاعرہ جناب فرحت احساس کی شخصیت اور خدمات کے بارہ میں ایک مختصر تعارف حاضرین کے سامنے پیش کیا جس کے بعد مہمان خصوصی جناب ثناء اللہ کے دست مبارک سے صاحب جشن کی خدمت میں حاصل حیات ایوارڈ اور ایک لاکھ روپے کا چیک پیش کیا گیا۔
بعد ازاں کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب راشد عالم راشد نے صاحب جشن کو اپنے خیالات اور تاثرات کے اظہار کی دعوت دی، صاحب جشن اور صدر مشاعرہ جناب فرحت احساس نے اپنی تاثراتی گفتگو میں کاروان اردو قطر کے چیئرمین، بانی صدر، نائب صدر، سکریٹری جنرل اور کاروان کی پوری انتظامیہ کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوے فرمایا کہ میں اس اعزاز کا مستحق تو نہیں ہوں اور جب پہلی بار جناب عتیق انظر نے مجھے اس جشن کے بارے میں بتایا تھا اس وقت بھی میں نے انکار ہی کیا تھا، البتہ رفتہ رفتہ ان کا اصرار میرے انکار پر غالب آگیا اور اس طرح آپ کے سامنے حاضری کا موقع مل رہا ہے۔ جناب فرحت احساس نے مابعد جدید دور میں اور بالخصوص ٹیکنالوجیکل ایڈوانسمنٹ کے بالمقابل شاعری کے فن اور مشاعروں کی تہذیب کو درپیش چیلینجز کا ذکر کرتے ہوے فرمایا کہ جب ہماری نسل کے لوگوں نے شعر کہنا شروع کیا تھا اس وقت شعرا کے درمیان ایک تقسیم بڑی واضح تھی اور وہ یہ تھی کہ عوامی شاعر مشاعروں کے ذریعےاپنے فن اور کلام کی تشہیر کرتے تھے جبکہ غیر عوامی شعرا رسالوں میں چھپتے تھے، لیکن سوشل میڈیا آنے کے بعد یہ تقسیم ختم ہوگئی ہے اور اب مشاعروں کے کم از کم معیار کو باقی رکھنے کے لیے بھی دیگر متبادل تدابیر سوچنے کی ضرورت ہے، مستقبل قریب میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کی آمد سے ان چیلینجز کی سنگینی مزید بڑھنے والی ہے۔
صاحب جشن کی نہایت مفید اور پر مغز تقریر کے بعد ان کے ہی دست مبارک سے کاروان کے یادگاری مجلہ کا اجرا عمل میں آیا، یہ مجلہ کاروان اردو قطر اور اس کی سرگرمیوں کے مختصر تعارف، صاحب جشن کے گوشے اور مشاعرے میں شامل شعرا کے کلام پر مشتمل ہے۔
یہاں تک تقریب کی کامیاب نظامت کاروان اردو قطر کے جنرل سکریٹری اور دوحہ کے معروف شاعر جناب راشد عالم راشد نے کی، مجلہ کی رسم رونمائی کے بعد انہوں نے کاروان اردو قطر کے بانی صدر جناب عتیق انظر کو مائک پر بلایا تاکہ وہ صدر مشاعرہ اور صاحب جشن کا شکریہ ادا کریں اور نظامت کی مسند ممتاز شاعر اور منفرد ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی کے حوالہ کریں۔ عتیق انظر صاحب نے جناب منصور عثمانی کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ میں یہ بات پورے اعتماد اور ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت بر صغیر میں جناب منصور عثمانی سے بہتر اور کہنہ مشق ناظم مشاعرہ موجود نہیں ہے، ان کی نظامت، مشاعرے کی کام یابی کی ضمانت ہے، یہ ہماری اور قطر کے باذوق ادب دوستوں کی خوش قسمتی ہے کہ اس مشاعرہ کی نظامت جناب منصور عثمانی فرمائیں گے۔
جناب منصور عثمانی نے نظامت کی مسند سنبھالی اور کاروان اردو قطر کے چیئرمین عظیم عباس، بانی صدر عتیق انظر، نائب صدر شاہد خان، سکریٹری جنرل راشد عالم راشد، اور کاروان کے تمام ارکان وکارکنان کا شکریہ ادا کیا، بطور خاص عتیق انظر صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عتیق انظر صاحب ایک منفرد لب ولہجہ کے معتبر شاعر ہیں، لیکن جب یہ مشاعرہ منعقد ہوتا ہے تو ان کا شاعر پیچھے چلا جاتا ہے اور کاروان کا صدر سامنے آ جاتا ہے، اس کے لیے ہم ان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی نے صاحب جشن اور صدر مشاعرہ جناب فرحت احساس کی تقریر کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ بارہ پندرہ منٹ کی اس تقریر میں موصوف نے فن شاعری، مشاعروں کی تہذیب اور عہد مابعد جدید کے ادبی، فنی اور سماجی چیلنجز کے تعلق سے جو علم ہم تک منتقل کیا وہ بلاشبہ دس بارہ کتابوں کا عطر ہے۔
بعد ازاں ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی نے مشاعرہ کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیااور اس شعر کے ساتھ مشاعرہ کے پہلے شاعر "طارق فیض" کو سامعین کے سامنے پیش کیا:
فکر غالب حسن میرمیری کماں کا پہلا تیر
طارق فیض سے شروع ہو کر مشاعرہ کی شمع جب فرحت احساس تک پہونچی تو رات کا ایک بج چکا تھا، قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ تین گھنٹوں کے اس دورانیہ میں گیارہ شاعروں نے اپنا کلام سنایا، ان میں نوخیز شعرا بھی تھے، مبتدی اور متوسط سطح کے شعرا بھی ، اور فرحت احساس، جاوید صبا اور منصور عثمانی جیسے بزرگ، کہنہ مشق اور استاد شعرا بھی ، لیکن شروع سے آخر تک سامعین کی دلچسپی مشاعرہ میں قائم رہی اور کسی بھی لمحہ ڈائس سے ان کا رابطہ کمزور نہیں ہوا جوکسی بھی کامیاب مشاعرے کے لیے ضروری ہے۔ مشاعرے کی اس تاریخی کامیابی میں جہاں ایک طرف بہت بڑا حصہ ناظم مشاعرہ جناب منصور عثمانی کا رہا، وہیں دوسری طرف دوحہ کے باذوق سامعین کو بھی اس کامیابی کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ مندرجہ ذیل سطور میں کچھ منتخب اشعار بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ سند رہے اور قارئین بھی کسی حد تک مشاعرے کی اس سحر انگیزفضا کا حصہ بن سکیں۔
فرحت احساس:
صحرا کے سنگین سفر میں آب رسانی کم نہ پڑے
ساری آنکھیں بھر کر رکھنا دیکھو پانی کم نہ پڑے
ذہن مسلسل قصے سوچیں ہونٹھ مسلسل ذکر کریں
صبح تلک زندہ رہنا ہے، کہیں کہانی کم نہ پڑے
عشق نے سونپا ہے مجھ کو اک صحرا کی تعمیر کا کام
اور ہدایت کی ہے ذرہ بھر ویرانی کم نہ پڑے
زمیں نے لفظ اگایا نہیں بہت دن سے
کچھ آسماں سے بھی آیا نہیں بہت دن سے
یہ شہر وہ ہے کہ کوئی خوشی تو کیا دیتا
کسی نے دل بھی دکھایا نہیں بہت دن سے
ہم اپنی مملکت درد میں اکیلے ہیں
ہماری کوئی رعایا نہیں بہت دن سے
جاوید صبا:
ترا نیاز مند ہوں نیاز کے بغیر بھی
دلیل کے بغیر بھی جواز کے بغیر بھی
مثال کیا کہ سر بسر ترا وجود شاعری
کلام کے بغیر بھی بیاض کے بغیر بھی
گزر رہی تھی زندگی گزر رہی ہے زندگی
نشیب کے بغیر بھی فراز کے بغیر بھی
تری نگاہ خود نگر دلوں کو مات کر گئی
لڑائی کے بغیر بھی محاذ کے بغیر بھی
روا ہے عشق میں روا مگر یہ سجدۂ وفا
اذان کے بغیر بھی نماز کے بغیر بھی
منصور عثمانی:
ہونٹوں پہ سب کے جام کسی دوسرے کا ہے
یہ کیسا انتظام ترے میکدے کا ہے
میں نے تو زندگی کو ترے نام کر دیا
اب مجھ کو انتظار ترے فیصلے کا ہے
دیکھے ہے روز تجھ کو نئے رنگ روپ میں
کیسا بھلا نصیب ترے آئینے کا ہے
طاہر فراز:
اب کے برس ہونٹوں سے مرے تشنہ لبی بھی ختم ہوئی
تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی
کیسا پیار ، کہاں کی الفت ، عشق کی بات تو جانے دو
میرے لیے اب اس کے دل سے ہمدردی بھی ختم ہوئی
شجر ہجر ہے تازہ تازہ آنکھوں کی برساتوں سے
برگ وصل کی کیا پوچھو ہو اس کی نمی بھی ختم ہوئی
شاید زندہ رہنے کے آداب ہیں پیاس اور در بدری
میں نے جب ایسے سوچا تو مایوسی بھی ختم ہوئی
عتیق انظر:
دل کے آنگن میں کوئی یاد ستارہ چمکا
میری بے نور سی آنکھوں میں اجالا چمکا
شام کے ساتھ یہ دل ڈوب رہا تھا لیکن
یک بیک جھیل کے اس پار کنارا چمکا
ہر گلی شہر کی پھولوں سے سجی میرے لیے
ہر دریچے میں کوئی چاند سا چہرہ چمکا
کتنے تاروں نے لہو نذر کیا ہے اپنا
تب کہیں رات کے سینے سے سویرا چمکا
علی زریون:
پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے
جب عشق دیکھ لیں گے تو سر پر بٹھائیں گے
تو تو پھر اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا
ہم تیرے دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیں گے
غالبؔ نے عشق کو جو دماغی خلل کہا
چھوڑیں یہ رمز آپ نہیں جان پائیں گے
قبلہ کبھی تو تازہ سخن بھی کریں عطا
یہ چار پانچ غزلیں ہی کب تک سنائیں گے
آگے تو آنے دی جیے رستہ تو چھوڑیے
ہم کون ہیں یہ سامنے آ کر بتائیں گے
سپنا مولچندانی:
جب تلک وہ نظر نہیں آتا
درد دل کا ابھر نہیں آتا
جس کے حصہ میں ہوں سفر نامے
اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا
یہ محبت کی ایک خوبی ہے
عیب کوئی نظر نہیں آتا
کتنا دشوار ہے سفر میرا
جس میں کوئی شجر نہیں آتا
زوار حسین زائر:
میں نے اس کو اور میرے دل نے سمجھایا مجھے
تب کہیں جا کر میاں منطق سمجھ آیا مجھے
عشق کا آسیب ہے دیوار کے دونوں طرف
اپنے جیسا مل گیا ہے ایک ہمسایہ مجھے
کوئی آیا ہی نہیں ، آہٹ کہاں سے آئے گی
میں نے بتلایا مجھے اور میں نے سمجھایا مجھے
راشد عالم راشد:
حدیث دل سنانا تھا ٹھہر جاتے تو اچھا تھا
ہمارے خواب دل کے بھی سنور جاتے تو اچھا تھا
ہم ان کی خامشی کو بس رضامندی سمجھ بیٹھے
گزارش پر وہ پہلے ہی مکر جاتے تو اچھا تھا
خرد نے دشت کی دشواریوں پر ضوفشانی کی
جنوں میں ہم اگر حد سے گزر جاتے تو اچھا تھا
طارق فیض:
ذہن و دل میں جانے کیا کیا رکھا ہے
ان دونوں کو کس نے الجھا رکھا ہے
دل رہتا ہے ایسے میرے سینے میں
جیسے اس کو زندہ دفنا رکھا ہے
میں نے تیری یادوں کو زندہ رکھا
اور یادوں نے مجھ کو زندہ رکھاہے

ڈاکٹر نشاط صدیقی
(میڈیا سکریٹری کاروان اردو قطر)

گھاس کی طرح پڑے ہیں ہم لوگ نہ  بلندی  ہے  نہ  گہرائی  ہے*******میں رہنے والا شام وسحر سے پرے کا ہوں ڈالا گیا ہوں شام و س...
29/01/2025

گھاس کی طرح پڑے ہیں ہم لوگ
نہ بلندی ہے نہ گہرائی ہے
*******
میں رہنے والا شام وسحر سے پرے کا ہوں
ڈالا گیا ہوں شام و سحر کے حساب میں
****
بدن کے سرخ پرندے کبھی ذراہل بھی
لہو کی شاخ سے آگے ہے تیری منزل بھی
*****
یہ جو ہے خاک کا اک ڈھیرل بدن ہے میرا
وہ جو اڑتی ہوئی پھرتی ہے قبا میری ہے
*****
خواہش تھی آبشار محبت میں غسل کی
ہلکی سے اک پھوار ہی میں گُھل گیا بدن
******
~ فرحت احساس - Farhat Ehsas

तुम्हारे प्यार की ग़ज़लें  लबो रुख़सार की गज़लेंलगे जब भूख तब लगती सभी बेकार की ग़ज़ले।। हमेशा सज संवर कर राजधानी से चली लेकिन...
29/01/2025

तुम्हारे प्यार की ग़ज़लें लबो रुख़सार की गज़लें
लगे जब भूख तब लगती सभी बेकार की ग़ज़ले।।
हमेशा सज संवर कर राजधानी से चली लेकिन
हमारे गाँव तक पहुंची नहीं सरकार की ग़ज़लें।।
#डॉ_अनिलचौबे | .anilchoubey

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

جس کے حصہ میں ہوں سفر نامےاس  کے  حصہ میں  گھر نہیں آتاजिस के हिस्से में हों सफ़र-नामेउस के हिस्से में घर नहीं आताملیے م...
27/01/2025

جس کے حصہ میں ہوں سفر نامے
اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا
जिस के हिस्से में हों सफ़र-नामे
उस के हिस्से में घर नहीं आता


ملیے محترمہ سپنا ملچندانی سے
31 جنوری شام ساڑھے سات بجے

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

تمام ضابطے منسوخ ہوں علی زریون زمین پہ صرف محبت بحال کی جائےمحترم على زريون |   DPS- MIS Auditorium Al Wakrah 31st Janua...
27/01/2025

تمام ضابطے منسوخ ہوں علی زریون
زمین پہ صرف محبت بحال کی جائے
محترم على زريون |

DPS- MIS Auditorium Al Wakrah
31st January 2025
Time : 7:30 PM

ایک ہی پھول سے سب پھولوں کی خوشبو آئےاور  یہ جادو  اسے  آئے  جسے  اردو  آئےجاوید صبا - Jawaid Saba DPS-MIS AL-Wakra 31st...
26/01/2025

ایک ہی پھول سے سب پھولوں کی خوشبو آئے
اور یہ جادو اسے آئے جسے اردو آئے

جاوید صبا - Jawaid Saba

DPS-MIS AL-Wakra
31st January 2025
Time : 7:30 PM

Address

822
Madinat Khalifah
812002

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karwan e Urdu Qatar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Karwan e Urdu Qatar:

Shortcuts

Share