01/01/2025
https://www.facebook.com/share/p/18oePJQg65/
سال 2024 سے 2025 میں
سال 2024 اپنے اختتام کو پہنچا آج 2025 کی پہلی صبح ہے۔گزشتہ رات سٹی پریس کلب ظفروال کی ٹیم نے صدر فرحان اعجاز کی سربراہی میں ایک ایونٹ کا انعقاد کیا جس میں ایک لائیو سیشن کر کے لاکھوں کی تعداد میں ہمارے فالوورز جو پاکستان میں بستے ہیں اور اوورسیز پاکستانی ہیں ان کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیا۔لیکن کچھ لنڈے کے دانشور رات کے مفکرین اسلام بنے ہوئے ہیں،جنہیں شاید غسل کے فرائض بھی نہ آتے ہوں۔ وہ پیر پیر طریقت رہبر شریعت بن کر تنقید تنقید اور تنقید ہی کری جا رہے ہیں۔ میرا ان سب سے سوال ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش ان سے پوچھی جائے تو اسی عیسوی سال میں بتائیں گے۔ شادی بیاہ کی تاریخ شادی کارڈز پر اسی سال کے تخت نوٹ کریں گے اور کروائیں گے۔ کسی کے ہاں مہمان جانے کا یا آنے کا اسی تاریخ کے متعلق کہیں گے۔ اپنی پلاننگ اپنے معاملات طے کرتے وقت ان کا مفکر پن کہیں تیل لینے گیا ہوتا ہے؟
پہلی بات یہ کہ ہمارے ہاں ٹینشن اور پریشانی کے گئے گزرے دور میں خوشیاں ہیں ہی کتنی؟
اگر ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اکٹھے بیٹھ کر منا لیا جائے تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟
ہمارے معاشرے میں اس فکس سوچ کے چند لوگوں کو اکٹھے بیٹھنا ، خوشیاں منانا، ہنسنا ہنسانا برداشت نہیں ہوتا !
اللہ والیو ! اپنے مطالعہ کو وسیع کریں۔ اپنے ذہنوں میں وسعت پیدا کریں۔ محبتیں سمیٹیں اور محبتیں بانٹیں۔ خوش رہیں ، خوش رکھیں۔دوسرے کی خوشیوں کو برداشت کرنے کی ہمت جرآت اور حوصلہ پیدا کریں۔
جیو اور جینے دو
رانا نعیم صفدر
چیف ایڈیٹر روزنامہ صدائے نارووال
نمائندہ پاکستان ٹیلی ویژن ظفروال