19/05/2026
اللہ اکبر… ایک درد بھری حقیقت
گھر میں کئی دن سے چولہا نہیں جلا تھا۔ نہ آٹے کا ڈبہ بھرا تھا، نہ گھر میں کوئی ایسا سہارا تھا جو بچوں کی بھوک مٹا سکتا۔ ماں ہر دن اسی فکر میں ڈوبی رہتی کہ آج بچوں کو کیا کھلاؤں گی؟
آخر وہ لمحہ آ ہی گیا جب اس کے پاس کچھ بھی نہ بچا۔ نہ کھانے کو کچھ، نہ مانگنے کو کوئی دروازہ۔ بھوکے بچوں کی آنکھوں میں آنسو اور ماں کے دل میں بے بسی نے اسے توڑ دیا۔
اسی بے بسی کے عالم میں اس نے ایک آخری فیصلہ کیا…
اپنے جگر کے ٹکڑے کو لے کر وہ فاروقی یتیم خانہ پہنچی۔ قدم لرز رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں یہ دعا کہ شاید یہاں اس کے بچے کو وہ زندگی مل جائے جو وہ خود نہ دے سکی۔
وہ ماں روتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ سکی:
"میرے پاس اسے کھلانے کو کچھ نہیں… اللہ کے واسطے اسے سنبھال لیں۔"
یہ منظر صرف ایک ماں کی مجبوری نہیں تھا… یہ غربت، بے بسی اور وقت کے سخت امتحان کی وہ تصویر تھی جو دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔
لیکن اسی لمحے امید کی کرن بھی روشن ہوئی، کیونکہ ایسے ادارے جہاں یتیم اور بے سہارا بچوں کو سہارا ملتا ہے، وہ کسی رحمت سے کم نہیں ہوتے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
کسی کے گھر کی بھوک کو معمولی نہ سمجھیں
یتیم اور غریب بچوں کا سہارا بننا عبادت ہے
اور انسانیت کا سب سے بڑا درجہ خدمت ہے
اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایسے مجبور لوگوں کا سہارا بن سکیں… آمین۔فاروقی_یتیم_خانہ ٰ_کھال_مہم