Brain March

Brain March we provide tools,books and method to apply magical math in schools.

which makes kids not only calculator free but also enhance their power of focus, photoic memory, auditory smart, improves their expressive skills and their general memory.

15/04/2025

ہمارے بائیکاٹس کی تاریخ اور پس منظر

1093عیسوی کو امام غزالی نے اپنی کتاب ”رد فلسفہ“ میں مقدمہ پیش کیا کہ سائنسی علوم اور علم ہندسہ شیطانی علوم ہیں ۔ہمیں ان کا حصول ترک کر کےروحانیت اور تصوف کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانا چاہیے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے امام غزالی کے فلسفے کو قبول کر کے سائنسی علوم کا بائیکاٹ کر دیا۔ نتیجتا وہ مسلمان امہ جو تمام سائنسی علوم اور ایجادات کی سرخیل تھی آہستہ آہستہ ساٸنسی اور علمی میدان میں زوال پذیر ہوتی چلی گٸی۔ 1440 عیسوی میں جرمنی میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہوئی۔ 1485 میں پرنٹنگ پریس مسلمانوں کے خلیفہ سلطان با یزید کے دربار میں فروخت کے لیے پیش کی گئی تو سلطان بایزید کے دربار میں مقیم مفتی اعظم نے یہ فتوی دیا کہ پرنٹنگ پریس پر کتابیں چھاپنا ایک حرام عمل ہے۔ لہذا مسلمانوں نے پرنٹنگ پریس کا بائیکاٹ کر کے کتابوں کو ہاتھوں سے لکھنا جاری رکھا۔ اہل مغرب کو کتابیں پرنٹنگ پریس پر چھپنے کی وجہ سے انتہائی ارزاں قیمت میں میسر آنے لگی جبکہ مسلمانوں میں کتابیں ہاتھ سے لکھنے کی وجہ سے انتہائی بیش قیمت اور صرف امرا کو میسر تھی۔ نتیجتا اہل مغرب میں علم عام ہو گیا اور مسلمانوں میں کتابیں بیش قیمت ہونے کی وجہ سے جہالت کے اندھیرے اور زیادہ گہرے ہوتے گٸے۔ اگر برے صغیر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں کے علماء نے انگریز کی نفرت میں جدید مغربی تعلیم کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی اکثریت ان پڑھ اور ہندوؤں کی اکثریت پڑھ لکھ کر انگریزوں کی حکومت میں بڑے بڑے انتظامی عہدوں پر فائز ہو گئی ۔ اسی علمی برتری کے زیر اثر ہندو ہم سے زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ ہو کر ابھرے اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ بغیر سوچے سمجھے جذبات کے زیر اثر ہواٸی جہاز سے لیکر ٹی وی, کیمرہ اور ہر اس ٹیکنالوجی کا بائیکاٹ کیا جو کہ ترقی کے لیے ضروری تھی اور اور بعد ازاں باامر مجبوری حالات کے جبر کے زیر اثر ہر اس چیز کو اپنایا بھی۔ جبکہ ماضی قریب سے لے کر اج تک درجنوں دفعہ امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ناکام کوششیں بھی کیں۔ لیکن اج تک نہ تو امریکہ کو اور نا اسراٸیل کو کوٸی خاص نقصان پہنچا بلکہ ہر بائیکاٹ مہم کے دوران اپنے ہزاروں لوگوں کو ضرور بے روزگار کر کے غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اگر اپ ہمارے بائیکاٹس کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اپ کو معلوم ہوگا کہ ان تمام بائیکاٹ کے پیچھے اکثر و بیش تر ہمارے علماء اور سیاسی مذہبی قیادت کارفرما ہے۔ اگر ہم اپنے علماء اور سیاسی مذہبی قیادت کے اخلاص پر شک نہ بھی کریں تو ان کی زمینی حقاٸق سےواقفیت اور دور اندیشی انتہائی مشکوک ہے۔ دشمن کی انگلی کاٹ کر اپنا پورا بازو قربان کر دینا کہاں کی دانشمندی اور دور اندیشی ہے؟ میری اپنے علماء اور سیاسی مذہبی قیادت سے انتہائی مودبانہ گزارش ہے کہ صبر و تحمل سے حالات کا جائزہ لیں اور مختصر مدتی منصوبہ میں پرامن اور بھرپور احتجاج کر کے اپنی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ عالمی سطح پر تمام مسلمان سربراہان کو اکٹھا کر کے کوئی لائحہ عمل طے کرے۔ جس کے زیر اثر اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں جاری خون ریزی کو فوراً بند کریے اور طویل مدتی منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول کی تحریک دیں۔ ورنہ ہمارے اس بائیکاٹ کا نتیجہ بھی ماضی کے تمام بائیکاٹس کی طرح ” ریچھ کا اپنے مالک کے منہ سے مکھی اڑانے کی مخلص کوشش میں پتھر مار کر ہلاک کرنے“ جیسا ہی نکلے گا۔

آپ کا خیر اندیش
عثمان الحق گھمن

12/04/2025

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور ہماری مذہبی سیاسی قیادت

پاکستان اور امت مسلمہ میں اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور و شور سےجاری ہے ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے مخلص اور سادہ لو کارکنوں سے انتہائی معذرت کے ساتھ , مجھے اس بائیکاٹ کے پیچھے ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی اپنی مردہ سیاست کو زندہ کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نظر نہیں اتا۔ اپ کو یقینی طور پر یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ پیپسی, کوکوکولا, کے ایف سی اور میکڈونلڈ میں سے کوئی بھی کمپنی کسی اسرائیلی یا یہودی کی ملکیت نہیں ۔ اپنا شک دور کرنے کے لیے آپ ان کمپنیز کے مالکان کے متعلق گوگل پر سرچ کر سکتے ہیں۔ اس بات سے اپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یا تو ہماری مذہبی سیاسی قیادت انتہائی لاعلم ہے یا پھر یہ اپنی مردہ سیاست کو زندہ کرنے کے لیے لوگوں کے بچوں کے منہ سے نوالہ تک چھیننے میں بھی کوٸی گناہ یا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ فلسطین, کشمیر,افغانستان ,شام لیبیا اور عراق جیسے ممالک میں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کشی ان کے لٸے آکسیجن ثابت ہوتی ہے اسطرح کے واقعات سے ان کو چار دن جلسے جلوس نکالنے اور عوامی سطح پر نمودار ہونے کا جواز مل جاتا ہے۔ لیکن غور کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ جماعتیں اپنے ملک میں ہونے والی قتل وغارت ,غریبوں کے استحصال ,رشوت ستانی, وساٸل کی غیر منصفانہ تقسیم پر کبھی ریلیاں نہیں نکالیں گے لیکن دوسرے ممالک میں ہونے والے مظالم پر فوری سڑکوں پر آجاٸیں گے کیونکہ اس مسٸلہ پر انہیں حکومت وقت کوٸی خاص روک ٹوک نہیں کرتی ۔ صرف جماعت اسلامی , وہ بھی چند ایک مساٸل پر کبھی کبھار سڑکوں پر نظر آ جاتی ہے۔ باقی جہاں تک بات باٸکاٹ کی ہے۔ اول تو یہ بائیکاٹ مہم چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوگی دوئم اگر یہ مہم کامیاب ہو بھی جائے تو پاکستانی لاکھوں لوگ اس کی وجہ سے بے روزگار ہو جائیں گے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس مہم کی وجہ سے بے روزگار ہو جانے والے لوگوں کے لیے کوئی فنڈ قاٸم کیا ہے تاکہ بے روزگار ہونے والے لوگوں کی مالی معاونت کی جا سکے لیکن ایسا ہرگز نہیں۔کیونکہ ان کی بلا سے ,اگر کوئی بے روزگار ہوتا ہے تو ہو ان کو تو بس اپنی مردہ سیاست کو زندہ رکھنا ہے ۔ جن کمپنیوں کے خلاف یہ برسر پکار ہیں ان کمپنیوں کے پاکستانی مالک تو کمپنیاں بند ہونے کی صورت میں بھی گزارا کر لیں گےلیکن بھوک اور افلاس تو ان کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین اور مزدور لوگوں کے گھروں میں رقص کرے گی۔ اگر ہماری سیاسی مذہبی جماعتوں کے دل میں فلسطینیوں کا حقیقی درد ہے تو ان کو چاہیے کہ یہ اپنی حکومت پر ریلیوں اور دھرنوں سے دباؤ بڑھائیں اور انکو اتنا مجبور کردیں کہ ہماری حکومت تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اسرائیل کا مقابلہ کرنے پر راغب کرے۔ لیکن یہ مذہبی جماعتیں ہماری حکومت اور عسکری قیادت کی بی ٹیم ہےاور ہمیشہ کسی بھی سیاسی احتجاج کے لیے اسلام اباد اور راولپنڈی کی طرف دیکھتے ہیں اور اگر وہاں سے اشارہ نہ ملے تو ارام سے اپنے بلوں میں گھس کے بیٹھے رہتے ہیں۔ باقی جہاں تک بات یہودی کمپنیوں کی ہے تو یہ فیس بک گوگل اور یوٹیوب کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے جن کے مالک حقیقی طور پر یہودی ہیں۔ لیکن یہ لوگ ان کمپنیوں کے بائیکاٹ کا ہرگز مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ اج کی سوشل میڈیا کے دور میں ان یہودیوں کی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے سے ان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اپنا ہر پیغام انہی کمپنیوں کے ذریعے نہ صرف لوگوں تک پہنچاتے ہیں بلکہ فیس بک اور یوٹیوب ان کی کمائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقی طور پر اسرائیل کے مظالم کا راستہ روکنا چاہتے ہیں تو انہیں عالم اسلام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کی مہم چلانی چاہیے ۔کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے بغیر ہم اسرائیل کا کبھی بھی مقابلہ نہیں کر سکتے اگر صرف رو رو کر بددعاٸیں دینے سے اسرائیل کا مقابلہ کیا جا سکتا تو پچھلے 50 سالوں سے ڈیڑھ دو ارب مسلمان اس کام کو پورے زور و شور سے کر رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ خدائے باری تعالی نے مسلمانوں کو اسراٸیل سے ہزاروں گنا زیادہ وسائل دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے اب خدا بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلمان ان وسائل کا درست استعمال کر کے یہودیوں کے مظالم کا مقابلہ کریں اور ابابیلوں کا انتظار نہ کریں لیکن اگر مسلمانوں کی اس بات کی سمجھ نہیں ارہی تو مولانا طارق جمیل اور مفتی تقی عثمانی کی رو رو کر مانگنے والی دعاؤں کے پیچھے امین امین کہتے رہیں اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنے لوگوں کے روزگار کو تباہ کرتے رہیں۔
نوٹ۔ میں نے یہ تحریر پیپسی کوکا کولا میکڈونلڈ اور کے ایف سی کے مالکوں کے متعلق مکمل تحقیق کر کے لکھی ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ یہ کمپنیاں یہودیوں کی یا اسرائیل کی ہیں تو میں اپنی درستگی کرنے کو تیار ہوں۔

امت مسلمہ کا خیر اندیش ۔ عثمان الحق گھمن

"Gear up for greatness with First Skin! Our basketball uniforms are designed for comfort, style, and performance on and ...
09/12/2024

"Gear up for greatness with First Skin! Our basketball uniforms are designed for comfort, style, and performance on and off the court. 🏀 "

Address

Street 2b Toheed Town
Sialkot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Brain March posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Brain March:

Share