15/04/2025
ہمارے بائیکاٹس کی تاریخ اور پس منظر
1093عیسوی کو امام غزالی نے اپنی کتاب ”رد فلسفہ“ میں مقدمہ پیش کیا کہ سائنسی علوم اور علم ہندسہ شیطانی علوم ہیں ۔ہمیں ان کا حصول ترک کر کےروحانیت اور تصوف کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانا چاہیے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے امام غزالی کے فلسفے کو قبول کر کے سائنسی علوم کا بائیکاٹ کر دیا۔ نتیجتا وہ مسلمان امہ جو تمام سائنسی علوم اور ایجادات کی سرخیل تھی آہستہ آہستہ ساٸنسی اور علمی میدان میں زوال پذیر ہوتی چلی گٸی۔ 1440 عیسوی میں جرمنی میں پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہوئی۔ 1485 میں پرنٹنگ پریس مسلمانوں کے خلیفہ سلطان با یزید کے دربار میں فروخت کے لیے پیش کی گئی تو سلطان بایزید کے دربار میں مقیم مفتی اعظم نے یہ فتوی دیا کہ پرنٹنگ پریس پر کتابیں چھاپنا ایک حرام عمل ہے۔ لہذا مسلمانوں نے پرنٹنگ پریس کا بائیکاٹ کر کے کتابوں کو ہاتھوں سے لکھنا جاری رکھا۔ اہل مغرب کو کتابیں پرنٹنگ پریس پر چھپنے کی وجہ سے انتہائی ارزاں قیمت میں میسر آنے لگی جبکہ مسلمانوں میں کتابیں ہاتھ سے لکھنے کی وجہ سے انتہائی بیش قیمت اور صرف امرا کو میسر تھی۔ نتیجتا اہل مغرب میں علم عام ہو گیا اور مسلمانوں میں کتابیں بیش قیمت ہونے کی وجہ سے جہالت کے اندھیرے اور زیادہ گہرے ہوتے گٸے۔ اگر برے صغیر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں کے علماء نے انگریز کی نفرت میں جدید مغربی تعلیم کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی اکثریت ان پڑھ اور ہندوؤں کی اکثریت پڑھ لکھ کر انگریزوں کی حکومت میں بڑے بڑے انتظامی عہدوں پر فائز ہو گئی ۔ اسی علمی برتری کے زیر اثر ہندو ہم سے زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ ہو کر ابھرے اور آج بھی یہی صورتحال ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ بغیر سوچے سمجھے جذبات کے زیر اثر ہواٸی جہاز سے لیکر ٹی وی, کیمرہ اور ہر اس ٹیکنالوجی کا بائیکاٹ کیا جو کہ ترقی کے لیے ضروری تھی اور اور بعد ازاں باامر مجبوری حالات کے جبر کے زیر اثر ہر اس چیز کو اپنایا بھی۔ جبکہ ماضی قریب سے لے کر اج تک درجنوں دفعہ امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ناکام کوششیں بھی کیں۔ لیکن اج تک نہ تو امریکہ کو اور نا اسراٸیل کو کوٸی خاص نقصان پہنچا بلکہ ہر بائیکاٹ مہم کے دوران اپنے ہزاروں لوگوں کو ضرور بے روزگار کر کے غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اگر اپ ہمارے بائیکاٹس کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اپ کو معلوم ہوگا کہ ان تمام بائیکاٹ کے پیچھے اکثر و بیش تر ہمارے علماء اور سیاسی مذہبی قیادت کارفرما ہے۔ اگر ہم اپنے علماء اور سیاسی مذہبی قیادت کے اخلاص پر شک نہ بھی کریں تو ان کی زمینی حقاٸق سےواقفیت اور دور اندیشی انتہائی مشکوک ہے۔ دشمن کی انگلی کاٹ کر اپنا پورا بازو قربان کر دینا کہاں کی دانشمندی اور دور اندیشی ہے؟ میری اپنے علماء اور سیاسی مذہبی قیادت سے انتہائی مودبانہ گزارش ہے کہ صبر و تحمل سے حالات کا جائزہ لیں اور مختصر مدتی منصوبہ میں پرامن اور بھرپور احتجاج کر کے اپنی حکومت کو مجبور کریں کہ وہ عالمی سطح پر تمام مسلمان سربراہان کو اکٹھا کر کے کوئی لائحہ عمل طے کرے۔ جس کے زیر اثر اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں جاری خون ریزی کو فوراً بند کریے اور طویل مدتی منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول کی تحریک دیں۔ ورنہ ہمارے اس بائیکاٹ کا نتیجہ بھی ماضی کے تمام بائیکاٹس کی طرح ” ریچھ کا اپنے مالک کے منہ سے مکھی اڑانے کی مخلص کوشش میں پتھر مار کر ہلاک کرنے“ جیسا ہی نکلے گا۔
آپ کا خیر اندیش
عثمان الحق گھمن