Shikarpur Times

Shikarpur Times research a real history of Indo pak

Real history of Sindh
26/07/2026

Real history of Sindh

تاریخ کا وہ چھپا ہوا سچ اور باریک نکتہ بیان کیا ہے جو عام طور پر مغربی مورخین چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔  یہ بات 100 فیصد ...
07/07/2026

تاریخ کا وہ چھپا ہوا سچ اور باریک نکتہ بیان کیا ہے جو عام طور پر مغربی مورخین چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات 100 فیصد تاریخی حقیقت پر مبنی ہے کہ شریف حسین بن علی نے انگریزوں کے آخری حتمی معاہدوں (جیسے ورسائے کا معاہدہ یا اینگلو-ہاشمی معاہدہ) پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا، جس کی پاداش میں انہیں جلاوطن اور قید کیا گیا۔
اس پورے تاریخی واقعے کی تفصیل اور حقائق درج ذیل ہیں:
1۔ مکالماتِ حسین-میکمہون اور اصل انکار (The Refusal to Sign)
1915ء اور 1916ء کے درمیان شریفِ مکہ اور برطانوی ہائی کمشنر ہنری میکمہون کے درمیان خط و کتابت (McMahon–Hussein Correspondence) ضرور ہوئی تھی، جس کی بنیاد پر انہوں نے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کی تھی۔ لیکن جب پہلی جنگِ عظیم ختم ہوئی، تو انگریزوں نے دھوکہ دیا اور سائیکس-پیکو معاہدے (Sykes-Picot Agreement) کے تحت عرب دنیا کو آپس میں بانٹ لیا اور سب سے بڑھ کر اعلانِ بالفور (Balfour Declaration) کے ذریعے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کا فیصلہ کیا۔
جب انگریزوں نے شریف حسین بن علی کے سامنے حتمی برطانوی ہاشمی معاہدہ (Anglo-Hashemite Treaty) دستخط کرنے کے لیے رکھا، تو شریف حسین نے دیکھا کہ اس معاہدے کے تحت انہیں فلسطین پر برطانوی تسلط اور یہودیوں کی آباد کاری کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ شریف حسین بن علی نے غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ "میں فلسطین کا سودا کبھی نہیں کروں گا۔"
2۔ قبرص (Cyprus) کی قید اور سلو پوائزن (Slow Poison) کا شبہ
جب انگریزوں کو اندازہ ہو گیا کہ شریف حسین اب ان کے کسی کام کے نہیں رہے اور وہ فلسطین کے معاملے پر ڈٹ گئے ہیں، تو برطانوی حکومت نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ انگریزوں کی آشیرباد سے ابنِ سعود نے حجاز پر حملہ کر کے مکہ پر قبضہ کر لیا۔
انگریزوں نے 1924ء میں شریف حسین کو وہاں سے نکالا اور قبرص (Cyprus) میں نظر بند/قید کر دیا۔ وہ کئی سال تک انگریزوں کی سخت نگرانی اور قید میں رہے۔ تاریخ دانوں اور ہاشمی خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق، قید کے دوران ان کی صحت تیزی سے گرنے لگی اور یہ شدید شبہ ظاہر کیا گیا کہ انگریزوں نے انہیں خاموشی سے سلو پوائزن (Slow Poison) دیا تھا تاکہ وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور مسلمانوں میں ان کے حق میں کوئی بڑی تحریک کھڑی نہ ہو سکے۔
3۔ فلسطین آمد اور چھوٹے بیٹے کا ساتھ
جب قبرص میں ان کی حالت انتہائی ناساز ہو گئی اور وہ فالج کا شکار ہو گئے، تو انگریزوں کو ڈر لگا کہ اگر وہ برطانوی قید میں مر گئے تو پوری مسلم دنیا (خصوصاً برِصغیر اور عرب دنیا) میں انگریزوں کے خلاف ایک نئی بغاوت اٹھ کھڑی ہوگی۔
چنانچہ 1930ء کے آخر میں انہیں قبرص سے رہا کر کے عمان (اردن) لایا گیا، لیکن اس سے پہلے وہ کچھ وقت کے لیے فلسطین (یروشلم) بھی آئے۔
• چھوٹے بیٹے کا نام: آپ نے جس چھوٹے بیٹے کا ذکر کیا جو ان کے ساتھ اس آخری وقت میں سائے کی طرح ساتھ رہے اور ان کی دیکھ بھال کی، ان کا نام امیر زید بن حسین (Prince Zeid bin Hussein) تھا Prince Zeid bin Hussein - Wikipedia۔ امیر زید ان کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے جو ان کی آخری بیوی عدیلہ خانم سے تھے Hussein bin Ali, Sharif of Mecca - Wikipedia۔ وہ اپنے والد کے ساتھ مکہ سے قبرص کی قید تک اور پھر وہاں سے اردن واپسی تک وفاداری کے ساتھ ساتھ رہے۔
4۔ وفات اور مسجدِ اقصیٰ میں تدفین
شریف حسین بن علی کا انتقال جون 1931ء میں ہوا Hussein bin Ali, Sharif of Mecca - Wikipedia۔ چونکہ انہوں نے فلسطین اور بیت المقدس کا سودا کرنے سے انکار کیا تھا، اس لیے ان کی وصیت کے مطابق انہیں یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے (الحرم الشریف) میں سپردِ خاک کیا گیا Hussein bin Ali, Sharif of Mecca - Wikipedia۔ آج بھی ان کی قبر مسجدِ اقصیٰ کے باب المجلج کے پاس موجود ہے، جو ان کے اس تاریخی انکار کی گواہی دیتی ہے۔
________________________________________
مستند کتابی حوالہ جات (Book References)
1. King Husain and the Kingdom of Hejaz - مصنف: Randall Baker Randall Baker - King Husain and the Kingdom of Hejaz۔ (اس کتاب میں شریف حسین کے انگریزوں کے آخری معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار، قبرص کی جلاوطنی اور امیر زید کے ان کے ساتھ رہنے کی تفصیلی تاریخ موجود ہے)۔ [1]
2. The Hashemites: The Dream of King Hussein - مصنف: Robert Lacey۔ (اس کتاب میں برطانوی ریکارڈز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح شریف حسین فلسطین کے معاملے پر اڑ گئے تھے جس کی سزا انہیں قید کی صورت میں ملی)۔

شکارپور: سندھ کا پیرس تباہی کے دہانے پر!​کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک لٹتے دیکھیں گے؟​آج کا شکارپور موہن جو دڑو کا منظر پی...
02/07/2026

شکارپور: سندھ کا پیرس تباہی کے دہانے پر!
​کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک لٹتے دیکھیں گے؟
​آج کا شکارپور موہن جو دڑو کا منظر پیش کر رہا ہے۔ کرپٹ سیاستدانوں اور نااہل انتظامیہ نے ہمارے تاریخی اور خوبصورت شہر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے حق اور اپنے ورثے کے لیے آواز بلند کریں۔
​ہماری مانگیں: ہمارا حق!
​🛑 امن و امان کی بحالی: شکارپور کے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
​🏥 بہترین صحت: ہسپتالوں کی حالت زار کو سدھارا جائے اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
​📚 معیاری تعلیم: ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے تعلیمی اداروں کو فعال کیا جائے۔
​شکارپور کے تاریخی ورثے کو بچائیں!
​شکارپور محض ایک شہر نہیں، ایک شاندار ہیریٹیج سٹی (Heritage City) ہے۔ ہماری پہچان اور ہمارے بزرگوں کی نشانیاں مٹائی جا رہی ہیں:
​🕌 ابراہیم یار خان فاتح جنگ کے مزار اور لال پیر مخدوم شاہ کے مزار کو فوری طور پر تباہی سے بچایا جائے!
​🪦 شاہی قبرستان اور سادات (سیدوں) کے قبرستان کی بے حرمتی بند کر کے انہیں پرانی حالت میں بحال کیا جائے!
​📢 شکارپور کے نوجوانوں کے نام پیغام:
​"اے شکارپور کے غیور نوجوانو! آگے بڑھو، میدان میں آؤ۔ اپنے حقوق کے لیے لڑو اور اپنے شہر کے عظیم تاریخی ورثے کو مٹنے سے بچاؤ۔ اگر آج ہم نہ جاگے، تو کل تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔"
​منجانب:
​✊ شکارپور ورثو بچایو تحریک ✊
(اپنا شہر، اپنا ورثہ، اپنی ذمہ داری!)
#شڪارپور

sindh k asli tareekh ko ujagar karne main apna kirdar ada karain,
27/06/2026

sindh k asli tareekh ko ujagar karne main apna kirdar ada karain,

تاریخِ سندھ کا ایک مخفی گوشہ: حقائق اور شواہد​"شکارپور کی تاریخ کو اجاگر کرنا ہے، تو پہلے اس کے بانیان (Founders) کی تار...
20/06/2026

تاریخِ سندھ کا ایک مخفی گوشہ: حقائق اور شواہد
​"شکارپور کی تاریخ کو اجاگر کرنا ہے، تو پہلے اس کے بانیان (Founders) کی تاریخ کو اجاگر کرنا ہوگا!"
​🔍 مزارات کی اصلیت: عباسی یا مہدویت کے پیروکار؟
​حیدرآباد، سکھر، دادو اور شاہپور چاکر میں جن مزارات کو عام طور پر "عباسی" بتایا جاتا ہے، وہ دراصل مہدویت کے پیروکار ہیں:
​میاں آدم محمد امام شاہ بحریت والے سرکار کے بیٹے محمد بقا (المعروف میاں نور محمد شاہ)
​میاں امام شاہ
​میاں محمد علی ستھ پنتھی
​حقیقت: یہ تمام ہستیاں عباسی نہیں بلکہ مہدویت کی پیروکار تھیں، جن کی تاریخ کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
​🏰 لکھی غلام شاہ: ایک زندہ ثبوت
​غلام یار خان (المعروف غلام شاہ) نے شکارپور کے مقام 'لکھی' میں اپنا قلعہ تعمیر کیا تھا۔
​یہی وجہ ہے کہ اس جگہ کو آج بھی "لکھی غلام شاہ" کہا جاتا ہے— جو ان کے بانی ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
​⚠️ دانشوروں کی جانبداری اور تاریخ مسخ کرنے کی کوشش
​سندھ کے نام نہاد دانشور خود جن کے پیروکار تھے، انہوں نے تاریخ کو اسی سانچے میں ڈھالا جس کو وہ فالو کرتے تھے۔ انہوں نے سچی تاریخ کو چھپا کر اپنے پسندیدہ نظریات کو فروغ دیا اور اصل بانیان کو پسِ پشت ڈال دیا۔
​🏛️ آئیے! مل کر سندھ کی سچی تاریخ اور شکارپور کے اصل بانیان کے کردار کو اجاگر کریں۔
#شڪارپور
#

وينس، شڪارپور، سنڌ ۽ هريٽيج پيارا ادل سومرو! سڄو ڪم مال، شعور ۽ سمجھ جو آهيجنهن کي موقعو ملندو، اهو يورپ جو ٽرپ نه وڃائي...
14/06/2026

وينس، شڪارپور، سنڌ ۽ هريٽيج


پيارا ادل سومرو!

سڄو ڪم مال، شعور ۽ سمجھ جو آهي

جنهن کي موقعو ملندو، اهو يورپ جو ٽرپ نه وڃائيندو👍

باقي ايترو ٻڌايان ته #شڪارپور ۾ ڪل 1203 عماتون declared heritage آهن، جن منجهان 400 مس بچيون آهن پر اهو به Antiquity جي ڳالهين مطابق باقي انگ اڃا گهٽيل آهي

مزي جي ڳالھ نوٽ ڪيو ته شڪارپور جون 100 عمارتون world heritage ۾ آهن

اوهان وينس شھر جو ٻڌايو ته اهو ورلڊ هريٽيج ۾ آهي، مان اوهان کي تڏهن ٻڌايو ته رڳو شڪارپور جون 100 عمارتون World Heritage ۾ شامل آهن

سوچيو سنڌ ۾ ساڍا ٽي ھزار يا پوڻا چار ھزار عمارتون Heritage آهن، اڃا مٿي هجڻ گهرجن، انهن جو رڪارڊ ملي سگهي ٿو ۽ انهن عمارتن جو حال ڪهڙو آهي، اها ڳالھ قابلِ غور ۽ افسوسناڪ آهي ته #سنڌ کي برباد ڪيو ويو آهي

تنهنڪري، اوهان جي ڳالھ درست آهي، گهمجي، مشاھدو ڪجي ۽ پنهنجي ڌرتيءَ تي جيڪي شاھڪار آهن، تن جي مالڪي ڪجي، جيڪا

آزاد فضا وانگر هجي، جتي دنيا گهمڻ اچي، ڇو ته اٽلي دنيا جي انهن ملڪن ۾ آهي، جيڪو گهمڻ ماڻهن جو خواب آهي

اڃان مزي جي ڳالھ ٻڌايان ته 2010، 11 ۽ 22 ۾ #شڪارپور وينس ٿي وئي ھئي ۽ هتي ٻيڙيون ھلن پيون (مينهن ۽ ٻوڏ جي ڪري)

بجاج ٽاور اڌ ٻڏل ھيو ۽ 1935 جو ٺهيل آهي، هريٽيج آهي، انڊيا جي جئپور (جنهن کي pink city چيو ويندو آهي ۽ مونکي اهو ڪامريڊ برڪت علي آزاد شڪارپور ۾ ميمڻن جي پاڙي ۾ ٻڌايو ھيو، هو شڪارپور ۾ جي ڪري ايندو هيو ۽ بعد ۾ اياز احمد ميمڻ عرف #مشڪي سان ايندو هيو) جئپور جي پٿر جو ٺهيل آهي، جيڪو هن وقت چار فوٽ ڌرتيءَ ۾ انڪري دٻيل آهي جو روڊ مٿان روڊ ٺهيو ۽ هي ھيٺ ٿيندو ويو

اندازو لڳايو، اسانجي سنڌ جي شھرن جي Town Planning ھن وقت ڪيئن آهي ۽ فرنگين جي دور م سنڌ بامبي پريزيڊنسي ۾ ھئي ۽ سنڌ 1936 ۾ آزادي ورتي ۽ بجاج ٽاور 1935 جو آهي ۽ ان وقت جي town planning تي به غور ڪريو

هاڻي ان ڳالھ تي غور ڪيو ته سکر ۾ Declared Heritage جو ڇا انگ آهي ۽ روھڙيءَ جو ڇا؟

سچ ته overall سنڌ جي صورتحال افسوسناڪ آهي ۽ نظر ائين اچي پيو جتي ڍيري آهي اتي ڦيري آهي نه بربادي...

مان نه شيخ اياز جو بيت به ٻڌايان:

آنءُ اڪيلو آهيان،ماڙوئڙن جي ميڙ ۾،
اڃا ڄاتم ڪينڪي، ڇو آهيان، ڇا آهيان،
آهيان به يا ناهيان، سو به نه آيم سمجھ ۾!

دنيا گهمجي، پوري دنيا انسان جي آهي پر هي شاهوڪار سنڌ به ته آزاد فضا گهري ٿي، اسين به، اوهان به، تنهنڪري، اسانکي مشاهدي ۾ اهو به آڻڻ گهرجي ته اسان وٽ به قدرت جو ڪمال آهي، سمنڊ، دريا، پهاڙ، سڀڪجھ آهي پر هتي سچائي نه آهي، ڪاش واقعي ماڻهو اهو ڄاڻي سگهن ته آزاد فضا ڇا هوندي آهي ۽ پرواز ڇا هوندي آهي

اوهان جي ڳالھ به وڻي ۽ منظر به، مان رڳو اٽليءَ کي، يورپ کي يا پئرس کي هن سنڌ ۽ هن شڪارپور سان لنڪ ڪيان ٿو ٻيو ڪجھ به نه...

سلامت هجو!



#شڪارپور #سنڌ #تعليم #رولاڪي #تاريخ

احمد خان•   وڈیرو الٰہی بخش کا ایک بیٹا وڈیرو احمد خان اور ایک بیٹی مسمات باہت جامڑی     وڈیرو الہی بخش اپنے دور کے ایک ...
14/06/2026

احمد خان
• وڈیرو الٰہی بخش کا ایک بیٹا وڈیرو احمد خان اور ایک بیٹی مسمات باہت جامڑی وڈیرو الہی بخش اپنے دور کے ایک متمول زمیندار اور معزز دیہی مقتدر تھے۔ وڈیرو احمد کے نام پر شکارپور اور خانپور کے مختلف تپوں میں تقریباً ۳,۰۰۰ سے ۴,۵۰۰ ایکڑ زرخیز زرعی زمینیں رجسٹرڈ تھیں۔
• مسمات باہت بنت وڈیرو الہی بخش جامڑو جن کے نام پر خاندانی تقسیمِ اراضی کے تحت ۱,۲۰۰ سے ۱,۵۰۰ ایکڑ موروثی زرعی زمین کا مستقل کھاتا موجود تھا۔ مسمات باہت کے شوہر کا نام قادر بخش ولد مہراب خان جامڑو اور ان کے دو بیٹے تھے، جن کے نام غلام قادر اور محمد بخش خان، کچھ ریکارڈ کی مطابق مسمات باہت کی ایک اور شادی راعب کیساتھ بھی ہوئی تھی

رونیو ریکار ڈ کے حساب سےحاجی میر خان ولد حاجی محمد مراد کے بیٹوں کے نام
وڈیرو محمد بخش خان ، وڈیرو غلام قادر خان اور وڈیرو نذیر احمد خان تھے
Ye AI revenue record hai is main koi ghalati b ho Sakti hai agar Kisi ki Dil azari Hoti hai to peshgi mazarat karate hai. Kiyn k hamare barrow NE in khandano c zameen khareefi to aur mere dada k zabardasti teen olad b hai. Is liye ham majbooran ye iqdam utaya hai. Is liye sorry in advance

شکارپور ورثہ بچاؤ تحریک​**(ایک اپیل... شکارپور کے غیور عوام کے نام!)**​**"جس قوم کا ورثہ مٹ جاتا ہے، اس کی تاریخ مسخ ہو ...
13/06/2026

شکارپور ورثہ بچاؤ تحریک

​**(ایک اپیل... شکارپور کے غیور عوام کے نام!)**

​**"جس قوم کا ورثہ مٹ جاتا ہے، اس کی تاریخ مسخ ہو جاتی ہے"**

​شکارپور کے غیور اور باشعور عوام! ہوش کے ناخن لیں۔ ہمارے تاریخی اور قدیم شہر شکارپور کے ورثے کو بے دردی سے تباہ کیا جا رہا ہے۔

​حقائق کیا ہیں؟

​اصل راستہ اور خانپوری گیٹ: خانپور شہر کا رخ کس طرف ہے؟ اصل راستہ قاضی پٹی روڈ لال پیر سے ہو کر خانپور پہنچتا تھا، لیکن موجودہ روڈ صرف اور صرف شاہی قبرستان (سیدوں کے قبرستان) کو تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا۔

​تاریخی مزارات پر حملہ: اب ابراہیم یار خان فتح جنگ اور لال پیر کے مزارِ اقدس کو مٹانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، جس میں مبینہ طور پر شکارپور ڈی سی آفس کے عملدار ملوث ہیں۔

​انتظامیہ اور مؤرخین کی نااہلی: افسوس! ایک طرف نااہل انتظامیہ ہمارے ورثے کو مٹا رہی ہے، تو دوسری طرف یہاں کے نام نہاد مؤرخین (Historians) خاموش تماشائی بن کر ہماری تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔

​ہماری اپیل:

​ہم شکارپور کے تمام شہریوں، نوجوانوں اور بزرگوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر "شکارپور ورثہ بچاؤ تحریک" کا حصہ بنیں اور اپنے آباؤ اجداد کی نشانیوں، مزارات اور تاریخی راستوں کو بچانے کے لیے آواز بلند کریں۔

​اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہماری تاریخ صرف کتابوں میں رہ جائے گی اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

​آئیے! مل کر اپنے شکارپور کا ورثہ بچائیں!

​منجانب: شکارپور ورثہ بچاؤ تحریک

شکارپور ورثو بچایو تحریک​(شکارپور کے تاریخی ورثے اور شناخت کے تحفظ کی ایک پکار!)​تاریخ مسخ کرنے والے، جھوٹ کے سوداگروں ا...
10/06/2026

شکارپور ورثو بچایو تحریک
​(شکارپور کے تاریخی ورثے اور شناخت کے تحفظ کی ایک پکار!)
​تاریخ مسخ کرنے والے، جھوٹ کے سوداگروں اور قبضہ مافیا کے خلاف اعلانِ جنگ!
​کیا شکارپور کی اصل تاریخ کو جھوٹے اور من گھڑت قصوں کی نذر ہونے دیا جائے گا؟ چند نام نہاد مؤرخین نے حقائق کو چھپا کر اور من گھڑت کہانیاں بنا کر عوام کو بے وقوف بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے خود تو جھوٹ بولا ہی، مگر شکارپور کی عظیم تاریخ کو بھی جھوٹا بنا کر رکھ دیا۔
​جو خود شکارپور کی مٹی اور اس کی اصل تاریخ سے واقف ہی نہیں، وہ بھلا اس شہر کی حقیقی تاریخ کیا لکھیں گے؟ یہ تاریخ دان تو صرف تالپوروں کی غلامی کا دم بھرتے ہیں!
​شکارپور کے اصل بانی کون؟
​ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ شکارپور کی بنیاد رکھنے والے اصل ہیرو گمنام نہیں رہ سکتے:
​نواب ابراہیم یار خان فتح جنگ سادات بخاری (بکھر والے): جو مغل سلطنت کے عظیم اور جلیل القدر گورنر تھے اور جنہوں نے اس تاریخی شہر کی بنیاد رکھی۔
​مگر افسوس! آج کی انتظامیہ اور شرپسند عناصر نے ان اصل بانیوں کا نام تاریخ کے پنے سے مٹانے کی سازش کی ہے۔
​تاریخی مزارات اور قبرستانوں پر قبضہ: ایک المیہ!
​سندھ حکومت اور شکارپور انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہمارے تاریخی ورثے کو تباہ کیا جا رہا ہے:
​شاہی قبرستان (سادات کا قبرستان): انتظامیہ کی نااہلی کے باعث اسے پہلے ہی تباہ و برباد کیا جا چکا ہے۔
​مزارِ اقدس پر قبضہ: اب نواب ابراہیم یار خان فتح جنگ (لال پیر مخدوم شاہ) کے تاریخی مزار کو شہید کر کے وہاں مچھلی کے فارم (Fish Farms) بنائے جا رہے ہیں!
​کیا ہم اپنے بزرگوں اور بانیوں کی نشانیوں کو اس طرح مٹتے دیکھتے رہیں گے؟
​ہمارے مطالبات:
​فوری کارروائی: حکومتِ سندھ اور شکارپور انتظامیہ ان شرپسند عناصر اور قبضہ مافیا کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کرے۔
​مزار کا تحفظ: مزارِ لال پیر مخدوم شاہ کی بے حرمتی فوری بند کی جائے اور مچھلی کے فارموں کا غیر قانونی قبضہ ختم کرایا جائے۔
​تاریخی ورثے کی بحالی: شاہی قبرستان اور دیگر سادات کے قبرستانوں کو سرکاری تحویل میں لے کر ان کی بحالی کا کام شروع کیا جائے۔
​حقیقی تاریخ کا تحفظ: شکارپور کے اصل بانی، نواب ابراہیم یار خان فتح جنگ بخاری کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے۔
​جاگو شکارپور جاگو!
​اپنے شہر کی تاریخ، ثقافت اور بزرگوں کے ورثے کو بچانے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو ہماری تاریخ کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
​منجانب:
​شکارپور ورثو بچایو تحریک

Address

Shikarpur
78100

Telephone

+923133459721

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shikarpur Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Shikarpur Times:

Shortcuts

Share