Shikarpur Times

Call Directions Contact the organization

Shikarpur Times research a real history of Indo pak

قائدِ اعظم کا شجرہ نسب اور جائے پیدائش: تاریخی تضادات، لسانی مغالطے اور برطانوی ریونیو آرکائیوز کا تنقیدی جائزہ پسِ منظر...
13/09/2026

قائدِ اعظم کا شجرہ نسب اور جائے پیدائش: تاریخی تضادات، لسانی مغالطے اور برطانوی ریونیو آرکائیوز کا تنقیدی جائزہ پسِ منظر: پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی، خاندان اور جائے پیدائش پر لکھی گئی سرکاری تاریخ (Official History) جتنی سادہ اور سیدھی دکھائی دیتی ہے، تاریخی دستاویزات، برطانوی دور کے لینڈ ریونیو آرکائیوز اور علاقائی شواہد کے ترازو میں وہ اتنی ہی پیچیدہ اور تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ سندھ کے دانشوروں، متبادل تاریخی ماخذات اور خاندانی ناموں کی بناوٹ پر اٹھنے والے سوالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک اس عظیم رہنما کی اصل جڑوں کو ایک مخصوص اور محدود بیانیے کے پیچھے چھپایا گیا۔ ۱۔ جائے پیدائش کا تضاد: کراچی، جھرک (ٹھٹہ) یا شکارپور کے جھرکی جھورک؟ سرکاری نصابی کتب (Textbooks) میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ قائدِ اعظم ۲۵ دسمبر ۱۸۷۶ء کو وزیر مینشن، کارادر (کراچی) میں پیدا ہوئے۔ لیکن تاریخ کے صفحات اس دعوے کو سخت چیلنج کرتے ہیں: سندھ کے اسکولوں کا نصاب اور جھرک (ٹھٹہ): ۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ء کی دہائیوں تک سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت پڑھائی جانے والی پانچویں اور ساتویں جماعت کی سندھی کتب (بشمول ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا کا نصاب) میں یہ پڑھایا جاتا رہا کہ قائدِ اعظم ٹھٹہ کے قریب جھرک (Jhirk) نامی تجارتی قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ ۱۹۶۲ء کے بعد اس ریکارڈ کو درسی کتب سے تبدیل کیا گیا۔ ابتدائی تعلیم کی گڑبڑ اور ۱۱ سال کی عمر کا تماشا: سندھ مدرسۃ الاسلام (SMI) کراچی کے ۴ جولائی ۱۸۸۷ء کے داخلہ رجسٹر (صفحہ ۷، سیریل نمبر ۱۱۴) کے مطابق جب محمد علی کا داخلہ ہوا، تو ان کی عمر ۱۱ سال تھی۔ ۱۱ سال کا بچہ نرسری یا پہلی جماعت میں داخل نہیں ہوتا۔ وہ کم از کم ۵ یا آٹھویں جماعت کا طالب علم ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ۱۱ سال کی عمر تک ان کی نرسری اور پرائمری تعلیم کا ریکارڈ کراچی میں کیوں نہیں ملتا؟ شکارپور کا اصل گڑھ ہونا: انیسویں صدی کے وسط میں کراچی کے مقابلے میں شکارپور علم، ادب اور تجارت کا سب سے بڑا مرکز تھا، جسے "ایشیا کا پیرس" کہا جاتا تھا۔ نئی تحقیقات اور منطقی شواہد کے مطابق، پونجا میگھجی چونکہ ایک بڑے تاجر تھے، اس لیے ۱۱ سال کی عمر سے پہلے محمد علی کی ابتدائی تعلیم شکارپور یا جھیرک کے مقامی اسکولوں میں ہوئی تھی۔ انگریز دور کے ریکارڈ لکھنے والوں نے صرف ۱۱ سال کی عمر کے ہائی اسکول داخلہ فارم کے "موجودہ پتہ" کو ہی مستقل جائے پیدائش (کراچی) ماننے کی سستی کا مظاہرہ کیا۔ ۲۔ پنیلی اور کاٹھیاواڑ کا معما روایتی تاریخ میں دوسرا بڑا نام پنیلی (Paneli) اور کاٹھیاواڑ (Kathiawar) کا آتا ہے۔ محترم فاطمہ جناح کی کتاب My Brother کے مطابق یہ خاندان گجرات (ہندوستان) کی ریاست گوندل کے ایک قصبے "پنیلی موٹی" سے کراچی منتقل ہوا تھا۔ یہاں ایک دلچسپ لسانی مغالطہ (Etymological Illusion) پایا جاتا ہے۔ گجراتی زبان میں "موٹی" (Moti) کا مطلب موٹاپا یا چربی نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب "بڑی" (Big) ہوتا ہے۔ اس خطے میں دو جڑواں قصبے تھے: بڑے قصبے کو "پنیلی موٹی" (بڑی پنیلی) اور چھوٹے قصبے کو "پنیلی نانی" (چھوٹی پنیلی) کہا جاتا تھا۔ مورخین نے خطے (کاٹھیاواڑ) اور مخصوص قصبے (پنیلی) کے ناموں کو اس طرح مکس کیا کہ عام قاری کے لیے یہ ایک جغرافیائی معما بن کر رہ گیا۔ ۳۔ نسل اور القابات کی کھچڑی: لوہانا ٹھاکر،ٹکھر، خواجہ (کھوجا) میگھجی ،جناح تک، قائدِ اعظم کے خاندان کے پیچھے القابات کی ایک طویل لائن لگی ہوئی ہے، جو برصغیر میں ذات پات کے نظام اور تبدیلیِ مذہب کی عکاس ہے: لوہانا ٹھاکر (راجپوت): نسلی اور خاندانی طور پر یہ خاندان راجپوتوں کی لوہانا برادری سے تعلق رکھتا تھا، جنہیں ٹھاکر یا ٹھکر (Thakkar) کہا جاتا تھا۔ ۱۸۵۰ء سے ۱۹۵۰ء تک کی ایک صدی میں شکارپور کی ترقی اور معیشت میں اسی لوہانا کمیونٹی کا سب سے بڑا حصہ رہا۔ خواجہ سے کھوجا کا سفر: چودہویں صدی میں جب اسماعیلی داعی (پیر صدر الدین) نے سندھ اور گجرات کے لوہانا ہندوؤں کو اسلام کی دعوت دی، تو انہوں نے ان نو مسلموں کو عزت دینے کے لیے "خواجہ" (آقا یا معزز) کا لقب دیا۔ یہی لفظ گجراتی اور کچھی زبان کے مقامی لہجے کے بگاڑ کے باعث بگڑ کر "کھوجا" (Khoja) بن گیا۔ عقیدے کی تبدیلی: یہ خاندان ابتداً ست پنتھی یا اسماعیلی عقیدے پر قائم تھا۔ لیکن ۱۸۶۰ء کی دہائی میں بمبئی ہائی کورٹ میں ہونے والے مشہور "آغا خان کیس" (Aga Khan Case) کے اندرونی اختلافات کے بعد، اس خاندان نے اثنا عشری (شیعہ) عقیدہ اختیار کر لیا۔ ۴۔ سب سے بڑی منطقی گڑبڑ: لوہانہ جو کہ خواجہ کے القاب استعمال کرتے تھے کھوجہ اس کی بگاڑ ہے، لوہانا کھوجہ ٹھکر ٹھاکر اور گوکل داس یا گوکل شاہ کے نام کیساتھ "میگھجی" اور "پونجا" سے "جناح" کا ڈراما اگر ہم قائدِ اعظم کے دادا اور چچاؤں کے ناموں کا جائزہ لیں، تو سرکاری مورخین کی سب سے بڑی علمی کنفیوژن اور تضاد سامنے آتا ہے: دادا اور چچاؤں کے نام: قائدِ اعظم کے پردادا کا نام گوکل داس (یا میگھجی ٹھکر) تھا۔ دادا کا نام گوکل داس میگھجی تھا۔ تو ان کے بچوں کے نام کے ساتھ ان کے والد کا نام مطلب کہ گوکل داس نہیں تو میگھجی لگاتے، جناح کے دادا کے تین بیٹے تھے: ۱. جناح بھائی پونجا (قائدِ اعظم کے والد) ۲. والجی پونجا (چچا) ۳. ناتھو یا نتھوپونجا (چچا) تضاد: گجراتی اور لوہانا ثقافت کے مطابق نام کی ترتیب ہوتی ہے: [ذاتی نام] + [والد کا نام]۔ چچاؤں کے نام (والجی پونجا، ناتھو پونجا) یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کے نام کے آخر میں "پونجا" لاگا کر بھائیوں کو ان کے بیٹے ظاہر کرنے کے مترادف ہے، اگر گوکل داس کے بیٹے تھے تو ان کے نام کیساتھ ان کے دادا کا القاب میگھجی بھی لگا سکتے تھے پر وہ س مجھ سے بالاتر ہے،اگر جناح ان کے والد کا نام تھا، کوئی خاندانی سرنیم نہیں تھا۔ تو پھر"جناح" کہاں سے آیا؟: "جناح" کوئی صدیوں پرانا خاندانی لقب یا کاسٹ (Caste) نہیں تھا۔ قائدِ اعظم کے والد کا ذاتی نام ہی ان کے والدین نے "جناح بھائی" (یا مقامی گجراتی لہجے میں جینا بھائی/جنو بھائی) رکھا تھا۔ گجراتی میں "جینا" کا مطلب "پتلا، باریک یا دبلا" ہوتا ہے، جو شاید ان کے دبلے جسم کی وجہ سے تھا۔ ناموں کی سیاست: اگر "جناح" خاندانی نام ہوتا تو چچاؤں کے نام "والجی جناح" ہوتے، جو کہ نہیں تھے۔ یہاں تک کہ قائدِ اعظم کے سگے بھائیوں (احمد علی، بندے علی، رحمت علی) نے بھی برطانوی دور کے عام ریکارڈز میں کبھی اپنے نام کے ساتھ "جناح" نہیں لکھا۔ وہ صرف احمد علی یا بندے علی لکھتے تھے۔ لندن کی تبدیلی: جب محمد علی ۱۸۹۲ء میں لنکنز ان (لندن) پڑھنے گئے، تو انگریزی قانون کے مطابق "سرنیم" لکھنا لازمی تھا۔ ان کا اسکول کا نام "محمد علی جناح بھائی" تھا۔ انگریزوں کو "بھائی" کا لفظ سمجھ نہیں آتا تھا، اس لیے قائدِ اعظم نے انگریزی طرز اپناتے ہوئے "بھائی" کا لفظ کاٹ دیا اور اپنے والد کے ذاتی نام "جناح" (Jinnah) کو مستقل خاندانی سرنیم بنا لیا۔ بعد کے پاکستانی مورخین نے اندھا دھند ان کے تمام بھائیوں کے نام کے آگے زبردست طریقے سے "جناح" جوڑ دیا۔ ۵۔ متبادل سندھی نظریہ: "تحفۃ الکرام" اور "چنا" قبیلہ سرکاری گجراتی بیانیے کے برعکس، سندھ کی مقامی تاریخ اور لسانی روابط ایک بالکل الگ کہانی سناتے ہیں: تحفۃ الکرام کا حوالہ: میر علی شیر قانع ٹھٹوی کی مستند ترین کتاب "تحفۃ الکرام" (۱۷۶۷ء) میں سندھ کے قدیم قبائل کا ذکر ملتا ہے۔ مکران میں ایک بڑے درویش میاں اوڈانہ تھا جس کے کچھ شجروں کے بعد بھیل پیدا ہوتے ہیں اسی بیھل کے بیٹے جس نع ساتھ راجاوں کے بیٹٰوں سے شادی کرتے ہیں جن کو جام کا لقب اختیار کرتے ہیں، جن کا نام جام محمد جینہ /چینہ تھا جو کہ۔ لسانی بگاڑ: تاریخ دانوں کے ایک حلقے کے مطابق، انگریز دور میں جب ناموں کی اسپیلنگز لکھی جاتی تھیں، تو مقامی زبانوں کے الفاظ کا تلفظ مسخ ہو جاتا تھا۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ یہ خاندان اصل میں سندھ کے "چنا" قبیلے سے تعلق رکھتا ہو، جو بعد میں کاروباری ہجرتوں کے باعث گجرات یا بمبئی کی طرف منتقل ہوا، اور وہاں کے گجراتی یا انگریزی لغات کے بگاڑ کے باعث "چنا" کا لفظ تبدیل ہو کر "Jina" یا "Jinnah" بن گیا۔ راتو ڈیرو اور گوکل شاہ کی روایت: کچھ مقامی محققین کے مطابق، قائدِ اعظم کے پردادا گوکل داس (یا گوکل شاہ) کا آبائی گاؤں رتو ڈیرو (لاڑکانہ) تھا جو کہ اس محمد جینہ /چینہ جس کو محمد ارڑی بھی کہا جاتا ہے جو کہ جیکب اآباد رتوڈیرو روڈ پر رشید بروہی گاوں کے پاس آج بھی ارڑی کے مقام قبرستان کے نام سے موجود ہے جس کے نام سے رتو ڈیرو مین گوکل داس بازار بھی آباد ہے،، جو بعد میں شکارپور کے پاس لال پیر کے مزار کے قریب آباد ہوئے۔ جہاں گوکل داس گوکل شاہ کو اب شہ گل کے نام سے ان کی درگاہ بھی آباد ہے اور اسی گوکل شاہ کے نام سے ایک منتر بھی جو کہ بچھو کے دم کیلئے پڑھا جاتا ہے، سندھ کے صوفیانہ کلچر میں ہندو لوہانا برادری کے معززین کو وفات کے بعد "شاہ" کا لقب ملنا ایک عام روایت تھی۔ ۶۔ برطانوی ریونیو آرکائیوز (British Revenue Archives) کی گواہی اس پورے معمے کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت برطانوی راج کے لینڈ ریونیو آرکائیوز (British Revenue Archives) اور سندھ بورڈ آف ریونیو (Sindh Board of Revenue) کے پرانے دبہی کھاتوں (Village Forms / Record of Rights) سے ملتا ہے: بندے علی اور خاندانی املاک کا اندراج: برطانوی حکومت کے مائیکرو فلم املاک کے ریکارڈز کے مطابق، قائدِ اعظم کے بھائی بندے علی اور ان کے والد کے تجارتی و زمینی املاک کے اندراجات شکارپور کے مضافاتی ٹپوں، جیسے جنو ٹپہ (جو اب یونین کونسل جنو شریف ہے) اور نیو لالیو میں موجود تھے۔ سرکاری چشم پوشی: انگریز حکومت صرف ٹیکسیشن اور املاک کے موجودہ پتے درج کرتی تھی، خاندانی شجرے نہیں۔ پاکستان بننے کے بعد سرکاری مورخین نے ان برطانوی ریونیو آرکائیوز اور اندرونِ سندھ کے زمینی بہی کھاتوں کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈال دیا، کیونکہ اگر ان ریکارڈز کو سامنے لایا جاتا تو کراچی کی اکیلی جائے پیدائش کا مروجہ بیانیہ کمزور پڑ جاتا۔ حاصلِ کلام (Critical Conclusion): قائدِ اعظم محمد علی جناح کے خاندانی پس منظر اور جائے پیدائش کا یہ تنقیدی جائزہ ثابت کرتا ہے کہ تاریخ کو جتنا سیدھا پیش کیا گیا، حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ۱۔ "جناح" کوئی صدیوں پرانا خاندانی لقب نہیں تھا، بلکہ ایک ذاتی نام تھا جسے قائد نے لندن میں سرنیم بنایا۔ ۲۔ یہ خاندان نسلی طور پر لوہانا ٹھاکر تھا جو بعد میں کھوجا بنا۔ ۳۔ ان کی ابتدائی زندگی، تعلیم اور معاشی جڑیں صرف کراچی تک محدود نہیں تھیں، بلکہ برطانوی ریونیو آرکائیوز کے مطابق ان کا خاندان شکارپور، راتو ڈیرو اور جھیرک کی سندھی مٹی اور معیشت سے گہرا جڑا ہوا تھا۔ سرکاری تاریخ دانوں کی تعلیمی اور دستاویزی سستی نے ایک طویل عرصے تک ان تضادات پر پردہ ڈالے رکھا، لیکن برطانوی دور کے دستاویزات اور منطقی حقائق آج بھی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔،

میاں جو گوٹھ اور شکارپور کا گمشدہ صوفی و نانک پنکھی کٹھ جوڑ: ایک تنقیدی و دستاویزی مطالعہتمہید: تاریخ کی تصحیح اور زبانی...
12/09/2026

میاں جو گوٹھ اور شکارپور کا گمشدہ صوفی و نانک پنکھی کٹھ جوڑ: ایک تنقیدی و دستاویزی مطالعہ
تمہید: تاریخ کی تصحیح اور زبانی روایات کی اہمیت
عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں شکارپور کی بنیاد 1617ء میں داؤد پوتروں کے ہاتھوں رکھی گئی ۔لیکن میاں جو گوٹھ کے اس علاقے کی اصل جڑیں شکارپور شہر سے بھی صدیوں پرانی ہیں اور اس کا رشتہ لکھی اور خانپور کے ان قدیم مراکز سے ہے جہاں تغلک دور (14ویں صدی) میں عرب اور سادات خاندان آ کر آباد ہوئے تھے ۔
شکارپور کا موجودہ علائقہ میاں جو گوٹھ (حاجی رحمت اللہ گوٹھ)، جو مرید سیتھار اور حاجی خواستی کے درمیان انڈس ہائی وے کے قریب واقع ہے، محض ایک گاؤں نہیں بلکہ کثیر المذہبی تصوف کی ایک زندہ دستاویز ہے 。
1۔ حاجی رحمت اللہ، پیر صدر الدین اور اسماعیلی ست پنتھ کا پس منظر
میاں جو گوٹھ کی تاریخ بابا گرو نانک کی آمد سے بھی پہلے کی ہے [ ممتاز اسماعیلی شجرہ نسب اور محققین کے مطابق، یہ مقام دراصل مشہور اسماعیلی داعی پیر صدر الدین کے بیٹے پیر حسن کبیر الدین کے صاحبزادے سید رحمت اللہ شاہ کا مسکن تھا [
تقیہ اور گپتی (Gupti) تحریک: اسماعیلی داعیوں نے مقامی ہندو آبادی اور وقت کے مسلم حاکموں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے "تقیہ" (یا گپتی پنتھ) کا سہارا لیا [ 。 وہ ہندو سماج میں شری کرشن اور ویدک ناموں کے ساتھ رہتے تھے (ست پنتھ) اور مسلمانوں میں خود کو مقتدر سید عالم یا صوفی شیخ ظاہر کرتے تھے سید رحمت اللہ شاہ ہی وہ بزرگ ہیں جنہیں مقامی سندھی عقیدت سے "حاجی رحمت اللہ" اور اس جگہ کو "میاں جو گوٹھ" کہنے لگے
2۔ بابا گرو نانک اور ان کی اولاد کی آمد: میاں جو گوٹھ کا بوہڑ کا درخت
جب بابا گرو نانک دیو جی اپنی چوتھی اور آخری اداسی (1515ء تا 1520ء) کے دوران اپنے مسلم ساتھی بھائی مردانہ جی کے ساتھ وسطی ایشیا سے واپس لوٹ رہے تھے، تو انہوں نے شمالی سندھ کے اس پرانے تجارتی اور صوفی راستے کا انتخاب کیا [Guru Nanak At Shikarpur - Discover Sikhism]۔
تاریخی بوہڑ (برگڈ) کا درخت: میاں جو گوٹھ (حاجی رحمت اللہ) کے قریب، حاجی خواستی کے مشرقی رخ پر موجود وہ تاریخی برگد (بوہڑ) کا عظیم الشان درخت ہی وہ اصل تبرک ہے جہاں گرو نانک جی نے ڈیرہ جمایا تھا [Gurdwara Sri Guru Nanak Sahib Shikarpur | Discover Sikhism, Maps, Weather, and Airports for Haji Rahmatullah, Pakistan]。 یہاں نور نشتر (قصاب) اور داؤد جولاہے نے ان کی خدمت کی تھی [Guru Nanak At Sikharpur - Discover Sikhism]。
قلمی گرو گرنتھ صاحب کی تحریر: چونکہ یہ جگہ پہلے ہی صوفی اور ست پنتھی تقیہ کا گڑھ تھی، اس لیے سندھ کے "گپتی" لوگوں نے گرو نانک کے توحیدی فلسفے کو فوراً اپنایا [Sikhism in Sindh - Wikipedia]。 یہان کے لوکل لوگوں کے پاس موجود صدیوں پرانی قلمی گرو گرنتھ صاحب اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اسی بوہڑ کے درخت کے نیچے اداسی سادھوؤں اور نانک پنکھیوں نے گرنتھ صاحب کے مقدس نسخے اور قلمی بیاضیں تیار کیں، جنہیں بعد میں مسلم صوفی سادات نے تبرک کے طور پر اپنی تحویل میں محفوظ رکھا۔
اولادِ نانک کی آمد: بابا گرو نانک کے دونوں صاحبزادے، یعنی اداسی پنٹھ کے بانی بابا سری چند جی اور چھوٹے بیٹے بابا لکھمی داس جی (لکھمی چند) بھی اس خطے میں تشریف لائے [Udasi Sikh Saints of Sindh - Academia.edu]。 بابا لکھمی داس کا آستان یہاں "پیر لکھی" کے نام سے مشہور ہوا، جس کی بگاڑ سے کچھ مؤرخین کے مطابق شکارپور کا لکھی گیٹ اور لکھی غلام شاہ کا نام منسوب ہے [Udasi Sikh Saints of Sindh - Academia.edu, Shikarpur | SindhAtlas - نقشو]。
3۔ مسمار شدہ تاریخ: جڑا پیر، جنڈھی پیر اور سکھ پُل
میاں جو گوٹھ کے مضافات میں واقع جڑا پیر (Jarra Pir) اور جنڈھی پیر (Jandhi Pir) کے مقامات اس خطے کی مذہبی تبدیلیوں کے عکاس ہیں [Sirhindi Mystics Of Shikarpur - The Friday Times]。
تقسیمِ ہند (1947ء) کے بعد اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہاں موجود پرانے نانک پنکھیوں اور اداسی سادھوؤں کے قبرستان مسمار کر دیے گئے، حالانکہ ان کے نشانات آج بھی زمین پر واضح ہیں۔ جنڈھی پیر کے گدی نشین جو اب خود کو راشدی کہلاتے ہیں، وہ اسی صوفیانہ اور سماجی تبدیلی کا حصہ ہیں [Sirhindi Mystics Of Shikarpur - The Friday Times]。
اسی طرح، شکارپور کا موجودہ "سکھ پُل" (Suk Pul) دراصل انگریز دور تک "سکھ پُل" (Sikh Pul) اور اس کا مضافات سکھ پور یا سکھ محلہ کہلاتا تھا، جسے بعد میں لفظی ہیر پھیر سے سُکھ (آرام) پُل بنا دیا گیا [Sikhism in Sindh - Wikipedia, Shikārpur | Historic Town, Indus Valley, Sindh - Britannica]。
4۔ سندھ میں نانک پنکھی ثقافت: ہندو مندروں میں گرو گرنتھ کا پرکاش
پنجاب کے برعکس، سندھ میں سکھ مت اور ہندو ازم میں کوئی تفریق نہیں رہی [Sikhism in Sindh - Wikipedia]。 سندھ کے ہندوؤں کی اکثریت نانک پنکھی (سہج دھاری سکھ) ہے [Nanakpanthi - Wikipedia]。 یہی وجہ ہے کہ شکارپور کے قدیم مندروں اور آشرموں (جیسے پوج اداسین سمادھ آشرم، جو کہ بابا گرو نانک کے دور کا نہیں بلکہ 18ویں صدی کے اواخر یعنی 1776ء کا قائم کردہ ہے) میں مندر کی مورتیاں اور گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش ایک ساتھ ہوتا ہے [Nanakpanthi - Wikipedia, Guru Nanak Jayanti - Pooj Samadha Ashram, Shikarpur, Samadha Dham, Kandhkot | Ashram in Pakistan]。محلے،1۔ سکھ پُل کا "سکھ پُل" (Suk Pul) بننا اور محلوں کے اصل نام شکارپور کا موجودہ "سکھ پُل" (Sukh Pul) دراصل انگریزوں اور تالپوروں کے دور میں "سکھ پُل" (Sikh Pul) کہلاتا تھا [Shikārpur | Historic Town, Indus Valley, Sindh - Britannica]۔سکھ پور یا سکھ محلہ: اس پُل کے آس پاس کا پورا علاقہ سکھ پور یا سکھ محلہ کے نام سے مشہور تھا، جہاں خالصہ سکھ اور نانک پنکھی عامل بڑی تعداد میں رہتے تھے [Sikhism in Sindh - Wikipedia]。 تقسیم کے بعد، لفظ "سکھ" کو ہندی/اردو کے لفظ "سُکھ" (یعنی آرام و خوشی) سے بدل دیا گیا تاکہ اس کا سکھ مت والا پس منظر دبا دیا جائے [Sikhism in Sindh - Wikipedia]。دیگر محلوں کے اصل نام:شکارپور کا موجودہ "شیخ محلہ" پرانے وقتوں میں "سیٹھ برادری اور نانک پنکھیوں کا واڑا" کہلاتا تھا [Shikarpur, Sindh - Wikipedia]。لکھی گیٹ کے پاس موجود کچھ گلیوں کو "سنگھان اتے عاملن جی گھٹی" (سکھوں اور عاملوں کی گلی) کہا جاتا تھا [Gurus of Shikarpur Sindh]。2۔ ہندو مندروں میں بابا گرو نانک کی پوجا کیوں ہوتی ہے؟سندھ کی تاریخ پورے برصغیر سے منفرد ہے، کیونکہ یہاں ہندو ازم اور سکھ مت کے درمیان کوئی لکیر نہیں ہے [Sikhism in Sindh - Wikipedia]。سندھ کے ہندوؤں کی اکثریت "نانک پنکھی" ہے [Nanakpanthi - Wikipedia]。 وہ مروجہ پکی داڑھی اور پگڑی والے خالصہ سکھ نہیں ہیں، بلکہ "سہج دھاری" (سادہ لوح) سکھ ہیں [Nanakpanthi Sindhis - free Sikh encyclopedia.]۔یہی وجہ ہے کہ شکارپور، سکھر اور جیکب آباد کے جتنے بھی پرانے ہندو مندر ہیں (جیسے شیو مندر یا درگا ماتا مندر)، وہاں مورتیاں بھی رکھی ہوتی ہیں اور ان کے بالکل ساتھ گرو گرنتھ صاحب کا پرکاش بھی ہوتا ہے [Nanakpanthi - Wikipedia]。 وہ مورتیاں پوجنے کے ساتھ ساتھ صبح سویرے اٹھ کر "سکھمنی صاحب" اور "جپ جی صاحب" کا پاٹھ بھی کرتے ہیں [Why Sindhi's Worship Gurunanak Dev Ji? And why ...]۔ سندھی ہندو بابا گرو نانک کو اپنا سب سے بڑا اوتار اور گرو مانتے ہیں [Why Sindhi's Worship Gurunanak Dev Ji? And why ...]。3۔ شکارپور میں اوڈیرو لال، بابا سری چند اور بابا لکھمی داس کے آستانجی ہاں، آپ نے بالکل درست نشان دہی کی ہے۔ ان تینوں عظیم ہستیوں کے آستان (مقدس مقامات) یا تو شکارپور کے اندر موجود ہیں یا ان کے ناموں کی تاریخی یادگاریں آج بھی قائم ہیں:اوڈیرو لال (جھولے لال) کا آستان: اوڈیرو لال (جنہیں مسلمان شیخ تاہر یا زندہ پیر کہتے ہیں) کا اصل بڑا دربار تو مٹیاری ضلع کے گاؤں "اوڈیرو لال" میں ہے [Shrine at Odero Lal - Wikipedia]۔ لیکن شکارپور ایک بڑا تجارتی مرکز تھا، اس لیے یہاں کے دریا اور نہروں کے کناروں پر (خاص طور پر شاہی باغ کے پاس اور پرانے پُلوں کے نزدیک) اوڈیرو لال کے تھان (آستان) بنائے گئے تھے [Exclusive Documentary on Odero Lal Dargah - Sindh - YouTube, A mosque, shrine and temple under one roof in Sindh's Odero ...]۔ یہاں ہندو "جیوتی" (مقدس چراغ) جلاتے ہیں اور مچھلی پر سوار جھولے لال کی پوجا کرتے ہیں [Exclusive Documentary on Odero Lal Dargah - Sindh - YouTube, Shrine at Odero Lal - Wikipedia]۔بابا سری چند جی کا آستان: بابا گرو نانک کے بڑے بیٹے بابا سری چند جی کے نام پر ہی شکارپور کا سب سے بڑا گوردوارہ قائم ہے، جسے "پوج اداسین سمادھ آشرم" کہتے ہیں [Guru Nanak Jayanti - Pooj Samadha Ashram, Shikarpur]。 چونکہ بابا سری چند "اداسی پنٹھ" کے بانی تھے، اس لیے اس آشرم کے اندر ان کی ایک قدیم سمادھی اور آستان قائم ہے، جہاں ان کے دُھونے (مقدس آگ) کی یادگار موجود ہے [The Sikhs in Pakistan - HAL, Samadha Dham, Kandhkot | Ashram in Pakistan]。بابا لکھمی داس (پیر لکھی) کا آستان: جیسا کہ آپ نے پچھلی بار ذکر کیا، بابا لکھمی داس کا آستان شکارپور اور لکھی غلام شاہ کے درمیانی علاقے میں "پیر لکھی" کے نام سے مشہور تھا [Udasi Sikh Saints of Sindh - Academia.edu]。 اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ صوفی روایات کے غلبے کی وجہ سے اسے ایک صوفی مزار کی شکل دے دی گئی اور مسمار شدہ قبرستانوں میں ان کے نانک پنکھی نشانات مٹ گئے، لیکن مقامی لوگ آج بھی جانتے ہیں کہ اس علاقے کا نام "لکھی" اسی تاریخی آستان کی وجہ سے پڑا تھا [Udasi Sikh Saints of Sindh - Academia.edu, Shikarpur | SindhAtlas - نقشو]۔ باب گرو نانک 1520 ک آس پاس شکارپور ائے تھے، چونکہ سمادا اشرم 1700 کے بعد بنا تھا، اور موجودہ حاجی رحمت اللہ بروہی صاحب کا ذکر نہیں کر رہے ہیں بلکہ پیر صدر الدین کے بیٹے حسن کبیر کے ہونہار بیٹےسید رحمت اللہ شاہ صاحب کے بارے میں بات ہو رہی ہے، جو کہ ایک وکیل تھے نزاری شیعہ تھے،
مستند کتابی و دستاویزی حوالہ جات (Book & Document References)
بھائی بالا والی جنم ساکھی (Bhai Bala Wali Janamsakhi): اس قدیم کتاب میں "ساکھی داؤد جلاہا" کے تحت گرو نانک جی کے شکارپور کے دورے اور بوہڑ کے درخت کے نیچے قیام کی پوری روایتی تفصیل موجود ہے [Guru Nanak at Shikarpur, Sindh - SikhNet]。
جنم ساکھی پرمپرا (Janamsakhi Tradition) – ڈاکٹر کرپال سنگھ: اس تحقیقی کتاب میں تمام پرانی جنم ساکھیوں کا تنقیدی موازنہ کر کے تصدیق کی گئی ہے کہ گرو نانک جی وسطی ایشیا سے واپسی پر شمالی سندھ (شکارپور) آئے تھے [Guru Nanak at Shikarpur, Sindh - SikhNet]。
تواریخ گورو خالصہ (Tawarikh Guru Khalsa) – گیانی گیان سنگھ: 19ویں صدی کے اس معتبر سکھ محقق نے اپنی کتاب میں گرو نانک جی اور ان کی اولاد (بابا سری چند) کے سندھ اور شکارپور کے دوروں کا تفصیلی ذکر کیا ہے [Udasi Sikh Saints of Sindh - Academia.edu]。
Udasi Sikh Saints of Sindh (تحقیقی مقالہ – اکیڈمیا): یہ مقالہ سندھ میں بابا سری چند، بابا لکھمی داس اور بابا المیسٹ کی آمد، اور ان کے قائم کردہ آستانوں (جیسے پیر لکھی) کی تاریخی تصدیق کرتا ہے [Udasi Sikh Saints of Sindh - Academia.edu]。
The Construction of Religious Boundaries – ہرجوت اوبرائے: یہ کتاب سندھ میں نانک پنکھیوں اور اسماعیلی ست پنتھ کے تقیہ (گپتی تحریک) اور ان کے مذہبی ملاپ پر گہری تنقیدی روشنی ڈالتی ہے [Satpanth - Wikipedia, Sikhism in Sindh - Wikipedia]。

شکارپور کا معاشی زوال اور نوآبادیاتی تاریخ کا سچ: ارائیں برادری کا سفر، ضیاء دور کی بندر بانٹ اور سیاسی گٹھ جوڑارائیں قو...
11/09/2026

شکارپور کا معاشی زوال اور نوآبادیاتی تاریخ کا سچ: ارائیں برادری کا سفر، ضیاء دور کی بندر بانٹ اور سیاسی گٹھ جوڑ

ارائیں قوم کا اصل جینیاتی پس منظر: عربی دعوے بنام ہندو کمبوہ حقیقت ۔1
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا یہ ایک بڑا المیہ رہا ہے کہ یہاں اسلام قبول کرنے والی مقامی زراعت پیشہ برادریوں نے اپنی سماجی حیثیت کو بڑھانے کے لیے خود کو عرب فاتحین، صحابہ یا شامی نسل سے منسوب کر لیا۔ ارائیں برادری کا خود کو شام کے شہر 'اریحا' سے محمد بن قاسم کے ساتھ آنے والے 'اریحائی' فوجیوں کی نسل قرار دینا تاریخی اور جینیاتی طور پر ایک فرضی داستان سے زیادہ کچھ نہیں۔
جدید تاریخ دانوں (جیسے کرسٹوف جافرلوٹ اور خود ارائیں نسل سے تعلق رکھنے والے سیاسی سائنسدان اشتیاق احمد) اور جینیاتی ابھیاس (DNA Studies) کے مطابق، ارائیں برادری بنیادی طور پر وادیٔ سندھ اور پنجاب کی قدیم مقامی ہندو اور بدھ مت زراعت پیشہ نسل ہے۔ یہ لوگ جینیاتی اور تاریخی طور پر قدیم 'کمبوہ' یا 'کمبوجا' (Kamboh/Kamboj) قبیلے کی ہی ایک ذیلی شاخ ہیں۔ لفظ ارائیں سنسکرت یا قدیم زبان کے لفظ 'رائین' (جس کا مطلب کاشتکار یا زمین جوتنے والا ہے) سے نکلا ہے۔ انگریزوں کے نوآبادیاتی دور کی مردم شماری کے ریکارڈز (جیسے 1901ء اور 1931ء کی سنسس) گواہ ہیں کہ مسلم ارائیں کے علاوہ مشرقی پنجاب میں ہندو ارائیں اور سکھ ارائیں بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جو اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ یہ ایک مقامی برصغیر کی ذات ہے اور اسے عرب کہنا سراسر تاریخی نادانی ہے۔
ارائیں برادری کی اہم گوتیں (Sub-castes/Gotras):
کمبوہ اور دیگر مقامی برادریوں کی طرح ارائیں قوم بھی کئی گوتوں میں تقسیم ہے، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں:
بھٹہ، منڈ، گیلن، هنجرا، کٹاریہ، چوہان، دھاریوال، گجرو، پوروال، رمدے، اور چوہدری/میاں (جو کہ بطور القابات استعمال ہوتے ہیں)۔
ضیاء الحق کا دور اور شکارپور میں پنجاب کے ارائیں خاندانوں کی منظم آباد کاری ۔2
شکارپور، جو کسی دور میں اپنی کاٹیج انڈسٹری، مالیاتی نظام اور امن و امان کی وجہ سے "سندھ کا پیرس" کہلاتا تھا، جنرل ضیاء الحق کے 10 سالہ مارشل لاء (1977ء تا 1988ء) کے دوران ایک گہرے معاشی اور جغرافیائی بدلاؤ سے گزرا۔
جنرل ضیاء الحق کا اپنا تعلق چونکہ مشرقی پنجاب کے ارائیں خاندان سے تھا (جو جالندھر سے هجرت کر کے آئے تھے)، اس لیے انہوں نے اپنی برادری اور خطے کے لوگوں پر خاص 'سیاسی و معاشی مہربانیوں' کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دور میں لاہور، فیصل آباد (لائل پور)، سرگودھا اور گجرانوالہ ڈویژن سے ارائیں خاندانوں کو منظم طریقے سے بالائی سندھ خصوصاً شکارپور، سکھر اور لاڑکانہ کی طرف منتقل کیا گیا۔
زمینوں، دکانوں اور فیکٹریوں کی بندر بانٹ:
کچے اور پکے کی زرعی زمینیں: شکارپور کی ہزاروں ایکڑ پکے کی نہری زمینیں اور کچے کے زرخیز سیلابی علاقے (جو صدیوں سے مقامی سندھی ہاریوں اور کسانوں کے زیرِ استعمال تھے) جی ایچ کیو (GHQ) کے ملٹری کوٹے اور سول گرانٹس کے تحت پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجی افسران (کرنلز، میجرز) اور بیوروکریٹس کو الاٹ کی گئیں۔ ان کے ساتھ ساتھ فیصل آباد اور سرگودھا کے ان نجی ارائیں زمینداروں کو یہ زمینیں اونٹ پونٹ داموں الاٹ کی گئیں جنہیں ضیاء حکومت کی آشیرباد حاصل تھی۔
مکانات اور دکانیں (متروکہ املاک کی تباہی): شکارپور کا قلب یہاں کے ہندو تاجروں کی چھوڑی ہوئی قیمتی دکانیں، حویلیاں اور کارخانے تھے جو ایویکوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے پاس رجسٹرڈ تھے۔ ضیاء دور میں سندھ حکومت اور مقامی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز کی سرپرستی میں پنجاب سے آنے والے خاندانوں کے لیے جعلی کلیمز (Bogus Claims) تیار کیے گئے۔ شاہی بازار اور ڈھک بازار کی تاریخی دکانیں اور رہائشی گھر ان غیر مقامی افراد کو الاٹ کر دیے گئے۔
فیکٹریوں کی ہجرت اور شکارپور کی ویرانی: شکارپور کی ٹیکسٹائل لومز، کاٹن جننگ اور رائس ملز کو ضیاء کی ڈی-نیشنلائزیشن پالیسی کے تحت جب ان غیر مقامی مالکان کو دیا گیا، تو انہوں نے سندھ میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا جواز بنا کر کارخانے چلانے کے بجائے ان کی قیمتی جاپانی و جرمن مشینیں، تانبے اور پیتل کے پرزے اور بوائلر راتوں رات اکھاڑے اور ٹرکوں میں بھر کر لاہور، فیصل آباد اور گجرات منتقل کر دیے۔ اس منظم "سرمائے کے فرار" (Capital Flight) نے شکارپور کو ایک صنعتی قبرستان اور ویران شہر بنا دیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کا نیشنلائزیشن وار اور جپسی (جیسلمیر) پس منظر ۔3
اگر ضیاء دور نے شکارپور کو غیر منصفانہ الاٹمنٹ سے نقصان پہنچایا، تو اس کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہی ہو چکا تھا۔ عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ بھٹو نے کسانوں کے نام پر صنعتوں اور زمینوں کو قومیایا (Nationalize) لیکن بعد میں ان اثاثوں کو معاشی طور پر تباہ کیا گیا اور من پسند افراد میں بانٹا گیا۔
دلچسپ تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ خود بھٹو خاندان کے نسلی پس منظر پر مؤرخین کی مختلف آراء ہیں۔ کئی مآخذ کے مطابق بھٹو خاندان کا اصل پس منظر راجپوتانہ (موجودہ راجستھان، بھارت) کے علاقے جیسلمیر سے جڑتا ہے، جہاں سے ان کے آباؤ اجداد (سیٹو بھٹو اور دیگر) هجرت کر کے سندھ کے علاقے لاڑکانہ میں آباد ہوئے تھے اور بعد میں یہاں زمیندار بنے۔ بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی نے سندھ کی مقامی کاروباری کلاس (خصوصاً شکارپور کے کاٹیج انڈسٹری کے مالکان) کی کمر توڑ دی تھی۔
90ء کی دہائی کی نجکاری: شریف خاندان اور "بہتی گنگا میں ہاتھ صاف کرنا" ۔4
ضیاء الحق کے بعد 1990ء کی دہائی میں جب میاں نواز شریف برسرِ اقتدار آئے، تو انہوں نے نجکاری (Privatization) کا نعرہ بلند کیا۔ اس دور میں شکارپور اور بالائی سندھ کے وہ صنعتی یونٹس جو سرکاری تحویل میں تباہ ہو رہے تھے، انہیں کوڑیوں کے دام بیچا گیا۔
اگرچہ دستاویزی طور پر شریف خاندان نے شکارپور کے اثاثے براہِ راست اپنی ذاتی کمپنیوں (جیسے اتفاق گروپ) کے نام منتقل نہیں کیے، لیکن نجکاری کمیشن کے ذریعے ان کے قریبی پنجابی سرمایہ کاروں، میاں برادری کے بااثر کاروباری شراکت داروں اور فرنٹ مینوں کو نوازا گیا۔ ان لوگوں نے بولیوں کے نام پر رائس اور کاٹن ملوں کے اثاثے حاصل کیے، ان کی زمینیں سستے داموں ہڑپ کیں اور بچی کچی مشینری کو اکھاڑ کر پنجاب کے صنعتی زون میں شفٹ کر دیا، جس سے نجکاری کا اصل مقصد ہی فوت ہو گیا۔
محکمہ مال (Revenue Department) کا موجودہ حال: "مال چھاپنے کی فیکٹریاں" ۔5
شکارپور اور پورے سندھ کو معاشی طور پر مفلوج کرنے میں جتنا کردار ماضی کی الاٹمنٹس کا ہے، اتنا ہی آج کے دور میں سندھ بورڈ آف ریونیو (Board of Revenue) اور اس کے ذیلی اداروں کا ہے۔
آج کی تلخ زمینی حقیقت یہ ہے کہ محکمہ مال کے دفاتر، registrar اور سب registrar کے عہدے زمینوں کی منتقلی کے جائز ادارے بننے کے بجائے "مال چھاپنے کی فیکٹریاں" بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس محکمے میں تقریباً 70 کے قریب سب registrarز اور گریڈ 11 یا 16 کے ملازمین سالہا سال سے اگلی گریڈز میں ترقی (Promotion) لینے سے انکاری ہیں یا جان بوجھ کر اس پر اصرار نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب registrar کی سیٹ پر بیٹھ کر زمینوں کی رجسٹری، کمرشل اراضی کے انتقال اور جعلی کھاتوں کی ہیر پھیری میں جو کروڑوں روپے کی غیر قانونی کمائی (رشوت) روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہ گریڈ 17 یا 18 کے کسی بڑے افسر کی جائز تنخواہ سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ اس ادارہ جاتی کرپشن نے سندھ کے مقامی لوگوں کو ان کی اپنی زمینوں کے حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔
خلاصہ: ارائیں برادری کا عربی شجرہ محض ایک سماجی خود ساختہ داستان ہے جب کہ ان کی اصل تاریخ کمبوہ قبیلے سے جڑی ہے۔ ضیاء الحق کی برادری پروری اور شریف خاندان کی 90ء کی نجکاری پالیسیوں نے سستی الاٹمنٹس اور مشینری کی منتقلی کے ذریعے شکارپور کو معاشی طور پر دیوالیہ کیا، جس کا خمیازہ یہ تاریخی شہر آج بھی بھگت رہا ہے۔

شکارپور کے لوہانہ برادری 📖 ١۔ تاریخی پس منظر اور نسلسوریہ ونشی راجپوت نسل: لوہانہ برادری کا تاریخی تعلق سوریہ ونشی راجپو...
11/09/2026

شکارپور کے لوہانہ برادری
📖 ١۔ تاریخی پس منظر اور نسل

سوریہ ونشی راجپوت نسل: لوہانہ برادری کا تاریخی تعلق سوریہ ونشی راجپوت یا کشتریہ نسل سے ہے۔۔ روایات کے مطابق یہ بھگوان رام کے بیٹے لو کی اولاد ہیں، جنہوں نے لاہور (لوہار گڑھ) کی بنیاد رکھی تھی۔۔
تجارت کی طرف منتقلی: گیارہویں اور بارہویں صدی میں سیاسی تبدیلیوں اور ہجرت کے بعد، اس برادری نے آہستہ آہستہ جنگ و جدل چھوڑ کر تجارت اور کاروبار کو اپنا پیشہ بنا لیا۔۔
افغانستان میں پہچان: افغانستان میں صدیوں کے مذہبی اور سیاسی بدلاؤ کے بعد بھی جن لوہانہ خاندانوں نے اپنی اصل ہندو شناخت کو برقرار رکھا، انہیں وہاں مقامی طور پر لوکھاترا کے نام سے جانا جاتا ہے۔۔۔ سندھ کی تاریخ اور لوہانہ برادری کے پس منظر میں "لاکھو پیر" (یا لاکو پیر) کے نام سے دو مختلف لیکن انتہائی اہم حوالے مشہور ہیں:
١۔ مخدوم لطف اللہ عرف لاکھو پیر (روحانی صوفی بزرگ)
پہچان: یہ سندھ کے ایک انتہائی مشہور اور قدیم سہروردی صوفی بزرگ ہیں، جن کا اصل نام مخدوم لطف اللہ تھا لیکن وہ عوامی سطح پر لاکھو پیر کے نام سے مشہور ہوئے۔
تاریخی مقام: ٹھٹہ (کینجھر جھیل کے قریب) میں واقع لاکھو پیر کا قبرستان سندھ کے قدیم ترین قبرستانوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، جو لگ بھگ ٨٠٠ سال پرانا ہے۔ یہاں مسلم لوہانہ (میمن) اور سندھ کے دیگر قدیم قبائل کے آباؤ اجداد کی قبریں موجود ہیں جو تیرھویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں。

٢۔ لاکھو پھلانی (لاکو پھلانی - لوک ہیرو اور راجپوت پیر)
پہچان: اگر ہم لوہانہ برادری کے راجپوت یا کشتریہ پس منظر کی بات کریں، تو کچ (Kutch) اور سندھ کی تاریخ کا ایک عظیم جنگجو ہیرو لاکھو پھلانی گزرا ہے، جسے مقامی لوک روایات میں ایک 'پیر' یا سورما کا درجہ حاصل ہے۔

لوہانہ برادری سے تعلق: لاکھو پھلانی کا تعلق سندھ کے سمن راجپوتوں سے تھا، لیکن کچ اور گجرات کی طرف ہجرت کرنے والی ہندو لوہانہ برادری (ٹھکر) آج بھی ان کی بہادری کے گیت گاتی ہے اور انہیں اپنے قبیلے کے تحفظ کی علامت (لوک پیر) مانتی ہے۔

٣۔ پیر لاکھو (آثارِ قدیمہ کا مقام - دادو)
پہچان: سندھ کے ضلع دادو (منچھر جھیل کے قریب) میں ایک اور تاریخی مقام ہے جسے پیر لاکھو یا 'پیر لاکھیو' کہا جاتا ہے۔ انگریز ماہرِ آثارِ قدیمہ این جی مجمدار نے جب اس جگہ کو دریافت کیا تو اس کا نام وہاں موجود ایک مقامی بزرگ پیر لاکھو کے نام پر رکھا، جسے آثارِ قدیمہ کی دنیا میں "موہن جو دڑو کا دوسرا اسٹیشن" بھی کہا جاتا ہے۔
4۔اسی طرح شکارہور کے لوہانہ برادری کا بھی ایک لاکھو پیر جو کہ نیون لالیوں کے پاس خانگڑی گوٹھ کے نزد بھی موجود ہے جس کو پیر لاکھا یا پیر لاکھو بھی کہا جاتا ہے،
📊 ٢۔ مذہبی تقسیم اور ذیلی ذاتیں
ہندو لوہانہ (سندھی لوہانہ یا ٹھکر): انہوں نے اپنی اصل ویدک اور ہندو شناخت برقرار رکھی۔ ١۔ ہندو لوہانہ (دیوان، عامل اور بھائی بند گوتیں)
عامل گوتیں (سرکاری و انتظامی خاندان): ان کے ناموں کے آخر میں 'انی' آتا ہے، جیسے آڈوانی، گدوانی، وسوانی، بھونانی، تھدانی، شہانی، مکھیا، اور ماخھیجا۔۔
بھائی بند گوتیں (بین الاقوامی تاجر): ان خاندانوں میں بجاج، چھابریا، تالریجا، مکھجا، ککڑیجا، سچدیو، چاولہ، ناگپال، آہوجا، سیتلپال، اور وادھوا (Wadhwa) شامل ہیں۔۔
روایتی گوتیں: ان میں ٹھکر (Thakkar)، پوجارا، اور رگھوونشی بڑے نام ہیں۔۔
٢۔ سکھ مت / نانک پنتھی لوہانہ گوتیں
پہچان: شکارپور کے نانک پنتھی لوہانہ برادری کے لوگ بنیادی طور پر ہندو بھائی بند گوتوں سے ہی تعلق رکھتے ہیں، لیکن سکھ مت اختیار کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی ناموں کے ساتھ سنگھ بھی لکھتے ہیں۔۔
بڑی گوتیں: ان کے مشہور خاندانی ناموں میں بجاج سنگھ، آہوجا سنگھ، چندنانی، جونڈیجا، چھوگ (Chugh)، اور ٹپال شامل ہیں۔۔
٣۔ مسلم لوہانہ گوتیں (میمن، خوجہ اور شیخ)
سندھی میمن گوتیں: اسلام قبول کرنے کے بعد بھی کئی خاندانوں نے اپنی پرانی گوتیں برقرار رکھیں، جیسے لکھانی، مانیار، کاٹھیاواڑیا، لودھیا، کنایا، گادھا، اور پٹولییا۔۔
خوجہ گوتیں: ان میں ٹھکر (قائد اعظم کا خاندانی نام پہلے پونجا ٹھکر تھا)، داسا، گواڈیریا، اور جماٹیا نمایاں ہیں۔۔
سندھی شیخ: شکارپور کے وہ لوہانہ عامل یا بھائی بند جنہوں نے اسلام قبول کیا، وہ زیادہ تر اپنے پرانے نام بدل کر اپنے ساتھ شیخ (جیسے شیخ چاند، شیخ وسوان) لکھنے لگے لیکن کاروباری حلقوں میں وہ اپنے پرانے خاندانی پس منظر سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔۔
سکھ مت یا نانک پنتھی لوہانہ: شکارپور کے لوہانہ برادری کا ایک بہت بڑا حصہ بابا گرو نانک کا پیروکار ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر پگڑی یا داڑھی نہیں رکھتے (انہیں سہج دھاری سکھ کہا جاتا ہے) لیکن گرو گرنتھ صاحب پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔۔📜 لوہانہ برادری کے روحانی پیشوا اور پیر (نئی ترتیب)
١۔ مسلم لوہانہ قبائل (خوجہ اور میمن) کے مشہور پیر
پیر صدر الدین: یہ چودہویں صدی کے ایک عظیم اسماعیلی صوفی بزرگ اور داعی تھے۔۔ انہوں نے سندھ کے لوہانہ تاجروں کو اپنی محبت اور صوفیانہ کلام (گنان) کے ذریعے متاثر کر کے اسلام کی طرف راغب کیا اور انہیں خوجہ کا لقب دیا۔۔ ان کا مزار شریف اچ شریف (بہاولپور) کے قریب ترنڈہ محمد پناہ میں واقع ہے۔۔
سید یوسف الدین قادری: یہ بغداد کے مشہور صوفی بزرگ شیخ عبدالقادر جیلانی کے خاندان سے تھے۔۔ انہوں نے ١٤٢٢ء میں ٹھٹہ (سندھ) کے مقام پر لوہانہ برادری کے بڑے رہنما مانک جی اور ان کے خاندانوں کو سنی اسلام قبول کروایا، جس کے بعد یہ لوگ میمن (مومن) کے نام سے مشہور ہوئے۔۔
پیر حسن کبیر الدین: یہ پیر صدر الدین کے بیٹے اور جانشین تھے، جو خوجہ لوہانہ برادری میں اپنے جذباتی اور صوفیانہ کلام کی وجہ سے بے حد مقبول رہے۔۔
٢۔ نانک پنتھی لوہانہ برادری کے پیر
بابا گرو نانک جی: شکارپور اور سندھ کے نانک پنتھی لوہانہ کسی روایتی گدی نشین پیر کے بجائے بابا گرو نانک کو ہی اپنا سب سے بڑا سچا پادشاہ اور روحانی پیر و مرشد مانتے ہیں۔۔
٣۔ ہندو لوہانہ برادری کے مشہور روحانی پیر اور دیوتا
گرو جلارام باپا (یا جلاباپا): انیسویں صدی کے گجرات کے اس عظیم ولی اور صوفی منش انسان کو ہندو لوہانہ برادری اپنا سب سے بڑا سادھو اور پیر مانتی ہے۔۔ ان کا قائم کردہ مفت لنگر خانہ گجرات (ویر پور) میں آج دو سو سال بعد بھی بلا تفریق مذہب و ملت چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔۔
سائیں جھولے لال (ورن دیو / زندہ پیر): دریا کے اس دیوتا کو سندھی لوہانہ برادری اپنا سرپرست پیر مانتی ہے۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں سندھ کے مسلمان زندہ پیر یا خواجہ خضر کے نام سے پکارتے ہیں اور دونوں مذاہب کے لوگ ان کے آستانوں پر حاضری دیتے ہیں۔۔
ویر دادا جشراج: انہیں لوہانہ برادری کا تاریخی اور لوک پیر (بزرگ) مانا جاتا ہے، جنہوں نے ماضی میں قبیلے کے تحفظ کے لیے جنگیں لڑیں۔۔
📈 ٣۔ شکارپور میں لوہانہ برادری کا عروج اور فلاحی کام
مشہور محلے: شکارپور میں ان کے بڑے رہائشی مراکز لکھی در، قاضی محلہ (جہاں زیادہ تر مسلم لوہانہ اور عامل رہتے تھے) اور ہاتھی در، واگنودر اور سنگھانواڑی (جہاں ہندو اور نانک پنتھی لوہانہ تاجروں کی بڑی حویلیاں تھیں) کے ناموں سے مشہور تھے۔۔
ہنڈی اور بینکنگ سسٹم: شکارپور کے لوہانہ تاجروں کو 'شکارپوری شراف' کہا جاتا تھا۔ انہوں نے ہنڈی (بل آف ایکسچینج) کا ایک ایسا عالمی نظام قائم کیا تھا جس کے نیٹ ورکس وسطی ایشیا (بخارا، سمرقند)، ایران اور بھارت تک پھیلے ہوئے تھے اور صدیوں تک یہ دنیا کا سب سے قابلِ بھروسہ مالیاتی نظام رہا۔۔
تعلیمی اور فلاحی ادارے: صحت کے لیے انہوں نے برصغیر کا مشہور فلاحی ہسپتال رائے بہادر ادھوداس تاراچند ہسپتال (RBUT) اور سر ہنری ہالینڈ آئی ہسپتال قائم کیے۔ تعلیم کے لیے سی اینڈ ایس کالج (چیلا سنگھ اینڈ سیتل داس کالج) بنایا۔ اس کے علاوہ بیوہ خواتین کے لیے ودوا منڈل اور پورے شہر کو بجلی دینے کے لیے ذاتی فنڈز سے پاور پلانٹ لگایا۔۔
🔎 ٤۔ نمایاں مذہبی مقامات اور شخصیات
سمادھا آشرم اور کٹواری دربار یا کنتھوریہ: یہ شکارپور میں نانک پنتھی اور سکھ مت سے وابستہ لوہانہ برادری کے سب سے بڑے اور تاریخی گوردوارے ہیں، جہاں ٢٤ گھنٹے لنگر چلتا ہے اور یہ اپنی نایاب وال پینٹنگز کے لیے مشہور ہیں۔۔
جوگ ماتا مندر اور جھولے لال دربار: یہ ہندو لوہانہ برادری کے بڑے مندر ہیں جہاں بھگوان رام، کرشن اور دریا کے دیوتا سائیں جھولے لال کی پوجا ہوتی ہے۔۔
جامع مساجد اور خوجہ جماعت خانے: لکھی در اور قاضی محلے کی مساجد اور امام بارگاہیں جو مسلم لوہانہ (میمن، شیخ، خوجہ) کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہیں۔۔
نامور شخصیات: بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح (مسلم لوہانہ/خوجہ خاندان)، مخیر تاجر رائے بہادر ادھوداس تاراچند، عظیم گجراتی صوفی سنت جلارام باپا، اور اسماعیلی داعی پیر صدر الدین اس برادری کے چند نمایاں نام ہیں۔۔
🗒 ٥۔ معتبر کتب اور حوالہ جات
کتاب "سندھ کے ہندو تاجر اور وسطی ایشیا کی تجارت" از ڈاکٹر کلاڈ مارکووٹس (یہ کتاب شکارپور کے لوہانہ تاجروں کے بینکنگ نیٹ ورک پر سب سے مستند دستاویز ہے)۔۔
کتاب "تاریخِ سندھ" از سر رچرڈ برٹن (اس میں سندھ کی برادریوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے لوہانہ برادری کی کاروباری مہارت کا تذکرہ ہے)۔۔
کتاب "شکارپور: ماضی اور حال" از انور فگار ہکڑو (اس کتاب میں شکارپور کے محلوں اور لوہانہ کمیونٹی کے فلاحی کاموں کی تفصیلی تاریخ درج ہے)۔۔

Address

Shikarpur
78100

Telephone

+923133459721

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shikarpur Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Shikarpur Times:

Shortcuts

Share