Bahadur Kaloi Goth Welfare & Anti-Drugs Committee"

Bahadur Kaloi Goth Welfare & Anti-Drugs Committee" Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bahadur Kaloi Goth Welfare & Anti-Drugs Committee", Non-Governmental Organization (NGO), press club shahdadpur, Shahdadpur.

Is page ka maqsad Bahadur Kaloi Goth me manshiyat, sodh aur har qism ke 2 number kaamon ke khilaf awaaz uthana, awaam ko ek lana aur behtari ke liye koshish karna hai."

10/02/2026

محترم وڈیرہ قادر کلُوئی صاحب!
ہم آپ کے بے حد شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہمارے گاؤں میں گیس کا مسئلہ حل کروا دیا۔ یہ ایک اچھا اور قابلِ تعریف قدم ہے، اور ہم سب دل سے آپ کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں۔
لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ گاؤں کی خدمت صرف ایک کام تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ابھی ہمارے گاؤں میں اور بھی بہت سے بنیادی مسائل موجود ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
مثلاً:
بجلی کا مکمل اور مستقل انتظام
منشیات جیسی لعنت کا خاتمہ
سڑکوں اور راستوں کی بہتری
گٹروں اور صفائی کے نظام کو درست کرنا
یہ سب کام بھی گاؤں کی ترقی کے لیے لازمی ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اسی طرح مزید اچھے کام کریں گے تاکہ ہمارا گاؤں بہتر اور محفوظ بن سکے۔ اگر یہ مسائل حل نہیں ہوں گے تو عوام سوال بھی کریں گے اور اپنا حق بھی مانگیں گے۔
ہم سب آپ کے خیر خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ گاؤں کے لیے مزید مثبت اقدامات کریں۔
شکریہ

ap sub log plezzz yeh copy kr ke apny facebook parr lagae میرے عزیز بہادر کلوی گوٹھ کے بھائیو السلام علیکم!آج میں منصور ...
07/02/2026

ap sub log plezzz yeh copy kr ke apny facebook parr lagae
میرے عزیز بہادر کلوی گوٹھ کے بھائیو
السلام علیکم!
آج میں منصور علی، پورے ہوش و حواس کے ساتھ، اپنے گاؤں کے وڈیروں کے خلاف بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں۔
میں آج یہاں کسی ذاتی دشمنی کے لیے نہیں کھڑا…
میں آج یہاں اپنے گاؤں کے حق کے لیے کھڑا ہوں!
بھائیو! ذرا سوچو…
کیا یہ انصاف ہے کہ ہمارا گاؤں کئی سالوں سے بجلی سے محروم ہے؟
کیا یہ انصاف ہے کہ ہمارے گھروں میں اندھیرا ہو، اور ہمارے بچے مستقبل سے محروم ہوں؟
یہ سب کیوں ہوا؟
کیونکہ جنہیں ہم نے ووٹ دیا، جنہیں ہم نے اپنا نمائندہ سمجھا…
وہ اپنے فرض میں ناکام رہے!
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے وڈیرے، قادر کلوی صاحب، جن کا اپنا بجلی کا بل ڈیڑھ لاکھ سے لے کر دو لاکھ تک تھا…
وہ خود ذمہ داری پوری نہیں کرتے!
جب بڑے لوگ خود قانون اور اصولوں پر عمل نہیں کریں گے…
تو عام عوام کیسے کرے گی؟
میرے بھائیو!
آج ہمارے گاؤں میں نہ گیس ہے…
نہ بجلی ہے…
نہ سڑکیں ہیں…
نہ راستے ہیں…
نہ گٹر کا کوئی نظام ہے…
یہ کیسا نظام ہے؟
یہ کیسی قیادت ہے؟
اور سب سے بڑا افسوس…
آج ہمارا گاؤں منشیات کی لعنت میں ڈوبتا جا رہا ہے۔
حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے میں زبان پر بھی نہیں لا سکتا…
لیکن دل خون کے آنسو رو دیا۔
ایک وقت تھا جب بہادر کلوی گوٹھ کی عزت پورے علاقے میں تھی…
اور آج ہماری پہچان صرف بدنامی بنتی جا رہی ہے۔
بھائیو! اب وقت آ گیا ہے…
ہوش کے ناخن لینے کا!
میں آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں:
ان وڈیروں کو ووٹ نہ دیں!
ان کا بائیکاٹ کریں!
ووٹ اس شخص کو دیں جو آپ کے دکھ کو سمجھے…
جو آپ کے حق کے لیے کھڑا ہو…
جو آپ کے بچوں کا مستقبل سنوارے!
میں منصور بلوچ، وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنا ووٹ صحیح جگہ دوں گا…
تاکہ میرے گاؤں کا مستقبل روشن ہو…
اور میرے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو!
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
شکریہ

23/01/2026

محترم و معزز حضرات!
یہ بات سن کر خوشی بھی ہوتی ہے اور حیرت بھی کہ ہمارے وڈیرے صاحب ماشاءاللہ
کلوئی قوم کو اکٹھا کرنے نکلے ہیں۔
یقیناً یہ ایک اچھی سوچ ہے کہ پاکستان بھر میں جہاں جہاں کلوئی آباد ہیں
وہ ایک پلیٹ فارم پر آئیں۔
لیکن معزز وڈیرے صاحب!
ذرا ٹھہرئیے…
قوم کو اکٹھا کرنے سے پہلے
اپنے گھر کے صحن پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
ہمارا اپنا گاؤں بہادر خان کلوئی گوٹھ
جہاں برسوں سے:
بجلی موجود نہیں
نکاسیٔ آب کا کوئی مؤثر نظام نہیں
سڑکیں، گلیاں اور راستے خستہ حال ہیں
اور اب یہ خبریں بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ گیس چلی گئی ہے
اور شاید واپس آنے کا کوئی امکان بھی نہیں
ایسی صورتحال میں سوال یہ ہے کہ: کیا قوم صرف نعروں سے اکٹھی ہوتی ہے؟
یا پھر سہولتوں، انصاف اور شعور سے؟
اگر واقعی قوم کو جوڑنا ہے
تو سب سے پہلے یہاں کے لوگوں میں یہ شعور پیدا کیجیے کہ:
بجلی اور گیس کے بل ادا کرنا ذمہ داری ہے
منشیات، آئس اور چرس کی فروخت جیسے ناسور کو ختم کرنا ضروری ہے
گاؤں کو معاشی اور اخلاقی تباہی سے بچانا اولین فرض ہے
پہلے اپنے گاؤں کے لوگوں کو اکٹھا کیجیے،
انہیں درست راستہ دکھائیے،
انہیں سہولتیں دلوائیے۔
پھر ان شاءاللہ
ہم سب مل کر
پورے پاکستان کے کلوئیوں کو اکٹھا کریں گے
اور ایک مضبوط کلوئی اتحاد بنائیں گے۔
قوم نعروں سے نہیں،
عمل سے بنتی ہے۔
شکریہ۔

23/01/2026

سمجھ میں نہیں آتا کہ اس صورتحال پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔
ہمارے پورے گاؤں میں ایک بہت بڑا اسکول موجود ہے، مگر افسوس کہ وہاں اساتذہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، تعلیمی معیار تباہ حالی کا شکار ہے، نہ بجلی ہے، نہ گیس، اور نہ ہی نکاسیٔ آب کا کوئی مناسب نظام۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ علم کے مراکز اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں،
جبکہ بااثر افراد کے گھروں میں گیس کے بل دو دو لاکھ روپے تک پہنچ چکے ہیں — اور وہ بھی ادا نہیں کیے جاتے۔
جب طاقتور لوگ خود قانون اور ذمہ داری سے بالاتر ہوں
تو عام آدمی سے قربانی اور ادائیگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
گاؤں کو معاشی طور پر کمزور رکھنا،
عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنا،
اور خود ہر قانون سے بالا تر رہنا —
یہ قیادت نہیں بلکہ بدترین ناکامی ہے۔
آج ہمارے وڈیرے نہ عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں،
نہ تعلیم، نہ ترقی، نہ بنیادی سہولتیں ان کی ترجیح ہیں۔
نہ جواب دہی ہے،
نہ احساسِ ذمہ داری۔
اب وقت آ گیا ہے کہ عوام خود فیصلہ کرے: کیا ہم یونہی اندھیرے، بدحالی اور لاپرواہی میں جیتے رہیں گے؟
یا اپنے حق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں گے؟
اختیار کوئی ذاتی جاگیر نہیں،
یہ عوام کی امانت ہے۔
اور جو اس امانت میں خیانت کرے
اسے بدلنا عوام کا حق ہی نہیں
بلکہ فرض ہے۔
شکریہ

23/01/2026

ماشاءاللہ، ہمارا گاؤں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے ایک بڑا گاؤں ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بنیادی سہولتوں کے اعتبار سے آج بھی پسماندگی کی تصویر بنا ہوا ہے۔
نہ مکمل بجلی میسر ہے، نہ گیس، نہ نکاسیٔ آب کا مناسب نظام، اور نہ ہی پختہ سڑکیں اور راستے۔
یہ صورتحال صرف شرمناک ہی نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ بھی ہے کہ 2026 کا سال چل رہا ہے اور ہمارا گاؤں آج بھی انیس سو نوّے کی دہائی میں پھنسا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جن بااثر افراد کو عوام نے اپنا نمائندہ بنایا، جنہیں اختیار دیا، وہ خود لاکھوں روپے کے گیس اور بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔
جب طاقتور لوگ قانون اور ذمہ داری سے بالاتر ہوں گے تو پھر عام آدمی سے ادائیگی اور قربانی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
یہ سچ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ: ہم نے ہی ان افراد کو طاقت دی،
ہم نے ہی انہیں آگے بڑھایا،
اور اب اگر وہ عوامی مسائل حل نہیں کر رہے
تو انہیں جواب دہ بنانا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔
ہم برسوں بجلی کے بغیر گزارا کرتے رہے،
اگر گیس نہ ہو تو شاید وہ بھی سہہ لیں،
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی ترقی ہے؟
کیا یہی انصاف ہے؟
کیا یہی عوام کی خدمت کہلاتی ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،
اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں،
اور یہ واضح پیغام دیں کہ
اختیار صرف عہدہ نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہوتا ہے۔
اگر نمائندے کام نہیں کرتے
تو یا تو انہیں اپنا فرض یاد دلایا جائے
یا پھر انہیں تبدیل کرنا قوم کا حق ہے۔
آخر میں میں یہی کہوں گا: یہ شرم صرف افراد پر نہیں،
بلکہ اس نظام پر ہے جو ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔
اور یہ نظام تبھی بدلے گا
جب عوام بیدار ہوں گے۔
شکریہ

16/01/2026

گاؤں بہادر کلوئی کے رہائشی ٹی او شہدادپور ، ڈی ای او سانگھڑ اور محکمہ تعلیم سندھ کی تعلیمی دشمن پالیسیوں سے سخت پریشان ہیں۔ جی بی ای ایل اسکول بہادر کلوئی (407040429) میں 400 سے زائد طلباء کے لیے صرف 4 اساتذہ ہیں۔ ہر بار ایس ٹی آر کے نام پیسوں کے عیوض اسکول سے اساتذہ من پسند اسکولوں میں بھیج دئیے جاتے ہیں۔ رشوت اور تعلیمی دشمنی کے اس کھیل میں ٹی ای او اور ڈی ای او باقاعدہ شامل ہیں۔ گاؤں بہادر کلوئی کے رہائشی محکمہ تعلیم کے منسٹر جناب سردار شاہ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہنگامی طور پر جی بی ای ایل اسکول بہادر کلوئی (407040429) میں اساتذہ بھیجے جائیں۔ بصورت دیگر بہادر کلوئی کے رہائشی پر امن احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
Copy



تو پھر بہادر کلوئی گوٹھ کے نوجوانو! مبارک ہو 🎉اب آپ کے گاؤں میں بجلی بھی نہیں، سڑک بھی نہیں، گٹر بھی نہیںاور اب تازہ خبر...
07/01/2026

تو پھر بہادر کلوئی گوٹھ کے نوجوانو! مبارک ہو 🎉
اب آپ کے گاؤں میں بجلی بھی نہیں، سڑک بھی نہیں، گٹر بھی نہیں
اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ گیس بھی الوداع کہہ گئی 😂
یعنی ترقی اپنے عروج پر ہے!
نہ روشنی، نہ سہولت، نہ بنیادی انسانی حقوق —
لیکن وڈیروں کے بنگلوں میں آج بھی گیس، بجلی اور عیش و آرام پورے ہیں۔
سچ کہا جائے تو ہنسی نہیں، شرم آنی چاہیے
کہ ہم ایسے گاؤں میں بیٹھے ہیں جہاں
اندھیرا بھی مستقل ہے اور خاموشی بھی۔
اب سوال یہ ہے:
کیا ہم صرف مذاق بنا کر چپ بیٹھے رہیں گے؟
یا پھر ایک دن واقعی آواز اٹھائیں گے؟
یاد رکھو:
قومیں سہولتوں سے نہیں،
شعور سے بنتی ہیں۔
فیصلہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے —
یا تو طنز کرتے رہو،
یا پھر اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ ゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

07/01/2026
06/01/2026

تو پھر بہادر کلوئی گوٹھ کے نوجوانو! مبارک ہو 🎉
اب آپ کے گاؤں میں بجلی بھی نہیں، سڑک بھی نہیں، گٹر بھی نہیں
اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ گیس بھی الوداع کہہ گئی 😂
یعنی ترقی اپنے عروج پر ہے!
نہ روشنی، نہ سہولت، نہ بنیادی انسانی حقوق —
لیکن وڈیروں کے بنگلوں میں آج بھی گیس، بجلی اور عیش و آرام پورے ہیں۔
سچ کہا جائے تو ہنسی نہیں، شرم آنی چاہیے
کہ ہم ایسے گاؤں میں بیٹھے ہیں جہاں
اندھیرا بھی مستقل ہے اور خاموشی بھی۔
اب سوال یہ ہے:
کیا ہم صرف مذاق بنا کر چپ بیٹھے رہیں گے؟
یا پھر ایک دن واقعی آواز اٹھائیں گے؟
یاد رکھو:
قومیں سہولتوں سے نہیں،
شعور سے بنتی ہیں۔
فیصلہ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے —
یا تو طنز کرتے رہو،
یا پھر اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ

Address

Press Club Shahdadpur
Shahdadpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahadur Kaloi Goth Welfare & Anti-Drugs Committee" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share