20/10/2026
:🔎 تحقیق سے تحریر تک🖋️
یمنی حوثی اور دوہرے معیار: ایک فکری المیہ
ایوانِ اقتدار میں بیٹھے کچھ عناصر کا کردار حیرت انگیز بھی ہے اور افسوسناک بھی
۔ حال ہی میں راجہ ناصر ایوان کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے یمنی حوثیوں کے حق میں جو دلائل پیش کر رہے تھے ، وہ عقل و دانش اور ملکی مفاد دونوں کے منافی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ یمنی حوثی "سادات اور حسنی سید" ہیں، اس لیے وہ باغی نہیں ہو سکتے! اور ان کے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ کہ انہوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ اور شریعت کا معیار صرف خاندانی نسبت یا طویل اقتدار ہے؟ اگر حکمرانی اور اقتدار ہی صداقت کا معیار ہے، تو پھر تاریخ کے دیگر ادوار کو کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے؟
دوسری طرف، تاریخی حقائق کا یہ عالم ہے کہ جس عظیم ہستی، کاتبِ وحی اور صحابیِ رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع کیا، بحری بیڑے کی بنیاد رکھی، اور جن کے ہاتھ پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے امت میں اتحاد اور خون خرابے کو روکنے کے لیے خلافت کی باگ ڈور سونپی—انہیں تو یہ عناصر ہٹ دھرمی سے "باغی" قرار دیتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ حوثی عناصر، جنہوں نے بارہا قبلۂ اول اور مقدس مقاماتِ حرمین الشریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) پر میزائل حملے کرنے کی کوشش کی، انہیں "مقدس" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے!
پاکستان کی سرزمین پر بیٹھ کر یمنی حوثیوں یا کسی بھی ایسی عسکریت پسند تنظیم کی حمایت اور ترجمانی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی جو خطے کے امن اور حرمین الشریفین کے تقدس کے لیے خطرہ ہوں۔
ہم اس معاملے میں بالکل واضح مؤقف رکھتے ہیں: مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان کا جو بھی فیصلہ ہوگا، ہم اس کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
🖋️ مہر محمد یار