04/05/2025
دنیا کے دو سب سے گرم ترین مقامات:
ایک ایران میں، دوسرا امریکہ میں!
کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین پر کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں گرمی کی شدت انسانوں تو کیا، جانوروں کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے؟
آئیے جانتے ہیں ان دو "جہنم جیسے" علاقوں کے بارے میں:
1. صحرائے لوط (Dasht-e Lut)، جو ایران کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔
اہم حقائق:
یہاں زمین کی سطح کا درجہ حرارت 70.7 ڈگری سینٹی گریڈ (159.3°F) ریکارڈ کیا گیا، جو کہ NASA کے مطابق دنیا کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔
یہ صحرا تقریباً 51,800 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، اور کئی سالوں تک یہاں بارش نہیں ہوتی۔
زمین اس قدر گرم، خشک اور بنجر ہے کہ کوئی پودا یا جانور یہاں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔
اس علاقے کو دنیا کا "جہنم کا ٹکڑا" بھی کہا جاتا ہے!
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق، یہاں کچھ جگہوں پر مائیکرو جرثوموں (microbes) کی موجودگی کے آثار ملے ہیں، جو سائنسدانوں کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔
2. ڈیتھ ویلی (Death Valley) – امریکہ
مقام: کیلیفورنیا اور نیواڈا کے درمیان، امریکہ
دنیا کا دوسرا سب سے گرم اور خشک مقام رہائشی انسانی تاریخ میں
10 جولائی 1913 کو فورنَیس کریک (Furnace Creek) میں 56.7°C (134°F) درجہ حرارت ریکارڈ ہوا
یہ درجہ حرارت آج تک کا دنیا کا سب سے زیادہ مستند اور قابلِ قبول درجہ حرارت مانا جاتا ہے
ڈیتھ ویلی کی ہسٹری:
نام "Death Valley" تب پڑا جب 1849–1850 میں گولڈ رش کے دوران یہاں سے گزرنے والے مسافروں کا ایک قافلہ راستہ بھٹک گیا۔ شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے کئی افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد اسے "موت کی وادی" کہا جانے لگا۔
یہاں کا ماحول اتنا سخت ہے کہ دن کے وقت گرمی ناقابلِ برداشت اور رات کو درجہ حرارت انتہائی کم ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کچھ جنگلی جانور اور کیکٹس جیسے سخت جان پودے اب بھی موجود ہیں۔
آج یہ علاقہ Death Valley National Park کا حصہ ہے، اور بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں تاکہ اس وادی کی شدتِ گرمی کو خود محسوس کر سکیں۔