Fozia Malik

ایران بامقابلہ اسرائیل کیا یہ اسلام کی جنگ تھی۔نہیں ہرگز نہیں۔ یہ ملکی تنازعہ تھا، اسرائیل کو شک تھا ایران بغیر اجازت  ج...
25/06/2025

ایران بامقابلہ اسرائیل
کیا یہ اسلام کی جنگ تھی۔
نہیں ہرگز نہیں۔
یہ ملکی تنازعہ تھا، اسرائیل کو شک تھا ایران بغیر اجازت جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔
1 اگر اسلام کی جنگ تھی تو یہ مزائل اس وقت کیوں نہیں چلے جب غزہ ہزاروں شہادتیں ہو رہی تھی، فلسطین کو تباہ کر دیا گیا۔
2 اگر یہ اسلام کی جنگ ہوتی تو ایران کبھی قطر مسلم ملک پر حملہ نہ کرتا۔
3 اگر یہ اسلام کی جنگ ہوتی تو بھارت میں درجنوں امریکہ کے اڈے ہیں انھیں نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا، جبکہ امریکہ نے بھارتی فضائی حدود استعمال کر کے ایران پہ حملہ کیا،
4 اگر یہ اسلام کی جنگ تھی تو ایران اسرائیل جنگ بندی سے پہلے یہ شرط طے کرنی تھی، کہ پہلے فلسطین سے جنگ بندی کی جائے
، لیکن ایسا نہیں ہوا، ایران اسرائیل جنگ یا تو سوچی سمجھی سازش تھی، یہ ملکی تنازعہ تھا۔
زرا نہیں پورا سوچیے

نبی اللہ سلیمان اورچمگادڑ کی حکمتجب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیاتو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات...
14/05/2025

نبی اللہ سلیمان اورچمگادڑ کی حکمت

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے چمگادڑ سے مشورہ کیا
تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں

پہلی: سورج
عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے
میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکی ہوں

دوسری: سانپ
کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں،
میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکی ہوں

تیسری: ہوا
کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں
میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں

چوتھی: پانی
کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں
نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ
اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا کرے جہاں میں رُک سکوں
اور جو مجھے چاہے وہ میرے پاس آئے

سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو مشورے کے لیے بلایا
ان میں چمگادڑ بھی تھا سب سے چھوٹا سب سے کمزور
سلیمان علیہ السلام نے اسے باقیوں کے سوالات سنائے اور فرمایا
اے چمگادڑ تم نے سب کی شکایتیں سنیں
اب تمہاری رائے کیا ہے؟

چمگادڑ نے نرمی سے پر ہلائے آدب سے آگے آیا اور بولا

اے نبی اللہ
یہ سب سکون چاہتے ہیں
مگر ان کی حرکتوں میں حکمت ہے
جسے اللہ ہی جانتا ہے

اگر سورج رک جائے
تو دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے
نہ فصل ہو نہ دن رات کا نظام قائم رہے

اگر سانپ کو پاؤں دے دیے جائیں
تو اس کی ہیبت ختم ہو جائے
اور جو راز اللہ نے اس میں رکھے ہیں وہ زائل ہو جائیں

اگر ہوا ساکن ہو جائے
تو ہوا سڑ جائے
کشتیاں رک جائیں
بارش نہ ہو
کھیتی تباہ ہو جائے

اگر پانی رُک جائے
تو بدبو دار ہو جائے
نہ قابلِ استعمال رہے
کچھ جگہوں کو زیادہ ملے، کچھ کو محروم کر دے

پھر چمگادڑ نے دھیمے لہجے میں کہا
اے نبی اللہ
ہر چیز کی راحت اس کی حرکت میں ہے
ان کا اصل مقام وہی ہے جہاں اللہ نے ان کو رکھا ہے
اللہ نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی
اور جس شکوہ میں ہم مبتلا ہیں
اسی میں اللہ کی کوئی نعمت چھپی ہوتی ہے
جو صرف غور و فکر کرنے والے کو نظر آتی ہے

سلیمان علیہ السلام مسکرائے
پرندوں اور جانوروں کی طرف دیکھا اور فرمایا

چمگادڑ نے سچ کہا
اگرچہ کمزور ہے
لیکن تم سب سے زیادہ سمجھدار نکلا
اللہ کا شکر ادا کرو
کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے وجود میں ایسی حکمت ہے
جو صرف وہی جانتا ہے
Ale Mughal from Sargodha

10/05/2025

پاکستانیوں نے انڈین ڈرون کا مذاق بنا ڈالا۔
لے مودی تیرا رام نام ست ہے۔ تیرا جنازہ

دنیا کے دو سب سے گرم ترین مقامات: ایک ایران میں، دوسرا امریکہ میں!کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین پر کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہا...
04/05/2025

دنیا کے دو سب سے گرم ترین مقامات:
ایک ایران میں، دوسرا امریکہ میں!
کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین پر کچھ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں گرمی کی شدت انسانوں تو کیا، جانوروں کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے؟

آئیے جانتے ہیں ان دو "جہنم جیسے" علاقوں کے بارے میں:

1. صحرائے لوط (Dasht-e Lut)، جو ایران کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ہے۔

اہم حقائق:

یہاں زمین کی سطح کا درجہ حرارت 70.7 ڈگری سینٹی گریڈ (159.3°F) ریکارڈ کیا گیا، جو کہ NASA کے مطابق دنیا کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔

یہ صحرا تقریباً 51,800 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، اور کئی سالوں تک یہاں بارش نہیں ہوتی۔

زمین اس قدر گرم، خشک اور بنجر ہے کہ کوئی پودا یا جانور یہاں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔

اس علاقے کو دنیا کا "جہنم کا ٹکڑا" بھی کہا جاتا ہے!

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق، یہاں کچھ جگہوں پر مائیکرو جرثوموں (microbes) کی موجودگی کے آثار ملے ہیں، جو سائنسدانوں کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔

2. ڈیتھ ویلی (Death Valley) – امریکہ

مقام: کیلیفورنیا اور نیواڈا کے درمیان، امریکہ

دنیا کا دوسرا سب سے گرم اور خشک مقام رہائشی انسانی تاریخ میں

10 جولائی 1913 کو فورنَیس کریک (Furnace Creek) میں 56.7°C (134°F) درجہ حرارت ریکارڈ ہوا

یہ درجہ حرارت آج تک کا دنیا کا سب سے زیادہ مستند اور قابلِ قبول درجہ حرارت مانا جاتا ہے

ڈیتھ ویلی کی ہسٹری:

نام "Death Valley" تب پڑا جب 1849–1850 میں گولڈ رش کے دوران یہاں سے گزرنے والے مسافروں کا ایک قافلہ راستہ بھٹک گیا۔ شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے کئی افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد اسے "موت کی وادی" کہا جانے لگا۔

یہاں کا ماحول اتنا سخت ہے کہ دن کے وقت گرمی ناقابلِ برداشت اور رات کو درجہ حرارت انتہائی کم ہو جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کچھ جنگلی جانور اور کیکٹس جیسے سخت جان پودے اب بھی موجود ہیں۔

آج یہ علاقہ Death Valley National Park کا حصہ ہے، اور بہت سے سیاح یہاں آتے ہیں تاکہ اس وادی کی شدتِ گرمی کو خود محسوس کر سکیں۔

اگر نیوکلیئر حملہ ہو جائے تو  حملے کے فوری بعد   فوری پناہ اگر آپ کسی عمارت کے اندر ہیں، تو وہیں رہیں اور کھڑکیوں سے دور...
01/05/2025

اگر نیوکلیئر حملہ ہو جائے تو حملے کے فوری بعد

فوری پناہ اگر آپ کسی عمارت کے اندر ہیں، تو وہیں رہیں اور کھڑکیوں سے دور کسی اندرونی کمرے یا تہہ خانے میں چلے جائیں۔ اگر آپ باہر ہیں، تو فوری طور پر کسی مضبوط عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی عمارت دستیاب نہیں ہے، تو زمین پر لیٹ جائیں اور اپنے سر اور گردن کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپ لیں

دھماکے سے بچاؤ: اگر آپ کو دھماکے کی وارننگ ملی ہے، تو کسی ایسی چیز کے پیچھے پناہ لیں جو آپ کو دھماکے کی لہر اور ملبے سے بچا سکے
تابکاری سے بچاؤ: دھماکے کے بعد، آپ کے پاس تابکاری پہنچنے سے پہلے تقریباً 10 منٹ یا اس سے زیادہ کا وقت ہو سکتا ہے۔ اس وقت میں کسی محفوظ جگہ پر پناہ لیں۔ اینٹوں یا کنکریٹ کی دیواروں والی عمارتیں بہتر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ زیر زمین پارکنگ گیراج اور سب وے بھی اچھی پناہ گاہیں ہو سکتی ہیں۔

پناہ میں رہنے کے دوران
اندر ہی رہیں: جب تک حکام کی طرف سے باہر نکلنے کی ہدایت نہ ملے، اندر ہی رہیں۔ عام طور پر، کم از کم 24 گھنٹے تک پناہ میں رہنا محفوظ ہوتا ہے۔
دروازے اور کھڑکیاں بند کریں: تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیں اور کسی بھی درز کو ٹیپ سے سیل کر دیں۔
وینٹیلیشن بند کریں: اگر ممکن ہو تو، پنکھے، ایئر کنڈیشنر اور باہر سے ہوا لانے والے ہیٹنگ یونٹ بند کر دیں۔
اطلاعات سنتے رہیں: بیٹری سے چلنے والا ریڈیو یا دیگر ذرائع سے حکام کی ہدایات سنتے رہیں۔
ذخیرہ شدہ سامان استعمال کریں: اگر آپ کے پاس پانی، خوراک اور طبی سامان کا ذخیرہ ہے تو اسے استعمال کریں۔ باہر سے لائی گئی کسی بھی چیز کو استعمال کرنے سے گریز کریں۔
اگر آپ باہر تھے:
کپڑے تبدیل کریں: اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ تابکار مواد سے آئے ہیں، تو اپنے بیرونی کپڑے اتار کر ایک پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال دیں۔
نہائیں یا دھوئیں: اگر ممکن ہو تو صابن اور پانی سے نہائیں یا اپنے جسم کے کھلے حصوں کو دھو لیں۔ اگر پانی دستیاب نہیں ہے، تو گیلی پونچھوں یا کپڑے سے صاف کریں۔
صاف کپڑے پہنیں: صاف کپڑے پہنیں اور اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو غیر ضروری طور پر مت چھوئیں۔
باہر نکلنے کے بعد:
حکام کی ہدایات پر عمل کریں: جب حکام باہر نکلنے کے لیے محفوظ قرار دیں، تو ان کی ہدایات پر عمل کریں۔
محتاط رہیں: باہر نکلتے وقت احتیاط برتیں اور کسی بھی ممکنہ طور پر آلودہ علاقے سے دور رہیں۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نیوکلیئر حملے کی صورت میں بقا کا انحصار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے، بشمول دھماکے کی شدت، آپ کا مقام اور آپ کتنی جلدی اور مؤثر طریقے سے رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ تیاری اور فوری رد عمل آپ کے بچنے کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے،

📌 گھر میں پانچ مقامات جہاں شیاطین رہتے ہیں، ان سے محتاط رہیں!1️⃣ غیر استعمال شدہ بستراگر آپ کا کوئی بستر طویل مدت تک بچھ...
29/04/2025

📌 گھر میں پانچ مقامات جہاں شیاطین رہتے ہیں، ان سے محتاط رہیں!

1️⃣ غیر استعمال شدہ بستر

اگر آپ کا کوئی بستر طویل مدت تک بچھا رہتا ہے اور اس پر کوئی نہیں سوتا، تو یہ شیطان کے ٹھہرنے کی جگہ بن سکتا ہے۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"فِراشٌ للرجلِ، وَ فراش لِأهلِه، وَ الثالِث لِلضيْفِ، وَ الرابِعُ لِلشيْطَانِ"
(مسلم)
📌 احتیاط:
✅ بستر کو ہمیشہ لپیٹ کر رکھیں۔
✅ ہر دو تین دن بعد اس پر قرآن پڑھا ہوا پانی یا عطر چھڑکیں-

2️⃣ غسل خانہ / باتھ روم

یہ جگہ شیاطین کے رہنے کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور یہاں موجود شیطان انتہائی ناپاک اور خطرناک ہوتے ہیں۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"إن هذه الحشوش محتضرة، فإذا أتاها أحدكم فليقل: أعوذ بالله من الخبث والخبائث"
(ابو داؤد)
📌 احتیاط:
✅ باتھ روم میں داخل ہونے سے پہلے "أعوذ بالله من الخبث والخبائث" پڑھیں۔
✅ اندر بات نہ کریں، زیادہ وقت نہ گزاریں، اور ہمیشہ دروازہ بند رکھیں۔
3️⃣ لمبے عرصے سے لٹکے ہوئے کپڑے

اگر کوئی کپڑے لمبے عرصے تک الماری میں لٹکے رہیں یا انہیں صاف نہ کیا جائے تو شیطان ان میں ٹھکانہ بنا سکتا ہے۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"أُطووا ثيابكم فإن الشيطان يسكن كل ثياب منشورة"
📌 احتیاط:
✅ کپڑوں کو مناسب طریقے سے تہہ کر کے رکھیں۔
✅ ہر کچھ دن بعد الماری کھول کر سورۃ الفاتحہ اور آیت الکرسی پڑھیں۔
✅ کپڑوں پر قرآنی دم کیا ہوا پانی یا خوشبو چھڑکیں۔

4️⃣ انسانی یا حیوانی شکل کے مجسمے / تصویریں
یہ اشیاء ملائکہ کے داخلے میں رکاوٹ بنتی ہیں اور شیاطین کے لیے ٹھکانہ فراہم کرتی ہیں۔
✦ حدیثِ نبوی ﷺ:
"لا تَدخلُ الملائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَ لا تماثيل"
(مسلم)
📌 احتیاط:
✅ گھر میں انسانی یا حیوانی شکل کے مجسمے اور تصاویر رکھنے سے گریز کریں۔
✅ اگر ضروری ہوں، تو انہیں کسی کپڑے سے ڈھانپ دیں یا چہرے کے خدوخال مٹا دیں۔

5️⃣ آگ جلانے کی جگہ (چولہا / انگیٹھی)
چونکہ شیاطین آگ سے پیدا کیے گئے ہیں، اس لیے وہ آگ جلنے والی جگہوں کو پسند کرتے ہیں۔
📌 احتیاط:
✅ چولہا جلاتے یا بجھاتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ" کہیں۔
✅ چولہے یا آگ جلانے کی جگہ کو صاف رکھیں اور اس پر قرآن پڑھا ہوا پانی چھڑکیں۔

📢 اللہ ہمیں اور آپ کو شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین!

جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جس...
29/04/2025

جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جستجو وہیں نہیں رکی۔ جلد ہی انسان نے ایٹمی طاقت کا ایک ایسا روپ دریافت کر لیا جو عام ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ ہولناک تھا — ہائیڈروجن بم۔ اسے بعض اوقات تھرمونیوکلئیر بم بھی کہا جاتا ہے، اور اگر سادہ الفاظ میں بیان کریں تو یہ وہ ہتھیار ہے جو سورج اور ستاروں کی توانائی کو زمین پر اتارنے کی کوشش ہے۔

ہائیڈروجن بم کا اصول بالکل مختلف ہے۔ عام ایٹم بم میں بھاری ایٹم، جیسے یورینیم یا پلوٹونیم کو توڑ کر توانائی حاصل کی جاتی ہے، مگر ہائیڈروجن بم میں ہلکے عناصر کو آپس میں جوڑ کر ناقابلِ تصور توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ یہ عمل نیوکلیئر فیوژن کہلاتا ہے، وہی عمل جو سورج میں کروڑوں سالوں سے جاری ہے اور جس کی بدولت زمین پر روشنی اور زندگی قائم ہے۔ ہائیڈروجن بم میں چھوٹے ایٹم — جیسے ڈیوٹیریم اور ٹرائٹیریم — ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک نیا عنصر پیدا کرتے ہیں، اور اس عمل میں جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ٹن روایتی دھماکہ خیز مواد کے برابر ہو سکتی ہے۔

مگر اس بم کو بنانے کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ فیزیکل طور پر، ہائیڈروجن بم دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے ایک عام ایٹمی بم کا دھماکہ کیا جاتا ہے تاکہ اتنی زیادہ گرمی اور دباؤ پیدا ہو جو فیوژن عمل شروع کر سکے۔ پھر یہ شدید حالات ہلکے ایٹموں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ آپس میں جڑ کر ایک تباہ کن دھماکہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن بم، عام ایٹمی بم کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر عام ایٹم بم کسی شہر کو تباہ کر سکتا ہے تو ہائیڈروجن بم پورے ملک کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا میں ہائیڈروجن بم بنانے کی دوڑ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ امریکہ نے 1952 میں پہلا کامیاب ہائیڈروجن بم تجربہ کیا، جسے "آئیوی مائیک" کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ مارشل آئی لینڈز کے ایک دور دراز جزیرے پر کیا گیا تھا اور اس کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا جزیرہ ہی نقشے سے مٹ گیا۔ سوویت یونین نے 1953 میں اپنا جواب دیا، اور 1961 میں انہوں نے "Tsar Bomba" کا دھماکہ کیا — ایک ایسا دھماکہ جس کی شدت آج تک انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا نیوکلیئر دھماکہ ہے۔ اس دھماکے کا بادل ساٹھ کلومیٹر کی بلندی تک اٹھا اور اس کی روشنی ہزاروں کلومیٹر دور سے دیکھی گئی۔

برطانیہ، فرانس، اور چین نے بھی جلد ہی ہائیڈروجن بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ بعد میں بھارت نے 1998 میں اپنے پوکھران ٹیسٹ میں ایک تھرمونیوکلئیر ڈیوائس کا تجربہ کیا، حالانکہ اس پر دنیا بھر میں کچھ شبہات کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاکستان نے اسی سال اپنے کامیاب ایٹمی تجربات کیے، مگر اب تک کوئی سرکاری طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پاکستان کے پاس مکمل ہائیڈروجن بم ہے۔ شمالی کوریا نے 2016 میں اعلان کیا کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے، مگر بہت سے ماہرین اب بھی اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ہائیڈروجن بم صرف ایک ہتھیار نہیں، یہ ایک فلسفہ ہے: طاقت کی انتہا، تباہی کی معراج۔ یہ اتنا مہلک ہے کہ اس کے استعمال کے بعد زمین پر کئی برسوں تک "نیوکلیئر ونٹر" آ سکتا ہے — ایک ایسا دور جب آسمان دھوئیں سے ڈھک جائے گا، سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچے گی، درجہ حرارت گر جائے گا اور زندگی کا بیشتر حصہ فنا ہو جائے گا۔ اس بم کی تباہی کا عالم یہ ہے کہ اگر چند درجن ہائیڈروجن بم پھٹ جائیں تو انسانی تہذیب کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

شاید اسی خوف نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے معاہدے کریں۔ مگر ہائیڈروجن بم کی موجودگی اب بھی اس دنیا پر ایک ایسا سیاہ سایہ ہے جو کبھی بھی حرکت میں آ سکتا ہے، اگر انسان نے ہوش سے کام نہ لیا۔ آج جب ہم ستاروں کی کھوج میں ہیں، مریخ پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھتے ہیں، تو یہ ہتھیار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہی سیارے کو تباہ کرنے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

شاید یہی ہائیڈروجن بم کی سب سے بڑی کہانی ہے — طاقت کی معراج، اور فنا کا دہانہ۔

ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی  وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اس...
27/04/2025

ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا جو ہزارکوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہوجائےگی تو تڑپے گی وہ خوش ہوگااس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10 ، 10 انگلیوں والے انسان 32 ، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی ، نہ شکاری ، نہ آگ ، نہ کھولتا تیل ، نہ مرچ مسالحہ ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان ، کچھ بھی نہیں تھا ۔ چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی انپڑھ جاہل ، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی ، کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں ۔ میں نے خود ریسرچ کی ھے ، اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں ، میرا ذاتی مشاہدہ ھے ، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے ، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔
چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منہ ڈالا ، کانٹا چبھا ، مچھلی تڑپی ، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا ، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں ۔ بڑی مچھلی کیطرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل رہے___
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے___
مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی
انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا
بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گئے تو

اپنے اپنے گروپس میں شیئر ضرور کریں۔
24/04/2025

اپنے اپنے گروپس میں شیئر ضرور کریں۔

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے...
23/04/2025

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے
آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے
آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا

حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا
یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے
آپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے

یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے
اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے
ان کا فساد اور انجام کیسا ہو گا
اور اس دیوار کی کہانی کیا ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا
لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں
کہہ دیجیے میں تمہیں اس کے بارے میں کچھ سنا دیتا ہوں

ذوالقرنین دنیا کے ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے حکومت اور وسائل عطا کیے
اللہ نے انہیں وہ سب کچھ دیا جس سے وہ پوری دنیا پر حکومت کر سکیں
چنانچہ انہوں نے مغرب کی طرف سفر کیا
وہاں ایک ایسی قوم ملی جو اللہ کو نہیں مانتی تھی
انہوں نے نرمی سے ان کو دعوت دی
اور وہ ایمان لے آئے

پھر ذوالقرنین مشرق کی طرف روانہ ہوئے
وہاں ایسی قوم ملی جو دھوپ میں ننگے میدانوں میں رہتی تھی
انہوں نے ان کے لیے چھپنے کے لیے گھر اور پناہ گاہیں بنوائیں

پھر وہ شمال کی طرف روانہ ہوئے
جہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم ملی
وہ سادہ لوگ تھے جو یاجوج ماجوج کے ظلم سے پریشان تھے
یاجوج ماجوج فساد کرنے والی قوم تھی
وہ حملے کرتے، قتل کرتے، مال لوٹتے اور زمین کو تباہ کرتے تھے
اس قوم نے ذوالقرنین سے کہا کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دیں
تاکہ ہمیں ان کے ظلم سے بچایا جا سکے

ذوالقرنین نے ان سے مزدوری نہیں لی
بس ان سے کہا کہ لوہا اور آگ لا کر دو
انہوں نے ایک بڑی دیوار لوہے اور تانبے کی مدد سے بنائی
اتنی مضبوط کہ یاجوج ماجوج اس پر چڑھ بھی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی اسے توڑ سکتے تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی نسل سے ہیں
ان کا شمار انسانوں میں ہوتا ہے
لیکن وہ بہت طاقتور اور جنگجو ہیں
ان کی قوم میں ان کا ایک سردار ہوتا ہے
یہ لوگ روز اس دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں
جب وہ تھوڑا سا توڑ لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ باقی کل کریں گے
مگر جب اگلے دن آتے ہیں تو دیوار ویسی کی ویسی ملتی ہے
یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ انہیں نکلنے کی اجازت نہ دے

جب وہ نکلیں گے تو زمین پر ہر طرف پھیل جائیں گے
پانی کو پی جائیں گے
یہاں تک کہ طبرستان کی جھیل بھی خشک کر دیں گے
ہر چیز کو کھا جائیں گے
درخت، جانور، انسان جو بھی سامنے آئے

پھر وہ غرور میں آ کر کہیں گے
ہم نے زمین والوں کو مار دیا
اب آؤ آسمان والوں سے لڑیں
وہ اپنے نیزے آسمان کی طرف پھینکیں گے
اللہ تعالیٰ انہیں آزمائش کے لیے خون آلود واپس کرے گا
تو وہ مزید مغرور ہو جائیں گے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی فرماتے ہیں
یہ سب عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے قتل کے بعد ہو گا
جب دجال مارا جائے گا
تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیں گے
کہ مسلمانوں کو لے کر پہاڑ کی طرف چلے جائیں
کیونکہ یاجوج ماجوج نکلنے والے ہیں

پھر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک چھوٹے کیڑے کے ذریعے مار ڈالے گا
جو ان کے نتھنوں اور سروں کے پیچھے سے نکلے گا
اور سب زمین پر مر جائیں گے
زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی

پھر اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا
جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر کہیں دور لے جائے گا
پھر بارش نازل ہوگی
جو زمین کو پاک کرے گی

اس کے بعد زمین پہلے سے بہتر ہو جائے گی
ہر طرف امن ہوگا
حتیٰ کہ آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا اور شیر اسے کچھ نہیں کہے گا
سانپوں پر پاؤں رکھے گا مگر کوئی نقصان نہ ہوگا
دلوں میں حسد، دشمنی اور کینہ باقی نہیں رہے گا
یہ وہ وقت ہوگا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کاش میں اس وقت زندہ ہوتا اور اس وقت کا زمانہ دیکھتا

اللہ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے
اور ایمان پر موت عطا فرمائے
ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے جو عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھ پائیں گے
اور امن کے اس دور کو دیکھیں گے جہاں نہ دشمنی ہو گی نہ ظلم
صرف سکون، سلامتی اور اللہ کا ذکر ہوگا

اللّٰہ ہمیں ہدایت دے، بصیرت دے، اور اپنی پناہ میں رکھے

21/04/2025
ایک لڑکی کی شادی ہوئیشادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سا تھال لئے کمرے میں داخل ہواکھانے سے بڑی زبردست 👌خوشبو آرہی تھ...
19/04/2025

ایک لڑکی کی شادی ہوئی
شادی کی پہلی رات دولہا کھانے کا بڑا سا تھال لئے کمرے میں داخل ہوا
کھانے سے بڑی زبردست 👌
خوشبو آرہی تھی،
کہنے لگا: آؤ کھانا کھاتے ہیں۔
بیوی بولی : میں نے دیکھا ہے تمہاری والدہ نے بھی کھانا نہیں کھایا،
ان کو بھی بلا لو، پھر مل کر کھاتے ہیں،
شوہر نے کہا : وہ سوگئی ہوں گی،
انہیں چھوڑو ہم دونوں کھاتے ہیں۔
بیوی اصرار کرتی رہی پر وہ اِسی بات پر مُصِر رہا کہ امی کو رہنے دو،
جب بیوی نے شوہر کا یہ رویہ دیکھا تو اسی وقت طلاق کا مطالبہ کردیا۔۔
شوہر بڑا حیران ہوا اسکے مطالبے پر، اُس نے بڑا سمجھایا، لیکن وہ اپنی بات پہ ڈٹی رہی یہاں تک کہ طلاق ہوگئی۔
دونوں الگ ہو گئے پھر دونوں نے دوسری شادیاں کرلیں تیس ۔پنتیس سال گزر گئے عورت کے بیٹے ہوئے بہت محبت کرنے والے، ماں کا خیال رکھنے والے، بہت آسودہ حال تھی وہ،
اس نے ارادہ کیا کہ حج کرنا چاھیے۔ سفر کے دوران اس کے بیٹے اس سےکسی ملکہ کی طرح پیش آرہے تھے
پاوں زمین پر لگنے نہ دیتے تھے،
صحرائی سفر تھا
راستے میں ایک آدمی پر نظر پڑی، جوبہت بری حالت میں بھوکا پیاسا بال کھچڑی، کپڑے پرانے، اس عورت نےبیٹوں سے کہا: جاؤ دیکھو! کون مسافر ہے، اسے اٹھاو، ہاتھ منہ دھلا کر، کھانا کھلاؤ، پانی پلاو، چنانچہ بیٹے گئے ماں نے جیسا کہا تھا ویسا کیا۔
عورت کی جب اس پر نظر پڑی تو جان گئی وہ اِسکا پہلا شوہر تھا۔
کہنے لگی یہ کیا کیا، وقت نے تمارے ساتھ؟
بولا میری اولاد نے میرے ساتھ بھلائی نہیں کی،
عورت کہنے لگی : کیوں کرتی کہ تم نے والدین کہ ساتھ برا سلوک کیا تھا۔ میں اسی دن جان گئی تھی کہ تم ماں باپ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔
اسی لئے میں ڈر گئی کہ کل کو میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔
یہ دیکھو آج میں کہاں ہوں اور تم کہاں!
ماں باپ کے ساتھ برا سلوک اللہ کی نافرمانی ہے،اگر اپنا بڑھاپا ہم شاندار گزارنا چاہتے ہیں تو والدین کے ساتھ شاندار سلوک کیجیے، کیوں کہ یہ ایسا عمل ہے کہ جس کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیا جاتا ہے خواہ اچھا ہو، یا برا.

Address

Sargodha
40460

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fozia Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Fozia Malik:

Share