11/07/2023
..
پہلے زمانے میں علاقہ کے وہ مشران جو عمائدین دیہہ کہلاتے تھے وہ لوگ صرف نام کے نہیں بلکہ کردار کے لحاظ سے بھی مشران ہوا کرتے تھے اس وقت جب محلے و پورے گاؤں میں کوئی بھی بچہ یا فرد غلط حرکت کرتا تو وہ یہ دیکھے بغیر کہ کس کا بچہ ہے اپنا ہے یا پرایا ہے اس کو ڈانٹنے کے علاوہ کان کے نیچے ایک دو لگاتا تب اس زمانے کے بچوں اور بڑوں میں حیاء تمیز شرم اور ادب ہوا کرتا تھا۔
علاقے میں جب کسی کے مابین کوئی تنازعہ بنتا یہ مشران بن بلائے پہنچ جاتے فیصلہ کرتے مجال تھا کہ کوئی انکار یا خلاف ورزی کرتا تب علاقے میں امن بھائی چارہ پیار محبت ہمدردی رشتہ داری قائم تھی۔
مگر جب سے ہمارے مشران نے اپنا کردار چھوڑا ہے تو آپ لوگ اپنے اپنے علاقوں پر نظر ڈالیں کتنی دوریاں پیدا ہوئ ہے لوگوں کے مابین۔
اور اب اس مشران کی مسلسل ہائیبرنیشن میں رہنے کی وجہ سے علاقائی سطح پر ہمارا نوجوان نسل سگریٹ نوشی۔چرس نوشی کے علاوہ آئیس تک پہنچنے والی ہے اور بات یہئ رکے گی نہیں اگر اس وقت پراپر ایکشن نہیں لیا گیا تو بہت جلد یہ نوجوان نسل #پوڈر جیسی غلیظ ترین نشے کہ بھی عادی بن جائیگی جس کا اثراث اور ثمرات آنے والے وقت میں علاقائی سطح پر چوری کے واردات اور قتل کے واردات ہونگے ۔۔۔
ابھی بھی اگر آپ لوگ اپنے گھر اپنے محلے اپنے گاوں اور اپنے پورے علاقے کے تقریبا 60 فیصد نوجوانوں پر نظر دوڑائیے تو ہمارا یہ نوجواان نسل اس مشران کی خواب غفلت کی وجہ سے اس مرض کے مریض بن چکے ہے۔
اب ہم سارا دارمداد پولیس انتظامیہ پر ڈالتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے
ہم لوگ تو اپنے حقوق کیلئے لڑ سکتے ہے اور لڑ کر مانگ لیتے ہیں مگر اپنا فرض ادا نہیں کرتے۔
دوسروں پر تنقید کرسکتے ہیں مگر اپنی اصلاح نہیں کرسکتے۔
اپنے سوا سب کو گنہگار اور خود کو فرشتہ تصور کرتے ہیں۔
ہمارے تعلیم یافتہ طبقہ اور علاقائی مشران اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے گھروں میں ارام سے بیٹھ کر معاشرے کے زوال اور تباھی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں کوئی بھی اس کے روک تھام کیلئے بحثیت علاقائی مشر اور مسلمان کردار ادا کرنے کو تیار نہیں قسم سے ہم لوگ پھر سے زمانہ جاہلیت میں واپس جارہے ہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم لوگ جاہلوں سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔
اور یہ جو آگ نشے کی صورت میں پھیل رہی ہے اس سے کسی کا گھر مخفوظ نہیں رہیگا اگر ہم لوگ یہ سوچ رہے ہے کہ اب تو یہ معاملہ غیروں میں ہے لیکن یہ غیروں سے نکل کر اپ کےرشتہ داروں حتی کہ اپ ہی کے گھروں میں موجود بھائیوں، بچوں تک پہنچ جائیگی..
لہذا میرا اپنے تمام اہل فہم مشران سے عاجزانہ درخواست اور اپیل ہے کہ خدا را اس معاشرے کے مزید زوال اور تنزلی کا انتظار مت کیجئے اور اپنے محلصانہ کردار ادا کرنے کے لئے پہل کیجئے ہم سب آپ کے دست وبازوں بنیں گے اور ہم سب ملکر اس بات کو آخری حد تک لیکر جائیگے
کہ یہ لوگ کون ہے کہاں سے آتے ہے اور کس طریقے سے اس نشہ آور اشیاء کو پورے علاقے میں پھیلا رہے ہے اور سب سے اہم بات کہ (چی بیتی د کورہ نہ وی نو غل غلا نہ شی کولے) اس کاروبار میں علاقائی طور پر ملوث کون ہے۔۔۔
ان شاء اللہ آپ ہی کے کردار سے ہم اس معاشرے سے بدامنی اور نشے کی اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہے۔
تو آئیے اس اہم اور بڑھتی ہوئی علاقائی مسئلےاور اپنے بچوں کی محفوظ و روشن مستقبل کے خاطر اس اہم مسئلے میں اپنے ساتھ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بھی انوال کریں اور اگر ایسا نہ کیا تو مستقبل قریب میں ہم سب پچھتائینگے اور اس کا سزا ناصرخیل کا گھر گھر بگھتے گی۔۔۔