18/05/2026
ایان علی 11 سالہ بچہ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ گیارہ ہزار وولٹیج کی تار ھے۔
کرکٹ کھیل رہا تھا بال دوکان کے لوہے کے چھپرے پر چلی گئی ایان علی گیند لینے اوپر گیا معصوم بچہ جب گرنے لگا تو ایان علی نے گیارہ ہزار وولٹیج کی تار کو پکڑ لیا۔ کیوں کہ تاریں انتہائی نچلی سطح پر تھیں ۔۔
اس گیارہ ہزار وولٹیج کے کرنٹ نے معصوم ایان علی کا سینہ بازو۔۔ اور ۔۔ دونوں پاؤں کی انگلیاں جل کر اس قدر متاثر ہوئیں کہ۔ پاؤں کی انگلیاں اور بازو کلائی سے ڈاکٹروں کو کاٹنے پڑتے۔ جس سے ایان علی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معذور ھو گیا ایک معصوم کلی جو ابھی کھلی بھی نہیں تھی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مرجھا گئی،
جبکہ ایان علی کلاس تھری (3) کا اسٹوڈنٹ ھے۔ ایان علی کے والد کراچی کی تولئیے کی فیکٹری میں روانہ کی بنیاد پر اجرت پر کام کرتا تھا۔۔ ایان علی کو یہ حادثہ 30 مارچ 2026 کو پیش آیا ، اس وقت سے ایان کا والد شہباز بے روز گار ھے۔۔ ایان علی کی میڈیسن تک لینے کی اس کے پاس رقم نہیں ھے۔۔
انشا اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔ اللہ کی مدد اور توفیق سے اور دوستوں کے تعاون سے ایان علی کے صحت یاب ھونے تک۔ حی علی الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن اپنے تعاون کو جاری رکھے گا،💔 انشا اللہ۔