25/07/2026
پاسداران میں موساد؟
الجزیرہ کے تجزیے کی روشنی میں ایران سے چند اہم سوالات
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں ایران کے کردار پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تجزیہ کاروں، بالخصوص الجزیرہ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے، نے اس پہلو پر توجہ دلائی ہے کہ اگر ایران کا بنیادی ہدف اسرائیل اور امریکہ ہیں، تو پھر اس کے اقدامات اور ردعمل کا اثر زیادہ تر خلیجی مسلم ممالک پر کیوں پڑتا دکھائی دیتا ہے؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو صرف سیاسی نہیں بلکہ تزویراتی اور انسانی پہلو بھی رکھتا ہے۔
اگر اسرائیل ایران کا سب سے بڑا علاقائی مخالف اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، تو پھر براہِ راست دباؤ نسبتاً محدود کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اسی طرح اگر امریکہ ایران کا بنیادی حریف ہے تو خطے میں موجود اس کے اہم عسکری اثاثے اور مراکز مسلسل ایرانی حملوں کا مرکز کیوں نہیں بنتے؟
اس کے برعکس بحرین، کویت، عمان اور دیگر خلیجی ممالک مسلسل عدم استحکام، سلامتی کے خدشات اور علاقائی دباؤ کا سامنا کرتے نظر آتے ہیں۔ سعودی عرب کے حوالے سے بھی ایران کا رویہ نسبتاً محتاط دکھائی دیتا ہے، جبکہ خطے میں پراکسی گروہوں، خصوصاً حوثیوں، کی سرگرمیاں کشیدگی کو برقرار رکھتی ہیں۔
یہ تمام حالات ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں:
اگر اصل جنگ اسرائیل اور امریکہ سے ہے، تو اس کے اثرات کا زیادہ بوجھ خلیجی مسلم ممالک کیوں اٹھا رہے ہیں؟
الجزیرہ کے تجزیے کی روشنی میں اس صورتحال کی دو ممکنہ تشریحات سامنے آتی ہیں۔
پہلی تشریح؛ نسبتاً محتاط اور حسنِ ظن پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق ایران ممکنہ طور پر ایک ہمہ گیر جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایران کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملہ اس کی عسکری اور سیاسی قیادت، پاسدارانِ انقلاب اور حساس تنصیبات کے خلاف شدید جوابی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح امریکی افواج یا بحری اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانے سے امریکہ کو وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کا جواز مل سکتا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ جائے۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایران ایک محدود، محتاط اور حساب شدہ حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جس کا مقصد براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ہو سکتا ہے۔
دوسری تشریح۔ زیادہ تنقیدی اور سوالیہ نوعیت رکھتی ہے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق اگر اسرائیل غزہ اور لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے، امریکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی مضبوط بنائے رکھے، جبکہ ایران کی حکمتِ عملی کا زیادہ تر دباؤ خلیجی ممالک پر منتقل ہو، تو اس کا حتمی فائدہ کس کے حصے میں آتا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس پر مختلف تجزیہ کار بحث کر رہے ہیں۔
کیا ایران کی موجودہ حکمتِ عملی واقعی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مؤثر مزاحمت ہے، یا اس کے عملی نتائج غیر ارادی طور پر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جن سے مسلم ممالک مزید کمزور، تقسیم اور عدم استحکام کا شکار ہو رہے ہیں؟
یہ کسی حتمی الزام کا اظہار نہیں بلکہ ایک جائز اور سنجیدہ تجزیاتی سوال ہے، جس کا جواب زمینی حقائق اور عملی نتائج کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔
آج خطے میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، کمزور معیشتوں، توانائی کے نظام، علاقائی تجارت اور مسلم ریاستوں کے استحکام کو پہنچ رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اپنی عسکری حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے اور امریکہ بھی اپنی علاقائی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایسے میں بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے:
اگر اصل دشمن اسرائیل ہے تو خلیجی مسلم ممالک عدم استحکام کا شکار کیوں ہیں؟
اور اگر اصل محاذ امریکہ کے خلاف ہے تو امریکی عسکری مراکز نسبتاً محفوظ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
خطے کی سیاست میں بیانات اور نعرے اپنی جگہ، مگر تاریخ ہمیشہ نتائج کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔ اسی لیے ان سوالات کے واضح اور مدلل جوابات نہ صرف ایران بلکہ خطے کے تمام اہم فریقوں کے لیے ضروری ہیں
پاکستان پائندہ باد 🇵🇰 ❤️
پاک فوج زندہ باد 🇵🇰 🌹
#پاکستان #ایران #اسرائیل ٰ #حقیقت #امن #انسانیت
*