Jeevan Sanjh

Jeevan Sanjh The main goal of Jeevan Sanjh is to adopt a positive attitude for the betterment of the society.

The association strives for access to basic human rights and seeks to end all forms of violence. “JEEVAN SANJH“is a Non-Government and Non Political Association, committed to work for Human rights and social change, which is registered under the Societies Registration Act, 1860. The vision of “JEEVAN SANJH“, with a missionary spirit is to give every person a chance to transform his or her life in

the best way. Our work is centered on finding sustainable solutions to socio-economic problems that prevent growth and prosperity. So, “JEEVAN SANJH“serves and facilitates the underprivileged, deserved and deprived population through provision of health, education and other basic & essential livelihood services. Our efforts and initiatives promote raising awareness and encouraging in different social sectors like:
Providing Legal Aid to deserving victimized citizens
Promoting Education, social, political and legal education
Working For gender equality & Empowerment of Women
In addition to regular programs “JEEVAN SANJH” also participates in
Promoting traditions and Cultural Heritage in Youth
Protecting and promoting Mother Languages, Arts & Literature
Using News papers, FM Radio, T.V & Theater etc to serve The Humanity
Ensured environmental sustainability
Improving health care plans
Condemning child labor & reducing poverty programs
Combating against diseases & disasters
We have intended to establish global partnerships for development in above said fields so that
Deprived and deserving mass may adjust themselves in the society and avail better opportunities to achieve their livelihood in respectable manner.

12/08/2026
08/08/2026

قصور کا اعزاز: لاہور کے ٹریفک وارڈن کی دو جڑواں بیٹیوں نے میٹرک کے امتحان میں قدرتی طور 1183، 1183 نمبر بھی جڑواں لے لیے۔....
سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے پوری فیملی کو کل لاہور بلا لیا۔۔۔

08/08/2026

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی مہمان شخصیت ہیں پروفیسر علی ارشد میر!

پروفیسر علی ارشد میر پنجابی زبان و ادب کے ممتاز ترقی پسند شاعر، مصنف، استاد اور سیاسی کارکن تھے۔ اپنی رزمیہ، فکری اور مزاحمتی شاعری کے باعث انہیں اکثر ’’پنجاب کا ہومر‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ یکم جنوری 1951ء کو چشتیاں ضلع بہاولنگر میں پیدا ہوئے اور 16 اکتوبر 2008ء کو وفات پا گئے۔ اگرچہ ان کا بنیادی تعلق چشتیاں سے تھا، لیکن ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن پر مشتمل خطے سے ان کا تدریسی، سیاسی اور ادبی رشتہ نہایت گہرا رہا۔

پروفیسر علی ارشد میر کی شاعری محروم، مظلوم اور محنت کش طبقات کے دکھوں، جدوجہد اور بہتر مستقبل کی خواہش کی ترجمان تھی۔ ان کا شہرۂ آفاق مصرع:

’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو‘‘

پاکستان کی سیاسی، مزدور اور عوامی تحریکوں کا مقبول نعرہ بن گیا۔ 1970ء کی دہائی میں لکھے گئے ان کے ’’بین الاقوامی ترانے‘‘ نے بھی انہیں ملک گیر شہرت عطا کی۔ ان کی شاعری محض ادبی اظہار نہیں تھی بلکہ ناانصافی، طبقاتی استحصال اور جبر کے خلاف ایک توانا آواز تھی۔

پروفیسر علی ارشد میر کا ساہیوال میں قیام بنیادی طور پر ان کی سرکاری تدریسی ملازمت اور سیاسی و ادبی سرگرمیوں کے باعث رہا۔ وہ گورنمنٹ کالج ساہیوال، جو اب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے نام سے معروف ہے، میں پنجابی کے لیکچرر اور اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر مختلف ادوار میں تعینات رہے۔

وہ ایک اصول پسند، نڈر اور بے باک استاد تھے۔ سیاسی دباؤ، خوشامد اور نظریاتی سمجھوتے کو قبول نہ کرنے کے باعث ان کے پورے تدریسی کیریئر میں مبینہ طور پر 26 مرتبہ تبادلے کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ساہیوال سمیت پنجاب کے مختلف شہروں اور تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیتے رہے۔

ساہیوال میں ان کی تعیناتی بھی مختلف وقفوں پر مشتمل رہی۔ جب ان کی سیاسی، مزدور یا انقلابی سرگرمیاں زیادہ نمایاں ہوتیں تو انتظامیہ ان کا تبادلہ کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں کر دیتی۔ اس کے باوجود ان کا ساہیوال کے طلبہ، اساتذہ اور ترقی پسند ادبی حلقوں سے تعلق قائم رہا۔

انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج دیپالپور میں بھی اہم تدریسی اور انتظامی خدمات سرانجام دیں۔ وہ اس ادارے کے پرنسپل رہے اور اپنے کیریئر کے آخری برسوں کا ایک اہم حصہ وہیں گزارنے کے بعد بطور پرنسپل ریٹائر ہوئے۔

پروفیسر علی ارشد میر روایتی معنوں میں صرف نصاب پڑھانے والے استاد نہیں تھے۔ وہ اپنے طلبہ کو سوال اٹھانے، غوروفکر کرنے اور معاشرتی مسائل کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ حقیقی تعلیم انسان کے اندر شعور، خودداری، حق گوئی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے اپنی تدریسی زندگی میں کئی نسلوں کی فکری تربیت کی۔ ان کے شاگرد انہیں ایک ایسے استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں جو کتابی علم کے ساتھ زندگی، سماج، سیاست اور انسانی برابری کا سبق بھی دیتے تھے۔

نظریاتی طور پر پروفیسر علی ارشد میر بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ تھے۔ وہ معروف ترقی پسند رہنما میجر اسحاق محمد کی قائم کردہ مزدور کسان پارٹی کے ساتھ سرگرم رہے۔ ان کی سیاست ذاتی عہدے یا مفاد کے بجائے مزدوروں، کسانوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے تھی۔

ساہیوال میں قیام کے دوران وہ ترقی پسند دانشوروں، کسان رہنماؤں، مزدور کارکنوں اور عوامی حلقوں کے درمیان زیادہ وقت گزارتے تھے۔ ان کا تعلق پنجاب لوک لہر ساہیوال اور مزدور کسان پارٹی کے مقامی کارکنوں سے بھی رہا۔ وہ کسان اجتماعات، ادبی نشستوں، سیاسی مباحثوں اور عوامی پروگراموں میں بھرپور شرکت کرتے تھے۔

ان کی شخصیت میں سادگی اور درویشی نمایاں تھی۔ وہ کسی شاہانہ یا خصوصی رہائش کے خواہش مند نہیں تھے بلکہ عام کارکنوں، دانشوروں اور کسان رہنماؤں کے ساتھ سادہ جگہوں پر قیام کو ترجیح دیتے تھے۔ 1970ء سے 1990ء کی دہائی تک وہ اپنی تعیناتیوں اور سیاسی و ادبی سرگرمیوں کے سلسلے میں بارہا ساہیوال آتے رہے اور یہاں ہفتوں اور مہینوں عوامی حلقوں کے درمیان وقت گزارتے رہے۔

پروفیسر علی ارشد میر نے پنجابی زبان کو پنجاب کی تہذیبی شناخت، تاریخی شعور اور عوامی مزاحمت کی زبان سمجھا۔ ان کی شاعری میں پنجاب کی مٹی، کسان، مزدور، محروم انسان اور معاشرتی ناہمواریاں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔

ساہیوال کے ترقی پسند شاعروں، ادیبوں اور سیاسی کارکنوں پر ان کی فکر کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے اس خطے کے نوجوان اہلِ قلم کو پنجابی زبان سے محبت، عوامی مسائل سے وابستگی اور ادب کو سماجی شعور کا ذریعہ بنانے کی ترغیب دی۔ اسی باعث انہیں ساہیوال کی ترقی پسند ادبی روایت کا ایک اہم ستون قرار دیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر علی ارشد میر کی وفات کے بعد ان کی یاد، فکر اور پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ہر سال ’’میر پنجابی میلہ‘‘ منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ میلہ علی ارشد میر فاؤنڈیشن اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کے اشتراک سے لاہور میں منعقد ہوتا ہے۔

اس موقع پر پنجابی زبان میں تحقیق، شاعری، نثر اور بچوں کے ادب میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو ’’پروفیسر علی ارشد میر ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جاتا ہے۔ یہ میلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی فکر، شاعری اور عوامی جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔

پروفیسر علی ارشد میر صرف ایک شاعر یا استاد نہیں بلکہ مزاحمت، شعور، سادگی اور اصول پسندی کی علامت تھے۔ ساہیوال میں ان کی تدریسی خدمات، ادبی سرگرمیاں اور مزدور کسان تحریک سے وابستگی اس خطے کی فکری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہیں۔
۔

Address

District Courts Sahiwal, Punjab
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jeevan Sanjh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Jeevan Sanjh:

Shortcuts

Share