10/01/2026
آج کے دور میں اگر سب سے زیادہ کسی چیز کو خطرات لاحق ہیں تو وہ خاندان، نکاح اور باہمی اعتماد ہیں۔
سوشل میڈیا کی یلغار، وقتی آزادی کے دلکش نعرے اور جذباتی کمزوریاں انسان کو ایسے راستوں پر ڈال دیتی ہیں جو بظاہر آسان، مگر انجام کے اعتبار سے نہایت تباہ کن ہوتے ہیں۔
عورت فطری طور پر عزت، تحفظ اور سکون کی خواہش رکھتی ہے، اور یہ سب صرف حلال رشتے میں ہی مکمل طور پر میسر آ سکتا ہے۔
نکاح محض ایک قانونی بندھن نہیں بلکہ ایک مضبوط حصار ہے، جو عورت کو جذباتی، سماجی اور اخلاقی نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔
حرام تعلقات میں سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ عورت ہی اٹھاتی ہے—
نہ عزت باقی رہتی ہے، نہ تحفظ، نہ اعتماد اور نہ ہی کوئی محفوظ مستقبل۔
ایسے رشتے محبت پر نہیں بلکہ مفاد، خوف اور بلیک میلنگ پر قائم ہوتے ہیں۔
اکثر وہ شوہر جو دن رات محنت کر کے گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے، خاموشی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
جب محنت کی قدر ختم ہو جائے تو گھر کے ستون کمزور پڑ جاتے ہیں، اور یوں بکھراؤ کا آغاز ہو جاتا ہے۔
اسلام نے عورت کو قید نہیں کیا بلکہ تحفظ عطا کیا ہے۔
پردہ، حدود اور نکاح عورت کی شناخت کو مٹاتے نہیں، بلکہ اسے محفوظ اور باوقار بناتے ہیں۔
حلال راستہ کمزوری نہیں بلکہ عورت کی اصل طاقت ہے۔
یہ وقت الزام دینے کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے۔
کہیں چند لمحوں کی وقتی خوشی پوری زندگی کا سکون تو نہیں چھین رہی؟