حلقہ ارباب ذوق ساہیوال Halqa e Arbab e Zauq

حلقہ ارباب ذوق ساہیوال Halqa e Arbab e Zauq تاریخی حیثیت کی حامل علمی، ادبی اورثقافتی تنظیم

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال اور آرٹس کونسل ساہیوال کے اشتراک سے عمر فاروق انشاء صاحب کی پہلی کتاب "تمحیص" کی تقریبِ رونمائی ...
16/06/2026

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال اور آرٹس کونسل ساہیوال کے اشتراک سے عمر فاروق انشاء صاحب کی پہلی کتاب "تمحیص" کی تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب سے چند تصاویر

احباب سے شرکت کی گزارش ہے7 جون بروز اتوار شام 5 بجےآرٹس کونسل ساہیوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔
04/06/2026

احباب سے شرکت کی گزارش ہے
7 جون بروز اتوار شام 5 بجے
آرٹس کونسل ساہیوال
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

10 مئی 2026 بروز اتوار حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال نے جدید اردو نظم کے اہم اور نمائندہ شاعر مجید امجد کی برسی کی مناسبت سے ا...
13/05/2026

10 مئی 2026 بروز اتوار حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال نے جدید اردو نظم کے اہم اور نمائندہ شاعر مجید امجد کی برسی کی مناسبت سے ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا۔ یہ پروگرام آرٹس کونسل ساہیوال کے اشتراک سے کروایا گیا، اور اس کا موضوع "مجید امجد: ساہیوال کا شعری عکس گر" تھا۔ معروف شاعر پروفیسر اکرم ناصر صاحب نے اس پروگرام کی صدارت کی جبکہ مہمانان کے طور پر ڈاکٹر افتخار شفیع، ڈاکٹر ندیم عباس اشرف، ڈاکٹر ریاض ہمدانی اور ڈاکٹر رانی آکاش شریک ہوئے۔ حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال کے سیکرٹری، نوجوان شاعر اور ادیب عاصم اسلم نے اس پروگرام کی نظامت کی۔ حسبِ روایت اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب محمد اسماعیل صدیق نے حاصل کی۔ نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے کا اعزاز نوجوان خضر سلطان کو ملا۔ اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ ڈاکٹر رانی آکاش نے مجید امجد پر بات کرتے ہوئے انہیں اردو کی تاریخ کا ایک اہم نام قرار دیا اور مبارک باد دی کہ ساہیوال میں انہیں یاد کیا جارہا ہے اور ان کے کام کو سراہا جارہا ہے۔ ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے مختصر لیکن موثر گفتگو کی۔ مجید امجد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے ہاں ہمیں ایک ایسا انسان ملتا ہے جو اپنے اردگرد کے ماحول سے محبت رکھتا ہے اور اپنی ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کچھ نظموں کی مثالیں دیں۔ ان کے بعد ڈاکٹر ندیم عباس اشرف سے تفصیل سے مجید امجد کی زندگی اور شاعری پر بات کی۔ انہوں نے موضوع کے ہر لفظ پر تفصیل سے گفتگو کی اور ہر پہلو کو شاندار طریقے سے سامعین کے سامنے پیش کیا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے مختلف نظموں کے حوالے پیش کیے جیسا کہ بس اسٹینڈ پر، توسیعِ شہر وغیرہ۔ ڈاکٹر افتخار شفیع نے نہایت مختصر لیکن جامع گفتگو کرتے ہوئے مجید امجد کے حوالے سے کہا کہ ان کی شاعری میں جگہ جگہ ساہیوال کا منظر نامہ نظر آتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجید امجد کی شاعری میں ساہیوال کا ماحول سانس لیتا نظر آتا ہے۔ آخر پر صاحبِ صدارت نے اپنی گفتگو کی اور مجید امجد کے حوالے سے لکھی گئی اپنی نظم کی سامعین کے سامنے پیش کی جس کو بہت سراہا گیا۔ گفتگو کا سلسلہ ختم ہوتے ہی حاضرین نے سوالات پوچھے۔ سوال پوچھنے والے احباب میں نوجوان ادیب حماد احمد، محمد اسماعیل صدیق، اور جناب اویس ترمذی شامل تھے۔ اس تقریب میں نوجوانوں کی شرکت قابلِ تحسین تھی۔ اس شاندار علمی و ادبی کاوش میں شرکت کرنے والے احباب میں مہرعلی، عاصم اسلم ، خضر سلطان ،پرینما کومل، عادل نواز، حماد احمد، سید حسن، رضوان خان آدم، محترمہ نجمہ تبسم، محترمہ نائلہ، جناب اویس ترمذی، جناب محمد اسماعیل صدیق ،جناب کاشف حنیف، جناب عبدالمتین، جناب عطا الرسول، جناب خالد جاوید اور دیگر کئی احباب سرِ فہرست ہیں۔ پروگرام کے اختتام پر گروپ فوٹو کا اہتمام بھی ہوا۔

رپورٹ: مہرعلی(جوائنٹ سیکرٹری)




اس اتوار حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال جدید نظم کے نہایت اہم شاعر مجید امجد کی برسی کی مناسبت سے خصوصی پروگرام کا انعقاد کررہا...
09/05/2026

اس اتوار حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال جدید نظم کے نہایت اہم شاعر مجید امجد کی برسی کی مناسبت سے خصوصی پروگرام کا انعقاد کررہا ہے۔ آپ کو بطورِ خاص اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ گزارش ہے کہ اس پروگرام میں شرکت کرکے ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ ادبی کاوش میں شامل ہوں۔ شکریہ

منجاب: سیکٹری و جوائنٹ سیکرٹری
۔
۔
۔
۔
۔
۔



26 اپریل بروز اتوار شام 5 بجے حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال نے مجید امجد ہال آرٹس کونسل ساہیوال میں ایک تنقیدی نشست کا اہتمام ...
27/04/2026

26 اپریل بروز اتوار شام 5 بجے حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال نے مجید امجد ہال آرٹس کونسل ساہیوال میں ایک تنقیدی نشست کا اہتمام کیا۔ انگریزی کے پروفیسر جناب خالد جاوید نے اس نشست کی صدارت کی۔ اس نشست کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس میں دو انگریزی نظموں پر تنقیدی گفتگو کی گئی۔ یہ نظمیں نوجوان شاعر سید علی حسن کی تھیں۔ حاضرین نے دونوں نظموں پر بھرپور گفتگو کی اور دونوں نظموں میں روحانی اور مابعدالطبیعیاتی عناصر کی موجودگی کی طرف توجہ دلائی۔ پہلی نظم"Where neither Remains" کو Spiritual love سے جڑی ہوئی قرار دیا گیا جبکہ دوسری نظم "Rays were passing across the window pane" پر گفتگو کرتے ہوئے اسے جدید انسان کے وجودی کرب کے طور پر دیکھا گیا جو شعور اور علم نے اس میں پیدا کیا ہے۔ نشست میں شرکت کرنے والے احباب میں مہرعلی، عاصم اسلم، جنید، سید علی حسن، مرزا متین الرحمن، پرینما کومل، اویس ترمذی، شیخ عطا الرسول، امتیاز احمد بٹ، رامش منہاس، ڈاکٹر طاہر سراج، رانا خالد جاوید اور دیگر احباب شامل تھے۔

رپورٹ: مہرعلی
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال تنقیدی نشستعلم و ادب سے جڑے احباب سے گزارش ہے کہ تشریف لائیں اور ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ...
25/04/2026

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال
تنقیدی نشست
علم و ادب سے جڑے احباب سے گزارش ہے کہ تشریف لائیں اور ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ علمی و ادبی کاوش میں اپنا حصہ ڈالیں۔ شکریہ

26 اپریل شام 5 بجے اتوار
بمقام: آرٹس کونسل ساہیوال

منجاب: سیکرٹری و جوائنٹ سیکرٹری

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال تنقیدی نشستعلم و ادب سے جڑے احباب سے گزارش ہے کہ تشریف لائیں اور ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ...
11/04/2026

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال
تنقیدی نشست
علم و ادب سے جڑے احباب سے گزارش ہے کہ تشریف لائیں اور ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ علمی و ادبی کاوش میں اپنا حصہ ڈالیں۔ شکریہ

12 اپریل شام 4 بجے اتوار
بمقام: ساہیوال آرٹس کونسل

منجاب: سیکرٹری و جوائنٹ سیکرٹری

تعارف و شاعری : شیخ عطا اللہ جنوںتعارف(بہ حوالہ شہرِ غزل کے بعد, مرتبہ ڈاکٹر افتخار شفیع)شیخ عطاء اللہ جنوں ۱۸۹۳ء میں ہو...
31/03/2026

تعارف و شاعری : شیخ عطا اللہ جنوں

تعارف
(بہ حوالہ شہرِ غزل کے بعد, مرتبہ ڈاکٹر افتخار شفیع)

شیخ عطاء اللہ جنوں ۱۸۹۳ء میں ہوشیار پور (انڈیا) کے نواحی گاؤں بدلہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد اسد اللہ محمود بھی شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے۔ بچپن میں ہی یتیمی کا داغ لگا۔ ابتدائی تعلیم اپنے دادا سے حاصل کی۔ میٹرک کرنے کے بعد ڈرافٹ مین محکمہ نہر سے وابستہ ہو گئے۔ ان دنوں ساہیوال میں آباد تھے کہ تھل پراجیکٹ پر ان کی تعیناتی کا حکم آیا انہوں نے نوکری کو خیر باد کہا اور پھر تمام عمر تدریس، مصوری اور کتب بینی کا شوق پالے رکھا۔ آپ نے تجرد کی عمر گزاری۔ شیخ عطاء اللہ جنوں المعروف مولانا جنوں کا شمار اردو اور فارسی کے ان شعراء میں ہوتا ہے جن کی فنی پختگی اور طرزِ بیان انھیں اتنے بڑے منظر نامے میں ایک علیحدہ تشخص عطا کرتا ہے۔ آپ کے شاگردوں میں سردار عبدالرب نشتر، اکرم خاں قمر، بشیر احمد بشیر، صابر کنجاہی، ظہور احمد ظہور اور شوکت نسیم اغکر نمایاں ہیں۔ شیخ عطاء اللہ جنوں کی مثال ایک ایسے لالۂ صحرائی سے دی جا سکتی ہے جو ستائش اور صلے سے بے نیاز، اپنی آب و تاب دکھا کر اور خوشبو پھیلا کر خاک کا رزق ہو جاتا ہے۔
ہے اہلِ کمال و فضل و کرامت سے ہے جنوں
لیکن خراب حال ہے نام و نشاں سے دور
آپ کا انتقال ۱۹۶۱ء میں ہوا اور ساہیوال کے قدیم قبرستان ماہی شاہ میں آسودہ خاک ہیں۔
ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کے بقول ’ان کے کلام میں ہماری کلاسیکی شعری روایات کا رچاؤ جس بھرپور انداز میں ملتا ہے اس کی مثالیں کم دیکھنے میں آتی ہیں‘۔ مولانا جنوں کا بیش تر کلام ضائع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں شاعر، نقاد اور محقق محمد افتخار شفیع نے ”آثار جنوں“ کے نام سے ان کے دیوان کی تدوین کی ہے۔ جسے گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہء اردو نے شائع کیا ہے۔۔۔

(انتخابِ شاعری)

خود وقار اپنا نہ کھو، ہم بے وقاروں سے نہ کھیل
قادرِ مطلق ہے تو، بے اختیاروں سے نہ کھیل

اے امیدِ حسرت افزا، اے سرابِ دشتِ یاس!
جا مرے آنسو نہ پونچھ، ان آب شاروں سے نہ کھیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو آفتِ جاں عشوہ و انداز و ادا کیا ہے
اے سادگیِ حسنِ بلا خیز تو کیا ہے؟

ہر ذرۂ بے قدر ہے صد حشر در آغوش
ہر قطرۂ نا چیز میں طوفان بپا ہے

لاہوت سے آگے بھی تو ہے وسوسہ ہم راہ
آئینۂ تاریک ہے اور فکرِ جلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
وہ بلبلِ چمنستانِ روز گار ہوں میں
کہ باغ باں کو ہے خود فکرِ آشیاں میرا
۔۔۔۔۔
ہوالموجود کیا ہے، انت کیا ہے اور انا کیا ہے؟
بجز تثلیث، توحیدِ وجودی میں دھرا کیا ہے؟

جیے جاتا ہوں مرنے کے تصور میں خوشا ہستی
خدایا! زیست ذوقِ مرگِ پیہم کے سوا کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔
درماندگی کو ابرِ کرم سے ہے چشمِ فیض
میں تشنہ لب ہوں، چشمۂ آبِ رواں سے دور
۔۔۔۔۔
خوشہ خوشہ عقدِ پرویں، دانہ دانہ مہر و ماہ
نورِ انجم ہے سوا گرد اپنے خرمن میں نہیں

برق کو اتنی تلاشِ خانۂ صیاد کیوں؟
اس سے کس نے کہہ دیا"بلبل نشیمن میں نہیں"

۔۔۔۔۔۔۔

خزاں ہے، فصلِ گُل تک دیکھیے کس کس پہ کیا گزرے
ابھی سے کوندتی ہیں بجلیاں اطرافِ گلشن پر
۔۔۔۔۔۔
کنارِ دشت سہی، گوشۂ چمن نہ سہی
کہیں تو کاش! ہمارا بھی آشیاں ہوتا
۔۔۔۔

میں ابھی ہم کلام تھا کس سے
ہیں، یہ کیا، کوئی آس پاس نہیں!

شعر میں کیا ملا خنوں تجھ کو
کوئی تیرا زباں شناس نہیں
۔۔۔۔۔۔
یہ نیند ہے کہ فقط نید کا تصور ہے
میں جاگتا ہوں کہ مجھ کو جگا رہا ہے کوئی
۔۔۔۔۔
کیا جانے کوئی کب سے ہیں، کیا ہیں، کہاں کے ہیں؟
گو آج ہرزہ گرد ہم اس خاکداں کے ہیں

ناحق مری جبیں کو مہ شفقت سے چوم، شیخ!
اس پر تمام نقش سجودِ بتاں کے ہیں

ثابت ہوا کہ بے سرو پا ہیں علومِ دہر
اک داستاں کے چند ورق درمیاں میں ہیں

لو دے رہا ہے صاف قدم کا ہر اک نشاں
مجنوں کے نقشِ پا ہیں کہ برقِ تپاں کے ہیں
۔۔۔۔۔
کام کیا درس گہِ عقل میں دیوانوں کا
جانبِ دشت ہے رخ، عشق کے فرزانوں کا

دامنوں کا ہے، نہ کچھ ہوش گریبانوں کا
صحنِ گل زار ہے زنداں ، ترے دیوانوں کا

عافیت ہے تو جنوں گوشۂ تنہائی میں
اعتبار آج نہ اپنوں کا، نہ بے گانوں کا
۔۔۔۔۔
ہم ازل سے پیشوائے اہلِ وحشت ہیں جنوں
قیس نے پھاڑا گریباں ہم کو عریاں دیکھ کر

۔۔۔۔
مے کدے کی، جام کی باتیں کریں
بادۂ گل فام کی باتیں کریں

عیشِ رفتہ کا جنوں کیا تذکرہ
گردشِ ایام کی باتیں کریں
۔۔۔۔۔
آئینہ، دل نہیں کہ نہ لائے گا تابِ حسن
آؤ تو اپنے مدِ مقابل کے سامنے
۔۔۔۔

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال کا تنقیدی اجلاس 29 مارچ بروز اتوار شام 4 بجے شفقت ٹی سٹال پر منعقد ہوا جس میں شہر کی مختلف علمی ...
30/03/2026

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال کا تنقیدی اجلاس 29 مارچ بروز اتوار شام 4 بجے شفقت ٹی سٹال پر منعقد ہوا جس میں شہر کی مختلف علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ حلقہ اربابِ ذوق کا یہ 114 اجلاس تھا جس میں ساہیوال کے دو نوجوان افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے تنقید کےلیے پیش کیے۔ اس اجلاس کی صدارت معروف افسانہ نگار جناب مقصود جعفری نے کی جبکہ ساہیوال کی سینئر اور عمدہ افسانہ نگار محترمہ مصباح نوید بطور مہمانِ خصوصی اور ڈاکٹر اللہ یار ثاقب بطور مہمانِ اعزاز شریک ہوئے۔
سب سے پہلے ساہیوال کے نوجوان افسانہ نگار، حمزہ افتخار نے اپنا افسانہ تنقید کےلیے پیش کیا جس کا عنوان "صیہونی چائے خانہ" تھا۔ اس افسانے پر بہت تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں شریک تمام احباب نے گفتگو میں حصہ لیا۔ نوجوان افسانہ نگار حماد احمد نے افسانے کو مختلف نظریات کے آئینے میں دیکھا اور اس پر بات کی۔ جناب صفی ہمدانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسانہ دراصل عالمی سیاست کے موضوع کو زیرِ بحث لاتا ہے اور اس میں بہت سی فنی خوبیاں موجود ہیں۔ کاشف حنیف صاحب نے بھی افسانے پر عمدہ گفتگو کی اور اسے ایک کامیاب افسانہ قرار دیا۔ محترمہ مصباح نوید نے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان افسانہ نگار کی حوصلہ افزائی کی اور اس بات کو خوش آئند قرار دیا کہ ساہیوال میں نوجوان بھی اچھا افسانہ لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے افسانے کے حوالے سے کہا کہ اس میں مثالیں منظر کےلیے لائی گئیں ہیں جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ منظر مثالوں کے مطابق لائے جائیں ۔حلقہ کے سیکرٹری عاصم اسلم صاحب نے بھی افسانے کو کامیاب قرار دیا البتہ ایک سوال بھی اٹھا کہ چائے خانوں پر بیٹھے عام لوگ کیسے کس طرح لفظ"صیہونی" کو سمجھ سکتے ہیں اور اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اویس ترمذی صاحب اور نوید خالد جوئیہ صاحب نے بھی اسے ایک اچھا اور کامیاب افسانہ قرار دیا۔ صاحبِ صدارت نے اپنی گفتگو میں افسانے کے فکری اور فنی پہلوؤں پر بات کی اور کچھ تیکنیکی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افسانے کا آغاز بہت شاندار تھا لیکن ایک مقام پر آکر افسانے کا رنگ یکسر بدل جاتا ہے جو اس کا کمزور پہلو ہے البتہ مجموعی طور پر افسانہ بہت اچھا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ساہیوال میں بھی post modern تکنیک کا افسانہ لکھا جارہا ہے۔
دوسرا افسانہ نوجوان شاعر اور افسانہ نگار کاشف حنیف صاحب کا تھا جس کا عنوان "" تھا۔ افسانے پر گفتگو کا آغاز حماد احمد نے کیا اور اس کو عورتوں پر ہونے والے استحصال کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے unpaid labour کے تصور کو افسانے کی مثال سے سمجھایا جس سے بہت سے نئے پہلوؤں کے در کھلے۔ افسانے پر دیگر کئی احباب نے گفتگو کی اور اسے ایک پدر سری معاشرے میں عورت پر ہونے والے جبر کا عکاس قرار دیا۔ مصباح نوید صاحبہ، ڈاکٹر اللہ یار ثاقب اور صاحبِ صدارت نے اس افسانہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس میں استعمال زبان اور استعاروں کو خوب سراہا۔ اس کے بعد لاہور سے تشریف لائے نوجوان افسانہ نگار جناب وقار سپرا نے اپنی افسانوی مجموعے سے اپنا افسانہ حاضرین کو سنایا جس پر انہیں خوب داد سے نوازا گیا۔
اس نشست میں شرکت کرنے والے دیگر احباب میں
مہرعلی،عاصم اسلم، جمشید امین،مرزا متین الرحمن ،حمزہ افتخار ،علی حسن شیرازی،حماد احمد،ڈاکٹر محمد رمضان،اویس ترمذی،صفی ہمدانی، نوید خالد جوئیہ،وقار سپرا اور معروف صحافی جاوید شوکت شامل تھے۔

جوائنٹ سیکرٹری: مہرعلی






حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال تنقیدی نشستعلم و ادب سے جڑے احباب سے گزارش ہے کہ تشریف لائیں اور ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ...
27/03/2026

حلقہ اربابِ ذوق ساہیوال
تنقیدی نشست
علم و ادب سے جڑے احباب سے گزارش ہے کہ تشریف لائیں اور ساہیوال میں ہونے والی اس سنجیدہ علمی و ادبی کاوش میں اپنا حصہ ڈالیں۔ شکریہ

29 مارچ شام 4 بجے اتوار
بمقام: شفقت ٹی سٹال، چرچ روڈ

منجاب: سیکرٹری و جوائنٹ سیکرٹری

Address

Civil Lines
Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حلقہ ارباب ذوق ساہیوال Halqa e Arbab e Zauq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share