31/03/2026
تعارف و شاعری : شیخ عطا اللہ جنوں
تعارف
(بہ حوالہ شہرِ غزل کے بعد, مرتبہ ڈاکٹر افتخار شفیع)
شیخ عطاء اللہ جنوں ۱۸۹۳ء میں ہوشیار پور (انڈیا) کے نواحی گاؤں بدلہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد اسد اللہ محمود بھی شعر و سخن سے شغف رکھتے تھے۔ بچپن میں ہی یتیمی کا داغ لگا۔ ابتدائی تعلیم اپنے دادا سے حاصل کی۔ میٹرک کرنے کے بعد ڈرافٹ مین محکمہ نہر سے وابستہ ہو گئے۔ ان دنوں ساہیوال میں آباد تھے کہ تھل پراجیکٹ پر ان کی تعیناتی کا حکم آیا انہوں نے نوکری کو خیر باد کہا اور پھر تمام عمر تدریس، مصوری اور کتب بینی کا شوق پالے رکھا۔ آپ نے تجرد کی عمر گزاری۔ شیخ عطاء اللہ جنوں المعروف مولانا جنوں کا شمار اردو اور فارسی کے ان شعراء میں ہوتا ہے جن کی فنی پختگی اور طرزِ بیان انھیں اتنے بڑے منظر نامے میں ایک علیحدہ تشخص عطا کرتا ہے۔ آپ کے شاگردوں میں سردار عبدالرب نشتر، اکرم خاں قمر، بشیر احمد بشیر، صابر کنجاہی، ظہور احمد ظہور اور شوکت نسیم اغکر نمایاں ہیں۔ شیخ عطاء اللہ جنوں کی مثال ایک ایسے لالۂ صحرائی سے دی جا سکتی ہے جو ستائش اور صلے سے بے نیاز، اپنی آب و تاب دکھا کر اور خوشبو پھیلا کر خاک کا رزق ہو جاتا ہے۔
ہے اہلِ کمال و فضل و کرامت سے ہے جنوں
لیکن خراب حال ہے نام و نشاں سے دور
آپ کا انتقال ۱۹۶۱ء میں ہوا اور ساہیوال کے قدیم قبرستان ماہی شاہ میں آسودہ خاک ہیں۔
ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کے بقول ’ان کے کلام میں ہماری کلاسیکی شعری روایات کا رچاؤ جس بھرپور انداز میں ملتا ہے اس کی مثالیں کم دیکھنے میں آتی ہیں‘۔ مولانا جنوں کا بیش تر کلام ضائع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں شاعر، نقاد اور محقق محمد افتخار شفیع نے ”آثار جنوں“ کے نام سے ان کے دیوان کی تدوین کی ہے۔ جسے گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہء اردو نے شائع کیا ہے۔۔۔
(انتخابِ شاعری)
خود وقار اپنا نہ کھو، ہم بے وقاروں سے نہ کھیل
قادرِ مطلق ہے تو، بے اختیاروں سے نہ کھیل
اے امیدِ حسرت افزا، اے سرابِ دشتِ یاس!
جا مرے آنسو نہ پونچھ، ان آب شاروں سے نہ کھیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گو آفتِ جاں عشوہ و انداز و ادا کیا ہے
اے سادگیِ حسنِ بلا خیز تو کیا ہے؟
ہر ذرۂ بے قدر ہے صد حشر در آغوش
ہر قطرۂ نا چیز میں طوفان بپا ہے
لاہوت سے آگے بھی تو ہے وسوسہ ہم راہ
آئینۂ تاریک ہے اور فکرِ جلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔
وہ بلبلِ چمنستانِ روز گار ہوں میں
کہ باغ باں کو ہے خود فکرِ آشیاں میرا
۔۔۔۔۔
ہوالموجود کیا ہے، انت کیا ہے اور انا کیا ہے؟
بجز تثلیث، توحیدِ وجودی میں دھرا کیا ہے؟
جیے جاتا ہوں مرنے کے تصور میں خوشا ہستی
خدایا! زیست ذوقِ مرگِ پیہم کے سوا کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔
درماندگی کو ابرِ کرم سے ہے چشمِ فیض
میں تشنہ لب ہوں، چشمۂ آبِ رواں سے دور
۔۔۔۔۔
خوشہ خوشہ عقدِ پرویں، دانہ دانہ مہر و ماہ
نورِ انجم ہے سوا گرد اپنے خرمن میں نہیں
برق کو اتنی تلاشِ خانۂ صیاد کیوں؟
اس سے کس نے کہہ دیا"بلبل نشیمن میں نہیں"
۔۔۔۔۔۔۔
خزاں ہے، فصلِ گُل تک دیکھیے کس کس پہ کیا گزرے
ابھی سے کوندتی ہیں بجلیاں اطرافِ گلشن پر
۔۔۔۔۔۔
کنارِ دشت سہی، گوشۂ چمن نہ سہی
کہیں تو کاش! ہمارا بھی آشیاں ہوتا
۔۔۔۔
میں ابھی ہم کلام تھا کس سے
ہیں، یہ کیا، کوئی آس پاس نہیں!
شعر میں کیا ملا خنوں تجھ کو
کوئی تیرا زباں شناس نہیں
۔۔۔۔۔۔
یہ نیند ہے کہ فقط نید کا تصور ہے
میں جاگتا ہوں کہ مجھ کو جگا رہا ہے کوئی
۔۔۔۔۔
کیا جانے کوئی کب سے ہیں، کیا ہیں، کہاں کے ہیں؟
گو آج ہرزہ گرد ہم اس خاکداں کے ہیں
ناحق مری جبیں کو مہ شفقت سے چوم، شیخ!
اس پر تمام نقش سجودِ بتاں کے ہیں
ثابت ہوا کہ بے سرو پا ہیں علومِ دہر
اک داستاں کے چند ورق درمیاں میں ہیں
لو دے رہا ہے صاف قدم کا ہر اک نشاں
مجنوں کے نقشِ پا ہیں کہ برقِ تپاں کے ہیں
۔۔۔۔۔
کام کیا درس گہِ عقل میں دیوانوں کا
جانبِ دشت ہے رخ، عشق کے فرزانوں کا
دامنوں کا ہے، نہ کچھ ہوش گریبانوں کا
صحنِ گل زار ہے زنداں ، ترے دیوانوں کا
عافیت ہے تو جنوں گوشۂ تنہائی میں
اعتبار آج نہ اپنوں کا، نہ بے گانوں کا
۔۔۔۔۔
ہم ازل سے پیشوائے اہلِ وحشت ہیں جنوں
قیس نے پھاڑا گریباں ہم کو عریاں دیکھ کر
۔۔۔۔
مے کدے کی، جام کی باتیں کریں
بادۂ گل فام کی باتیں کریں
عیشِ رفتہ کا جنوں کیا تذکرہ
گردشِ ایام کی باتیں کریں
۔۔۔۔۔
آئینہ، دل نہیں کہ نہ لائے گا تابِ حسن
آؤ تو اپنے مدِ مقابل کے سامنے
۔۔۔۔