13/06/2026
آج جب یہ پوسٹ سامنی آئی تو دل خون کے آنسو رونے لگا کہ چار سال پورے ہوئے مگر ملک صاحپ کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں
ملک معین خان منگل کا اپنے بڑے بھائی شہید ملک مومن خان منگل کے بارے میں تحریر دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا چار سال پورے ہونے کو ہیں اور ملک مومن خان منگل شہید کے گھر والوں کو انصاف نہیں ملا
شہید ملک مومن حان منگلؒ: امن و استحکام کا چراغ جو بجھ گیا
دل بے حد غمگین اور آنکھیں اشکبار ہیں جب 15 جون 2022 کا وہ سیاہ دن یاد آتا ہے۔ اس دن دیہاڑے، اہلِ تشیع علاقے کے گاؤں ٹوپکی میں، میرے محترم بھائی قومی مشر، شہید ملک مومن حان منگلؒ کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ میری زندگی کا سب سے زیادہ دل دہلا دینے والا اور ناقابلِ بیان حادثہ ہے، جس کا درد الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
شہید ملک مومن حان منگلؒ صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک مشن اور ایک کردار کا نام تھے۔ وہ میری زندگی میں ایک ایسے بھائی اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے جن کی ہر بات اور ہر عمل سے امن، بھائی چارے اور استحکام کی خوشبو آتی تھی۔ انہوں نے ہمیشہ نفرت اور تعصب کے بجائے محبت، رواداری اور اتحاد کا درس دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ قومیں بندوق سے نہیں، عدل و انصاف اور باہمی احترام سے مضبوط ہوتی ہیں۔
وہ ہر مشکل میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے، مظلوم کی آواز بنتے اور پرامن جدوجہد کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت میں سچائی، بہادری اور دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ ان کا خواب تھا کہ منگل قوم اور پورا علاقہ امن و سلامتی کا گہوارہ بنے، جہاں ہر انسان عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، تو دل پر ایک گہرا خلا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی شہادت پر ہم گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، بلکہ امن و استحکام کے ایک سچے علمبردار کا چلے جانا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ شہید ملک مومن حان منگلؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے، اور لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ آمین۔
ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کے امن و اتحاد کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور ان کی یاد کو ہمیشہ اپنے دلوں میں زندہ رکھیں گے۔
Malik Momin Khan