Social Awareness Organization

Call Directions Contact the organization

Social Awareness Organization ہمارا مقصد:��
سماجی بیداری

28/09/2026

سنٹرل کرم کی موجودہ کرب ناک صورتحال میں چند باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں اور چند عام مغالطوں/پروپیگنڈے سے بچ جانا چاہیے۔

دہشت گردی کے نام پر جنگ خواہ حقیقت ہو یا کھیل، ریاست ڈالر لے رہی ہو یا معدنیات و وسائل کی لوٹ مار ہو، یا پھر واقعی کوئی سانحہ سرزد ہو رہا ہو، لیکن چند باتیں اٹل حقیقت ہیں: عام عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ خواہ دہشت گرد آسمان سے نازل ہو رہے ہوں یا زمین سے برآمد، لیکن شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

دوسری مطلق حقیقت یہ ہے کہ بے گناہ بچوں، جوانوں، بزرگوں اور خواتین سمیت جان و مال کی قربانی عام عوام سب سے زیادہ دے رہے ہیں۔ اور اس قیامت خیز اندھے طوفان میں، اگر نقصان ہے تو ان بے چارے عوام ہی کا ہے۔

اس کے بعد، چونکہ ریاست اپنی سرشت میں جبری ہوتی ہے، اور ہماری ریاست کی پالیسی تو صاف عوام دشمن نظر آتی ہے، لیکن برائے نام ہی سہی، کچھ نام نہاد آئین و پارلیمنٹ تو موجود ہے، اور اس میں اس علاقے کے ’’نمائندے‘‘ بھی بیٹھے ہیں۔ ان سے یہ مطالبہ تو نہیں کیا جا سکتا کہ وہ امن قائم کر سکتے ہیں، لیکن اس انتہا درجے کی سفاکیت اور جبر کے خلاف تو کم از کم یہ واضح کریں کہ وہ اس ظلم و جبر کے ساتھ ہیں یا ان بے گناہ، معصوم، محکوم اور مجبور عوام کے ساتھ۔

سماجی بیداری تنظیم

12/09/2026

سنٹرل کرم کی صورتحال، ذمہ دار کون؟اور راہِ نجات کیا ہے؟
سنٹرل کرم کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے، جہاں ایک طرف تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی کی بنیادی سہولیات، بشمول تعلیمی ادارے، ہسپتال، روزگار اور آمدورفت کی مرکزی شاہراہیں، بلاجواز اور جبری طور پر معطل کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک کے بعد ایک کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی مارٹرز، ڈرونز اور کاڈ کاپٹروں سے ہونے والی اندھا دھند کارروائیوں کے نتیجے میں مسلسل بے گناہ معصوم بچوں، بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ یوں سنٹرل کرم کے عوام پر ہر طرف سے زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔
لیکن اس سنگین صورتحال میں بھی ضلع کرم کے ایم پی اے ریاض شاہین اور ایم این اے حمید حسین کو یہ احساس تک نہیں کہ وہ سنٹرل کرم کے عوام کے نمائندے ہیں اور ان کے مسائل کے لیے خود کو ذمہ دار سمجھیں۔ حالانکہ سنٹرل کرم کے مسائل، ان کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا اور ان کے حق میں بھرپور آواز اٹھانا ان کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
اور یاد دہانی کے طور پر یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ جب بھی سنٹرل کرم مشکلات سے دوچار رہا ہے، لوئر اور اپر کرم کی جانب سے اس سطح کی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا جس طرح سنٹرل کرم کے عوام نے ان کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے!
راہِ نجات اس میں ہے کہ ضلع کرم کے تمام باشندے اس کرب ناک صورتحال پر یک زبان ہو کر ایک مؤثر اور عملی لائحۂ عمل طے کریں۔ تب ہی کسی مثبت نتیجے کی امید کی جا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر ہر سانحے کے بعد محض جذباتی ردِعمل، ایک دو جلسے اور جلوس وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے۔
کیونکہ ریاست کی موجودہ پالیسیاں عوام دشمن نظر آتی ہیں۔ نہ بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر کوئی افسوس ہے اور نہ ہی عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری پوری ہوتی نظر آتی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں سنٹرل کرم کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ سنٹرل کرم کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات تک بلا تعطل رسائی یقینی بنائی جائے، تعلیمی ادارے، ہسپتال، روزگار اور آمدورفت کے ذرائع بحال کیے جائیں، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ جو ریاست کی احسان نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
سماجی بیداری تنظیم

11/09/2026

سنٹرل کرم کی صورتحال اور پارلیمانی نمائندوں کے بے حسی:

سنٹرل کرم میں اس وقت تمام شعبہ ہائے زندگی، بشمول تعلیمی ادارے، ہسپتال، آمدورفت کی مرکزی شاہراہیں، روزگار اور زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات تک عام عوام کی رسائی بلاجواز اور جبری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ سنٹرل کرم کے عوام پر زندگی تنگ کی جا رہی ہے، یہاں تک کہ انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کاپٹر کے اندھا دھند حملوں کے نتیجے میں انہیں اپنے گھروں سے نکل مکانی کرنا پڑے گی۔ کیونکہ جب ان کے گھر اور بازار مسمار ہو جائیں، اور آئے روز بچوں، بزرگوں، خواتین اور نوجوانوں کے جنازے اٹھانے پڑیں، تو آخر ان کے علاوہ کون یہ درد اور بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟

ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے سنگین حالات میں بھی ضلع کرم کے ایم پی اے ریاض شاہین اور ایم این اے حمید حسین کو مجال ہے کہ وہ سنٹرل کرم کے عوام کی حالتِ زار تک پوچھیں یا ان کے لیے کوئی مؤثر آواز اٹھائیں۔

سماجی بیداری تنظیم متعلقہ ریاستی اداروں اور حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ سنٹرل کرم کے عوام سے زندہ رہنے اور زندگی کے بنیادی حقوق سلب نہ کیے جائیں۔

سماجی بیداری تنظیم

25/08/2026

SOCIAL AWARENESS ORGANIZATION

ELECTION ORGANIZING COMMITTEE

اہم انتخابی نوٹیفیکیشن

اعلانِ انتخابات برائے صدارت، نائب صدارت اور جنرل سیکریٹری

تاریخ: 25 اگست 2026

جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے، Social Awareness Organization کے تین اہم ترین عہدوں، یعنی صدر (President)، نائب صدر (Vice President) اور جنرل سیکریٹری (General Secretary) کے لیے جمہوری طریقۂ کار کے تحت انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔

ان انتخابات کو منظم، شفاف اور غیر جانب دار انداز میں منعقد کرنے کے لیے Election Organizing Committee اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔

کاغذاتِ نامزدگی کا اعلان

Election Organizing Committee کی جانب سے کل تینوں عہدوں کے لیے الگ الگ/متعلقہ آن لائن Google Forms باضابطہ طور پر شیئر کیے جائیں گے۔

تنظیم کے تمام اہل اور خواہش مند امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت دی جاتی ہے۔

کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی مدت

تینوں عہدوں:

صدر (President)

نائب صدر (Vice President)

جنرل سیکریٹری (General Secretary)

کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے پانچ (5) دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

تمام امیدواروں سے گزارش ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنا فارم مکمل کرکے جمع کروائیں۔ مقررہ مدت گزرنے کے بعد موصول ہونے والے کاغذاتِ نامزدگی پر انتخابی کمیٹی کی جانب سے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

امیدواروں کے لیے ضروری ہدایت

تمام امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ Social Awareness Organization کے:

تعارف (Introduction)

وژن (Vision)

مشن (Mission)

بنیادی مقاصد اور اصول

سے مکمل طور پر واقف ہوں، تاکہ وہ تنظیم کی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں سمجھ سکیں اور مستقبل میں تنظیم کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔

شفاف انتخابات کا عزم

Election Organizing Committee تمام اراکین کو یقین دلاتی ہے کہ انتخابات کے پورے عمل کو شفاف، منصفانہ، غیر جانب دار اور جمہوری اصولوں کے مطابق مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

تمام امیدواروں اور اراکین کے حقوق کا احترام کیا جائے گا اور انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی جانبداری یا غیر ضروری مداخلت سے گریز کیا جائے گا۔

ہم تمام اہل امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے اور تنظیم کے مستقبل کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

آپ کی شرکت — تنظیم کا مضبوط مستقبل

منجانب:
Election Organizing Committee
Social Awareness Organization

Head of Election Organizing Committee
Ishaq Khan

Official Election Notification — 2026

پریس ریلیزسماجی بیداری تنظیم کا اسلام آباد میں اہم اجلاسسماجی بیداری تنظیم کے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں ضلع کرم، ب...
09/08/2026

پریس ریلیز

سماجی بیداری تنظیم کا اسلام آباد میں اہم اجلاس

سماجی بیداری تنظیم کے اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں ضلع کرم، بالخصوص سنٹرل کرم کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں درج ذیل نکات پر اتفاق کیا گیا:

- ڈوگر بازار مین روڈ کی جبری بندش عوام کو بلاجواز مشکلات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ تنظیم نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے علاقائی مشران، سیاسی و سماجی کارکنان اور نوجوانوں سے بھرپور آواز اٹھانے کی اپیل کی۔

- موجودہ انتہائی سنگین اور غیر یقینی حالات میں رسم و رواج اور بے جا پروپیگنڈہ جیسے غیر سنجیدہ اور غیر متعلقہ معاملات کو موضوعِ بحث بنانا عوام کو حقیقی مسائل سے دور رکھنے کے مترادف ہے۔ اس وقت اولین ترجیح امن، جان و مال کا تحفظ اور بنیادی سہولیات ہونی چاہیے۔

- سنٹرل کرم ڈوگر تحصیل کو انتظامی اختیارات، مؤثر بلدیاتی نظام اور ترقیاتی منصوبے فوری طور پر عملی شکل دیے جائیں۔

- اجلاس میں منتخب MNA اور MPA کی غیر مؤثر اور غیر فعال کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق عوام کو درپیش سنگین مسائل کے حل، علاقے کے بنیادی حقوق اور ترقیاتی ضروریات کے لیے منتخب نمائندوں کی موجودہ کارکردگی اور عملی کردار انتہائی ناکافی ہے۔

- تنظیم نے منتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وہ بیانات اور خاموشی کے بجائے عملی اقدامات کریں اور عوامی مسائل کے حل، سنٹرل کرم کے تحصیل کے عملی درجے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

- سماجی بیداری تنظیم نے واضح کیا کہ وہ عوامی حقوق، امن، ترقی اور علاقے کے اجتماعی مفادات کے لیے پُرامن اور جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

جاری کردہ:
سماجی بیداری تنظیم

07/08/2026

زما يقين دی، زه به بيا غوړېږم پاڼه پاڼه
‏ ‎زما د برخې ټول بادونه د شمال وساته
محترم صدرصیب او جنرل سیکرټری صیب په مشري کښی په اسلام آباد کښی تنظیمی ناسته ✨✌🏻

اس سال 61 فیصد لڑکے میٹرک کے امتحان میں ناکام ہوئے۔ذرا رکیے اور اس بات کو محسوس کیجیے۔ یہ محض ایک اعداد و شمار نہیں — یہ...
05/08/2026

اس سال 61 فیصد لڑکے میٹرک کے امتحان میں ناکام ہوئے۔

ذرا رکیے اور اس بات کو محسوس کیجیے۔ یہ محض ایک اعداد و شمار نہیں — یہ ہزاروں نوجوان ہیں جنہوں نے برسوں جماعتوں میں گزارے، امتحان دیے، اور آخر میں ہاتھ کچھ نہ آیا۔ کہیں آج رات ایک باپ اپنے بیٹے کو دیکھ رہا ہے اور الفاظ نہیں ڈھونڈ پا رہا۔ ایک لڑکا اپنے موبائل پر دوستوں کی خوشیاں دیکھ رہا ہے اور سوچ رہا ہے کہ آخر اس میں کیا کمی رہ گئی۔

ہم آسانی سے پوچھ لیتے ہیں: "یہ طلبہ فیل کیوں ہوئے؟" یہ سوال آسان ہے کیونکہ اس کا سارا بوجھ طالب علم پر ڈال دیتا ہے — اس کی سستی، اس کا موبائل، اس کی بے نظمی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ محنت اور نظم و ضبط اہم ہیں۔ کوئی نظام اس طالب علم کو نہیں سکھا سکتا جو سیکھنا ہی نہ چاہے۔

لیکن ہم ش*ذ و نادر ہی وہ مشکل سوال پوچھتے ہیں: نظام نے ان طلبہ کو کہاں ناکام کیا؟

کیا یہ وہ جماعتیں تھیں جہاں پچاس بچوں پر ایک تھکا ہارا استاد تھا؟ کیا یہ ایسا نصاب تھا جو کسی اور دور کے لیے بنایا گیا تھا؟ کیا یہ وہ گھر تھے جہاں کوئی ہوم ورک میں مدد نہ کر سکا، کیونکہ بارہ گھنٹے کی مزدوری کے بعد نہ وقت بچتا تھا، نہ سکت؟ کیا یہ ایسا نظام تھا جو بچوں کو "پاس" اور "فیل" میں بانٹ دیتا ہے، یہ پوچھے بغیر کہ انہیں برابر کا موقع بھی ملا یا نہیں؟

دونوں باتیں بیک وقت سچ ہو سکتی ہیں۔ طلبہ کو اپنی محنت کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ اور جو نظام ایک پوری نسل کے 61 فیصد کو ہاتھ سے نکل جانے دے، اسے بھی اپنی ناکامی تسلیم کرنی ہوگی۔

یہ کسی کو بھی ذمہ داری سے بری کرنے کی بات نہیں — نہ طلبہ کو، نہ اساتذہ کو، نہ والدین کو، نہ پالیسی سازوں کو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب کو مل کر آگے آنا ہوگا، ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کے بجائے، جبکہ اعداد و شمار بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

کیونکہ سترہ سالہ لڑکا محض ایک فیصد نہیں۔ وہ کسی کا بیٹا ہے۔ اور وہ ایسے نظام کا حق دار ہے جو اس کے لیے لڑے — نہ کہ صرف اسے ناکاموں کی فہرست میں شمار کرے۔ Say no to cheating

27/07/2026

ڈوگر روڈ کی جبری بندش

سماجی بیداری تنظیم بالخصوص قوم مسوزئی اور بالعموم کرم کے عوام، علمائے کرام، مشران، سیاسی و سماجی کارکنان اور نوجوانوں سے اپیل کرتی ہے کہ ڈوگر روڈ کی جبری بندش کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔

ڈوگر بازار، جو سنٹرل کرم اور قوم مسوزئی کا مرکزی تجارتی و انتظامی مرکز ہے، اس کی مین شاہراہ کی بندش کے باعث عوام کو کاروبار، ہنگامی آمدورفت، ہسپتال، نادرا اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ریاست اور موجودہ حکومت نئی ترقیاتی اور انفراسٹرکچر کی سہولیات تعمیر کرنے کے بجائے، جو پہلے سے موجود محدود سہولیات ہیں، انہیں بھی سبوتاژ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔

لہٰذا ہم حکومت، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈوگر روڈ/مین شاہراہ کو فوری طور پر بلا شرط کھول دیا جائے تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

سماجی بیداری تنظیم

19/05/2026

اللہ تعالیٰ ہمارے مظلوم عوام کا ہی مدد گار رہیں ۔
جس طرح کے آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ تور غرکےعلاقے مین اہلیان علاقہ سن 2026 میں بھی اپنے آئینی قانونی حقوق (سڑک۔بجلی۔پانی۔سکول۔ہسپتال)جیسے سہولیات زندگی سے دور ہیں اور ہمارے عوامی نمائندے (MNA.MPA) صاحبان صرف ووٹ کے ایام میں مظلوم عوام کے آنکھوں میں دھول ڈالنے اوران سے ووٹ بٹورنے کیلئے دردر تشریف لےاتےہیں جب کہ اب اہلیان علاقہ جن اذیتوں کا سامنا کررہاہے اس کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ۔لیکن میں حیران اس بات پرہوں کی ہمارے عوام کب تک سوتے رہیں گے اور کب ان میں اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے کی شعوربیدارہوگی

ایک اور بلیک ڈے! 😭سوشل آویئرنس آرگنائزیشن شیخ الحدیث مولانا ادریس رح کی شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔...
05/05/2026

ایک اور بلیک ڈے! 😭

سوشل آویئرنس آرگنائزیشن شیخ الحدیث مولانا ادریس رح کی شہادت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

ایسے نامور اور ممتاز علماء کو ٹارگٹ کرنا انتہائی افسوناک ہے اور ایسے واقعات کے تسلسل نے سازش کو مزید بے نقاب کیا ہوا ہے۔

شیخ ادریس رح کو اپنی دینی ہی نہیں اصلاحی، سماجی، معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی خدمات کی بنیاد پر صوبے اور ملک میں شہرت حاصل تھی۔

ان کے علمی، سیاسی، سماجی خدمات کو ہمیشہ کیلئے یاد رکھا جائے گا۔

سوشل آویئرنس آرگنائزیشن اس واقعے کے ذمہ دار صوبائی حکومت، لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے والے تمام اداروں کو ٹھراتی ہے۔

صوبائی حکومت کو چاہیے کے قاتلین کے خلاف بروقت کاروائی کرکے قوم کے سامنے لائیں جائیں اور ان کو کھڑی سے کھڑی سزا دلوائی جائے۔

سوشل آویئرنس آرگنائزیشن دکھ کی اس گھڑی میں شیخ صاحب کے گھر والوں، اور ان کے غم میں غمزدہ تمام لوگوں کے ساتھ دکھ اور تکلیف کی اس گھڑی میں برابر کی شریک ہے۔

Address

Sadda

Telephone

+923344640314

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Social Awareness Organization posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Social Awareness Organization:

Shortcuts

Share