Understanding Islam Foundation - UIF

Understanding Islam Foundation - UIF An effort to take ourself closer to one who created us at first place and will make us die to finally to decide if we do good to Him and His People Quran.

Quran is a Divine Miracle of Literature revealed 1400 years ago, containing an amazing details on Science, Warnings, Wisdom, Truths, Prophesies, all relevant aspects of life. It has been Preserved 100% In the Original Language and Text! UIFoundation (Understanding Islam Foundation, a non-profit making organization), invites the whole humanity from all spheres of life to Universal Truth. We are str

ictly Non-Political, Non-Sectarian, Non-Commercial in nature. The purpose is to build understanding of Islam and then spread it using all the available means, be it print and electronic media, word of mouth, and other dawaa communities. We want people to unite under one banner of Islam while holding on to the strongest rope i.e. We have an amazing environment of tolerance, fraternity, brotherhood and spiritual entertainment. People from diverse age, racial, ethnic, financial and even disparate religious backgrounds are a part of UIFoundation. We discuss all sorts of issues related to real life problems and provide practical solutions purely based on Islamic teachings.

27/03/2026
Surah Al-Ankaboot, Verse 2:أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَکیا لوگ یہ خیال ...
30/01/2026

Surah Al-Ankaboot, Verse 2:
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ

کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی

Surah Al-Ankaboot, Verse 3:
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ

اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں

(Urdu - Jalandhry)

via iQuran

ذکر اللہ تعالی نے انسانوں کے دفن ہونے کی جگہوں کو "قبریں" کہا ہے، لیکن جب قیامت کے دن انسانوں کے نکلنے (بعث) کا ذکر کیا،...
20/12/2025

ذکر اللہ تعالی نے انسانوں کے دفن ہونے کی جگہوں کو "قبریں" کہا ہے، لیکن جب قیامت کے دن انسانوں کے نکلنے (بعث) کا ذکر کیا، تو اس کے لیے "اجداث" کا لفظ استعمال کیا، نہ کہ قبریں۔ آخر کیوں؟ اور ان دونوں میں فرق کیا ہے؟
1️⃣ دنیاوی قبریں اور قیامت کے اجداث

اللہ تعالی نے انسانوں کے دفن ہونے کی جگہوں کو قرآن میں "قبریں" کہا:
لیکن جب قیامت کے دن زندہ ہو کر نکلنے کا ذکر کیا تو "قبروں" کے بجائے "اجداث" کہا، جیسا کہ درج ذیل آیات میں بیان ہوا:

> خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ (7)
یوم یخرجون من الأجداث سراعا كأنهم إلى نصب یوفضون (43)
ونفخ في الصور فإذا هم من الأجداث إلى ربهم ینسلون (51)

ان آیات سے واضح ہے کہ قیامت کے دن انسان "اجداث" سے نکلیں گے، نہ کہ "قبروں" سے۔

2️⃣ زمین کی تبدیلی اور قبروں کا خاتمہ

اللہ تعالی فرماتا ہے:

> یوم تبدل الأرض غیر الأرض والسموات وبرزوا للہ الواحد القہار

یہ سمجھنے کے لیے کہ "قبریں" اور "اجداث" میں کیا فرق ہے، کچھ اہم سوالات پر غور کریں:

وہ شخص جو سمندر یا دریا میں ڈوب کر مرا اور مچھلیوں نے اس کے جسم کو کھا لیا، اس کی قبر کہاں ہے؟

وہ انسان جو جنگل میں مرا، جس کے جسم کو درندوں اور پرندوں نے کھایا اور جس کی ہڈیاں ہوا نے اڑا دیں، اس کی قبر کہاں ہے؟

وہ شخص جس کی لاش کو جلا کر راکھ بنا دیا گیا اور راکھ کو ہوا یا پانی میں بہا دیا گیا، اس کی قبر کہاں ہے؟

ان سوالات سے معلوم ہوتا ہے کہ "اجداث" کا مطلب "قبر" نہیں ہے۔

3️⃣ قبروں کا بعث اور اجداث کی حقیقت

اللہ تعالی فرماتا ہے:

> وإذا القبور بعثرت (4)

اس آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ موجودہ دنیاوی قبریں قیامت کے دن "بعثرت" یعنی بکھر جائیں گی۔ زمین کے ارتعاش، زلزلوں، اور جغرافیائی تبدیلیوں کی وجہ سے قبریں مٹ جائیں گی اور ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔
یعنی دنیا کی قبریں فنا ہو جائیں گی اور صرف "اجداث" ہی باقی رہیں گے، جو مٹی میں ملے ہوئے ذرات کی شکل میں ہوں گے۔

4️⃣ اجداث سے نکلنا اور نباتات کا مشابہ عمل

قرآن میں قیامت کے دن کے "خرج" کو ایک اور مثال سے واضح کیا گیا ہے:

> وأنزلنا من السماء ماءً مباركاً فأنبتنا به جناتٍ وحبَّ الحصيد (9)
والنخلَ باسقاتٍ لها طلعٌ نضيد (10)
رزقاً للعباد وأحيينا به بلدةً ميتاً كذلكَ الخروج (11)

یہاں "کذلک الخروج" کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ قیامت کے دن اجداث سے انسانوں کا نکلنا ویسے ہی ہوگا جیسے بارش سے زمین میں دبی ہوئی بیجوں کی ذرات اگتے ہیں۔

5️⃣ اجداث کیا ہیں؟

زمین مٹی کے باریک ذرات سے بھری ہوئی ہے۔ انہی میں ہر انسان کی ایسی چھوٹی سی "ذرات" یا خلیات موجود ہیں جنہیں اللہ تعالی قیامت کے دن زندہ کرے گا اور انہی سے انسان دوبارہ پیدا ہوگا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بکھرا ہوا کیوں نہ ہو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

> والله أنبتكم من الأرض نباتاً (17)
ثم يعيدكم فيها ويخرجكم إخراجاً (18)

یہ واضح کرتا ہے کہ "اجداث" انسانی جسم کے وہ ذرات ہیں جو زمین میں موجود ہیں، اور قیامت کے دن اللہ تعالی انہیں اگا کر انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا۔

سبحان اللہ! یہ سب صرف اللہ کی قدرت سے ممکن ہے۔

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Understanding Islam Foundation - UIF posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share