Gilgit Baltistan Democratic Rights

Happy New Year to everyone
01/01/2026

Happy New Year to everyone

اسلام آباد کی مین شاہراہ پر ایک جج صاحب کا پندرہ سالہ بغیر لائسنس یافتہ بیٹا کسٹم ان پیڈ وی 8 چلاتا ہوا دو لڑکیوں کوکچل ...
12/12/2025

اسلام آباد کی مین شاہراہ پر ایک جج صاحب کا پندرہ سالہ بغیر لائسنس یافتہ بیٹا کسٹم ان پیڈ وی 8 چلاتا ہوا دو لڑکیوں
کوکچل کر بغیر جیل کاٹے 5 دن کے اندر آزاد گھوم رہا ہوتا ہے
سننے میں آیا ہے کہ اس نوابزادے کے خلاف دفعہ 322 یعنی قتل بلسبب کا دفعہ لگایا گیا تھا
بغیر لائسنس کے کسٹم ان پیڈ گاڑی چلاتے ہوئے دو لڑکیوں کو روند دے اور اس پر دفعہ 322..
حکومتی اداروں کی خاموشی اور اعلی عدالتی ججوں کی چشم پوشی سمجھ سے بالا ہے
یہ ہے پاکستان کا قانون ...خدارا انصاف کیجئے

احسان علی
چیئرمین گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس

04/12/2025
کھلا خط بنام وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان
10/11/2025

کھلا خط بنام وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

26/09/2025

سمجھ سے بالا ہے کہ انجمن امامیہ اس طرح سے کیسے حمایت کا اعلان کر سکتی ہے
کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ انجمن امامیہ بڑے سکولوں/ کالجوں جو کہ ایک طرف گورنمنٹ سے گرانٹ اور دوسری جانب این جی آوز سے مدد بھی لیتے ہیں اب ایسے سکولوں اور کالجوں کی انجمن کی طرف سے حمایت ان بیچارے غریب ٹیچروں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو ماسٹرز اور ایم فل کی ڈگری لیکر 15 اور 20 ہزار تنخواہ میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
انجمن کو بجائے آنکھ بند کرکے حمایت کرنے کے سکولوں اور کالجوں کی فنانس اور سٹوڈنٹ سٹرینتھ سمیت دیگر سورس آف انکم کی بنیاد پر کیٹیگری بنا کر جو کالج/سکول financially strong ہو انہیں اس رول پر عمدرآمد کرنے جبکہ فنانشلی کمزور اور دیگر سورس آف انکم نہ ہونے والے سکولوں پر اس کے اطلاق کیلئے حکومتی گرانٹ یا کوئی اور لائحہ عمل طے کرنے کی بات کرنی چاہئے تھی

اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ سکول/ کالج فنانشلی اتنے مضبوط نہیں کہ وہ اتنی تنخواہ دے سکیں تاہم یہاں بہت سے سکول ایسے بھی ہیں جو اس قابل ہیں کہ ٹیچرز کو موجودہ گورنمنٹ کی جانب سے تجویز کردہ تنخواہ پے کرنے کے قابل ہیں اسکے باوجود بھی ٹیچرز کے استحصال میں انجمن امامیہ کا کردار ادا کرنے کی کوشش سمجھ سے بالا ہے
سکولوں/ کالجز کی کیٹیگری بنا کر جو سکول فنانشلی مضبوط ہو انہیں اس رول پر عمل درآمد کرنے کا پابند جبکہ جو سکول/ کالج فنانشلی کمزور ہو انہیں اس پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکومتی گرانٹ یا کوئی اور لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے

احسان علی
چیئرمین گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس

Happy independence day  🇵🇰
14/08/2025

Happy independence day 🇵🇰

یہ کس طرح کے کھلاڑی ہیں اور کیسا کھیل ہے جس میں ہار کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور جیتنے والے کو زدو کوب کیا جاتا ہےبچپن سے ...
13/06/2025

یہ کس طرح کے کھلاڑی ہیں اور کیسا کھیل ہے جس میں ہار کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور جیتنے والے کو زدو کوب کیا جاتا ہے
بچپن سے ہی یہی دیکھتا آیا ہوں کہ ہمیشہ میں نہ مانوں ہار کی روش اپناتے ہیں
دنیا بدل گئی، لوگ بدلے، حالات بدل گئےلیکن یہ میونسپل گراؤنڈ اور یہاں میں نہ مانوں ہار کی روش نہیں بدلی
سپورٹس دوستی، محبت ، بھائی چارگی اور میل جول کو بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب لانے کا نام ہے لیکن یہاں یہی کھیل کدورتوں اور نفرتوں کو جنم دیتا نظر آتاہے
ہزاروں شائقین کو میدان میں جمع تو کیا جاتا ہے لیکن کسی بھی طرح کے غیر متوقع حالات سے نمٹنے اور کنٹرول کرنے کیلئے کوئی موثر انتظامات نہیں کیے جاتے ۔
وزیر اعلی سے لے کر وزرا، اپوزیشن ، گورنر، چیف سیکرٹری اور دیگر ارباب اختیار کے سکاوٹس، گھروں کی ڈیوٹی سمیت دیگر معاملات کے نام پر گلگت اور مضافات کے علاقوں کی ڈیوٹیوں سے بچنے والے آٹے میں نمک کے برابر سکردو پولیس جوان ایسے موقعوں پر مار کھانے ، اپنا ہاتھ پیر تڑوانے اور سر پھڑوانے کے علاؤہ اور کر بھی کیا سکتا ہے جسکا ثبوت ریجنل ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے سٹ تھانہ سکردو کے ایس ایچ اور اور دیگر جوان ہیں ایسے میں اگر یہ جوان ہوائی فائر کرے یا آنسو گیس کی شیلنگ کرے تو عوام ناراض اور اگر نہ کرے تو 10 جوان ہزاروں کی تعداد کو کنٹرول کیسے کریں
حسن سدپارہ چوک تصادم ہو یا ہسپتال تصادم یا آج کے میونسپل گراؤنڈ کا میدان جنگ بننا اگر پولیس کی بھاری نفری موجود ہوتی تو بہترین طریقے سے مینیج ہوتا اور شائد وہ سب نہیں ہوتا جو آج ہوا
اگرچہ ہماری تمام تر ہمدردی گلگت سٹی ہسپتال میں شہید ہونے والی بہن کیساتھ ہے اور وزیر اعلی سمیت دیگر ارباب اختیار کی طرف سے فوری نوٹس لینے کو سراہتے ہیں تاہم یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعلی کو صرف گلگت ریجن یا دیامر ہی کیوں نظر آتا ہے، بلتستان ریجن کے واقعات پر چیف منسٹر نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ کیا یہاں بسنے والوں کو انصاف کا حق نہیں؟
ارباب اختیار اگر حقیقی معنوں میں چاہتے ہے کہ یہ معاملات نہ ہوں اور علاقہ ترقی کرے تو بلتستان کے جتنے بھی جوان ریزرو کے نام پر اوپر دیے گئے ناموں اور گلگت سمیت دیگر علاقوں میں موجود ہیں انکو واپس بلتستان بھیجا جائے اور اگر ان علاقوں میں ضرورت ہے تو مذید پولیس کے جوان بھرتی کیے جاںیں

چیف سیکرٹری سیکرٹریٹ اگر گلگت میں ہیں تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیکرٹریٹ کو بلتستان ریجن میں شفٹ کیا جائے

احسان علی
چیئرمین گگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس

01/06/2025
اظہار تعزیت
26/05/2025

اظہار تعزیت

سکردو  میں مکمل ٹنٹڈ شیشے،  ایمرجنسی ہنٹر ایل ایل ڈی وائزر لائٹس اور مرضی کے نمبر پلیٹس نصب شدہ امیر باپ کے بگڑے نوابزاد...
10/03/2025

سکردو میں مکمل ٹنٹڈ شیشے، ایمرجنسی ہنٹر ایل ایل ڈی وائزر لائٹس اور مرضی کے نمبر پلیٹس نصب شدہ امیر باپ کے بگڑے نوابزادوں نے شہریوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے
ان گاڑیوں کے اندر کی صورتحال کا کچھ نہیں پتہ چلتا ، یہ گاڑیاں کسی بھی طرح کے غیر قانونی عمل کیلئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

سکولوں کے باہر صبح اور چھٹی کے دوران مٹر گشت کرتے یہ لوگ سکول جاتے بچوں کیلئے کسی خطرے سے کم نہیں
کسی قانون میں ایک عام گاڑی کو فلی ٹنٹڈ، ہنٹر ایمرجنسی وائزر لائٹس اور مرضی کے نمبر پلیٹس کی اجازت ہے ؟
کیا یہاں قانون نام کی کوئی چیز ہے یا جس کا جو مرضی دل کرے اس کے لئے آزاد ہے؟
اس سے پہلے کہ کوئی حادثہ پیش آئے یا کسی کی عزت لٹے ڈی آئی جی بلتستان اور ایکسائز پولیس سکردو کے ذمہ داران ان گاڑیوں کے خلاف فوری ایکشن لیکر علاقے کو محفوظ بنائیں

احسان علی
چئیرمین، گلگت بلتستان ڈیموکریٹک رائٹس
GB Police ۔۔۔گلگت بلتستان پولیس ۔۔۔
Excise & Taxation, Zakat & Usher, Cooperatives and Transport Department GB

Address

Rawalpindi

Telephone

+923454779981

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit Baltistan Democratic Rights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Gilgit Baltistan Democratic Rights:

Share