GreenSquad

GreenSquad "An ounce of action is worth a ton of theory"🌱Join us to protect our environment 🌍 & Green

12/09/2026

ٹیم گرین سکواڈ اور غوری ٹاؤن (فیز 4-A) کی انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے سوسائٹی میں مقامی درخت، جیسے کہ پلکن اور توت وغیرہ، لگائے گئے۔ ماشاءاللہ یہ پودے اب پروان چڑھ رہے ہیں اور سوسائٹی کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں.

چڑیا گھر وہ واحد جیل ھے جہاں ہر قیدی بے گناہ ہے۔اسلام آباد میں چڑیا گھر بند کیا گیا۔ یہ باقی شہروں میں بھی بند ھونے چاھئ...
06/09/2026

چڑیا گھر وہ واحد جیل ھے جہاں ہر قیدی بے گناہ ہے۔
اسلام آباد میں چڑیا گھر بند کیا گیا۔ یہ باقی شہروں میں بھی بند ھونے چاھئیے۔ جانوروں کو انکا قدرتی ماحول فراہم ھو، شہروں کے قریب مقامی درخت، جھاڑیاں اور میدان ھوں۔۔۔ وہاں جانور آزاد فضا میں رھیں۔۔۔ وہ جانور جو اس خطے کے مقامی ھوں۔ آپ متفق ھیں؟

نالوں پر قبضہ کرنا اور گھر بنانا، دراصل سیلاب کو اپنے گھر مہمان بلانا ہےسیکٹر E-11 اسلام آباد کی کہانیاسلام آباد کا سیکٹ...
05/09/2026

نالوں پر قبضہ کرنا اور گھر بنانا، دراصل سیلاب کو اپنے گھر مہمان بلانا ہے
سیکٹر E-11 اسلام آباد کی کہانی
اسلام آباد کا سیکٹر E-11 ایک بار پھر منگل کے روز بارش اور سیلابی پانی کی زد میں تھا۔ سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں، گھروں اور عمارتوں کے اطراف پانی جمع تھا اور شہری ایک بار پھر اسی سوال کے ساتھ کھڑے تھے کہ آخر ہر بار بارش کے بعد یہی صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے؟
یہ وہی سیکٹر ہے جہاں 2021 کے سیلاب کے دوران ایک ماں اور اس کا بیٹا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ مگر افسوس کہ اس المناک واقعے کے باوجود ہم نے اس مسئلے کی بنیادی وجہ کو مستقل طور پر حل کرنے کے بجائے ہر سال پانی آنے کے بعد عارضی اقدامات پر اکتفا کیا۔
اگر ہم ذرا ماضی میں جائیں اور تقریباً دو دہائیاں پیچھے کا گوگل میپ دیکھیں تو ایک دلچسپ مگر افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ آج جہاں کنکریٹ کی عمارتیں، سڑکیں اور ہاؤسنگ اسکیمیں نظر آتی ہیں، وہاں کبھی قدرتی پانی کے دو راستے یعنی نالے واضح طور پر موجود تھے۔
وقت گزرتا گیا، تعمیرات بڑھتی گئیں، پلاٹ بنتے گئے اور قدرتی نالوں کا راستہ سکڑتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ 2022 سے 2026 کے دوران ان قدرتی نالوں کا بڑا حصہ نقشے اور زمین، دونوں پر تقریباً غائب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
سوال بہت سادہ ہے:
آخر وہ کون تھا جس نے چند پلاٹوں اور چند عمارتوں کی قیمت انسانی جانوں سے زیادہ سمجھ لی؟
اور معاملہ صرف تجاوزات تک محدود نہیں۔ سیکٹر E-11 میں موجود نجی ہاؤسنگ اسکیموں نے ان قدرتی نالوں کے راستے کو انتہائی تنگ کر دیا۔ ایک نالہ جو D-12 کی جانب سے E-11 میں داخل ہوتا تھا، اس کا قدرتی پاٹ مختلف تعمیرات کے باعث اس قدر محدود ہو گیا کہ پانی کے گزرنے کی گنجائش شدید متاثر ہوئی۔
یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر واقعی ان تعمیرات اور نالوں کی تنگی کی منظوری متعلقہ اداروں سے ہوئی تھی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
اسی طرح E-10 کی جانب سے آنے والے نالے کے راستے کو بھی محدود کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بارش معمول سے زیادہ ہو تو پانی کے پاس گزرنے کے لیے مطلوبہ راستہ ہی نہیں رہتا۔ پھر یہی پانی سڑکوں، گھروں اور آبادیوں کی طرف اپنا راستہ بناتا ہے۔
قدرت کے ساتھ ایک بنیادی اصول ہے:
پانی اپنا راستہ نہیں بھولتا، انسان اس کا راستہ ضرور بھول سکتا ہے۔
آپ نالے کو جتنا بھی تنگ کر لیں، اس پر جتنی بھی تعمیرات کر لیں، جب آسمان سے پانی اپنی طاقت کے ساتھ اترے گا تو وہ اپنا پرانا راستہ تلاش کرے گا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ اس بار نالے کے بجائے پانی آپ کے گھر، سڑک اور کاروبار سے گزرے گا۔
دوسری طرف بیوروکریسی کی پھرتیاں بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس سال انتظامیہ کی جانب سے ایسے مکانات اور تہہ خانوں کو پہلے ہی سیل کر دیا گیا جہاں سیلابی پانی داخل ہونے کا خدشہ تھا۔ پھر اگر نقصان کم ہو جائے تو اسے انتظامی کامیابی قرار دینا آسان ہے۔

سبحان اللہ!

مگر اصل سوال یہ ہے کہ جن جگہوں پر پانی کا قدرتی راستہ ہی ختم یا تنگ کر دیا گیا، وہاں مستقبل میں کیا ہوگا؟
منگل کے روز سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد چیئرمین سی ڈی اے نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ مارگلہ کے دامن میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے چار نئے چیک ڈیم بنانے کی بات کی گئی، جبکہ پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے سیکٹر E-11 میں ایک نیا نالہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا۔
یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے:
جب قدرت نے پہلے ہی نالے بنا رکھے تھے تو انہیں تنگ اور ختم کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
قدرتی نالہ ختم کرکے نیا نالہ بنانا مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش ہے جو شاید ابتدا ہی میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔
اسلام آباد کو سیلاب سے بچانے کے لیے صرف نئے نالے اور چیک ڈیم کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قدرتی نالوں کے اصل راستوں کی نشاندہی کی جائے، ان پر ہونے والی تعمیرات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، تجاوزات ختم کی جائیں اور آئندہ کسی بھی تعمیر کو پانی کے قدرتی بہاؤ پر ترجیح نہ دی جائے۔
کیونکہ یاد رکھیں:
نالے پر قبضہ صرف زمین پر قبضہ نہیں ہوتا، یہ آنے والے سیلاب کے لیے ایک راستہ بنانا ہوتا ہے۔
اور جب ہم پانی کا راستہ بند کرتے ہیں تو دراصل سیلاب کو اپنے گھر کا راستہ دکھا رہے ہوتے ہیں۔

Courtesy:

راجہ بازار کا میک اپ، نالہ لئی کا اصل مسئلہنالہ لئی اور راجہ بازار، دونوں راولپنڈی کا حصہ ہیں۔حکومت نے فیصلہ کیا کہ راجہ...
03/09/2026

راجہ بازار کا میک اپ، نالہ لئی کا اصل مسئلہ
نالہ لئی اور راجہ بازار، دونوں راولپنڈی کا حصہ ہیں۔
حکومت نے فیصلہ کیا کہ راجہ بازار کو خوبصورت بنایا جائے، تو بازار کا میک اپ کر دیا گیا۔ دکاندار اپنی مشکلات کے باعث پریشان ہوئے، لیکن دیکھنے والوں نے اس کی نئی شکل کو یقیناً پسند کیا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا راجہ بازار کو رنگنے سے کوئی سیاح یہاں کھنچا چلا آئے گا؟ کیا اس سے راولپنڈی کی سیاحت کو کوئی بڑا فروغ ملے گا؟

دوسری طرف نالہ لئی ہے، جو راولپنڈی کا ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ ہر سال شدید بارشوں کے دوران نالہ لئی میں طغیانی کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات انسانی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

اگر حکومت واقعی عوامی مسائل حل کرنے اور مستقل بنیادوں پر کام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو ضرورت اس بات کی تھی کہ راجہ بازار کے میک اپ جتنی ہی توجہ نالہ لئی کو بہتر بنانے پر بھی دی جاتی۔

نالہ لئی کے مختلف مقامات پر مناسب وئیرز اور گیٹس تعمیر کیے جا سکتے تھے، جہاں ممکن ہو وہاں پانی کو عارضی طور پر ذخیرہ کیا جا سکتا تھا، اطراف کو خوبصورت بنایا جا سکتا تھا اور مناسب مقامات پر پکنک پوائنٹس اور تفریحی مقامات بھی بنائے جا سکتے تھے۔

اس طرح ایک ہی منصوبے سے کئی مسائل حل ہو سکتے تھے:
اربن فلڈنگ میں کمی، پانی کا بہتر انتظام، شہر کی خوبصورتی، تفریحی مقامات کا قیام اور حکومت کے لیے ریونیو کے نئے ذرائع۔

اصل ترقی صرف بازاروں اور گلیوں کا میک اپ کرنے کا نام نہیں۔
اصل ترقی یہ ہے کہ شہر کے سلگتے ہوئے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

حکومت کو اگر میک اپ کا اتنا ہی شوق ہے تو نالہ لئی کا میک اپ بھی کر لیتی،مگر ایسا میک اپ جو صرف چہرہ نہیں، مسئلہ بھی بدل دیتا۔

Courtesy
river update

01/09/2026

پاکستان کے شمال میں بارشیں زیادہ ھوتی ھیں۔ شہر ڈوبتے ھیں۔ جنوب مغرب جہاں بلوچستان کے بہت سے شہر ھیں؛ دالبندین، نوکنڈی، چاغی، خاران، نوشکی اور پنجگور وغیرہ۔۔ وہ سب خشک۔ ھم جہاں شمال میں پانی میں ڈوبتے ھیں۔ جنوب میں ھمارے بھائی، بہن پانی کی بوند کو ترستے ھیں۔ کیا کریں؟ چھت پر چڑھ کر بانگیں دیں ۔ رب سے دعا کریں ۔۔ اور کیا کر سکتے ھیں۔ عوامی جمہوریہ چین میں بھی یہ مسئلہ تھا۔ جنوب میں شدید بارشیں اور شمال میں پانی نا ھونے کے برابر ۔۔۔کمیونسٹ ریاست نے اسکا حل کیسے نکالا؟ جنوب میں پانی سے مالا مال دریائے یانگ زی سے سیلابی پانی نکالا اور ہزاروں کلومیٹر دور اپنے خشک شمال، خصوصاً بیجنگ، تیانجن، ہینان تک پہنچا دیا۔ اس عظیم منصوبے کے راستوں کی مجموعی لمبائی تقریباً 4,350 کلومیٹر ہے اور مکمل ہونے پر سالانہ 44.8 ارب مکعب میٹر پانی منتقل ہوگا یعنی تقریباً تین تربیلا ڈیموں کی مجموعی گنجائش کے برابر۔ اس پراجیکٹ پر 80 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ متوقع ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم نے سفر چین سے متعلق ایک چینی بچی کا ذکر کیا تھا۔ لکھتے ھیں دیوار چین دیکھنے کے موقع پر سات آٹھ سال کی بچی بھی بطور گائیڈ ہمراہ تھی۔ راستے میں میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا " کیا آپ کے ہاتھوں میں ستارے ہیں؟؟ " میں نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ کھول دیے۔

کہنے لگی:" آپ کے ہاتھوں میں ستارے نہیں کیونکہ آپ مشقت نہیں کرتے " پھر اس نے اپنے ہاتھ کھول کر مجھے دکھائے جن پر مشقت کے سبب گٹھے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا۔ " یہ ستارے آپ کے ہاتھوں میں کیسے آ گئے؟ "
بچی نے جواب دیا " میں اپنے اسکول میں پڑھائی کے بعد روز تین گھنٹے زمین کی گوڈی کرتی ہوں اس میں بھل ڈالتی ہوں، سبزیاں اُگاتی ہوں، انہیں پانی دیتی ہوں۔ میرے ہاتھوں میں ستارے اسی مزدوری کا انعام ہیں"
خیر وہ تو ماؤ کا چین تھا۔ شاید ثقافتی انقلاب کا زمانہ رھا ھو گا جب کمیونسٹ معاشرے کے قیام کا خواب بھی جوان تھا۔۔ اب تو پلوں پر سے بہت پانی گزر چکا ۔۔۔مگر آج بھی چین ایسے ہی عوامی موبلائزشن سے معجزات بپا کر دیتا ھے ۔۔۔ یہ سیلابی خطوں سے پانی خشک سالی کے شکار خطوں تک منتقلی ہی کا منصوبہ سامنے ھے۔۔
پاکستان میں کیا ھو گا؟
سکولوں سے چھٹی۔
یہاں تو جن نالوں پر تجاوزات ھیں، انتظامیہ کی جرات نہی ان سے قبضے چھڑا سکے، یہ تو پھر لانگ ٹرم پلاننگ کا معاملہ ھے ۔۔

فہد رضوان

راولپنڈی ماڈل راجہ بازار میں بارش کا پانی کیوں کھڑا ہوتا ہے. اخر کیا وجہ ہے اتنا پیسہ لگانے کے باوجود وہی پرانے مسائل؟ ا...
01/09/2026

راولپنڈی ماڈل راجہ بازار میں بارش کا پانی کیوں کھڑا ہوتا ہے. اخر کیا وجہ ہے اتنا پیسہ لگانے کے باوجود وہی پرانے مسائل؟
اس کا حل کیوں نہیں ہو رہا ؟

میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کی طرف سے سنت نگر میں پارکنگ پلازے کی تعمیر کے لئے علاقے میں موجود پیپل کے اکلوتے درخت کی بق...
31/08/2026

میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کی طرف سے سنت نگر میں پارکنگ پلازے کی تعمیر کے لئے علاقے میں موجود پیپل کے اکلوتے درخت کی بقا خطرے میں ڈال دی گئی ہے۔ اس علاقے میں درختوں کی پہلے ہی شدید کمی ہے اس کے باوجود پیپل کا یہ شاندار اور قدیم درخت بچانے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی پارکنگ پلازے کا نقشہ تیار کرتے وقت اس پہلو کو مدنظر رکھا گیا۔ کمشنر ڈاکٹر عمران حامد شیخ جو کہ میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں ان کے ہوتے ہوئے ایسا ہونا زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ اس سے پہلے وہ انوائرمینٹ پروٹیکشن ایجنسی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں اور تحفظ ماحولیات کی کاوشوں پر تمغہ امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ وہ اس درخت کو بچانے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں شہریوں کو بھی چاہیے کہ اس درخت کو بچانے کے لیے آواز اٹھائیں اور اسے یہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کی بجائے اس کو یہیں محفوظ بنانے پر اصرار کریں کیونکہ اس طرح کے قدیم درختوں سے کئی نسلوں کی یادیں جڑی ہوتی ہیں۔

نعیم احمد

26/08/2026

پمز ہسپتال سے خبر ھے پندرہ نو مولود بچے جل کر مر گئے۔ اے سی کا کمپریسر پھٹ گیا۔ شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی۔ یہ تو خیر بہت ہی سنگین سانحہ ھے ، میں بہت معمولی مثال دیتا ھوں جس سے اپکو اندازہ ھو گا کہ ریاست پاکستان اس وقت کس قسم کی نالائقی، کرپشن اور تقریبا ناکارہ ھو چکی ھے۔ آپ فیض آباد سے پمز ھسپتال آتے ھیں تو آپکے سیدھے ھاتھ روڈ پر ایک کراسنگ کا پل آتا ھے۔۔ جس کو پار کر کے آپ جی سیون، زرعی ترقیاتی بینک کی سمت جا سکتے ھیں۔ اچھا آپ اس پل کو کراس کر کے تھوڑا مزید آگے بڑھیں گے تو اپکو شدید ترین غلیظ دھوئیں کی بو آ رہی ھوتی ھے ۔ کبھی کبھی اپکو وہاں چمنی سے دھواں نکلتا نظر بھی آئے گا۔۔۔۔ یہ پمز ھسپتال کا فضلہ جلایا جا رھا ھے۔
ھم نے کم از کم پچھلے دس سالوں سے تو اس معاملے پر آواز اٹھائی ھو گی کہ دنیا میں ھسپتال کا فضلہ کیسے تلف ھوتا ھے، اسکو پڑھ لیں۔ دیکھ لیں ۔۔۔ یہ ایسے کچرا جلا کر کیوں اہل علاقہ کو ازیت میں مبتلا کر رکھا ھے۔ اسلام آباد کی فضا الگ آلودہ کر رھے ھیں۔۔پتا چلا دنیا میں معاملہ یہ ھے کہ ہسپتالوں کے فضلے کو تیز بھاپ اور پریشر کے ذریعے جراثیم سے پاک کیا جاتا ھے۔ اس کے بعد فضلے کو بہت گہری زمین میں دبا دیا جاتا ہے جہاں پانی کی گزرگاہ نا ھو یا ری سائیکل کیا جاتا ہے جس سے کوئی دھواں یا آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ جو انتہائی خطرناک فضلہ ھوتا ھے اسکو انتہائی جدید ترین مشینری میں جلایا بھی جائے تو ھوا میں زہریلے زرات کی آمیزش نہی ھوتی ۔۔
پمز پاکستان کا سب سے بڑا پبلک سیکٹر کا ھسپتال ھے ۔ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ۔ پمز میں نہی تو باقی پاکستان میں کیا حال ھو گا؟
ان سے کچرا نہی سنبھالا جاتا ۔
یہ مرمت کے معاملات ؟ اس میں تو ٹھیکے، کرپشن، ٹینڈر۔۔۔۔۔

21/08/2026

بھاری جرمانے اور عبرتناک سزائیں؟
آپ متفق ھیں؟

کیا ریاست پاکستان کو ان مجرموں کے خلاف ملک دشمنی، دھشتگردی اور تخریب کاری کا مقدمہ درج نہی کرنا چاہیے؟ پانی کی گزرگاہ کو بند کرنے سے سیلابی پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ھوتا ھے۔ جو مالی نقصان ھوتا ھے، جو لوگ جان سے جاتے ھیں، انکا قتل کیا ان جیسے عوام دشمنوں کے ھاتھوں پر بھی ھے یا نہی؟

کچھ مشاہدے:میں جب بھی پنڈی، اسلام آباد جاتا ھوں، شہر کو زیادہ برباد پاتا ھوں۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ باقی شہروں میں حالات ...
20/08/2026

کچھ مشاہدے:
میں جب بھی پنڈی، اسلام آباد جاتا ھوں، شہر کو زیادہ برباد پاتا ھوں۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ باقی شہروں میں حالات بہتر ھیں ۔ نہی وہاں حالات اس سے زیادہ بدتر ھیں۔ پنڈی اسلام آباد چونکہ طاقت کے مراکز ھیں اس لیے انکو دیکھ کر ملک کی باقی سمت کا اندازہ ھو جاتا ھے۔
شہر میں شدید بارشیں ھو رہی ھیں۔ ھونا کیا چاھییے تھا؟ بارشی پانی محفوظ کیا جاتا ؟ نہی نشیبی علاقے پچھلے پچاس سالوں سے مسلسل ڈوب رھے ھیں۔ گھروں میں گٹروں کا پانی گھس جاتا ھے۔ یہ وہی علاقے ھیں جہاں پانی کے ٹینکر آتے ھیں کیونکہ زیر زمین صاف پانی بہت ہی نیچے ھے۔ ریاست پاکستان کے پاس رین واٹر ھاروسٹنگ، سیلابی، بارشی پانی کی حفاظت اور اسکو محفوظ کرنے کا کوئی منصوبہ ھے؟ جواب ندارد۔ عوام اپنی سطح پر جیسے سولر پر منتقل ھوئے تھے، تھوڑا بہت اب رین واٹر ھاروسٹنگ کرنے کی کوشش کر رھے ھیں مگر یہ طریقہ کار ازحد پیچیدہ ھے۔ صاف پانی کو گٹروں کے پانی سے کیسے الگ کریں۔ جن چھلنیوں سے پانی کو گزارنا ھے، وہاں مٹی جم جائے گی۔۔ کیا کریں گے؟
پنجاب حکومت نمائشی اقدامات کرتی ھے۔ باقی صوبائی حکومتیں تو خیر وہ بھی نہی کر رہیں۔ کم از کم از بہانے پرانے شہر کے بازار بحال ھو رھے ھیں ۔ بہت اچھی بات ھے۔ مگر اب کسی نے راجہ بازار، صدر، کمرشل مارکیٹ جانا ھے تو موٹر سائیکل اور گاڑی کہاں کھڑی ھو؟ کوئی پارکنگ پلازہ ھے؟ جواب ھے نہی ۔۔۔ آپ گاڑیاں ، بائیکس باھر کی سڑکوں پر پارک کر دیں۔ اندر محلوں میں ۔۔۔ لوگوں کے گھروں کے باہر۔۔کمال نہی ھو گیا؟ اب چند سو فٹ کے بازار تو سنور گئے مگر باھر کا سب علاقہ برباد۔ ایک پیرا فورس بنائی تھی ۔۔۔ وہ کہیں نظر نہی اتی۔ خوانچے والے، تجاوزات والے سب اندر کے محلوں میں۔۔ کہتے ھیں ھم روز کا ہزار، پندرہ سو روپے دیتے ھیں۔۔ ٹریفک کا بیڑہ غرق ھے۔
اسکا حل پبلک ٹرانسپورٹ کا سسٹم ھونا چاھییے مگر چونکہ اس میں شاید ابھی کمیشن اور پیدا گیری کے راستے پیدا نہی ھو پا رھے اس لیے وہی روایتی طریقہ کار۔۔۔ سڑکیں چوڑی کرتے جاؤ ۔۔۔ اسلام آباد کی ایکسپریس ہائی وے۔۔ ہر چند سالوں بعد چوڑی ھوتی ھے ۔۔۔ رش وہی بدترین۔۔۔ اب پلان ھے مزید چوڑا کیا جائے۔ گرین بیلٹوں پر ٹریکٹر چل رھے ھیں۔۔ درخت کٹ رھے ھیں۔ ھاں مقامی درختوں کو کاٹ کر بہترین شجرکاری ھو رہی ھے۔۔۔۔ بیری، شیشم، شریں ، پیپل نہی۔۔۔۔وہ جو پرائیویٹ نرسری والے اداروں کو ٹھیکوں پر فراہم کرتے ھیں۔۔۔
سب مل بانٹ کر کھا پی رہے ھیں۔
اشرافیہ اب بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے سمیت گیٹ کمیونٹی میں رھتی ھے ۔۔یا ملک سے باھر۔۔۔ انکو اس سب کی پروا نہی۔ وہ جب نکلتے بھی تو روٹ لگتے ھیں۔ ھٹو بچو کی صداؤں میں وہ نکل بھی جاتے ھیں۔ انکو کیا لگے کہ عام شہری کیسے بھیڑ بکریوں کی طرح دھوپ میں سڑکوں پر رلتا ، مرتا ھے ۔۔ کیمرے خدا جانے کون سی ٹریفک ڈسپلن میں لاتے ہیں ۔۔کبھی کبھی جہاں دل کرے ٹریفک پولیس والے نظر آتے ھیں۔۔ وہ بھی اپنا ٹارگٹ پورا کر کے واپس چوکیوں یا گھر کو چلے جاتے ھیں ۔ ۔۔ کوئی رکشے، چنگچیوں، موٹر سائیکل سواروں کو ٹریفک قوانین کا پابند کرنے کی کوشش کرے تو آواز اٹھتی ھے غریب پر ظلم۔۔۔ سب کاروائی رک جاتی ھے۔۔

تحریر: فہد رضوان

Address

Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GreenSquad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to GreenSquad:

Shortcuts

Share