11/03/2026
جانے کیسے شہتوت کی یہ چھڑی تالاب میں پہنچی ، شاید کوئی چرواہا اپنا ریوڑ اس چھڑی سے ہانکتا ہوا یہاں تالاب سے پانی پلانے کے لیے رکا ہوگا پھر بھینسوں کو پانی سے نکالنے کے لیے یہ چھڑی پھینکی ہو گی اور پھر یہ تیرتے تیرتے کنارے لگ گئی ہو گی ،
اب تالاب کا پانی کناروں سے خشک ہوا اور قدرت نے بہار کی آمد پر کن کہا تو یہ شاخ یہاں پڑے ہوئے ہی اگنا شروع ہو گئ ہے ،روز یہاں بکریوں کے ریوڑ پانی پینے آتے ہیں اور کیسے قدرت نے اسے ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھ کر بچایا ہوا ہے ،
وہ اگانے پر آئے تو تیرتی ہوئی لکڑی کو کنارے لگا دیتا ہے ، اور بچانے پر آئے تو ہر دشمن سے بچا لیتا ہے....
عقیل عباس تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات
چکوال