GreenSquad

GreenSquad "An ounce of action is worth a ton of theory"🌱Join us to protect our environment 🌍 & Green
(1)

10/08/2026

انتظامیہ مکمل کوشش کرتی ھے کہ کہیں غلطی سے عوام کو گرمی میں سایہ نا مل جائے

آزادکشمیر کے چشموں کے کنارے یہ ایک عام منظر ہے۔ کسی سیاح یا مسافروں کی گاڑی رُکتی ہے، اس میں سے کوئی خاتون بچے کو نکال ک...
06/08/2026

آزادکشمیر کے چشموں کے کنارے یہ ایک عام منظر ہے۔ کسی سیاح یا مسافروں کی گاڑی رُکتی ہے، اس میں سے کوئی خاتون بچے کو نکال کر چشمے کے پانی سے اس کو دھوتی ہے اور اس کا گندا کیا ہوا ڈائپر وہیں پر پھینک کر یہ سیاح روانہ ہو جاتے ہیں۔ ہم نشاندہی کرتے ہیں تو سیاح لوگ کہتے ہیں کہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ گندگی کو ٹھکانے لگائے۔ بھئی کُچھ خدا کا خوف کرو، حدیث میں سخت الفاظ میں سایہ دار جگہوں پر پیشاب کرنے سے منع کیا ہے اور یہ تو قدرتی چشمے ہیں۔ یہاں آپ پاخانہ پھینک کر جاتے ہو۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ ڈائپر کے کیمیکل کئی سو سال تک مٹی میں باقی رہتے ہیں اور گلتے نہیں۔ یہی حال رہا تو جو حشر آپ نے اپنے شہروں کا کیا وہ کشمیر کے پہاڑوں کا بھی ہو جائے گا پھر سیاحت کہاں کرو گے؟

تحریر :
Eco-Friends AJK

چیک کیجیے غلطی سے کہیں کوئی مقامی درخت تو نہی لگ گیا۔۔
05/08/2026

چیک کیجیے غلطی سے کہیں کوئی مقامی درخت تو نہی لگ گیا۔۔

اوکاڑہ فاریسٹ ڈویژن
کمشنرساہیوال اور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے محکمہ جنگلات کے تعاون سے ڈی سی کمپلکس اوکاڑہ میں پودا لگایا، مون سون شجرکاری میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں، افسران کی عوام سے اپیل

یہ وادی کمراٹ ھے ۔۔ اللہ نے یہ نعمت پاکستان کو دی۔ پاکستانیوں نے اسکا کیا حال کیا؟ خود دیکھیں۔کمراٹ سے ایک دوست لکھتے ھی...
05/08/2026

یہ وادی کمراٹ ھے ۔۔ اللہ نے یہ نعمت پاکستان کو دی۔ پاکستانیوں نے اسکا کیا حال کیا؟ خود دیکھیں۔
کمراٹ سے ایک دوست لکھتے ھیں:
کمراٹ ویلی کے فارسٹ ایریا میں صفائی کی ناقص صورتحال، ٹی ایم اے کلکوٹ کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت
کمراٹ ویلی کے علاقے سری مئی سے لے کر آبشار تک جنگل میں مختلف مقامات پر جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں۔ یہ کچرا زیادہ تر مقامی ہوٹلوں سے لا کر جنگل میں پھینکا جاتا ہے جس سے نہ صرف قدرتی حسن متاثر ہو رہا ہے بلکہ ماحول بھی آلودہ، بدبو اور تعفن کا شکار بنتا جا رہا ہے۔
بہت سے لوگ اس صورتحال کا ذمہ دار صرف ہوٹل مالکان کو ٹھہرائیں گے اور یقیناً ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن اصل سوال متعلقہ ادارے یعنی ٹی ایم اے کلکوٹ کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔
اگر ٹی ایم اے ہوٹلوں کے قریب مناسب تعداد میں ڈسٹ بن نصب کرتی اور باقاعدگی سے ان سے کچرا اٹھا کر محفوظ مقام پر منتقل کرتی تو شاید آج جنگلات کا یہ حال نہ ہوتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پورے ہوٹل زون میں ڈسٹ بن نہیں ہیں۔ نتیجتاً ہوٹل مالکان مجبوری میں جنگل کے اندر کچرا پھینک دیتے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات اپنی مدد آپ کے تحت گڑھے کھود کر کچرا دفن بھی کیا جاتا ہے مگر زیادہ تر کچرا کھلے عام پڑا رہتا ہے جو بدبو، تعفن اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ٹی ایم اے کے اہلکار کمراٹ ویلی کا رخ ہی نہیں کرتے۔ وہ مہینے میں ایک آدھ مرتبہ ضرور آتے ہیں مگر افسوس کہ ان کے دوروں کا مقصد صفائی کے مؤثر اقدامات کے بجائے رسمی کارروائی تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ نہ ڈسٹ بن فراہم کیے جاتے ہیں نہ ہی جمع شدہ کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی مستقل نظام قائم کیا گیا ہے۔

کمراٹ ویلی پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے سرسبز جنگلات، شفاف چشمے اور قدرتی ماحول ہماری قومی میراث ہیں۔ جنگل کے درختوں کے نیچے بکھرا ہوا کچرا صرف ماحول کی تباہی نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کی ناقص منصوبہ بندی، عدم توجہی اور انتظامی ناکامی کا واضح ثبوت بھی ہے۔ تصاویر میں نظر آنے والے یہ ڈھیر صرف ایک ہی علاقے میں بکھرے پڑے ہیں باقی علاقوں میں کتنے ڈھیر پڑے ہوں گے خود اندازہ لگا لیجئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹی ایم اے کلکوٹ فوری طور پر ہوٹل ایریا میں مناسب تعداد میں ڈسٹ بن نصب کرے، کچرا اٹھانے کا باقاعدہ نظام قائم کرے اور اس سیاحتی مقام کو رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
ورنہ یقین کیجئے کمراٹ ویلی کی خوبصورتی آہستہ آہستہ کچرے کے ان ڈھیروں تلے دبتی چلی جائے گی۔

گمنام کوہستانی


#خیبرپختونخوا





31/07/2026

یہ تو شکر ھے پاکستان ھے، نالائق اور نکمے لوگ جنگلات اور درختوں کو بیدردی اور بغیر کسی خوف کے کاٹتے ھیں۔ اداروں کو بھی ساتھ ملا لیا جاتا ھے، سب مل بانٹ کر کھا پی لیتے ھیں۔ کوئی ڈھنگ کا ملک اور ریاست ھوتی تو اب تک جنگلات کا صفایا کرنے والے عبرت ناک سزائیں کاٹ رھے ھوتے۔ انکو پابند کیا جاتا کہ جو درخت کاٹا ھے، اسکی جگہ کم از کم ایک ہزار اسی قسم کے درخت لگا کر جوان کرو، وہ بھی اپنے خرچے پر۔ اگر ایک درخت بھی ضایع ھو تو سزا میں اتنے سال قید بامشقت میں اضافہ۔۔۔ اور اس ایک ضایع شدہ درخت کی جگہ دس اور درخت لگاو۔۔۔۔
مگر پاکستان زندہ باد۔۔۔۔
شکریہ کس حکومت اور ادارے کا ادا کرنا ھے؟

حسب روایت پام اور دیگر غیر مقامی پودوں کی شجرکاری ۔ کوئی ھماری افسر شاہی کو خبر کرے کے اوکاڑہ کے مقامی درختوں کی فہرست م...
30/07/2026

حسب روایت پام اور دیگر غیر مقامی پودوں کی شجرکاری ۔
کوئی ھماری افسر شاہی کو خبر کرے کے اوکاڑہ کے مقامی درختوں کی فہرست میں پیپل، بیری، شیشم، سنبل، جامن ، شریں ، لسوڑے ھیں۔۔۔ پام نہی

اوکاڑہ فاریسٹ ڈویژن
کمشنرساہیوال اور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے محکمہ جنگلات کے تعاون سے ڈی سی کمپلکس اوکاڑہ میں پودا لگایا، مون سون شجرکاری میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں، افسران کی عوام سے اپیل

انجینئر صلاح الدین لکھتے ھیںآج کل لوگ بارش کا پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لیے زیر زمین پانی یعنی ground water recharge کر...
30/07/2026

انجینئر صلاح الدین لکھتے ھیں

آج کل لوگ بارش کا پانی ضائع ہونے سے بچانے کے لیے زیر زمین پانی یعنی ground water recharge کر رہے ہیں، الحمدللہ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ اس سے زمین میں پانی کا لیول بہتر ہو گا اور یہ وقت کی ضرورت ہے۔
لیکن چند ویڈیوز میں دیکھا کہ لوگ بغیر فلٹر کے گدلا یعنی turbid پانی براہِ راست بور میں ڈال رہے ہیں۔ یہ نقصان دہ ہے۔
کیونکہ زمین کے اندر پانی دریا کی طرح نہیں بہتا بلکہ ریت اور پتھروں کے باریک سوراخوں سے گزرتا ہے۔ گدلا پانی ان سوراخوں کو بند کر دیتا ہے۔ نتیجے میں آپ کا recharge pit بھی ناکارہ ہو سکتا ہے اور موجودہ چلتا ہوا بور بھی بند ہو سکتا ہے
اس لیے پانی کو ہمیشہ رہے، بجری، چارکول وغیرہ کے فلٹر سے ہی گزار کر صاف کریں اور پھر زمین میں اتاریں۔ ساتھ ہی ساتھ فلٹر کی باقاعدہ دیکھ بھال بھی بہت ضروری ہے ۔اور ہر بارش کے بعد دیکھنا ضروری ہے۔ ایسا نھیں ایک مرتبہ لگایا اور بس چھوڑ دیا۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جس چھت سے پانی جمع کر رہے ہیں اسے بھی وقتاً فوقتاً صاف کیا کریں۔ اگر چھت پر مٹی، کچرا یا پتے ہوں گے تو وہ سارا گند پانی کے ساتھ نیچے چلا جائے گا اور فلٹر پر بوجھ بڑھ جائے گا۔
پانی بچانا ثواب ہے لیکن اسے سمجھداری، صفائی اور دیکھ بھال کے ساتھ بچائیں تاکہ فائدے کی بجائے نقصان نہ ہو جائے۔
پانی کے مسائل وسائل کے بارے میں مزید اپڈیٹس کے لیے فالو کا بٹن دبائیں
تحریر: صلاح الدین

راوی سمیت جتنی بھی آبی گزر گاہیں ھیں، وہاں ہر سال برسات میں سیلابی صورتحال پیدا ھوتی ھے۔ پانی اپنے کناروں سے نکل کر نشیب...
30/07/2026

راوی سمیت جتنی بھی آبی گزر گاہیں ھیں، وہاں ہر سال برسات میں سیلابی صورتحال پیدا ھوتی ھے۔ پانی اپنے کناروں سے نکل کر نشیبی علاقوں کا رخ کرتا ھے۔ اب سے نہی صدیوں سے۔۔۔۔ اب جب یہ سب ھمارے ھاں یقینی ھے تو کون ھے جو ان آبی گزر گاھوں پر آبادی بسانے کی اجازت دیتا ھے؟
کس کی اجازت سے ان قدرتی آبی گزر گاہوں پر پلاٹ کاٹ کر بیچے گئے؟ گھر بنائے گئے؟
شہری انتظامیہ جواب دے گی؟

29/07/2026
خیبرپختونخوا کے معزز صوبائی محتسب نے ٹھنڈیانی کے قیمتی جنگلات اور 400 کنال سرکاری اراضی نجی کمپنی کے حوالے کیے جانے کے م...
29/07/2026

خیبرپختونخوا کے معزز صوبائی محتسب نے ٹھنڈیانی کے قیمتی جنگلات اور 400 کنال سرکاری اراضی نجی کمپنی کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیا۔ یہ پیش رفت ٹھنڈیانی کے جنگلات، قدرتی ماحول اور قومی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ جنگلات کے تحفظ اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف جاری کوششوں میں اپنا کردار ادا کریں۔

Address

Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GreenSquad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to GreenSquad:

Shortcuts

Share