GreenSquad

GreenSquad "An ounce of action is worth a ton of theory"🌱Join us to protect our environment 🌍 & Green
(1)

جانے کیسے شہتوت کی یہ چھڑی تالاب میں پہنچی ، شاید کوئی چرواہا اپنا ریوڑ اس چھڑی سے ہانکتا ہوا یہاں تالاب سے پانی پلانے ک...
11/03/2026

جانے کیسے شہتوت کی یہ چھڑی تالاب میں پہنچی ، شاید کوئی چرواہا اپنا ریوڑ اس چھڑی سے ہانکتا ہوا یہاں تالاب سے پانی پلانے کے لیے رکا ہوگا پھر بھینسوں کو پانی سے نکالنے کے لیے یہ چھڑی پھینکی ہو گی اور پھر یہ تیرتے تیرتے کنارے لگ گئی ہو گی ،
اب تالاب کا پانی کناروں سے خشک ہوا اور قدرت نے بہار کی آمد پر کن کہا تو یہ شاخ یہاں پڑے ہوئے ہی اگنا شروع ہو گئ ہے ،روز یہاں بکریوں کے ریوڑ پانی پینے آتے ہیں اور کیسے قدرت نے اسے ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھ کر بچایا ہوا ہے ،
وہ اگانے پر آئے تو تیرتی ہوئی لکڑی کو کنارے لگا دیتا ہے ، اور بچانے پر آئے تو ہر دشمن سے بچا لیتا ہے....
عقیل عباس تنظیم برائے محفوظ مسکن و جنگلی حیات
چکوال

ھمارے شہر ایسے کیوں نہی؟اہل محلہ، اہل علاقہ تعاون کریں تو ایسی سایہ دار سڑکیں ھماری بھی تو ھو سکتی ھیں۔۔ پھر کیا وجہ ھے ...
04/02/2026

ھمارے شہر ایسے کیوں نہی؟
اہل محلہ، اہل علاقہ تعاون کریں تو ایسی سایہ دار سڑکیں ھماری بھی تو ھو سکتی ھیں۔۔ پھر کیا وجہ ھے کہ ایسا ھوتا نہی ؟؟

19/01/2026

تو یہاں سپیڈ کیمرہ لگانے، جرمانے کرنے کیلئے آپ نے متعلقہ اداروں میں بات کی ھے؟؟

گرمی آئے گی تو آپکا کیا پلان ھے؟ممکن ھے تو سائے کیلئے پیپل، بیری، برگد، شریں لگا لیجئے۔۔
16/01/2026

گرمی آئے گی تو آپکا کیا پلان ھے؟
ممکن ھے تو سائے کیلئے پیپل، بیری، برگد، شریں لگا لیجئے۔۔

آپ تمام اسلام آباد، راولپنڈی، لاھور، کراچی کو بھی سڑک بنا دیں تب بھی ٹریفک کا مسئلہ حل نہی ھونا۔ ٹریفک کا مسئلہ دنیا میں...
16/01/2026

آپ تمام اسلام آباد، راولپنڈی، لاھور، کراچی کو بھی سڑک بنا دیں تب بھی ٹریفک کا مسئلہ حل نہی ھونا۔ ٹریفک کا مسئلہ دنیا میں پبلک ٹرانسپورٹ ، سائیکلنگ، پیدل چلنے جیسے متبادل سے حل ھوتا ھے۔ ترقی یافتہ ممالک یہ سب سیکھ چکے۔۔۔ ھم کب سیکھیں گے؟
سڑکوں کو سایہ دار درختوں سے ڈھانپ دیں۔۔۔
پبلک ٹرانسپورٹ کا سسٹم بنائیں۔۔
سائیکلنگ کو فروغ دیں۔۔۔
یہ حل ھے۔۔۔۔

اسلام آباد سے درختوں کی بے دریغ کٹائی پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ اُن حضرات کے لئے کافی ہے جو سی ڈی اے کے اس ظلم پر آواز...
16/01/2026

اسلام آباد سے درختوں کی بے دریغ کٹائی پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ اُن حضرات کے لئے کافی ہے جو سی ڈی اے کے اس ظلم پر آواز اُٹھانے کو محض شور شرابا قرار دے رہے ہیں۔ وزیروں اور سی ڈی اے حکام کا رویہ تو شرمناک ہے ہیں لیکن یہ حضرات بھی اس جرم کے اتنے ہی شریک جتنے درخت کاٹنے والے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے اسلام آباد میں درختوں کی حالیہ کٹائی کے معاملے پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ صرف جنگلی توت کے درخت الرجی کا باعث بن رہے تھے، اس لیے انہیں ہٹایا گیا۔ تاہم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق کٹائی صرف اسی ایک قسم کے درختوں تک محدود نہیں تھی بلکہ دیگر درخت بھی کاٹے گئے، اور یہ عمل بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سے جڑا ہوا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ درختوں کی بے دریغ کٹائی شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی توازن، موسمیاتی ضابطے اور حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین چیلنج ہے۔ تنظیم کے مطابق کسی بھی درخت کو ہٹانے کے لیے سائنسی شواہد، قانونی تقاضے اور بحالی کے واضح منصوبے ضروری ہیں تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شکرپڑیاں اور اسلام آباد کے دیگر علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ہوئی، جسے صرف الرجی کے مسئلے تک محدود کرنا درست نہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات کی جائیں اور شہر کے درختوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسی نافذ کی جائے۔

چالیس ہزار  درخت کاٹ کر اپ آرائشی پودے لگائیں گے تو اپ کیا سمجھتے ہیں یہ انکی جگہ لے لیں گے۔۔۔اسلام آباد اور راولپنڈی وا...
14/01/2026

چالیس ہزار درخت کاٹ کر اپ آرائشی پودے لگائیں گے تو اپ کیا سمجھتے ہیں یہ انکی جگہ لے لیں گے۔۔۔اسلام آباد اور راولپنڈی والوں کو اس بار گرمیوں میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔۔اللہ خیر کرے ۔۔۔۔


سڑک پر درخت تو بہت ھیں مگر کبھی غور کریں۔ گھنا اور گہرا سایہ صرف پیپل ، برگد، سنبل جیسے درختوں کا ھو گا۔ پچھلے برس ایک کارپوریٹ نے گرین سکاڈ کو سپانسر کیا تھا۔ اس برس رابطہ کیا، جواب نہی ایا۔ کچھ کریدا تو معلوم ھوا کہ ھم سے شکایت یہ ھے کہ یہ نا خود پیسے کھاتے ھیں، نا ھمیں کھانے دیتے ھیں۔ ایک دوسرے ادارے سے رابطہ کیا۔ متعلقہ افسر کو بتایا کہ کہ ایک کلومیٹر کی ایک سڑک پر پیپل، سنبل، بیری لگانے ھیں۔ دس میٹر کے فاصلے سے لگائیں تو ایک سو درخت ھوں گے، وہ سپانسر کر دیں۔ جواب ایا کہ اپ ایک ھزار درختوں کی درخواست جمع کروا دیں۔ ھم نے کہا دس میٹر سے کم فاصلے پر یہ درخت لگائے تو انکی گروتھ اچھی نہی ھو گی۔ وہ سایہ نہی بنا سکیں گے۔ وہاں سے بھی جواب نہی ایا۔ کریدا تو پیغام ایا اپ procurement کے معاملات نہی سمجھتے۔ متعلقہ افسران کے لیے کچھ نہی نکلتا تو پھر فاہدہ؟ پھر یہ پیپل، سنبل، بیری، پھولائی کی ضد کیوں؟ نرسری والوں، کانٹریکٹ والوں کیلئے بھی کچھ نکلنا چاھئیے۔
تو بھیا بات یہ ھے کہ درختوں کی بھی ایک اپنی پالیٹیکل اکانمی ھے۔ یعنی ایک سیاسی معاشیات۔ جو اس کو نہی سمجھتے وہ بیچارے سادہ لوح، مخلص شجر دوست تو ھو سکتے ھیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور پبلک پلاننگ کا ان کو کچھ پتا نہی۔ بہت سادہ الفاظ میں لکھیں تو بات یہ ھے کہ ھمارے شہروں میں گرمی بڑھتی جا رھی ھے۔ پرندے، شہد کی مکھیاں، انواع اقسام کی وہ مخلوق جو پہلے ھمارے شہروں میں موجود تھی جیسے جگنو، سبز طوطے، بلکہ مختلف جڑی بوٹیاں تک۔۔۔۔ سب ختم ھو چکے۔ سردیوں میں ھمارے شہر غلیظ دھوئیں، سموگ، زہریلی ھوا کی اماجگاہ بن چکے اور گرمیوں میں جھلساتی ھوئی لو، ھیٹ وئیو کا مرکز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب حل کیا ھے؟ درخت لگاو؟ کون سے درخت؟ درخت تو ھر شہر کے ڈپٹی کمشنر اور محکمہ جنگلات بھی لگا رھا ھے: پام۔ پی ایچ اے اور کینٹونمنٹ بورڈ بھی لگا رھا ھے: پام۔ بحریہ ٹاون سمیت ھاوسنگ سوسائیٹیاں بھی لگا رھی ھیں: پام، کھجوریں ۔۔
نا سایہ، نا پرندوں کی اماجگاہ، نا کاربن جذب کرنے کی ویسی صلاحیت جو ھمارے پیپل، شیشم، کیکر، دریگ، بیری، دیسی آم، شریں، جامن سمیت دیسی، مقامی درختوں میں ھے۔
سی ڈی اے کی نرسری پر بھی تلاش کیا۔ پیپل نا ملا، سنبل، پھولائی، شریں نا ملا۔ شیشم نا ملا۔
کوئی ھاتھ پکڑائے تو پتوکی سے ھمیں پیپل، سنبل کا ٹرک سپانسر کروا دے۔ یا مردان سے پھولائی کا۔۔۔ ٹرک تو پانچ لاکھ سے کم کیا ھو گا۔ اسلام اباد کی صرف ایک نرسری سے پیپل مل رھے ھیں۔ بارہ سو کا ایک ھے۔ بارہ سو کا ایک۔۔۔۔ بہت مہنگا ھے۔ مگر لگانے کا درخت پیپل ھے۔ اس کا سایہ اور حجم دیکھا ھے؟ وہ درخت لگائیں جو ایسا سایہ تو دے۔۔ ورنہ فاہدہ؟ اگر کہیں سے مناسب نرخ میں پیپل، سنبل، دریگ، شریں، پھولائی میسر ھوں تو ھمیں انبکس کیجئے

Progress isn’t just about the speed of our roads; it’s about the life we leave behind. From the quiet growth of moss to ...
12/01/2026

Progress isn’t just about the speed of our roads; it’s about the life we leave behind. From the quiet growth of moss to the restoration of barren lands, we are building a legacy that will shade and sustain generations to come. 🌳✨

Address

Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GreenSquad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to GreenSquad:

Share