01/09/2026
پاکستان کے شمال میں بارشیں زیادہ ھوتی ھیں۔ شہر ڈوبتے ھیں۔ جنوب مغرب جہاں بلوچستان کے بہت سے شہر ھیں؛ دالبندین، نوکنڈی، چاغی، خاران، نوشکی اور پنجگور وغیرہ۔۔ وہ سب خشک۔ ھم جہاں شمال میں پانی میں ڈوبتے ھیں۔ جنوب میں ھمارے بھائی، بہن پانی کی بوند کو ترستے ھیں۔ کیا کریں؟ چھت پر چڑھ کر بانگیں دیں ۔ رب سے دعا کریں ۔۔ اور کیا کر سکتے ھیں۔ عوامی جمہوریہ چین میں بھی یہ مسئلہ تھا۔ جنوب میں شدید بارشیں اور شمال میں پانی نا ھونے کے برابر ۔۔۔کمیونسٹ ریاست نے اسکا حل کیسے نکالا؟ جنوب میں پانی سے مالا مال دریائے یانگ زی سے سیلابی پانی نکالا اور ہزاروں کلومیٹر دور اپنے خشک شمال، خصوصاً بیجنگ، تیانجن، ہینان تک پہنچا دیا۔ اس عظیم منصوبے کے راستوں کی مجموعی لمبائی تقریباً 4,350 کلومیٹر ہے اور مکمل ہونے پر سالانہ 44.8 ارب مکعب میٹر پانی منتقل ہوگا یعنی تقریباً تین تربیلا ڈیموں کی مجموعی گنجائش کے برابر۔ اس پراجیکٹ پر 80 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ متوقع ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم نے سفر چین سے متعلق ایک چینی بچی کا ذکر کیا تھا۔ لکھتے ھیں دیوار چین دیکھنے کے موقع پر سات آٹھ سال کی بچی بھی بطور گائیڈ ہمراہ تھی۔ راستے میں میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا " کیا آپ کے ہاتھوں میں ستارے ہیں؟؟ " میں نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ کھول دیے۔
کہنے لگی:" آپ کے ہاتھوں میں ستارے نہیں کیونکہ آپ مشقت نہیں کرتے " پھر اس نے اپنے ہاتھ کھول کر مجھے دکھائے جن پر مشقت کے سبب گٹھے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا۔ " یہ ستارے آپ کے ہاتھوں میں کیسے آ گئے؟ "
بچی نے جواب دیا " میں اپنے اسکول میں پڑھائی کے بعد روز تین گھنٹے زمین کی گوڈی کرتی ہوں اس میں بھل ڈالتی ہوں، سبزیاں اُگاتی ہوں، انہیں پانی دیتی ہوں۔ میرے ہاتھوں میں ستارے اسی مزدوری کا انعام ہیں"
خیر وہ تو ماؤ کا چین تھا۔ شاید ثقافتی انقلاب کا زمانہ رھا ھو گا جب کمیونسٹ معاشرے کے قیام کا خواب بھی جوان تھا۔۔ اب تو پلوں پر سے بہت پانی گزر چکا ۔۔۔مگر آج بھی چین ایسے ہی عوامی موبلائزشن سے معجزات بپا کر دیتا ھے ۔۔۔ یہ سیلابی خطوں سے پانی خشک سالی کے شکار خطوں تک منتقلی ہی کا منصوبہ سامنے ھے۔۔
پاکستان میں کیا ھو گا؟
سکولوں سے چھٹی۔
یہاں تو جن نالوں پر تجاوزات ھیں، انتظامیہ کی جرات نہی ان سے قبضے چھڑا سکے، یہ تو پھر لانگ ٹرم پلاننگ کا معاملہ ھے ۔۔
فہد رضوان