24/06/2026
منتہا زہرہ صرف ایک نام نہیں، ایک سوال ہے…..ہم کہاں جا رہے ہیں؟
سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا زہرہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ریپ اور قتل کے واقعے نے دل دہلا دیا ہے۔ ایک معصوم بچی جو گھر سے معمولی سی چیز لینے نکلی، واپس زندہ نہ لوٹ سکی۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے معاشرے کا زخم ہوتے ہیں۔
ہم خود کو ایک مسلم معاشرہ کہتے ہیں۔ ہم دین، غیرت، اخلاق اور حیا کی بات کرتے ہیں۔ مگر پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہماری تربیت، ہمارے کردار اور ہماری اجتماعی ذمہ داری کہاں کھڑی ہے جب ہمارے اپنے بچے محفوظ نہیں؟
یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں، اخلاقی زوال، بے حسی، طاقت کے غلط استعمال، جنسی جرائم اور کمزور سماجی نگرانی کا بھی ہے۔ کسی بچی یا بچے پر جنسی تشدد صرف ایک جرم نہیں، انسانیت کے خلاف حملہ ہے۔
اسلام کیا سکھاتا ہے؟
اسلام بچوں پر رحم، عزت اور حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بچوں کے ساتھ شفقت، محبت اور حسنِ سلوک کو ایمان اور اخلاق کا حصہ قرار دیا۔ اسلام میں ظلم حرام ہے، اور کمزور پر ظلم تو اور بھی بڑا گناہ ہے۔ ایک معصوم بچے کی جان، عزت اور تحفظ اللہ کی امانت ہیں۔
لیکن ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا ہم اپنے بچوں کو واقعی محفوظ ماحول دے رہے ہیں؟
کیا ہم صرف نعروں تک محدود ہو گئے ہیں؟
کیا ہم بچوں کو فرمانبرداری تو سکھاتے ہیں مگر اپنی حفاظت کرنا نہیں سکھاتے؟
والدین کیا کر سکتے ہیں؟
بچوں کی حفاظت صرف دعاؤں سے نہیں، شعوری اقدامات سے بھی ہوتی ہے:
بچوں کو "گڈ ٹچ" اور "بیڈ ٹچ" کی عمر کے مطابق تعلیم دیں۔
انہیں سکھائیں کہ کوئی بھی شخص، چاہے رشتہ دار ہو یا جاننے والا، ان کے جسم کو نامناسب طریقے سے چھونے کا حق نہیں رکھتا۔
بچے کو یہ اعتماد دیں کہ وہ کسی بھی خوف یا شرم کے بغیر آپ کو سب کچھ بتا سکتا ہے۔
کم عمر بچوں کو اکیلے بھیجنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔
بچوں کی روزمرہ نقل و حرکت اور ان کے آس پاس موجود بالغ افراد پر نظر رکھیں۔
فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ "نہ" کہنا بھی سکھائیں۔
اگر بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی آئے تو اسے سنجیدگی سے لیں۔
اور معاشرے کو کیا کرنا ہوگا؟
بچوں کے تحفظ کو عزت یا بدنامی کے مسئلے کے بجائے سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
متاثرہ بچوں اور خاندانوں کو خاموش کرانے کے بجائے ان کی مدد کرنی ہوگی۔
مجرم اگر کوئی بھی ہو , رشتہ دار، استاد، مذہبی شخصیت، دکاندار یا بااثر فرد — قانون سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
سکولوں، مساجد، مدارس، کھیل کے میدانوں اور محلوں میں بچوں کے تحفظ کے واضح اصول ہونے چاہییں۔
بچوں کی حفاظت روٹی، کپڑے اور تعلیم سے کم اہم نہیں۔ ایک بچہ اگر محفوظ نہیں تو اس کی باقی تمام ضروریات ادھوری ہیں۔
منتہا زہرہ کے لیے انصاف ضروری ہے، لیکن صرف انصاف کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگلی منتہا کو کیسے بچایا جائے۔
اللہ تعالیٰ تمام بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے، متاثرہ خاندان کو صبر عطا فرمائے، اور ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی توفیق دے جہاں ہر بچہ خوف کے بغیر گھر سے نکل سکے۔ آمین۔
Muntaha Zahra is not just a name…..she is a question: Where are we heading as a society?
The tragic alleged r**e and murder of 8-year-old Muntaha Zahra is a heartbreaking reminder that child safety must be our highest priority. A child who stepped out for a simple errand never made it home.
We call ourselves a Muslim society, yet our children remain vulnerable to abuse, violence, and exploitation. This is not just a law-and-order issue; it reflects moral decline, social negligence, and a collective failure to protect the most innocent among us.
Islam teaches mercy, dignity, and protection for children. Every child is a trust from Allah, and harming them is a grave injustice.
Parents must go beyond teaching obedience. Children should be taught personal safety, body boundaries, how to say “no,” and how to speak up without fear. Young children should not be left unsupervised, and any sudden behavioral changes should be taken seriously.
As a society, we must stop treating child abuse as a matter of shame and start treating it as a matter of safety. Whether the perpetrator is a relative, teacher, religious figure, shopkeeper, or someone influential, accountability must be the same for all.
Justice for Muntaha is essential, but justice alone is not enough. The real challenge is ensuring there is no next Muntaha.
May Allah protect our children, grant patience to her family, and guide us toward becoming a society where every child is safe. Ameen.