17/07/2026
احساس کیا کریں
"People will forget what you said, people will forget what you did, but people will never forget how you made them feel."
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب : کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب : گلوبل ہینڈز
چوہدری مظفر صاحب (اللہ ان سے راضی ہو ) بی اے کی کلاس کو انگلش ، اکنامکس اور سوکس جیسے مضامین پڑھاتے تھے ۔ سال کے آخر میں ایک لطیفہ سناتے تھے چونکہ آپ کے شاگرد اکثر علماء ہوتے تھے تو آپ اسی مناسبت سے نصیحت کرتے ۔ کہ ایک مراثی بیچارہ کسی مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا تو ایک عالم دین تقریر کر رہے تھے اور لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے ۔ کچھ دن بعد پھر اس کا وہاں سے گزر ہوا تو یہی موضوع تھا ۔ پھر کچھ دن بعد گزر ہوا تو یہی موضوع تھا ۔مراثی بیچارہ پریشان ہو گیا اور اس نے مسجد کی چوکھٹ پر ہاتھ لگا کر چوما اور کہا ہے تُوں اللہ دا گھر، پر تِینڈھے کولوں کدھی خیر دی خبر نئیں سُنی۔( تم اللہ کا گھر (مسجد) ہو، لیکن تم سے کبھی خیر، رحمت اور خوشخبری کی آواز سننے کو نہیں ملی۔)اس کے بعد چوہدری صاحب فرماتے کہ لوگوں کو اللہ کے خوف سے زیادہ اللہ کی محبت سناو کہ انہیں اللہ سے عشق ہو جائے ۔ انسان کو جس سے قربت ہو اسی سے عشق ہوتا ہے ۔یہ احساس کرنا اور اگر علماء احساس نہیں کریں گے تو معاشرے کا کیا بنے گا ۔ایک دوسرے کا احساس کیا کرو ۔ شرجیل انصاری کا ایک شعر ہے ۔
جینے والے پہ کیا گزرتی ہے
مرنے والا یہ سوچتا ہی نہیں
بہرحال احساس بہت پیارا لفظ ہے اور یہ جملہ کہ یار کچھ تو احساس کرو ۔اس کے اندر بھی بذات خود ایک احساس پایا جاتا ہے ۔ اسلام انسان میں احساس کو بیدار کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک آیت میرے خیال میں اس موضوع کے ماتھے کا جھومر کہلا سکتی ہے "جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"اس میں کس قدر گہرا احساس ہے ۔ اب آپ اسی فرمان رسول کو دیکھ لیں " "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"کس قدر خوبصورت الفاظ ہیں کہ معاشرے کے حسن اور نکھار کے لیے کتنا بنیادی اصول ہے ۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس احساس کم ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص دوسرے سے تنگ ہے اور ہر رشتہ اپنی روح کھوتا جا رہا ہے۔ باپ کہتا ہے اولاد میری قدر نہیں کرتی، اور اولاد شکوہ کرتی ہے کہ والدین مجھے سمجھتے نہیں۔ شوہر کو بیوی کی قربانی دکھائی نہیں دیتی، اور بیوی کو شوہر کی جدوجہد محسوس نہیں ہوتی۔ بھائی، بھائی کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے دل میں بوجھ محسوس کرتا ہے، بہن، بہن سے فاصلے پر کھڑی ہے، دوست، دوست پر اعتماد کھو بیٹھا ہے، اور عزیز، عزیز کی خوشی سے زیادہ اس کی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے۔
استاد شکوہ کرتا ہے کہ شاگرد میں ادب، شوق اور احترام باقی نہیں رہا، جبکہ شاگرد یہ گلہ کرتا ہے کہ استاد کے پاس وقت، شفقت اور رہنمائی نہیں رہی۔ ڈاکٹر مریض کو ایک فائل سمجھنے لگا ہے، اور مریض ڈاکٹر کو صرف ایک فیس وصول کرنے والا شخص سمجھتا ہے۔ مالک کو مزدور کی تھکن نظر نہیں آتی، اور مزدور مالک کی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتا۔ دکاندار گاہک سے تنگ ہے، گاہک دکاندار سے نالاں ہے، افسر ماتحت سے ناخوش ہے، ماتحت افسر سے بے زار ہے۔پڑوسی برسوں ایک دیوار کے فاصلے پر رہتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے دکھ، بیماری یا ضرورت کی خبر تک نہیں رکھتے۔ کبھی پڑوسی گھر کی دہلیز پر دستک دے کر خیریت پوچھتے تھے، آج ایک دوسرے کے دروازے تک جانے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔ راستے پر چلتے ہوئے ہر شخص پہلے خود گزرنا چاہتا ہے؛ کوئی دوسرے کو راستہ دینے، کسی بوڑھے کا ہاتھ تھامنے، کسی مسافر کا بوجھ اٹھانے یا کسی پریشان حال کی مدد کرنے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔یہاں تک کہ انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے کے بجائے موبائل کی اسکرینوں میں گم ہیں۔ باتیں بہت ہیں مگر مکالمہ نہیں، ملاقاتیں بہت ہیں مگر قربت نہیں، رشتے بہت ہیں مگر احساس نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ رشتے نفرت سے نہیں ٹوٹتے، احساس کے ختم ہو جانے سے ٹوٹتے ہیں۔ جس دن ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف، دوسروں کی عزت کو اپنی عزت، اور دوسروں کے حق کو اپنی ذمہ داری سمجھنے لگیں گے، اسی دن معاشرے میں محبت، اعتماد اور سکون واپس آنا شروع ہو جائے گا۔ کیونکہ معاشرے کا حسن عمارتوں سے نہیں، احساس رکھنے والے انسانوں سے قائم ہوتا ہے۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش میں ہم ایک دوسرے کو روند کر آگے نکلنے کی کوشش میں ہیں۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہی لگتا ہے کہ ہر کوئی اکھاڑے میں کود پڑا ہے۔ رستے میں جب کوئی بند اشارا کھلتا ہے تو لگتا ہے کہ جیسے پیچھے والی گاڑی' آگے والی گاڑی کو کچل کر آگے نکلنا چاہتی ہے۔ بہت مشکل ہے کہ ہم دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے کسی آدمی کو یہ کہہ سکیں کہ آ جایئے میں آپ کی منزل کچھ آسان کیے دیتا ہوں۔ ہم اپنی نعمتوں پر زبان سے شکر کرتے ہیں مگر ہم اس نعمت میں کسی کو شامل نہیں کرتے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے بڑھ رہا ہے مگر جب احساس بیدار ہو تو معلوم پڑتا ہے کہ وہ کسی سے آگے نہیں بڑھا بلکہ محض یہ ہوا کہ وہ دوسروں کو پیچھے چھوڑ آیا ہے۔۔۔۔۔ اور ان دوسروں میں اس کے اپنے بلکہ اپنا آپ بھی شامل ہے ہم سب ایک دوسرے کے دم سے ہیں اس لیے اگر دوسرا نہ رہا تو میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ ہمیں اب اک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا' اک دوسرے کا خیال رکھنا ہو گا۔ اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے کی زندگی کو مشکل نہ بنایا جائے۔ محبت کا یا کم از کم برداشت کا رشتہ ترک نہ کیا جائے۔ اپنا اور صرف اپنا احساس تو خود غرضی کہلاتا ہے۔ جب اس احساس کے اندر انسان دوسروں کو شامل کر لیتا ہے تو اس کا اجر خود شناسی کے طور پر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔ احساس کی آنکھ کھلتی ہے تو ادراک کی آنکھ بھی کھلنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر انسان ستاروں سے آگے بھی جہاں دیکھ سکتا ہے۔احساس انسانیت کی روح، محبت کی بنیاد، اخلاق کا سرچشمہ، ادب کی جان اور روحانیت کا دروازہ ہے۔ علم انسان کو معلومات دیتا ہے، مگر احساس اس علم کو انسانیت میں ڈھالتا ہے۔ جس دل میں احساس زندہ ہو، وہاں رحم، انصاف، محبت، ایثار اور حسنِ سلوک خود بخود پروان چڑھتے ہیں؛ اور جہاں احساس مر جائے، وہاں علم بھی بے روح، طاقت بھی بے رحم اور تعلقات بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔"احساس دل کی وہ بیداری ہے جو کسی منظر، واقعے، لفظ، محبت، درد یا حسن کو محض دیکھتی نہیں بلکہ اپنے وجود میں جذب کر لیتی ہے۔"احساس وہ جذبہ ہے جو کسی کی مسکراہٹ سے خوش ہو جاتا ہے اور کسی کے درد سے بے چین ہو جاتا ہے۔ جس دل میں احساس ہو، وہ کبھی کسی کو تکلیف نہیں دیتا، اور جس دل میں احساس نہ ہو، وہ سب کچھ پا کر بھی خالی رہتا ہے۔ احساس ہی رشتوں کی بنیاد ہے، محبت کی روح ہے، اور انسانیت کی اصل پہچان بھی۔عبد الحمید عدم کا ایک شعر ہے ۔
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا
03317640164 مزید ایسی تحریریں پڑھنے کے لیے واتس ایپ پر اپنا نام شہر جاب ایجوکیشن لکھ کر میسج کیجیے ۔