Global Hands

Global Hands The Global Hands is a Pakistan based charity established in 2007 By Dr Muhammad Azam Raza Tabassum.

The organization is operational in 11 villages and different cities directly and through partners.

السلام علیکم محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک اخلاق اور ایک فن ہے۔ **"محب، محبوب اور آدابِ محبت"** میں آپ پ...
05/08/2026

السلام علیکم
محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک اخلاق اور ایک فن ہے۔ **"محب، محبوب اور آدابِ محبت"** میں آپ پڑھیں گے
محبت کیا ہے ؟
محب کون ہوتا ہے
محبوب کون ہوتا ہے ؟
محبت اور ہوس کا فرق،
وقتی جذباتی وابستگی اور محبت میں فرق
کیا محبت کے اداب ہوتے ہیں ؟
محبت کے آداب کیوں ضروری ہیں ؟
اداب محبت
محبت کے کچھ روحانی پہلو
اس کتاب کا بنیادی مقصد آپ کے ذہن سازی کرنا ہے جو آپ کے تعلق کو پاکیزگی، وقار، وفا اور دوام عطا کرے ۔
آپ کی محبت آپ کو خدا تک لے جانے کی سیڑھی بن جائے ۔ ۔ یہ کتاب ہر اس قاری کے لیے ہے جو محبت کو صرف محسوس نہیں، بلکہ اسے سمجھ کر نبھانا بھی چاہتا ہے۔اس کتاب کو پڑھ کر اپنی رائے دیجیے ۔شکریہ
اچھی لگے تو دوسروں سے کتاب اور اس نوٹ کو بھی شئیر کیجیے گا ۔پی ڈی ایف فائل منگوانے کے لیے 03317640164 واٹس ایپ میسج کریں ۔

کسی ضرورت مند کو اس کی ضرورت ہو تو رابطہ کر لیں ۔ اللہ پر انسان کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ للہ سے پناہ مانگا کریں احباب ال...
27/07/2026

کسی ضرورت مند کو اس کی ضرورت ہو تو رابطہ کر لیں ۔
اللہ پر انسان کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ للہ سے پناہ مانگا کریں احباب اللہ کو شکریہ بولا کریں جسم کا ہر حصہ ایک نعمت ہے جس کا دنیا میں کوئی عارضی بھی نعم البدل نہیں ۔ اللہ آپ سب کو محفوظ رکھے ۔

علم کا تکبر "The only true wisdom is in knowing you know nothing."ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز س...
19/07/2026

علم کا تکبر
"The only true wisdom is in knowing you know nothing."
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب : گلوبل ہینڈز پاکستان
ایک ماہرِ نحو (گرامر دان) کشتی میں سوار ہوا۔ اپنی علمی برتری کے غرور میں اس نے کشتی بان سے پوچھا:"کیا تم نے نحو (عربی گرامر) پڑھی ہے؟"
کشتی بان نے سادگی سے جواب دیا:"نہیں۔"
نحوی نے حقارت سے کہا:
"پھر تو تمہاری آدھی زندگی ضائع ہو گئی۔"
کشتی بان کو بڑا دکھ ہوا مگر وہ خاموش رہا۔ کچھ دیر بعد دریا میں تیز ہوا چلی اور کشتی بھنور میں پھنس گئی۔ اس نازک موقع پر کشتی بان نے نحوی سے پوچھا:"کیا آپ تیرنا جانتے ہیں؟"
اس نے جواب دیا:"نہیں، میں تیرنا نہیں جانتا۔"
کشتی بان نے کہا:"پھر آپ کی تو پوری زندگی ضائع ہو گئی، کیونکہ یہ کشتی اب ڈوبنے والی ہے۔"مولانا جلال الدین رومی ؒ کی یہ حکایت ہمارے لیے مشعل راہ ہونی چاہیے ۔ علم کی وسعت بے کنار ہے اور کوئی انسان تمام علوم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ ہر شخص کسی نہ کسی علم، فن یا مہارت میں دوسرے سے برتر ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی ایک علم کی بنیاد پر دوسروں کو حقیر سمجھنا یا تکبر کرنا دانشمندی نہیں بلکہ جہالت ہے۔حقیقی عالم وہ ہے جس کے علم کے ساتھ عاجزی، انکساری، حسنِ اخلاق اور دوسروں کی صلاحیتوں کا احترام بھی ہو۔نوشی گیلانی نے کہا تھا :
زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے۔
علم انسان کو بڑا نہیں بناتا، بلکہ علم کے ساتھ پیدا ہونے والی تواضع انسان کو عظمت عطا کرتی ہے۔"جتنا علم بڑھتا جائے، اتنی ہی عاجزی بڑھنی چاہیے؛ کیونکہ ہر علم سے بلند ایک اور علم موجود ہے، اور ہر ماہر سے بڑھ کر کوئی دوسرا ماہر بھی ہو سکتا ہے۔"دنیا میں سب سے بدترین غرور علم کا غرور ہے ۔ جو علم تمہیں تکبر میں مبتلا کر دے، وہ جہالت سے زیادہ نقصان دہ ہے۔حضرت سیِّدُنا حُذَیفہ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک دن لوگوں کی امامت فرمائی توسلام پھیرنے کے بعد فرمایا:’’اپنے لئے کوئی دوسرا امام تلاش کرلو یاپھر اکیلے نماز پڑھو کیونکہ دورانِ نماز مجھے یہ خیال گزرا کہ قوم میں مجھ سے افضل کوئی نہیں ۔ ‘‘ جب حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جیسے اشخاص اپنے متعلِّق یہ فرمارہے ہیں تو بعد والے کمزور لوگ اس سے کیسے محفوظ رہ سکتےہیں ۔ حقیقت میں علم نور بھی اور علم حجاب بھی، اگر علم کا مقصد شہرت اور ناموری ہو تو یہ حجاب، اگر علم کی منشاء خدا کی رضا اور مخلوقِ خدا کی بھلائی تو یہ نور اور اگر علم اَنا کے خ*ل سے نہ نکلے تو یہ حجاب اور اگر علم ادراک و آگہی کا ذریعہ ہو جائے تو یہ نور، لیکن اہم بات یہ کہ جاننے کا غرور اگر نہ جاننے کی عاجزی میں بدل جائے تو پھر ہر حجاب نور ہو جائے۔دراصل تکبر بڑائی کا وہ احساس ہے جس میں انسان دوسرے لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اورجب کبھی کوئی سچائی اور حق اس کے سامنے آتا ہے تو وہ اسے جھٹلا دیتا ہے۔ تکبر کی سب سے بڑی مثال شیطان ہے جس کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرے لیکن اس نے حضرت آدم کو حقیر جانا۔ یہ دوسرے کو چھوٹا اور حقیر سمجھنے کا عمل تھا۔ اس نے مزید یہ ظلم کیا کہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے حکم پانے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حق کا انکار تھا۔اس کے بعد کیا ہوا ۔ آپ جانتے ہیں حسن کمال نے کہا تھا :
سورج لہولہان سمندر میں گر پڑا
دن کا غرور ٹوٹ گیا شام ہو گئی
الحدیقۃ الندیہ میں لکھا ہے۔حضرت سیِّدُناوہب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اِرشادفرماتے ہیں : ’’عِلم کی مثال تو بارش کے اُس پانی کی طرح ہے جوآسمان سے صاف وشَفَّاف اورمیٹھانازل ہوتاہے اوردرخت اُس کواپنی شاخوں کے ذریعے جذب کرلیتے ہیں ۔اب اگر درخت کڑواہوتاہے توبارش کا پانی اُس کی کڑواہٹ میں اِضافہ کرتاہے اوراگروہ درخت میٹھاہوتاہے تواُس کی مٹھاس میں اِضافہ کرتاہے بس یونہی عِلم بذاتِ خود توفائدے کاباعث ہے مگرجب خواہشاتِ نفس میں گرفتارانسان اِس کوحاصل کرتاہے تویہ عِلم اُس کے تَکَبُّر میں مبتلا ہونے کا سبب بن جاتا ہے اورجب شریفُ النَّفس انسان کویہ دولت عِلم حاصل ہوتی ہے تویہ اُس کی شرافت ، عبادت، خوف وخَشِیّت اور پرہیزگاری میں اِضافہ کرتاہے ۔ انسان کو اس دنیا میں جو نعمت بھی حاصل ہو اور دوسروں سے فضلیت اور برتری کے جو پہلو بھی نظر آرہے ہوں، وہ انہیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے۔ وہ اپنی ہر خوبی اور کمال کو اللہ تعالیٰ کی عنایت کے خانے میں ڈال دے اور یہ یقین رکھے کہ پرودگار جب چاہے اس سے یہ نعمت اور خوبی واپس لے سکتا ہے۔ یہ چیز انسان میں عجز و انکساری پیدا کرتی ہے۔ جب کبھی دل میں اپنی بڑائی کا خیال آئے یا دوسروں کو حقیر سمجھنے کا کوئی جذبہ پیدا ہو تو فوراً اپنے عیبوں اور کمزوریوں پر نظر کرے ۔ غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔ یہی اس مسئلے کا حل ہے۔ممتاز اقبال کا بھی ایک شعر لکھ دیتا ہوں ۔یہ بھی مبنی بر حقیقت ہے محسوس کیجیے گا
مٹی کی تعظیم کرو تو اور تکبر کرتی ہے کنکر پتھر جیسے آدم زاد خدا ہو جاتے ہیں
مزید علمی ادبی اصلاحی تحریریں03317640164 واٹس ایپ پر حاصل کر سکتے ہیں ۔اپنا نام شہر جاب ایجوکیشن لکھ کر میسج کریں ۔

احساس کیا کریں "People will forget what you said, people will forget what you did, but people will never forget how you ...
17/07/2026

احساس کیا کریں
"People will forget what you said, people will forget what you did, but people will never forget how you made them feel."
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب : کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب : گلوبل ہینڈز
چوہدری مظفر صاحب (اللہ ان سے راضی ہو ) بی اے کی کلاس کو انگلش ، اکنامکس اور سوکس جیسے مضامین پڑھاتے تھے ۔ سال کے آخر میں ایک لطیفہ سناتے تھے چونکہ آپ کے شاگرد اکثر علماء ہوتے تھے تو آپ اسی مناسبت سے نصیحت کرتے ۔ کہ ایک مراثی بیچارہ کسی مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا تو ایک عالم دین تقریر کر رہے تھے اور لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے ۔ کچھ دن بعد پھر اس کا وہاں سے گزر ہوا تو یہی موضوع تھا ۔ پھر کچھ دن بعد گزر ہوا تو یہی موضوع تھا ۔مراثی بیچارہ پریشان ہو گیا اور اس نے مسجد کی چوکھٹ پر ہاتھ لگا کر چوما اور کہا ہے تُوں اللہ دا گھر، پر تِینڈھے کولوں کدھی خیر دی خبر نئیں سُنی۔( تم اللہ کا گھر (مسجد) ہو، لیکن تم سے کبھی خیر، رحمت اور خوشخبری کی آواز سننے کو نہیں ملی۔)اس کے بعد چوہدری صاحب فرماتے کہ لوگوں کو اللہ کے خوف سے زیادہ اللہ کی محبت سناو کہ انہیں اللہ سے عشق ہو جائے ۔ انسان کو جس سے قربت ہو اسی سے عشق ہوتا ہے ۔یہ احساس کرنا اور اگر علماء احساس نہیں کریں گے تو معاشرے کا کیا بنے گا ۔ایک دوسرے کا احساس کیا کرو ۔ شرجیل انصاری کا ایک شعر ہے ۔
جینے والے پہ کیا گزرتی ہے
مرنے والا یہ سوچتا ہی نہیں
بہرحال احساس بہت پیارا لفظ ہے اور یہ جملہ کہ یار کچھ تو احساس کرو ۔اس کے اندر بھی بذات خود ایک احساس پایا جاتا ہے ۔ اسلام انسان میں احساس کو بیدار کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک آیت میرے خیال میں اس موضوع کے ماتھے کا جھومر کہلا سکتی ہے "جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔"اس میں کس قدر گہرا احساس ہے ۔ اب آپ اسی فرمان رسول کو دیکھ لیں " "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"کس قدر خوبصورت الفاظ ہیں کہ معاشرے کے حسن اور نکھار کے لیے کتنا بنیادی اصول ہے ۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس احساس کم ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر شخص دوسرے سے تنگ ہے اور ہر رشتہ اپنی روح کھوتا جا رہا ہے۔ باپ کہتا ہے اولاد میری قدر نہیں کرتی، اور اولاد شکوہ کرتی ہے کہ والدین مجھے سمجھتے نہیں۔ شوہر کو بیوی کی قربانی دکھائی نہیں دیتی، اور بیوی کو شوہر کی جدوجہد محسوس نہیں ہوتی۔ بھائی، بھائی کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے دل میں بوجھ محسوس کرتا ہے، بہن، بہن سے فاصلے پر کھڑی ہے، دوست، دوست پر اعتماد کھو بیٹھا ہے، اور عزیز، عزیز کی خوشی سے زیادہ اس کی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے۔
استاد شکوہ کرتا ہے کہ شاگرد میں ادب، شوق اور احترام باقی نہیں رہا، جبکہ شاگرد یہ گلہ کرتا ہے کہ استاد کے پاس وقت، شفقت اور رہنمائی نہیں رہی۔ ڈاکٹر مریض کو ایک فائل سمجھنے لگا ہے، اور مریض ڈاکٹر کو صرف ایک فیس وصول کرنے والا شخص سمجھتا ہے۔ مالک کو مزدور کی تھکن نظر نہیں آتی، اور مزدور مالک کی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتا۔ دکاندار گاہک سے تنگ ہے، گاہک دکاندار سے نالاں ہے، افسر ماتحت سے ناخوش ہے، ماتحت افسر سے بے زار ہے۔پڑوسی برسوں ایک دیوار کے فاصلے پر رہتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے دکھ، بیماری یا ضرورت کی خبر تک نہیں رکھتے۔ کبھی پڑوسی گھر کی دہلیز پر دستک دے کر خیریت پوچھتے تھے، آج ایک دوسرے کے دروازے تک جانے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔ راستے پر چلتے ہوئے ہر شخص پہلے خود گزرنا چاہتا ہے؛ کوئی دوسرے کو راستہ دینے، کسی بوڑھے کا ہاتھ تھامنے، کسی مسافر کا بوجھ اٹھانے یا کسی پریشان حال کی مدد کرنے کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔یہاں تک کہ انسان اپنے ہی گھر میں اجنبی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے کے بجائے موبائل کی اسکرینوں میں گم ہیں۔ باتیں بہت ہیں مگر مکالمہ نہیں، ملاقاتیں بہت ہیں مگر قربت نہیں، رشتے بہت ہیں مگر احساس نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ رشتے نفرت سے نہیں ٹوٹتے، احساس کے ختم ہو جانے سے ٹوٹتے ہیں۔ جس دن ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف، دوسروں کی عزت کو اپنی عزت، اور دوسروں کے حق کو اپنی ذمہ داری سمجھنے لگیں گے، اسی دن معاشرے میں محبت، اعتماد اور سکون واپس آنا شروع ہو جائے گا۔ کیونکہ معاشرے کا حسن عمارتوں سے نہیں، احساس رکھنے والے انسانوں سے قائم ہوتا ہے۔ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش میں ہم ایک دوسرے کو روند کر آگے نکلنے کی کوشش میں ہیں۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہی لگتا ہے کہ ہر کوئی اکھاڑے میں کود پڑا ہے۔ رستے میں جب کوئی بند اشارا کھلتا ہے تو لگتا ہے کہ جیسے پیچھے والی گاڑی' آگے والی گاڑی کو کچل کر آگے نکلنا چاہتی ہے۔ بہت مشکل ہے کہ ہم دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے کسی آدمی کو یہ کہہ سکیں کہ آ جایئے میں آپ کی منزل کچھ آسان کیے دیتا ہوں۔ ہم اپنی نعمتوں پر زبان سے شکر کرتے ہیں مگر ہم اس نعمت میں کسی کو شامل نہیں کرتے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں سے آگے بڑھ رہا ہے مگر جب احساس بیدار ہو تو معلوم پڑتا ہے کہ وہ کسی سے آگے نہیں بڑھا بلکہ محض یہ ہوا کہ وہ دوسروں کو پیچھے چھوڑ آیا ہے۔۔۔۔۔ اور ان دوسروں میں اس کے اپنے بلکہ اپنا آپ بھی شامل ہے ہم سب ایک دوسرے کے دم سے ہیں اس لیے اگر دوسرا نہ رہا تو میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ ہمیں اب اک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا' اک دوسرے کا خیال رکھنا ہو گا۔ اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے کی زندگی کو مشکل نہ بنایا جائے۔ محبت کا یا کم از کم برداشت کا رشتہ ترک نہ کیا جائے۔ اپنا اور صرف اپنا احساس تو خود غرضی کہلاتا ہے۔ جب اس احساس کے اندر انسان دوسروں کو شامل کر لیتا ہے تو اس کا اجر خود شناسی کے طور پر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔ احساس کی آنکھ کھلتی ہے تو ادراک کی آنکھ بھی کھلنا شروع ہو جاتی ہے اور پھر انسان ستاروں سے آگے بھی جہاں دیکھ سکتا ہے۔احساس انسانیت کی روح، محبت کی بنیاد، اخلاق کا سرچشمہ، ادب کی جان اور روحانیت کا دروازہ ہے۔ علم انسان کو معلومات دیتا ہے، مگر احساس اس علم کو انسانیت میں ڈھالتا ہے۔ جس دل میں احساس زندہ ہو، وہاں رحم، انصاف، محبت، ایثار اور حسنِ سلوک خود بخود پروان چڑھتے ہیں؛ اور جہاں احساس مر جائے، وہاں علم بھی بے روح، طاقت بھی بے رحم اور تعلقات بھی بے معنی ہو جاتے ہیں۔"احساس دل کی وہ بیداری ہے جو کسی منظر، واقعے، لفظ، محبت، درد یا حسن کو محض دیکھتی نہیں بلکہ اپنے وجود میں جذب کر لیتی ہے۔"احساس وہ جذبہ ہے جو کسی کی مسکراہٹ سے خوش ہو جاتا ہے اور کسی کے درد سے بے چین ہو جاتا ہے۔ جس دل میں احساس ہو، وہ کبھی کسی کو تکلیف نہیں دیتا، اور جس دل میں احساس نہ ہو، وہ سب کچھ پا کر بھی خالی رہتا ہے۔ احساس ہی رشتوں کی بنیاد ہے، محبت کی روح ہے، اور انسانیت کی اصل پہچان بھی۔عبد الحمید عدم کا ایک شعر ہے ۔
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا
03317640164 مزید ایسی تحریریں پڑھنے کے لیے واتس ایپ پر اپنا نام شہر جاب ایجوکیشن لکھ کر میسج کیجیے ۔

گرمیوں کی چھٹیاں اور آپ کے بچے "Children are not things to be molded, but people to be unfolded."ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبس...
01/07/2026

گرمیوں کی چھٹیاں اور آپ کے بچے
"Children are not things to be molded, but people to be unfolded."
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب : گلوبل ہینڈز
اوئے ابھی نا جا ، ریانے ابھی اور کھیلیں گے ۔
بند گلی میں دیواروں سے ٹکرانے والی یہ آواز رات ایک بجے کی ہے ۔
جب ایک بچہ دوسرے بچے کو کھیل کی ترغیب بھرپورجوش سے دے رہا ہے اور ادھر ہم ہیں کہ ابھی کتابیں بند کی ہی تھی کہ اس تیز دھار آواز نے کانوں کے پردے پھاڑ کر ہمیں ڈرا یا اور ہم جاگ اٹھے ۔ اب ہم نے بالکونی سے لٹک کر ایک دھمکی داغی جس کی وجہ سے بچے بدل نخواستہ وہاں سے تتر بتر ہو گئے ۔
میری آواز بھی کم نا تھی مگر سوال یہ ہے کہ میں کیوں منع کروں اور بار بار کیوں کروں ؟
کیا یہ میرے بچے ہیں ؟ کیا میں نے انہیں پیدا کیا ہے ؟ انسانیت ایک طرف ایک حد تک ہوتی ہے ۔ خیر خواہی ایک حد تک ہوتی ہے ۔ آپ ہی بتائیے ۔ یہاں قصور وار کون اور مورد الزام کسے ٹھہرایا جائے ۔
آپ یقین مانیے یہ مضمون میں نے اپنے محلے کی ان ماوں کے لیے لکھا ہے جن کے بچوں کے دن اور رات میں شور کی وجہ سے نا میں سو سکتا ہوں نا پڑھائی کر سکتا ہوں ۔ تحریری کام تو بالکل نا ممکن ہے ۔ لیکن جب میں نے یہ لکھا تو مجھے خیال آیا کہ اس کو سوشل میڈیا کا حصہ بھی بنا دیا جائے تا کہ دوسرے والدین بھی فائدہ اٹھا سکیں ۔ مضمون طنز نہیں بلکہ مکمل اصلاحی ہے اور والدین ہی کے لیے ہے ۔ پسند آئے تو شئیر کیجیے گا میں تو اسے اپنی کتاب کا باقاعدہ حصے بنانے جا رہا ہوں ۔ آپ کے بچے نہیں تو آپ یہ مضمون پڑھ کر احسان کر رہے ہیں ۔ دعا ہے اللہ آپ کو بچے دے (شادی لازمی کیجیے گا ) ۔ اگر بچے ہیں تو مجھے کوسنے کی بجائے مضمون پر توجہ دیجیے گا ۔
دیکھیے !بچپن انسانی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جس میں شخصیت کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے کی عادات، رویے، اقدار اور سیکھنے کا انداز بڑی حد تک ابتدائی برسوں میں تشکیل پاتا ہے۔ جدید دماغی تحقیق (Neuroscience) کے مطابق بچپن میں دماغ انتہائی تیزی سے نئے اعصابی روابط (Neural Connections) قائم کرتا ہے، اس لیے یہی عمر مثبت عادات، اخلاقی اقدار، مطالعے کی رغبت، تخلیقی صلاحیتوں اور زندگی کی بنیادی مہارتوں کے فروغ کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہوتی ہے۔گرمیوں کی تعطیلات بچوں کو روزمرہ کے تعلیمی دباؤ سے وقتی آزادی فراہم کرتی ہیں، مگر یہی آزادی اگر بے مقصد گزاری جائے تو قیمتی وقت ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری اسکرین ٹائم، جسمانی سستی اور غیر صحت مند عادات کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین دانش مندی سے ان تعطیلات کی منصوبہ بندی کریں تو یہی ایک مہینہ بچے کی علمی، جسمانی، اخلاقی، دینی اور سماجی شخصیت کی تعمیر میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔اسلام بھی وقت کو انسان کی سب سے قیمتی متاع قرار دیتا ہے اور ہر لمحے کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتا ہے۔ اسی لیے ایک مسلمان والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی مادی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ ان کی ایسی متوازن تربیت کرنا بھی ہے جو انہیں اچھا انسان، باکردار مسلمان، ذمہ دار شہری اور مفید فردِ معاشرہ بنائے۔گرمیوں کی چھٹیاں درحقیقت بچوں کی زندگی میں ایک ایسا سنہری موقع ہیں جسے اگر محبت، حکمت، نظم و ضبط اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ گزارا جائے تو اس کے اثرات صرف تعلیمی سال تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری زندگی ان کی شخصیت، کردار اور مستقبل پر مثبت نقوش ثبت کرتے ہیں۔
1. موسمِ گرما کی تعطیلات بچوں کی ہمہ جہت تربیت کا بہترین موقع ہیں، جنہیں صرف آرام نہیں بلکہ شخصیت سازی، دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
2. اسلام وقت کی قدر اور فارغ وقت کے درست استعمال کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے چھٹیوں کو عبادت، علم اور اچھے اعمال سے بھرپور بنانا ضروری ہے۔
3. قرآنِ کریم، نماز، دعائیں، سیرتِ نبوی ﷺ اور صدقہ و خدمت بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے بنیادی ستون ہیں۔
4. کتب بینی، مطالعہ، خطاطی، ڈرائنگ، کمپیوٹر، باغبانی اور دیگر ہنر بچوں کی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔
5. جسمانی سرگرمیاں اور کھیل صحت، اعتماد، نظم و ضبط اور ٹیم ورک کی عادت پیدا کرتے ہیں۔
6. گھریلو ذمہ داریاں جیسے اپنا بستر سمیٹنا، کپڑے تہہ کرنا اور والدین کی مدد کرنا بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔
7. والدین متوازن روزانہ کا شیڈول بنائیں، جس میں عبادت، مطالعہ، کھیل، آرام اور خاندان کے ساتھ وقت شامل ہو۔
8. موبائل، ٹی وی اور گیمز کے استعمال کو محدود کریں، کیونکہ ضرورت سے زیادہ سکرین ٹائم بچوں کی تعلیم، صحت اور شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
9. بچوں سے دوستی اور محبت بھرے انداز میں گفتگو کریں، صرف نصیحت کرنے کے بجائے ان کی بات سنیں اور رہنمائی کریں۔
10. ہوم ورک میں رہنمائی کریں مگر کام خود نہ کریں، تاکہ بچے میں خود اعتمادی اور سیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔
11. صلہ رحمی، بزرگوں سے ملاقات اور سماجی میل جول بچوں میں احترام، محبت، تعاون اور اچھے معاشرتی رویے پیدا کرتے ہیں۔
12. تعطیلات کا بہترین استعمال ہی نیک، باصلاحیت اور باکردار نسل کی تعمیر کی ضمانت ہے، جو والدین کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اگر آپ اس مضمون کو کسی قابل سمجھتے ہیں تو اسے ہر ایک سے شئیر کیجیے گا جس جس عورت کے بچے سکول جاتے ہیں اور آج کل انہوں نے اپنی ماں کی ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ ممکن ہے یہ بار نکات ان کے لیے تربیت میں مددگار ثابت ہوں ۔ مزید ایسے خوبصورت مضامین کے لیے آپ 03317640164 واٹس ایپ پر اپنا نام شہر جاب ایجوکیشن میسج کر سکتے ہیں ۔

لوگوں میں دی بیسٹ کون ہے ؟My goal is to simply become a better version of myself.ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب...
30/06/2026

لوگوں میں دی بیسٹ کون ہے ؟
My goal is to simply become a better version of myself.
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب : گلوبل ہینڈز پاکستان
ایک مرتبہ جنگل کے جانوروں نے ایک میٹنگ بلائی کہ جنگل کا ماحول بہت خراب ہو رہا ہے ۔ آئے روز جانور ایک دوسرے کی حق تلفی کر رہے ہیں اور کوئی کسی کے حقوق کا خیال نہیں کر رہا ۔ آج ہم اس میٹنگ کو تب ختم کریں گے جب ہم ایسے جانور کی سزا فائنل کر لیں تا کہ جنگل کا ماحول بہتر ہو ۔ سب نے مختلف آراء دیں مگر اتفاق اس بات پر ہوا کہ آج کے بعد جو جو کوئی بھی جنگل کا کوئی قانون توڑے گا اس کا نام انسان رکھ دیا جائے گا ۔ آپ کو اس چھوٹی سی فرضی کہانی سے یہ احساس ہو گیا ہو گا کہ انسانیت کسے کہا جاتا ہے اور جب کوئی انسان اپنے شایان شان کام نا کرے تو ہم کہتے ہیں یہ انسانیت کے مقام سے گر گیا ہے ۔ انسانیت وہ مقام ہے جہاں فرشتے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ انسانیت اس عظمت کا نام ہے جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے ۔چلیے اب بات سمجھاتے ہیں کہ انسانیت انسانوں میں سے دی بیسٹ ہونے کو کہتے ہیں ۔ دی بیسٹ کون ہے ؟ ۔۔ایک مرتبہ ماہ تما م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ستاروں کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھا ۔ کوئی آنکھ تھی کہ دیدار سے ہٹتی نہ تھی ،کوئی پلک تھی کہ جھپکتی نہ تھی ،ہونٹ تھے کے ادب سے سلے ہوئے تھے ، سر تھے کہ عجز سے جھکے ہوئے تھے ، ایسے خوبصورت ماحول میں ،ایسے دل ربا منظر میں ، ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کی، اے اللہ کے رسول میرا ایک سوال ہے ،فرمایا کرو ،اے اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کے ہاں محبوب ترین کون ہے؟ اور کون سے اعمال اللہ کو زیادہ پسند ہیں؟ آپ ؐنے فرمایا: اللہ کے نزدیک محبوب ترین وہ ہے، جو لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہے، مشکل دور کرتاہے ، قرض ادا کردیتاہے، بھوک مٹاتاہے۔ اور کسی شخص کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلنا، مجھے مسجد نبوی میں ایک ماہ کے اعتکاف سے بھی زیادہ پسند ہے۔عزیز دوستوں ! ہمارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے دی بیسٹ وہ ہے جو لوگوں کو نفع دے ۔آج دنیا میں انسان ہی انسان سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہے ۔تاریخ گواہ ہے روئے زمین پر کسی مخلوق نے کسی کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا انسان نے انسان کو پہنچایا ہے ۔ اب سوال یہ کہ آپ دی بیسٹ بننا چاہتے ہیں ؟ یقینا آپ کا دل کہے گا یس سر ، تو سر تبسم آپ کو چند ایسے طریقے بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے آپ دی بیسٹ بن سکتے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ کہ اپنی ذات میں ایک این جی او بن جائیں ۔ پیسے نہیں تو دعا مسکراہٹ سلامتی اچھی بات اچھا مشورہ ، اچھا حوصلہ ، نیکی کی رہنمائی ، مدد ، ہمدردی کے دو بول اور امید تو دے سکتے ہیں ۔یاد رکھیں اسلام محض چند مخصوص عبادتوں روزہ، نماز، حج اور نفل نمازوں کی ادائیگی کے مجموعہ کا نام نہیں بلکہ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اسی لیے اسلام نے دنیائے انسانیت کو باہمی اخوت ومحبت، ہمدردی اور خدمت گزاری کا درس دیا ہے۔ طاقتوروں کو کمزوروں پر رحم کرنے، امیروں کو غریبوں کی مدد کرنے، مظلوموں وحاجت مندوں کی فریاد رسی کرنے اور یتیموں مسکینوں کے دکھ درد کو بانٹنے کا حکم دیا ہے۔ اب ان کا کلیہ کچھ ایسے رکھنا ہے ۔
1. جب آپ نوجوانوں سے ملتے ہیں - ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
2. جب آپ بچوں سے ملتے ہیں - انہیں تعلیم دیں۔
3. جب آپ بوڑھے لوگوں سے ملتے ہیں - ان کی مدد کریں۔
4. جب آپ عقلمند لوگوں سے ملتے ہیں - ان کا مطالعہ کریں۔
5. جب آپ رہنماؤں سے ملتے ہیں - ان کا احترام کریں۔
6. جب آپ بے وقوف لوگوں سے ملیں - ان سے بچیں۔
7. جب آپ عاجز لوگوں سے ملتے ہیں - ان کی قدر کریں۔
8. جب آپ متکبر لوگوں سے ملتے ہیں - انہیں نظر انداز کریں۔
9. جب آپ مہربان لوگوں سے ملتے ہیں - ان کی تقلید کریں۔
10. جب آپ خواہش مند لوگوں سے ملتے ہیں - انہیں بلند کریں۔
11. جب آپ مضبوط لوگوں سے ملیں - ان کی حمایت کریں۔
12. جب آپ دیندار لوگوں سے ملتے ہیں - انہیں برکت دیں۔
13. جب آپ بزرگ لوگوں سے ملتے ہیں - ان کا احترام کریں۔
14. جب آپ کمزور لوگوں سے ملتے ہیں - انہیں مضبوط بنائیں۔
15. جب آپ محنتی لوگوں سے ملتے ہیں - ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
16. جب آپ مہربان لوگوں سے ملتے ہیں - ان کی قدر کریں۔
17. جب آپ ایماندار لوگوں سے ملتے ہیں -انہیں فروغ دیں۔
18. جب آپ نیک لوگوں سے ملیں تو انہیں انعام دیں۔
19. جب آپ برے لوگوں سے ملیں تو ان سے بچیں۔
20. اور ہر حال میں "دیکھو، دعا کرو اور سب کی بھلائی کی دعا کرو۔
چلیں جی عمل شرط ہے ۔ بسم اللہ کیجیے اور اپنی ذات میں این جی او بن کر دی بیسٹ بن جائیں ۔ ہماری تحریریں واٹس ایپ پر 03317640164 اپنا نام شہر جاب میسج کر کے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔

کیا ہم منافق ہو گئے (ایک واقعہ آٹھ سبق )“The greatest battle is not against the world, but against the changing self wit...
19/06/2026

کیا ہم منافق ہو گئے (ایک واقعہ آٹھ سبق )
“The greatest battle is not against the world, but against the changing self within.”
ایک محفل اور شمع محفل کا تذکرہ : “جہاں لفظ نہیں، یقین بولتا ہے؛ اور جہاں ذکر، آنکھوں کے سامنے حقیقت بن جائے!”
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب روحانی کامیابی سے انتخاب : گلوبل ہینڈز
حضرت حنظلہ اسیدیؓ بیان کرتے ہیں:
ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ ﷺ نے ہمیں جنت اور جہنم کا اس قدر مؤثر ذکر فرمایا کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ہم اس کیفیت میں مجلس سے رخصت ہوئے۔گھر واپس آ کر ہم اپنی روزمرہ زندگی، بیوی بچوں اور معاشی معاملات میں مشغول ہو گئے، جس کے باعث وہ روحانی کیفیت برقرار نہ رہ سکی۔ اس پر ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں ہم نفاق میں مبتلا نہ ہو گئے ہوں۔
میں نے دل میں کہا: “حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔”
چنانچہ میں روتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ میں منافق ہو گیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: “سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟” میں نے اپنا حال بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: “میرے ساتھ بھی یہی کیفیت پیش آتی ہے۔ آؤ، ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چلتے ہیں۔”
ہم دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:”وہ کیسے؟”
میں نے عرض کیا کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں تو جنت و جہنم کا ایسا یقین ہوتا ہے گویا وہ سامنے ہیں، لیکن گھر جا کر ہم دنیاوی مشاغل میں مشغول ہو جاتے ہیں۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس حال میں تم میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں مشغول رہو، تو فرشتے تم سے تمہارے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کریں۔ لیکن اے حنظلہ! ایک وقت ایسا ہوتا ہے اور ایک وقت ایسا ہوتا ہے (یعنی انسان کو مختلف حالتیں پیش آتی رہتی ہیں)”
انسانی قلب ایک ایسا آئینہ ہے جس پر ایمان کی روشنی بھی پڑتی ہے اور زندگی کی دھول بھی جمتی رہتی ہے۔ یہ دل کبھی عبادت کی لطافت سے منور ہو جاتا ہے تو کبھی روزمرہ کے بوجھ تلے اپنی اسی چمک کو وقتی طور پر کھو دیتا ہے۔ مگر یہی تغیر اس کی زندگی کی علامت بھی ہے اور اس کی حقیقت کا اظہار بھی۔اسلامی فکر میں انسان کو کسی جامد کیفیت کا پابند نہیں بنایا گیا، بلکہ اسے ایک ایسی متوازن راہ دکھائی گئی ہے جس میں روحانیت اور عمل دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ کبھی عبادت کی شدت دل کو آسمانوں سے جوڑ دیتی ہے اور کبھی معاشرتی ذمہ داریاں اسے زمین کے حقائق سے وابستہ رکھتی ہیں۔یہی وہ نازک توازن ہے جسے سمجھنے کے لیے حضرت حنظلہؓ کے واقعے جیسے واقعات رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ایمان ایک جامد حالت نہیں بلکہ ایک زندہ کیفیت ہے، جو دل کی دھڑکنوں کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، مگر اپنی بنیاد میں ہمیشہ قائم رہتی ہے۔اس ایک واقعہ سے مجھے تو یہ 8 سبق حاصل ہوئے آپ بھی پڑھیے اور اپنے آپ میں غوطہ زن ہو کر دیکھیں کیا سیکھا ہے :
1. حضرت حنظلہؓ کا اپنے آپ کو منافق سمجھنا اس بات کی علامت ہے کہ مومن کا دل حساس ہوتا ہے اور وہ اپنے ایمان کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتا ہے۔ یہ کیفیت دراصل زندہ ضمیر کی علامت ہے، نہ کہ نفاق کی۔
2. نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ ہر حالت کی ایک نوعیت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ترکِ دنیا نہیں بلکہ دنیا اور دین کے درمیان معتدل توازن کا نام ہے۔
3. رسول اللہ ﷺ نے حضرت حنظلہؓ کے احساس کو رد نہیں کیا بلکہ اسے فطری حقیقت کے طور پر سمجھایا۔ اس سے نبی کریم ﷺ کے اسلوبِ تربیت میں شفقت، فہم اور توازن کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
4. نبی ﷺ کا یہ ارشاد کہ فرشتے مصافحہ کرتے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر انسان ہمیشہ بلند ترین روحانی کیفیت میں رہے تو اسے غیر معمولی قربِ الٰہی حاصل ہو سکتا ہے۔
5. اپنے ایمان کے بارے میں فکر مند رہنا دراصل ایمان کی علامت ہے۔ حقیقی منافق اپنے نفاق سے بے خبر ہوتا ہے، جبکہ مومن اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے۔
6. اسلام انسان کو اس دنیا میں ذمہ دار شہری اور گھر کا فرد بننے سے منع نہیں کرتا۔ عبادت اور معاشرت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور یہی اسلامی زندگی کا حسن ہے۔
7. مجالسِ ذکر میں دل پر جو اثر ہوتا ہے وہ وقتی جذباتی شدت ہو سکتی ہے، جبکہ حقیقی دین وہ ہے جو روزمرہ معاملات میں بھی اخلاق، دیانت اور تقویٰ کی صورت میں ظاہر ہو۔
8. انسان کو اپنے حالات کا درست ادراک رکھنا چاہیے۔ نہ خود کو غیر ضروری طور پر گناہ گار سمجھنا درست ہے اور نہ ہی غیر حقیقی روحانی دعوے کرنا۔
ہماری مزید تحریریں حاصؒ کرنے کے لیے 03317640164 پر اپنا نام شہر جاب ایجوکیشن میسج کریں ۔

ہیٹ سٹروک سے بچاؤ — اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کریں! ☀️شدید گرمی کی لہر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ض...
14/06/2026

ہیٹ سٹروک سے بچاؤ — اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کریں! ☀️
شدید گرمی کی لہر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جب انسانی جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے تو ہیٹ سٹروک جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً بزرگ افراد، بچوں اور بیمار لوگوں کے لیے۔
🔹 احتیاطی تدابیر ✅ غیر ضروری طور پر دوپہر کے اوقات میں گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔
✅ ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنیں۔
✅ سر، گردن اور آنکھوں کو دھوپ سے محفوظ رکھیں۔
✅ زیادہ سے زیادہ پانی اور دیگر صحت بخش مشروبات استعمال کریں۔
✅ مصالحہ دار اور بھاری غذاؤں کا استعمال اعتدال میں رکھیں۔
✅ ہوادار جوتے پہنیں اور خود کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔
🍉 گرمی میں مفید غذائیں تربوز، خربوزہ، کھیرا، گاجر، خوبانی، کیلا، دودھ، شربتِ بزوری، شربتِ بادام اور دیگر پانی سے بھرپور غذائیں استعمال کریں۔
💧 یاد رکھیں پانی باقاعدگی سے پیتے رہیں، خواہ پیاس محسوس نہ بھی ہو۔ گھڑے کا پانی عموماً جسم کو متوازن ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔
⚠️ ہیٹ سٹروک کی علامات • شدید پیاس
• چکر آنا
• سر درد
• متلی یا قے
• جسم کا غیر معمولی گرم ہونا
• بے ہوشی یا ذہنی الجھن
🚑 اگر علامات شدت اختیار کر جائیں تو فوری طور پر قریبی طبی مرکز یا معالج سے رجوع کریں۔
🐦 اپنے گھروں اور گلی محلوں میں پرندوں کے لیے پانی کا انتظام کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ درخت نہ صرف گرمی کم کرتے ہیں بلکہ ماحول کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
احتیاط کریں، محفوظ رہیں، اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔
گلوبل ہینڈز پاکستان

جب کوئی شخص تعلق ٹوٹنے کے قریب ہو تو اکثر یہ جملہ سامنے آتا ہے:*“میں بدل گیا ہوں، مجھے آخری موقع دیں”*ڈاکٹر محمد اعظم رض...
14/06/2026

جب کوئی شخص تعلق ٹوٹنے کے قریب ہو تو اکثر یہ جملہ سامنے آتا ہے:
*“میں بدل گیا ہوں، مجھے آخری موقع دیں”*
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم :چئیرمین گلوبل ہینڈز پاکستان
آپ کا کسی سے بہت اچھا تعلق بنا پھر وہ لرائی میں بدلا بحث سے ہوتے ہوتے عزت نفس پر حملوں میں بدلا ۔ تعلق ایسا ہے کہ آپ چھوڑ بھی نہیں سکتے ۔ اگر آپ کسی پیک لیول پر جا کر چھوڑنا چاہتے ہیں تو وہ دوبارہ صلح کرتا ہے ۔ معافی مانگتا ہےت اسے حساس ہوتا ہے کہ وہ غلطی پر ہے مگر یہی عمل کچھ دن بعد پھر سے شروع ہو جاتا ہے ۔ پھر وہی انداز بار بار ۔ آپ کا سکون برباد ہو جاتا ہے ۔ آپ مجبور ہیں اور وہ شخص آپ کی مجبوری کو للکارتا بھی ہے ۔ بالآخر آپ اپنی ہر چیز داو پر لگا کر تعلق ختم کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اب پھر وہ انداز وہی ڈرامہ ۔ لیکن آپ اس بار پیچھے نہیں ہٹتے اور فیصلہ لینے کی بھرپور تیاری میں ہیں ۔ اس بار وہ شخص آپ کو پہلے سے زیادہ واسطے دیتا ہے اور روکتا ہے ۔ اور وہ کہتا ہے میں بدل گیا ہوں آپ بار بار کی تکلیف اور اس عمل کے دہرانے کی وجہ سے اس بار یقین نہیں کرتے اور تعلق ختم کر دیتے ہیں ۔
اب تعلق ختم ہوتے ہی وہ شخص آپ کی عزت پر آپ کے مقام نام پر حملے شروع کر دیتا ہے اور ہر چیز کا الزام آپ کو دینے لگتا ہے ۔ پہلے جو انسان ہر چیز ہر غلطی کو قبول کررہا تھا اب وہ آپ وک مالی جانی اور عزت مضروح کرنے کے ساتھ ہر قسم کا نقصان دیتا ہے ۔ آپ سوچتے ہیں شکر ہے میں نے تعلق دوبارہ بحال نہیں کیا ۔ کیا واقعی اس نے توبہ کی تھی آپ کو جواب مل جاتا ہے کہ نہیں اچھا تو وہ ہوتا ہے جو تعلق ہو نا ہو اچھا ہوتا ہے اچھا رہتا ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود آپ یہ سوچتے ہیں کہ کیا وہ شخص واقعی بدل چکا تھا ۔ یا اس کی حقیقت کیا ہے ؟ کہیں میں نے غلطی تو نہیں کی ۔آئیے آج اس انداز کو نفسیات کی روشنی میں آسان کر کے سمجھاتا ہوں ۔
*نفسیاتی اعتبار سے اس کا جواب سادہ مگر تلخ ہے۔* حقیقی تبدیلی ہمیشہ مستقل behavioral transformation سے پہچانی جاتی ہے، یعنی ایسا بدلاؤ جو وقت، دباؤ اور اختلاف کے باوجود قائم رہے۔ جبکہ بار بار کی معذرت، وقتی نرمی اور پھر وہی پرانا رویہ دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اندرونی شخصیت میں کوئی بنیادی اصلاح نہیں ہوئی، صرف حالات کے مطابق ردِعمل بدلتا رہا۔اس پورے تجربے میں اصل نکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ انسان نے غلطی کی، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غلطی کو مستقل طور پر بدلنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور دوسرا فریق، جو اس پورے چکر میں رہتا ہے، آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ اعتماد صرف الفاظ سے نہیں، مسلسل عمل سے زندہ رہتا ہے۔اسی لیے جب تعلق ختم ہوتا ہے اور ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ “کیا میں نے غلطی کی؟”، تو نفسیاتی طور پر اس کا جواب اکثر یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ اس وقت لیا جاتا ہے جب جذباتی بقا اور ذہنی سکون، تعلق کی مسلسل بے یقینی پر غالب آ جاتے ہیں۔
*جب اعتماد مکمل طور پر مجروح ہو چکا ہو اور تعلق اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو جائے، تو نفسیاتی طور پر فریقِ مخالف میں ایک “دفاعی بندش” پیدا ہو جاتی ہے جسے ہم emotional closure کہہ سکتے ہیں۔* اس کے باوجود اگر تعلق ختم ہو جائے تو بعض افراد کا رویہ مزید جارحانہ یا نقصان دہ ہو جانا ایک معروف نفسیاتی ردِعمل ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ narcissistic injury یعنی انا کو پہنچنے والا شدید جذباتی زخم ہوتا ہے، جہاں فرد ناکامی یا ترک کیے جانے کو ذاتی توہین کے طور پر لیتا ہے۔ اسی طرح blame displacement یعنی ذمہ داری کو دوسرے پر ڈالنے کا رجحان اور emotional dysregulation یعنی جذباتی عدم توازن بھی اس رویے کو شدت دیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ کیفیت extinction burst کے اصول کے مطابق ہوتی ہے، جہاں کسی رویے کی مسلسل ناکامی کے بعد وہ رویہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہونے لگتا ہے۔
*اس تمام عمل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ “تبدیلی” محض لفظ نہیں بلکہ ایک مستقل نفسیاتی اور عملی تشکیل کا نام ہے۔* اگر رویہ صرف اس وقت بدلے جب تعلق ختم ہونے لگے، اور اس سے پہلے بار بار وہی غلطیاں دہرائی جاتی رہیں، تو اسے حقیقی اصلاح نہیں بلکہ reactive adjustment کہا جاتا ہے، یعنی حالات کے مطابق وقتی ردعمل۔ نتیجتاً سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کیا تھا؟ اصل مسئلہ اکثر شخصیت کی عدم پختگی، کمزور self-regulation، اور ذمہ داری کے شعور کی کمی ہوتا ہے، جو بار بار اعتماد کو توڑ کر تعلق کو اس مقام تک لے آتا ہے جہاں الفاظ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
*انسانی تعلقات کی نفسیات میں اعتماد (Trust) وہ بنیادی ستون ہے جس پر محبت، احترام اور وابستگی کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔* جب یہ ستون بار بار خیانت، وعدہ خلافی یا جذباتی عدم ذمہ داری کی زد میں آتا ہے تو آہستہ آہستہ ایک کیفیت جنم لیتی ہے جسے نفسیات میں trust erosion یعنی اعتماد کا تدریجی زوال کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر تعلق بظاہر موجود رہتا ہے، مگر اس کی داخلی حرارت اور معنوی مضبوطی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ بار بار معاف کرنے کا عمل اگرچہ اخلاقی وسعتِ قلبی کی علامت ہوتا ہے، لیکن نفسیاتی طور پر یہ کیفیت بعض اوقات moral fatigue یعنی اخلاقی تھکن میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں جذباتی برداشت اپنی آخری حدوں کو چھونے لگتی ہے۔
*ایسے ہی مرحلے پر جب تعلق ٹوٹنے کے قریب پہنچتا ہے تو اکثر یہ جو جملہ سننے کو ملتا ہے:* “میں بدل گیا ہوں، مجھے آخری موقع دیں”۔ بظاہر یہ جملہ ندامت اور اصلاحِ نفس کی علامت محسوس ہوتا ہے، مگر نفسیاتی تناظر میں اسے ہمیشہ حقیقی تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ حقیقی تبدیلی (genuine behavioral change) وہ ہوتی ہے جو مسلسل عمل، استقامت اور اندرونی شعورِ ذمہ داری سے جنم لے، جبکہ اس کے برعکس بعض اوقات یہ جملہ صرف situational repentance یعنی وقتی حالات کے دباؤ میں پیدا ہونے والے پچھتاوے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس میں اصل محرک اصلاح نہیں بلکہ تعلق کھو دینے کا خوف ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں رویے وقتی طور پر نرم ہو جاتے ہیں مگر بنیادی رجحانات تبدیل نہیں ہوتے۔
*ایسے تعلق کے معاملے میں احتیاطی تدابیر*
1. فیصلہ جذبات کے بجائے مسلسل رویّوں اور حقیقت (pattern of behavior) کی بنیاد پر کریں۔
2. “میں بدل گیا ہوں” جیسے جملوں کو صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی تبدیلی کے ساتھ پرکھیں۔
3. واضح ذہنی حدیں (clear boundaries) مقرر کریں اور انہیں توڑنے نہ دیں۔
4. رابطے کو کم یا ختم کریں (no-contact یا limited contact strategy)۔
5. جذباتی دباؤ، منت سماجت اور الزام تراشی کو پہچانیں اور اس کا اثر قبول نہ کریں۔
6. ہمدردی اور جذباتی کمزوری میں فرق سمجھیں؛ صرف پچھتاوا تبدیلی نہیں ہوتا۔
7. خود کو قصوروار ٹھہرانے (self-blame) سے بچیں۔
8. قابلِ اعتماد افراد سے مشورہ اور سپورٹ لیں۔
9. علیحدگی کے بعد ذہنی سکون کے لیے وقت اور space دیں (emotional recovery phase)۔
10. یاد رکھیں: اعتماد بار بار ٹوٹے تو علیحدگی اکثر نقصان نہیں بلکہ نفسیاتی تحفظ ہوتی ہے۔

Address

House 503
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Global Hands posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Global Hands:

Shortcuts

Share