15/08/2025
شادی کرنے سےپہلے ۔۔۔۔
“The highest happiness on earth is marriage.”
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کے راز سے انتخاب:ابرش نور : گلوبل ہینڈز
ضرورت ڈھل گئی رشتے میں ورنہ
یہاں کوئی کسی کا اپنا کب ہے
دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے مگر اس ہجوم میں بھی شادیاں مشکل ہو رہی ہیں ۔ اگر ہو گئی تو نبھا نہیں ہو رہا ۔طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔ آخر کیوں ؟
ایک نیک اخلاق وکردار کا حامل لیکن غریب لڑکا کسی کے گھر اس کی بیٹی کا رشتہ لینے گیا،بیٹی کا باپ بولا: تم غریب ہو اور میری بیٹی غربت اور تکالیف کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی اس لئے میں تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے سکتا۔پھر ایک بداخلاق و بدکردار لڑکا اسی لڑکی کا رشتہ لینے گیا تو اس کاباپ رشتہ دینے کیلئے راضی ہوگیا اوراس کے، بداخلاق ہونے کے بارے میں یہ کہا " اللہ اس کو ہدایت دے گا, انشاءاللہ " تو اس کی بیٹی نے کہا: باباجان کیا جو اللہ ہدایت دے سکتا ہے وہ رزق نہیں دے سکتا ۔۔۔؟ یا ان دونوں خداؤں میں کوئی فرق ہے۔۔۔؟شادی ایک سنت عمل ہے جو ایمان کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ بات سو فیصد درست ہے کہ غربت اتنا ہی ایمان کو کمزور بھی کرتی ہے اور مرد کو مختلف آزمائشوں میں ڈالتی ہے ۔ اوپر واقعہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی غریب سے شادی نا کریں یا کسی غریب سے ہی شادی کریں ۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کسی نکٹھو سے شادی نا کریں ۔ سست ، غافل ہونا ، وقت ضائع کرنا ، جوانی کو ضائع کرنا ، پڑھائی کی عمر میں پڑھنا نا ،والدین پر بوجھ بنے رہنا ۔ یہ سب کسی طرح بھی اچھے کردار میں شامل نہیں ۔ یقینا صاحب کردار رزق حلال کا متلاشی ہو گا اور محنتی ہو گا ۔ ہمارے معاشرے کے دو بڑے المیے ہیں ایک خواب نگر اور دوسرا تربیت ۔ بیٹا خوبصورت ہو یا بیٹی دونوں کی خوبصورتی کو ڈھال بنا کر کسی امیر سے شادی کا خواب سجانا یہ سب سے بڑی بیوقوفی ہے ۔یاد رکھئے! جب تک انسان کا باطِن خوبصورت نہ ہو ظاہری خوبصورتی کسی کام کی نہیں۔ دوسرا بیٹا یا بیٹی کو اس قدر لاڈلا بنا کر رکھنا کہ تربیت ہی نا کرنا ۔ ان دو باتوں کی وجہ سے اکثر بظاہر بہترین نظر آنے والا جوڑا بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے بعد الزام تراشیوں کی ایک بوچھاڑ شروع کر دی جاتی ہے ۔
غضب تو یہ ہے مقابل کھڑا ہے وہ میرے
کہ جس سے میرا تعلق ہے خوں کے رشتے کا
آپ ماں باپ ہیں اور اولاد کی نعمت سے اللہ نے نوازا ہے تو یقین جانیے آپ نے اولاد کی تربیت کر دی تو اخلاق اور کردار کی دولت ہی سب سے بڑا احسان ہو گا ۔ اچھے رشتے کا معیار کیا ہے؟ وہ جو ہمارا خود ساخْتہ ہے یا وہ جسے شریعت نے اچھا رشتہ قرار دیا۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر باپ اپنی بیٹی کے لئے اچھے لڑکے کا انتخاب کرنا چاہتا ہے اور لڑکے والے بھی اچھے رشتے کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن یہ بات ہر مسلمان کو پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ اچھا رشتہ وہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک اچھا ہے لہٰذادین دار اور ضروری تقاضوں کو پورا کرنے والا رشتہ ملتا ہو تو اسے ٹھکرانے کی بجائے اپنانے کا ذہن ہونا چاہئے۔
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
لیکن ہمارے ہاں کیا دیکھا جاتا ہے کیا سوچا جاتا ہے چلیے اس کا آئینہ بھی دیکھ لیں ۔ عام طور پر لڑکے والوں کی تمنا یہ ہوتی ہے: (1)”آنے والی“امیرباپ کی بیٹی ہو (2)ماں باپ کی اِکلوتی ہو تو کیا ہی بات ہے (3)لڑکی کے بھائی اعلیٰ سرکاری عُہدوں پر فائز ہوں (4)اور اگر کئی بھائیوں کی ایک ہی بہن ہو تو سونے پہ سہاگا کیونکہ اس سے تحائف ملنے کے اِمکانات بڑھ جاتے ہیں (5) بہو خوب جہیز لے کر آئے (6)بیٹے کو سَلامی میں موٹر سائیکل یا گاڑی ملے (7)کوئی پلاٹ یا مکان بھی مل جائے (8)بہو کا والد اپنے داماد کو کوئی کاروبار ہی شروع کروا دے (9)لڑکی کسی اچھی جگہ نوکری(Job)کرتی ہووغیرہ ۔غور کیا جائے تو ان سب میں ایک چیز”دوسرے کے مال کو لَلچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا“ مُشترَک ہے۔
اسی طرح لڑکی والوں کی عموماً یہ خواہش ہوتی ہے: (1)لڑکا اسمارٹ(Smart) اور فیشن ایبل(Fashionable) ہو(2)باپ کی جائیداد و کاروبار کا اِکلوتا وارث ہو (3)نندیں نہ ہوں(4) اگر ہوں تو ”اپنے گھر کی ہو چکی ہوں“ تاکہ ہماری بیٹی سُسرال میں راج کرے۔ (5) لڑکا نوٹوں میں کھیلتا ہو (اگرچہ حرام سے کمائے گئے ہوں) (6)تنخواہ معقول بھی ہو تو نظر اس پر ہوتی ہے کہ ” اُوپر کی کمائی“کتنی بنا لیتا ہے۔(7)لڑکا بیرونِ ملک ہو تو گھر بھر کی چاندی ہو جائے گی وغیرہ۔
اب ایمان داری سے بتائیں ہم انسانوں کے بنائیں یہ معیار کسی بھی لحاظ سے قابل عمل ہیں ۔ ایمان تو کہتا ہے افسوس ۔ لیکن اس کے باوجود دل ہی دل میں دوطرفہ پکنے والی یہ کچھڑی دو انسانوں کے ساتھ ساتھ دو گھرانوں کا سکون برباد کر دیتی ہے ۔
بہت ستاتے ہیں رشتے جو ٹوٹ جاتے ہیں
خدا کسی کو بھی توفیق آشنائی نہ دے
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی : میری ایک بیٹی ہے جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں، اس کے کئی رشتے آئے ہیں، آپ مجھے کس سے اُس کی شادی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا : اس کی شادی ایسے شخص سے کرو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہو کیونکہ اگر ایسا شخص تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اسے عزّت دے گا اور اگر نفرت بھی کرے گا تو ظلم نہیں کرے گا ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ کے لگ بھگ کنواری لڑکیاں اور لڑکے موجود ہیں جن کے والدین اچھے اور مناسب رشتوں کی راہ تک رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں شادی کے منتظر لڑکے اور لڑکیوں کی عمریں ڈھلتی جارہی ہیں۔ اس پریشانی کی اصل وجہ رشتوں کی کمی نہیں بلکہ رشتوں کا معیار پر پورا نہ اترنا ہے۔ ہر لڑکی کے والدین کے اپنے معیار ہیں۔
اس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں
ناہید سے کی ہے سرگوشی پروین سے رشتے جوڑے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شادی عموماً چار چیزوں کی وجہ سے کی جاتی ہے: (۱) حسب نسب کی وجہ سے۔ (۲) مال کی وجہ سے ۔ (۳) حسن وجمال کی وجہ سے۔ (۴) دینداری کی وجہ سے۔ لیکن تم لوگ دین داری کو ترجیح دیا کرو۔ اگر ایسا نہ کروگے تو دنیا میں فساد ہوگا۔شادی کا اصل مقصد کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ”ہم نے جوڑے بنائے تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں۔
آخر میں ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کریں۔اوپر جن باتوں سے منع کیا وہ نا کریں اور جن پر عمل کرنے کا اسلامی حکم ان پر عمل بجا لا کر زندگی کو پرسکون بنائیں ۔ آپ کی لڑکیاں جاب کرتیں ہیں تب بھی گھریلو امور اچھے سے سکھائیں اور ہر دو طرف رشتے کے وقت کسی بھی بات کو بڑھا چڑھا کر مت بولیں، کسی بھی معاملہ میں دھوکہ مت دیں نا ہی جھوٹ کا سہارا لیں ۔ بعد میں نتائج بہت بھیانک ہوا کرتے ہیں ۔
ساتھ رہتے ہو مگر ساتھ نہیں رہتے ہو
ایسے رشتے کو نبھانے کی ضرورت کیا ہے
۔شکریہ ... ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے ...https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/
*ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں .* 03317640164.
شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.