23/04/2025
قومی زرعی بیداری تحریک
اعلامیہ برائے قومی بیداری و ماحولیاتی تحفظ
ترقی کی قیمت یا تباہی کا آغاز؟
زمین کا سینہ چیرا، کسان کا دل زخمی کیا۔
تحریر: احمد رضا خان کرمانی
بانی قومی زرعی بیداری تحریک
پاکستان کی زرعی معیشت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کے نام پر کسانوں کو ان کی زمینوں سے محروم کیا جا رہا ہے، اور زرخیز کھیتوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور صنعتی زونز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
زرعی زمینوں کی جبری فروخت، فصلوں کے کم ریٹ، اور رئیل اسٹیٹ کے جال نے کسان کو بے بس کر دیا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں ہزاروں ایکڑ زمین کسانوں سے چھین کر صنعتی منصوبوں کے سپرد کی جا چکی ہے۔ جب کسان کے ہاتھ سے زرخیزی چھن گئی تو اسے غیر آباد زمینوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔
حکومت کا منصوبہ چولستان کو آباد کرنے کا ہے، لیکن اس آبادکاری کے لیے سندھ جیسے پانی کے بحران سے دوچار صوبے سے نہریں نکالی جا رہی ہیں۔ یہ قدم ماحولیاتی توازن اور علاقائی عدل و انصاف کے سراسر منافی ہے۔ سندھ کے عوام نے آواز اٹھائی ہے، دھرنے دیے ہیں، اور سوال کیا ہے:
"کیا چولستان کو آباد کرنے کے لیے سندھ کو برباد کیا جائے گا؟"
قومی زرعی بیداری تحریک کے مؤقف کی روشنی میں ہم درج ذیل نکات پر زور دیتے ہیں:
1. زرخیز زرعی زمینوں کو صنعتی زونز میں تبدیل کرنے کا عمل روکا جائے۔
2. کسان کو اُس کی زمین، پانی اور فصلوں کا پورا حق دیا جائے۔
3. سندھ سے چولستان کے لیے پانی کی ترسیل کے منصوبے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
4. ہر زرعی پالیسی میں کسان کی مشاورت، شرکت اور مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔
5. پاکستان کی زراعت کو قومی تحفظ کا درجہ دیا جائے، اور خوراک کی خود کفالت کی پالیسی مرتب کی جائے۔
یہ صرف کسان کا مسئلہ نہیں، یہ پوری قوم کا سوال ہے۔
اگر کسان ناراض ہے، زمین بے آب ہے، پانی ناپید ہے، تو کوئی صنعت، کوئی شہر اور کوئی معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔
ہماری آواز، ہر کسان کی آواز ہے۔
ہماری جنگ، زمین کے حق میں ہے۔
ہماری تحریک، نسلوں کے مستقبل کے لیے ہے۔