18/09/2024
مولانا رفعت قاسمی صاحب فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کسی گاوں میں تشریف لے گئے ، وہاں گاوں میں لوگوں سے تعارف ہونے لگا تو ہر کوئی از خود اپنے نام کے ساتھ حاجی لگانےلگا۔ جب تمام لوگ اپنا تعارف کروا چکے تو کسی نے حضرت سے تعارف پوچھا تو فرمایا : اشرف علی نمازی۔ لوگ یہ جواب سن کر حیران ہوئے اور کہا کہ یہ کیسا نام ہے ؟
حضرت نے نام بتانے والے تمام افراد سے پوچھا کہ آپ نے کتنے حج کیے ہیں تو ہر ایک نے یہی کہا کہ ایک ہی حج ادا کیا ہے ۔
حضرت فرمانے لگے کہ میں دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرتا ہوں تو اپنے نام کے ساتھ نمازی کیوں نہیں کہہ سکتا۔
الغرض اس قصے سے مراد یہ ہے کہ اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھنا یا کہنا اس کو علماء نے ریاکار ی اور دکھلاوے میں شمار کیا ہے لیکن اگر کوئی دوسرا آپ کو حاجی صاحب کہہ کر پکارے یا آپ کے نام کے ساتھ حاجی لگا دے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ حج ایک عبادت ہے جو کہ اللہ جل شانہ کی رضامندی کے لئے ادا کی جاتی ہے ۔ اس میں دکھلاوہ یا ریا کاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔