05/04/2024
آج آپ کو ایک سچا واقعہ سناتا ھوں یہ جو ترقی یافتہ ملکوں میں ویلفیر نظام ھے اس کی ابتدا اور اس کی ترکیب ذہین میں کیسے آہی کہتے ہیں کہ ایک امریکی ریاست میں ایک بوڑھے شخص نے چوری کی وہ بھوکا تھا عدالت میں پیش کیا گیابجائے انکار کے اعتراف کیا جج نے دس ڈالر جرمانے کی سزا سناہی میں جانتا ہوں کہ تمہارے پاس یہ رقم نہیں اسی لیے تو تم نے روٹی چوری کی ہے ،لہٰذا میں تمہاری طرف سے یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں پھر جج کھڑا ہوتا ہے اور حاضرین کو مخاطب کر کے کہتا ہے '' میں تمام حاضرین کو دس دس ڈالر جرمانے کی سزا سُناتا ہوں اس لیے کہ تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں ایک غریب کو پیٹ بھرنے کے لیے روٹی چوری کرنا پڑی اُس مجلس میں 480 ڈالر اکھٹے ہوئے اور جج نے وہ رقم بوڑھے '' مجرم '' کو دے دی۔کہتے ہیں کہ یہ قصہ حقیقت پر مبنی ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں غریب لوگوں کی مملکت کی طرف سے کفالت اسی واقعے کی مرہون منت ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چودہ سو سال پہلے ہی یہ کام کر گئے کہ پیدا ہوتے ہی بچے کا وظیفہ جاری کرنے کے حکم دے دیا کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ ہمارے ١٠دس روپے ہمارے لئے اتنی اھمیت نہیں رکھتے جتنے کہ اس لاچار کے لئے رکھتے ہیں جو جانے کب سے بھوکا ہے۔۔۔تبدیلی کے لیئے ہمیں خود کو بدلنا ہے۔۔آئیے مل کر ہم سب بھی اپنی سوچ اپنے مُلک کے لوگوں کا سوچیں۔۔۔کسی کی خوشی کا موجب بننا ہی سب سے بڑی خوشی ہے