Time does not remain Same

Time does not remain Same Thanks for like my page .....!!!!!!

31/10/2025

"
🤟👍عنوان: ایک نئی شروعات
"آج سے ہم ایک نئے سفر کا آغاز کر رہے ہیں، ایک ایسا سفر جو ہمیں یہ یاد دلائے گا کہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔
ہر طلوع ہوتا سورج ایک نیا موقع لاتا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ گزرے ہوئے کل کی پریشانیاں آج کے امکانات کو ختم نہیں کر سکتیں۔ آپ جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، آج اس کا پہلا قدم اٹھائیں!
یاد رکھیں، مشکل وقت ایک لمحہ ہے، پوری زندگی نہیں۔ جس طرح دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے، اسی طرح زندگی کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ امید کا دامن تھامے رکھیں اور محنت کرتے رہیں۔
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق کیا ہے جو آپ نے وقت سے سیکھا؟ کمنٹس میں بتائیں! 👇

*✍️ لوگوں کی تنقید کا اثر.....!* مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو بے دھیانی میں ایک گڑھے میں جا...
31/10/2025

*✍️ لوگوں کی تنقید کا اثر.....!*

مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو بے دھیانی میں ایک گڑھے میں جا گرے۔
باہر ٹھہرے مینڈکوں نے دیکھا کہ گڑھا ان دو مینڈکوں کی استطاعت سے زیادہ گہرا ہے تو انہوں نے اوپر سے کہنا شروع کر دیا۔ ھائے افسوس، تم اس سے باہر نہ نکل پاؤ گے، کوششیں کر کے ہلکان مت ہونا، ہار مان لو اور یہیں اپنی موت کا انتظار کرو۔

ایک مینڈک کا یہ سب کچھ سن کر دل ہی ڈوب گیا، اس نے ٹوٹے دل کے ساتھ چند کوششیں تو کیں مگر اس جان لیوا صدمے کا اثر برداشت نہ کر پایا اور واقعی مر گیا۔

دوسرے کی کوششوں میں شدت تھی اور وہ جگہ بدل بدل کر، جمپ لگاتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اوپر والے مینڈک پورے زور و شور سے سیٹیاں بجا کر، آوازے کستے ہوئے، اسے منع کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ مت ہلکان ہو، موت تیرا مقدر بن چکی ہے۔ لیکن مینڈک نے اور زیادہ شدت سے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور واقعی میں باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

سارے مینڈک اس کے گرد جمع ہو گئے اور پوچھنا شروع کیا کہ وہ کیسے باہر نکلا تو سب کو یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ یہ والا مینڈک تو کانوں سے محروم اور بہرا تھا۔

مینڈک سارا وقت یہی سمجھ کر باہر نکلنے کیلیئے اپنا سارا زور لگاتا رہا تھا کہ باہر کھڑے ہوئے سارے مینڈک اس کے خیر خواہ اور دوست ہیں، جو اس کی ہمت بندھوا رہے ہیں اور جوش دلا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سارے اس کی ہمت توڑنے اور باہر نکلنے کے عزم کو ختم کرنے میں لگے ہوئے تھے۔
نتیجہ: کسی بھی تنقید پر بددل مت ہوں بلکہ اس تنقید کے نشتر کی سیڑھیاں بنا کر کامیابی کی منزل کی جانب بڑھتے رہیں.

*اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں ممکن ہے اس سے اُن کو ہدایت مل جائے* 🤍

31/10/2025
*کسی کو بے بس کرنا اور اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھنا ایک اعلیٰ درجے کا گھٹیا ترین کام ہے۔۔*
19/10/2025

*کسی کو بے بس کرنا اور اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھنا ایک اعلیٰ درجے کا گھٹیا ترین کام ہے۔۔*

*نکبہ: فلسطینیوں کی اجتماعی تباہی اور ’’چابی‘‘ کی داستان*15 مئی فلسطینی تاریخ کا وہ دن ہے جو ان کے دلوں پر کبھی نہ بھرنے...
07/10/2025

*نکبہ: فلسطینیوں کی اجتماعی تباہی اور ’’چابی‘‘ کی داستان*

15 مئی فلسطینی تاریخ کا وہ دن ہے جو ان کے دلوں پر کبھی نہ بھرنے والے زخم کی طرح نقش ہے۔ اسے نکبہ (عربی میں عظیم تباہی یا قیامتِ کبریٰ) کہا جاتا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے اعلان اور اس کے فوراً بعد ہونے والی جنگ نے ایک پوری قوم کو اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیا۔

اسرائیل بننے کے وقت تقریباً ساڑھے سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں، کھیتوں اور بستیوں سے نکالے گئے۔ یہ اس وقت کی فلسطینی آبادی کا قریب 80 فیصد تھے۔ اندازہ ہے کہ چار سو کے قریب بستیاں ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں۔ ان گھروں پر قبضہ کر لیا گیا، کھیتوں کو اجاڑ دیا گیا، اور ان کے مکین پناہ گزین کیمپوں اور اجنبی زمینوں پر جا بسے۔

چابی: یاد اور امید کا استعارہ

جب لوگ اپنے گاؤں اور گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تو بہت سے خاندان اپنے ساتھ ایک نشانی لے گئے — اپنے گھروں کی چابیاں۔ یہ چابیاں اس یقین کی علامت تھیں کہ جلاوطنی عارضی ہے اور ایک دن وہ واپس آئیں گے۔
آج تین نسلیں گزر جانے کے باوجود یہ چابیاں فلسطینی ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے اکثر زنگ آلود ہو چکی ہیں، لیکن ان کا مطلب زندہ ہے۔ یہ چابیاں ہر 15 مئی کو نکبہ کی یاد میں بلند کی جاتی ہیں تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ فلسطینی اپنے وطن کو بھولے نہیں۔

اجڑے ہوئے گاؤں اور بکھری زندگیاں

فلسطینی شاعر محمود درویش کے گاؤں البروہ کی طرح سینکڑوں بستیاں مٹا دی گئیں۔ آج ان میں سے اکثر جگہوں پر اسرائیلی بستیاں آباد ہیں یا زمین بنجر چھوڑ دی گئی ہے، مگر فلسطینی اب بھی اپنی شناخت انہی کھنڈرات سے جوڑتے ہیں۔
ان کے لیے یہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ یادداشت اور وراثت ہے۔ وہ جہاں بھی رہتے ہیں، خود کو انہی اجڑے گاؤں کا باسی کہتے ہیں جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں۔

قرارداد 194 اور حقِ واپسی

11 دسمبر 1948 کو اقوام متحدہ نے قرارداد 194 منظور کی جس میں صاف کہا گیا کہ جو پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں اجازت دی جائے اور جو نہ جانا چاہیں انہیں معاوضہ دیا جائے۔ مگر اسرائیل نے ہمیشہ اس قرارداد کو مسترد کیا۔ اسرائیلی موقف یہ ہے کہ اگر پانچ یا چھ ملین فلسطینی واپس آ گئے تو یہودی ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
یوں فلسطینیوں کے ’’حقِ واپسی‘‘ کو 75 برس گزر جانے کے باوجود تسلیم نہیں کیا گیا۔

نکبہ کی دائمی حیثیت

نکبہ فلسطینیوں کے لیے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہ واقعہ ہر فلسطینی کے خاندان کی کہانی میں زندہ ہے — کسی نے اپنا گھر کھویا، کسی نے کھیت، اور کسی نے پورا گاؤں۔
یہی وجہ ہے کہ نکبہ ان کے لیے صرف ماضی نہیں بلکہ حال بھی ہے۔ ہر پناہ گزین کیمپ، ہر احتجاج، اور ہر نسل کے ہاتھوں میں تھمی ہوئی وہ پرانی چابیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ایک دن واپسی ضرور ہوگی۔

✨ "From Makkah to Madina, every step is a prayer, every view a blessing. 🕋🌙🕌  "✨ "Two holy cities, countless blessings. ...
19/09/2025

✨ "From Makkah to Madina, every step is a prayer, every view a blessing. 🕋🌙🕌 "

✨ "Two holy cities, countless blessings. 🤍✨ "

✨ "Where hearts find peace and souls find light. 🌸🕌 "

✨ "The beauty of Islam lies in the sacred cities of Makkah & Madina. 🕋💚 "

"You are not a mistake in the universe. You are a message."Every human life carries meaning, whether seen or unseen. The...
27/05/2025

"You are not a mistake in the universe. You are a message."

Every human life carries meaning, whether seen or unseen. The world often tries to make you doubt your worth—through failure, rejection, or silence—but those moments are not evidence of your weakness. They are the soil in which inner strength grows.

To believe in yourself is not arrogance. It is alignment with your potential. You are not just a mind and a body—you are possibility. Hidden within you are dreams that the world has never seen, ideas that could change lives, and resilience that outlasts storms.

The truth is: The greatest limits we face are the ones we quietly accept.

Start speaking to yourself with the same courage and kindness you'd offer someone you love. Your belief in yourself is the foundation of every mountain you will climb, every voice you will raise, and every soul you will inspire.

No one else can live your life. That makes you essential.

Address

Raiwind
55150

Telephone

+923002530945

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Time does not remain Same posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Time does not remain Same:

Share