20/03/2025
صحیح کہا تھا کسی نے کہ پرائیویٹ سکولز کا بزنس ہوتے ہوئے بھی پتا نہیں لوگ ہیروئین کیوں بیچتے ہیں.
اب تو والدین کو بچے کا سال مکمل ہونے اور پوزیشن لینے سے بھی خوف آتا ہے، سال گزرتے ہی ایسا لگتا ہے کہ اگلی کلاس میں وہ نہیں گیا بلکہ نئے سرے سے داخلہ کروایا گیا ہے.
ہر سال سالانہ فیس،
امتحان فیس،
سٹیشنری فیس،
فنکشن فیس،
کتب، نوٹ بکس
وہ فیس اور یہ فیس، فلاں اور فلاں فیس،
اور سیشن کے درمیان میں،
کیلا، مالٹا، تربوز اور سٹابری ڈے،
نیلا، پیلا، سرخ ڈے، فلاں سوٹ پہن کر آنا اور فلاں جیکٹ، نہیں ہیں تو نیا لیں،
حتیٰ کہ سکول کی ڈیکوریشن کےلئے بھی الگ فیس اور سب جمع ہو کر اتنے ہی بن جاتے جتنے پہلی مرتبہ داخلہ کرواتے جمع کرائے تھے اور مزے کی بات ان سب کے باوجود بچے کو پڑھانا گھر ہی پڑتا ہے اور اسے آتا بھی وہی ہے جو گھر پڑھا ہوتا ہے۔۔۔ کمال ہے۔
کہاں وہ پلستر اکھڑے بغیر پنکھوں کے کمرے، ٹوٹی ہوئی کھڑکیاں، ٹاٹ اور چٹائی پر بیٹھے بچے، بوسیدہ کرسی پر پرانی طرز کے، ہاتھ میں چھڑی پکڑے استادوں نے وہ نسل پیدا کی جو آج پاکستان کے تمام بڑے عہدوں پر پراجمان ہیں اور تعلیمی اداروں سے لیکن عدالتوں، ہسپتالوں، فیکٹریز اور کاروبار کا حسن ہیں اور کہاں یہ تعلیم سے خالی لش پش کرتے سکول....
تحریر پسند آئے تو پلیز شیئر کریں۔ شکریہ