Freedom Society

Freedom Society We are a group of people seeking solutions for improving the current state of humanity | Peace☮| Love Is it possibly Freedom ? Founder & President: Mr.
(756)

We believe that is necessary to have a global perspective on things and act locally in order to repair or upgrade certain aspects affecting the way of life of our fellow humans. The main question remains: What is the most precious element in life? Freedom to chose your own path in life, Freedom to benefit from healthcare and proper Education, Freedom to live in a cleaner world, cultural appurtenance Freedom, Freedom of speech so you can hear your voice in a sea of people? Abrar-uz-Zaman

14/05/2026

SOME SOCIAL RULES THAT MAY HELP YOU:
1. Don’t call someone more than twice continuously. If they don’t pick up your call, presume they have something important to attend to;
2. Return money that you have borrowed even before the person that borrowed you remember or ask for it. It shows your integrity and character. Same goes with umbrellas, pens and lunch boxes.
3. Never order the expensive dish on the menu when someone is giving you a lunch/dinner.
4. Don’t ask awkward questions like ‘Oh so you aren’t married yet?’ Or ‘Don’t you have kids’ or ‘Why didn’t you buy a house?’ Or why don't you buy a car? For God’s sake it isn’t your problem;
5. Always open the door for the person coming behind you. It doesn’t matter if it is a guy or a girl, senior or junior. You don’t grow small by treating someone well in public;
6. If you take a taxi with a friend and he/she pays now, try paying next time;
7. Respect different shades of opinions. Remember what's 6 to you will appear 9 to someone facing you. Besides, second opinion is good for an alternative;
8. Never interrupt people talking. Allow them to pour it out. As they say, hear them all and filter them all;
9. If you tease someone, and they don’t seem to enjoy it, stop it and never do it again. It encourages one to do more and it shows how appreciative you're;
10. Say “thank you” when someone is helping you.
11. Praise publicly. Criticize privately;
12. There’s almost never a reason to comment on someone’s weight. Just say, “You look fantastic.” If they want to talk about losing weight, they will;
13. When someone shows you a photo on their phone, don’t swipe left or right. You never know what’s next;
14. If a colleague tells you they have a doctors' appointment, don’t ask what it’s for, just say "I hope you’re okay". Don’t put them in the uncomfortable position of having to tell you their personal illness. If they want you to know, they'll do so without your inquisitiveness;
15. Treat the cleaner with the same respect as the CEO. Nobody is impressed at how rude you can treat someone below you but people will notice if you treat them with respect;
16. If a person is speaking directly to you, staring at your phone is rude;
17. Never give advice until you’re asked;
18. When meeting someone after a long time, unless they want to talk about it, don’t ask them their age and salary;
19. Mind your business unless anything involves you directly - just stay out of it;
20. Remove your sunglasses if you are talking to anyone in the street. It is a sign of respect. Moreso, eye contact is as important as your speech;
21. Never talk about your riches in the midst of the poor. Similarly, don't talk about your children in the midst of the barren.
22.After reading a good message try to say "Thanks for the message".
APPRECIATION remains the easiest way of getting what you don't have

09/05/2026

چند اخلاقی اصول:-
1. کسی شخص کو مسلسل دو بار سے زیادہ کال مت کریں۔ اگر وہ آپ کی کال نہیں اٹھاتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی اور ضروری کام میں مصروف ہیں۔
2. کسی سے لی گئی ادھار رقم ان کے یاد دلانے سے پہلے ادا کردیں۔ 1 روپیہ ہو یا 1 کروڑ یہ آپ کے کردار کی پختگی دکھاتا ہے۔
3. کسی کی دعوت پر مینو پر مہنگی ڈش کا آرڈر نہ دیں۔ اگر ممکن ہو تو ان سے پوچھیں کہ آپ کے لئے کھانے کا اپنی پسند کا آرڈر دیں۔
4. مختلف سوالات کسی سے مت پوچھیں جیسے 'اوہ تو آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں ہیں' یا 'آپ کے بچے نہیں ہیں' یا 'آپ نے گھر کیوں نہیں خریدا؟' خدا کی لئے یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔
6. اگر آپ کسی دوست کے ساتھ ٹیکسی لے لیں، اور کرایہ وہ ادا کرتا ہے تو آپ اگلی بار ادا کریں۔
7. مختلف سیاسی نظریات کا احترام کریں۔
8. لوگوں کی بات نہ کاٹیں بلکہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیجئے۔
9. اگر آپ کسی کو تنگ کر رہے ہیں، اور وہ اس سے لطف اندوز نہیں ہو رہا تو رک جائیں اور دوبارہ کبھی ایسا نہ کریں۔
10. جب کوئی آپ کی مدد کرے تو آپ اس کا شکریہ ضرور ادا کریں۔
11. کسی کی تعریف کرنی ہو تو لوگوں کے سامنے کریں اور تنقید تنہائی میں کیجئے۔
12. کسی کے وزن پر کوئی تبصرہ کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ بس کہیں، "آپ اچھے نظر آتے ہیں" اگر وہ وزن کم کرنے کے بارے میں بات کرنا چاہیں تو آپ بھی کیجئے۔
13. جب کوئی آپ کو اپنے فون پر ایک تصویر دکھاتا ہے، تو بائیں یا دائیں سوائپ نہ کریں. آپ کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہے۔
14. اگر کوئی آپ کو بتائے کہ اسے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے،تو یہ نہ پوچھیں کہ کس لئے۔ بس آپ اچھی صحت کی دعا دیں۔ اگر وہ اس کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو آپ بھی کیجئے۔
15. جس طرح آپ ایک سی ای او کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں اسی طرح اپنے آفس بوائے اور چوکیدار کے ساتھ پیش آئیں۔ اپنے سے کم تر حثیت کے لوگوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ آپ کے کردار کا آئینہ دار ہے۔
16. اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ براہِ راست بات کر رہا ہے، تو آپ مسلسل اپنے موبائل فون کی طرف نہ دیکھیں۔
17. جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے مشورہ نہ دیں۔
18. کسی سے عرصے بعد ملاقات ہورہی ہو تو ان سے، عمر اور تنخواہ نہ پوچھیں جب تک وہ خود اس بارے میں بات نہ کرنا چاہیں۔
19. اپنے کام سے کام رکھیں اور کسی معاملے میں دخل نہ دیں جب تک آپ کو دعوت نہ دی جائے۔

08/05/2026

چند سال ہوئے انگلستان کے ایک مشہور ماہر تعلیم پاکستان آئے.
ہم نے انہیں ایک انگلش میڈیم سکول دکھانے کے بعد فخر سے ان کی رائے پوچھی جو سننے کے قابل ہے.
کہنے لگے: "بھئی آپ کی ہمّت قابل داد ہے جو اپنے بچوں کو ایک غیر ملکی زبان میں تعلیم دے رہے ہیں. اگر میں انگلستان میں انگریز بچوں کو اردو کے ذریعے تعلیم دینے کی سفارش کر دوں تو مجھے یقیناً اگلی رات کسی ہسپتال میں کاٹنی پڑے. آپ واقعی بہادر ہیں".
(کرنل محمد خان کی کتاب "بزم آرائیاں" سے اقتباس)

یکم مئی کا تاریخی پسِ منظر
01/05/2026

یکم مئی کا تاریخی پسِ منظر

29/04/2026

میری کلاس میں ایک لڑکی شازیہ(فرضی نام)پڑھتی ھے وہ ایک فری پریڈ میں میرے پاس آئی اور کہنے لگئی میم مجھے آپ کے دو منٹ مل سکتے ہیں؟
تو میں نے کہا کیوں نہیں بولیں آپ کیا کہنا چاہتی ہیں میں سمجھی کہ کوئی تعلیم مدد لینے ھو گئی اکثر لڑکیاں فری پریڈ میں ایسے آ جاتی ہیں
تو اس نے کہا میم آپ آپنے پرانے کپڑے کس کو دیتی ہیں میں اس کی بات سے حیران رہ گئی کہ یہ کیسا سوال ھے -
میں نے پوچھا کہ کیوں آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟
تو اس نے بتایا کہ میم میں بہت غریب گھرانے سے ھوں میرے ساتھ پڑھنے والی لڑکیاں بہت زیادہ امیر ہیں اور وہ روز میری پرانے کپڑوں کا مذاق اڑاتی ہیں میں آپنے گھر سے تعلیم کا خرچا بہت مشکل سے لے رہی ھوں نئے کپڑے کہاں سے لو آپ کی جلدی شادی ھونے والی ھے آپ نے پرانے کپڑے کسی کو تو دینے ہیں مجھے دے دیں - اس کی بات سن کر پہلی بار میں نے اس کے کپڑے دیکھے جو واقعے ہی پرانے ھو گے تھے لیکن سلیقے سے استری کر کے پہنے ھوئے تھے
مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ھے کہ ہم کسی کی ذات پر بات کرتے ھوئے ایک منٹ بھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں کیا حق پہنچتا ھے کسی کو کمتر کہنے کا یا کسی کے ذاتی معاملے میں ٹانگ آڑانے کا اگر کوئی امیر ھے اور اللہ کا دیا اس کے پاس سب کچھ ھے تو کیا ہمیں یہ حق مل گیا ھے کہ ہم جس کی چاہیں بےعزتی کر دیں کوئی خوف خدا نہیں ھے پلیز اس بات پر سوچیں ایک دن ہم نے بھی اللہ کو منہ دیکھانا ھے جب یہ دکھی دل اللہ کو آپنی پریشانیاں بتائیں گے اور رو رو کر کہیں گے کہ اے اللہ تو نے انھیں دولت دی تھی اور ہمیں نہیں ہمارا کیا قصور تھا تو آپ کو اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا !!
پلیز سوچیں اور لوگوں کے ذاتی معاملات میں دخل دینے سے گریز کریں
کیا پتہ وہ کس حالت میں زندگئی گزار رہے ہوں۔

29/04/2026

ايک چھوٹا سا لڑكا دوكان ميں داخل ہوكر كونے ميں لگے ٹيليفون كيبن كی طرف بڑھا۔
ٹيليفون ميں سكے ڈالنا تو اُس كيلئے ايک اچھا خاصا مسئلہ تھا ہی، بات كرنے كيلئے تو اُسے باقاعده سٹول پر كھڑا ہی ہونا پڑا۔
دوكاندار كيلئے يہ منظر كافی متعجب کن تھا، اُس سے رہا نہ گيا اور لڑكے كی گفتگو سننے كيلئے اس نے اپنے كان اُدھر لگا ديئے۔
لڑكا کسی عورت سے مخاطب تھا اور اس سے کہہ رہا تھا: “ميڈم، آپ مجھے اپنے باغيچے كی صفائی ستھاائی اور ديكھ بھال كيلئے ملازم ركھ لیجئے”.
جبکہ عورت كا جواب تھاكہ”فی الحال تو اُس كے پاس اس كام كيلئے ايک ملازم ہے”.
لڑكے نے اِصرار كرتے ہوئے اُس عورت سے كہا كہ “ميڈم! ميں آپكا كام آپكے موجوده ملازم سے آدھی اُجرت پر كرنے كيلئے تيار ہوں”۔
اُس عورت نے جواب دیا كہ وه اپنے ملازم سے بالكل راضی ہے اور كسی قيمت پر بھی اُسے تبديل نہيں كرنا چاہتی”۔
اب لڑكا باقاعده التجاء پر ہی اُتر آيا اور عاجزی سے بولا كہ: “ميڈم، ميں باغيچے كے كام كے علاوہ آپکے گھر كے سامنے والے گزرگاہ اور فٹ پاتھ كی بھی صفائی کرونگا اور آپكے باغيچے كو فلوريڈا پام بيچ كا سب سے خوبصورت باغيچہ بنا دونگا”.
اور اِس بار بھی اُس عورت كا جواب نفی ميں تھا۔ لڑكے كے چہرے پر ايک مسكراہٹ آئی اور اُس نے فون بند كر ديا۔
دوكاندار جو يہ ساری گفتگو سن رہا تھا اُس سے رہا نہ گیا اور وہ لڑكے كی طرف بڑھا اور اُس سے كہا: ميں تمہارى اعلٰی ہمتی کی داد ديتاہوں، اور تمہاری لگن، مثبت سوچوں اور اُمنگوں كا احترام كرتا ہوں، ميں چاہتا ہوں كہ تم ميری اس دوكان پر كام كرو”
لڑكے نے دوكاندار كو كہا:”آپ كی پیشکش كا بہت شكريہ ، مگر مجھے كام نہيں چاہيئے، ميں تو صرف اِس بات كی تصديق كرنا چاہ رہا تھا كہ ميں آجكل جو كام كر رہا ہوں كيا اُس كا معيار قابلِ قبول بھی ہے يا نہيں؟
اور ميں اِسی عورت كے پاس ہی ملازم ہوں جِس كے ساتھ ميں ٹيليفون پر گفتگو كر رہا تھا”
اگر آپ كو اپنے كام كے معيار پر بھروسہ ہے تو پھر اُٹھائيے ٹيليفون اور پركھيئے اپنے آپ كو!

قدیم عربی حکایت کا اردو ترجمہ..کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی، بادشاہ کے حکم کی تعمی...
29/04/2026

قدیم عربی حکایت کا اردو ترجمہ..
کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی، بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا، چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے ایک
■ایک عالم
■ ایک وکیل
■ اور ایک فلسفی
تھا. سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا، بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا. اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا، یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا.
اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے. یہاں بھی انصاف ہوگا. اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا، پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی.
اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا عالم کو تو نہ ہی خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا، فلسفی کی بات سن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین سر کچل کر رکھ دیا.
حکایت کا نتیجہ..
بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے۔

27/04/2026

عادتیں_نسلوں_کا_پتہ_دیتی_ہیں
✍️ اگر آپ کسی ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے عام طور پر گھر پر چائے پینے کی نسبت زیادہا چینی ڈالتے ہیں یا ضرورت سے زائد کھانا ڈالتے ہیں تو آپ کے بد عنوان ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔
✍️ اگر آپ پبلک واش روم میں گھر کی نسبت زیادہ ٹشو پیپر استعمال کرتے ہیں تو آپ کے اندر ایک چور چھپا بیٹھا ہے کہ اگر آپ کو کوئی موقع مل گیا تو آپ ضرور چوری کریں گے۔
✍️ اگر آپ اپنی پلیٹ میں بھوک سے زیادہ کھانا محض اس لیے ڈالتے ہیں کہ اس کا بل کسی دوسرے جیب سے جارہا ہے تو آپ فطرتاً لالچی ہیں۔
✍️ اگر عام طور پر آپ قطار کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اگر آپ کوئی طاقتور عہدہ دیا جائے تو اس بات کا پورا امکان ھے کہ آپ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔
✍️ اگر عام طور پر ٹریفک جام میں آپ قطار توڑ کر دوسری گاڑیوں کے اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں تو جب آپ کو کبھی سرکاری پیسے کا رکھوالا بنایا جائے تو اس بات کا پورا امکان ھے کہ آپ اس میں غبن کے مرتکب ہوں گے کیونکہ آپ کو قوانین و ضوابط پر عمل سے نفرت ھے۔
✍️اگر آپ اپنے گھر کے گندے پانی کا بہتر انتظام کرنے کی بجائے رخ دوسرے کے گھر کی طرف کر دیتے ہیں یا گھر کا کوڑا گلی میں ڈال دیتے ہیں تو آپ کو معاشرتی آداب معلوم نہیں۔
✍️ اگر آپ گھر اور آفس کی فالتو لائٹس بند کرنے کے عادی نہیں ہیں تو موقع ملنے پر آپ ملکی اور قومی وسائل کو بے دریغ ضائع کرنے کا ارتکاب کریں گے۔
✍️ اگر آپ طالب علم ہیں اور امتحان کی تیاری صرف امتحان سر پر آنے پر کرتے ہیں تو آپ بددیانت، کاہل اور کام چور ہیں
✍️ اگر آپ کا زیادہ وقت کہانیاں پڑھنے، فلمیں اور ڈرامے دیکھنے میں گزرتا ھے تو آپ خیالوں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والے، بےعمل اور نکمّے انسان ہیں
⁦✍️⁩ اگر آپ لوگوں کی خامیاں تلاش کرتے ہیں اور اچھائیوں کو نظرانداز کرتے ہیں تو آپ فطرتاً ایک نِیچ انسان ہیں جو دوسروں کو نیچا دکھا کر خوش ہوتے ہیں
✍️ اگر آپ حیران ہیں کہ اس پوسٹ کو زیر بحث لانے کی کیا ضرورت ھے تو آپ بد دیانت ہیں۔آپ اپنے فائدے کی غرض سے بڑی آسانی سے معاشرے میں خرابیاں پیدا کریں گے۔
اور اگر آپ اچھی پوسٹ پڑھ کر بھی آگے شئر نہیں کرتے تو آپ انتہائی کنجوس ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی اور بھی کا بھلا ہو
آئیے جہاں بھی ہمیں موقع ملے ہم خود باکردار انسان بننے کی کوشش کریں۔یہ زندگی عطیۂ خداوندی ہے اور قوم کی امانت ھے۔ اس میں خیانت ہرگز نہ کریں!

25/04/2026

(1) ایک محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کررہی ہے حالانکہ پچھلی سیٹیں خالی ہیں!
(2) ایک شخص مسجد کے آگے سے گُزر رہاہے ، جب کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اور وہ نماز ادا کیے بغیر آگے گُزر جاتا ہے!
(3) آپ ایک آدمی کے پاس سے گُزرتے ہیں اور اسے سلام کرتے ہیں مگر وہ جواب نہیں دیتا!
(1) محترمہ، ٹیکسی چلانے والے کی اہلیہ ہیں۔
(2) اس آدمی نے دوسری مسجد میں نماز پڑھ لی ہے۔
(3) اس شخص نے آپ کے سلام کی آواز سُنی ہی نہیں ہے۔
* ایک بُزُرگ فرماتے ہیں کہ اگر میں کسی بھائی کو اس حال میں دیکھوں کہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے ہیں تو میں یہی حُسنِ ظن رکھوں گا کہ کسی اور نے اس کی داڑھی کے اُوپر شراب اُنڈیلی ہے۔۔۔
اور اگر کسی بھائی کو پہاڑ کی چوٹی پر یہ پُکارتے ہوئے سُنوں: "انا ربکم الاعلی"(میں تمہارا عظیم ترین رب ہوں)... تو میں یہی گُمان کروں گا کہ وہ قرآن کی تلاوّت کر رہا ہے۔
* ابنُ القیم رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے خود اپنے اعمال کی نیّتوں کو جاننا مُشکل ہے اور وہ دوسروں کی نیّتوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتا پھرتا ہے
* اکثر دفعہ آپ معاملے کے صرف ایک رُخ کو دیکھتے ہیں لہٰذا دوسرے رُخ کو آپ مُثبت طرح سے لیں. تاکہ لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی حق تلفّی نہ ہو۔
* دوسروں سے متعلق ہمیشہ نیک گُمان رکھیں۔

23/04/2026

*
میری نئی نئی شادی ہوئی تھی میں بہت خوش تھا ۔۔۔۔اللہ نے ویسی ہی ہمسفر عطا کی تھی جیسںی چاہتا تھا۔۔۔۔پیاری سی ۔۔۔دوستانہ سی۔۔۔۔سمجھنے والی ۔۔کیئر کرنے والی ۔۔ماڈرن ۔۔۔۔۔۔۔
ہم۔دو بھائی ہیں بڑا بھائی اپنی فیملی کے ساتھ الگ رہتا یے۔۔۔اور امی میرے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔
بابا دو سال پہلے دنیا سے چل بسے تھے۔۔۔۔۔
اب میری فیملی میں ہم۔3 لوگ تھے۔۔میں میری بیوی اور امی۔۔۔
میرا سارا وقت بیوی کے ساتھ گزرتا۔۔۔۔۔
آفس جاتا تو ۔۔وہاں سے بھی فون کرتا اپنی بیوی کو ۔۔۔
حال پوچھتا ۔۔۔۔نیا سفر تھا ہمسفر کے بنا اداس ہو جاتا تھا ۔۔۔۔صبح جب آفس جاتا تو امی اپنے کمرے میں بیٹھی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔
رات کو آتا تو امی کو سلام کر کے سیدھا اپنے کمرے میں سجدے کے پاس چلا جاتا۔۔سجدے میری بیوی کا نام ہے۔۔۔۔
میرے صبح شام ایسے ہی گزرنے لگے۔۔۔۔۔۔
امی سے ملنا امی کے پاس بیٹھنے کاوقت ہی کہاں ملا کرتا تھا۔۔۔میں کھانا بھی اپنے کمرے میں کھایا کرتا تھا ۔۔
ایک دن امی مجھے کہنے لگی ۔۔۔۔اوئے میرے جھلے پتر ۔۔اپنی ماں کا حال بھی پوچھ لیا کر۔۔۔ہفتہ ہفتہ مجھ سے بات بھی نہیں کرتا توں۔۔۔۔۔میں ہلکا سا مسکرایا امی آپ کو تو پتہ ہی ہے ۔۔آفس میں بہت کام ہوتا ہے کیسے آتا یوں تھک جاتا ہوں بہت ۔۔۔
امی نے سر پی ہاتھ پھیرا دعا دینے لگی ۔۔اچھا اللہ میرے پتر کو سرد ہوا نہ لگنے دے۔۔۔
جا اب سو جا ۔جا کر سجدے بیچاری انتظار کر رہی ہو گی تمہارا۔۔۔۔۔۔
میں کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
امی کے گھٹنے میں بہت درد تھا اس دن شاید وہ کہنا چاہتی تھیں مجھے ڈاکٹر پاس لے جاو ۔۔۔۔لیکن جب میں نے کہا ۔۔۔میں تھک گیا ہوں تو۔۔۔امی نے مجھے آرام کرنے کا کہا۔۔۔۔۔
سجدے کہنے لگی۔۔۔۔یار دل کر رہا ہے برگر کھانے کو۔۔۔۔۔جاو نا لا دو ۔۔۔۔۔
میں نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔یار جان ٹائم دیکھ 10 بج رہے ہیں ۔۔۔سجدے مسکرا کر بولی ۔۔۔۔تو کیا ہوا جاو لے کر آو میں جب کمرے سے باہر آیا تو۔۔۔دیکھا امی خود ہی اپنی گھٹنہ دبا رہی تھیں ۔۔۔شاید ان کو بہت درد تھا۔۔۔میں اگنور کر کے بائیک اسٹارٹ کی ۔۔۔امی نے پوچھا کہاں جا رہے ہو اس ٹائم میرے بچے۔۔۔۔
میں بولا امی وہ سجدے کے سر میں درد ہے اس نے کھانا نہیں کھایا بس اس کے لیئے برگر لانے جا رہا ہوں ۔۔۔۔
امی نے ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔۔تو اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتا نا۔۔۔۔جب میں جانے لگا تو امی نے کہا اچھا میرے گھٹنے میں درد ہے آتے ہو لئے کوئی دوا لیتے انا۔۔۔۔
میں بازار چلا گیا۔۔۔۔برگر کی دکان پہ کافی رش تھا۔۔۔۔وہاں ایک دوست مل گیا اس کے ساتھ گپ شپ کرنے لگا۔۔۔۔اتنے میں برگر تیار ہو گیا۔۔۔۔برگر لے کر گھر آ گیا۔۔۔۔
امی نے لنگڑاتے ہوئے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔
میں نے بائیک کھڑی کی کمرے میں جانے لگا تو امی نے پوچھا بیٹا میری دوا نہیں لایا۔۔۔۔
میں نے سر پہ ہاتھ رکھا اف امی بھول گیا تھا۔۔۔۔ابھی لے آتا ہوں ۔۔۔۔امی مسکرائی۔۔نہیں بچے تم۔آرام کرو کل لے انا۔۔۔۔
سجدے برگر کھانے لگی میں موبائل پہ گیم کھیلنے لگا۔۔۔۔۔
امی شاید اس رات درد سے تڑپتی رہی ۔۔۔لیکن میں بے خبر رہا۔۔۔
دن گزرنے لگے۔۔۔میں امی سے دور ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔ہفتے میں ایک بار کبھی امی کا حال پوچھ لینا۔۔۔۔ورنہ امی کے کمرے میں کب جاتا تھا میں ۔۔۔
اور بڑا بھائی وہ تو امی سے ملنے بھی نہیں آتا تھا۔۔۔۔
جبکہ گھر بلکل پاس تھا بھائی کا بھی۔۔۔۔
وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش تھا۔۔۔۔اکثر امی مجھ سے پوچھا کرتی تھی ۔۔۔وقاص ۔پتر تیرے بھائی کا کیا حال ہے۔۔۔وہ بیچارہ پتہ نہیں کن مصیبتوں میں پڑا ہوا ہے۔۔۔۔
امی افسردہ لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔کل۔دیکھا تھا اسے۔۔۔اس کی داڑھی بڑی ہوئی۔۔۔بال۔بکھرے ہوئے۔۔۔۔وقاص پتر اہنے بھائی سے پوچھنا سب خیر ہے نا۔۔۔۔
امی تڑپنے لگئ۔۔۔اللہ میرے بچوں کی مشکلیں آسان فرما۔۔۔۔
میں نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا ۔۔۔امی اس کو آپ کی تو پرواہ ہے نہیں آپ بس اس کے گیت گاتی رہتی ہو۔۔۔
ماں مسکرائی۔۔۔۔ہائے ۔۔میرے بچے بہت سیدھا سادہ سا ہے وہ ۔۔بس فکر کرتی ہوں اس کی۔۔۔۔وہ خود پریشان ہو گا اسلیئے نہیں آتا ہو گا میرے پاس۔۔۔۔
میں غصے سے بولا پریشان نہیں ہے اپنے سالے کو نئی بائیک لے کر دی ہے اس نے ڈیڑھ لاکھ کی پریشان کہاں سے۔۔۔۔ماں چپ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں محسوس تو نہیں کر پایا ۔۔۔لیکن امی ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
خیر ۔۔دن گزرتے گئے۔۔۔۔جس کمپنی میں میری جاب تھی انھوں نے مجھے دوسرے شہر بیجھنے کا پلان بنایا۔۔۔مجھے وہاں نیا گھر دیا۔۔۔۔
میں بہت خوش تھا ۔۔۔سجدے کو بتایا ۔۔۔سجدے خوشی سے جھومنے لگی۔۔۔۔امی آہستہ سے چلتے ہوئے ہمارے پاس آئی ۔۔۔۔پوچھنے لگئ۔۔۔کیا ہوا شور کس بات کا ہے۔۔۔۔
میں مسکرا کر بولا امی کپمنی کی طرف سے مجھے گھر ملا ہے گاڑی بھی دیں گے.۔۔دوسرے شہر میں۔۔۔5 دن بعد ہم۔کو جانا ہے۔۔۔ماں مسکرانے لگی۔۔اچھا پتر اللہ خیر کرے گا۔۔۔
امی آہستہ سے بولی سجدے میری بچی میرے بھی کپڑے پیک کر دینا۔۔۔۔
میں امی کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔امی آپ نہیں جا رہی ساتھ ۔۔ابھی صرف میں اور سجدے جا رہے ہیں ۔۔۔بعد میں آپ کو بلوا لیں گے۔۔۔آپ تب تک بھائی کے پاس رہیں ۔۔۔۔۔
امی کے چہرے پہ ایک اداسی چھا گئی۔۔۔اچھا پتر کوئی بات نہیں ۔۔۔مجھے فیر اپنے بھائی کے گھر چھوڑ آ ۔۔۔۔
میں کب محسوس کر پایا تھا امی کا کانپتا جسم۔۔تڑپتا دل اور بے بس لہجہ۔۔۔۔
میں امی کو بولا اچھا شام کو چھوڑ آوں گا۔۔۔۔
امی نے اس دن کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔
امی شاید بہت روئی تھی۔۔۔۔۔
شام کو بھائی کے گھر گیا۔۔۔۔امی بھی ساتھ تھی۔۔۔۔سلام کیا ۔۔۔۔بھائی کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔۔۔بھائی ہم کو دیکھ کر ۔۔۔تھوڑا سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔
کہنے لگا کھانا کھا لو ۔۔۔۔میں نے شکریہ کا بولا۔۔۔۔
پھر بھائی کی طرف دیکھ کر بتایا۔۔۔بھائی امی آج سے آپ کے پاس رہیں گی۔۔۔۔
بھائی چپ رہا ۔۔۔۔۔پھر بولا۔۔۔۔کیوں بھئی۔۔۔تم تھک گئے ہو کیا۔۔۔۔
میں پیار سے بولا ۔۔نہیں بھائی اصل میں مجھے جاب کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑ گیا ہے۔۔۔۔
کچھ مہینے بعد میں لے جاوں گا امی کو۔۔۔۔۔
بھائی امی کی طرف دیکھ کر۔۔طنز کرنے لگا۔۔۔ہاں ہاں اب مجھ پہ بوجھ ڈال جا ۔ ۔میں تو خود بہت تنگ ہوں ۔۔۔بھئی توں لے جا/ساتھ ہی۔۔۔۔بھابھی بھی غصے سے بولی کیوں تیری بیوی نہیں سنبھال سکتی ۔۔۔ہم تو خود دو وقت کی روٹی سے تنگ ہیں۔۔۔۔میں بھائی سے کہنے لگا۔۔۔بھائی میں امی کے لیئے خرچہ بیجھ دیا کروں گا ۔۔۔
بھائی غصے سے بولا ۔۔۔ہاں مجھے تو نکال دیا تھا ۔۔۔گھر تم نے اہنے نام کروا لیا ۔۔۔اب بھاگ رہا ہے مطلب نکل گیا تو۔۔۔امی کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔۔۔مسکرانے لگی۔۔۔میرے بچو ۔۔۔کیوں جھگڑتے ہو میری وجہ سے۔۔۔ایسا کرو۔۔۔مجھے اولڈ ہوم سینٹر چھوڑ آو۔۔۔۔میری باقی ہے ہی کتنی عمر۔۔۔تھوڑا سا سفر رہ گیا ہے میرا۔۔۔امی اٹھ کر جانے لگی۔۔۔اچانک امی زمیں پہ گر گئی بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔۔۔
ہم جلدی سے امی کو ہسپتال لے گئے۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے معائنہ کیا ۔۔۔بتایا۔ان کو یہ دوسرا ہارٹ اٹیک آیا ہے.۔کیا کوئی پریشانی ہے گھر میں کچھ ٹینشن لی ہے انھوں نے۔۔۔۔میں نظر چرا کر بولا ڈاکٹر صاحب بس گھر میں چھوٹی موٹی باتیں ہوتی ہی رہتی۔۔۔
امی بے ہوش پڑی تھی۔۔۔۔۔
میں بھی پاس کھڑا تھا ۔۔۔جب امی کو ہوش آیا تو امی سے کچھ بولا نہ جا رہا تھا شاید فالج کا اٹیک بھی ہوا تھا۔۔۔۔امی جیسے سب سے بے خبر ہو گئی تھی۔۔۔۔
امی نے کھانا پینا سب چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
ایک ہسپتال سے انکار ہوا دوسرے ہسپتال لے گئے علاج کے لئئے۔۔۔لیکن ڈاکٹرز جواب دے دہتے۔۔۔امی پہ کوئی دوا اثر نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔
میں بہت پریشان ہو گیا۔۔۔بھائی بھی پاس کھڑا تھا۔۔۔امی کی حالت دیکھ کر دل تڑپنے لگا تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر نے کہا ان کو گھر لے جائیں ان کی خدمت کریں ۔۔۔۔
امی کو گھر لے گئے۔۔۔امی بلکل خاموش ہو گئی تھیں ۔۔۔جیسے بستر مرگ پہ تھیں۔۔۔
نہ کچھ کھاتی تھیں نہ کسی سے کوئی بات کرتی تھیں ۔۔۔
ایک دن مجھے ایک دوست نے بتایا ۔۔ایک بابا مرشد ہیں ان کو بتاو اپنی پریشانی شاید تمہاری ماں وہاں سے ٹھیک ہو جائے۔۔۔
میں بابا مرشد کے پاس پہنچا ایک بزرگ سفید داڑھی رکھی ہوئی میرے چہرے کی طرف دیکھ کر بولے۔۔۔۔
آ بیٹا ادھر میرے پاس بیٹھ ۔۔۔۔میں پریشانی میں بولا ۔۔بابا جی میری امی بیمار ہے۔۔۔ان کا بہت علاج کروایا ہے۔۔۔کوئی دوا اثر ہی نہیں کرتی ان پہ۔۔۔
ہر بڑے ڈاکٹر کو دکھایا ہے ۔۔امی نہ کچھ کھاتی ہے نہ کچھ بولتی ہے۔۔۔۔
بابا مرشد مسکرائے۔۔۔۔بیٹا یہ تو بہت چھوٹا مسلئہ ہے۔۔۔۔
ماں کو کون سنبھالتا ہے۔۔۔میں آہستہ سے بولا ۔۔میری بیوی ہی دوا وغیرہ دیتی ہے۔۔۔۔
بابا مرشد بولے جا بازار سے ایک کھیر کا ڈبہ لے کر آ ۔۔۔
میں حیران ہوا.۔۔۔میں کھیر کا ڈبہ لے آیا ۔۔۔۔
بابا مرشد نے اس ڈبے پہ ایک دو پھونک ماری ایک بوتل میں پانی بھرا اس پہ بھی پھونک ماری۔۔۔۔۔
کہنے لگے ۔۔گھر جا کر سب سے پہلے امی کے پاس بیٹھنا ۔۔ان سے کہنا ۔۔امی آپ پریشان نہ ہوں آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔۔کھیر بنا کر اپنے ہاتھوں سے کھلانا اور یہ دم کیا ہوا پانی اپنے بھائی سے کہنا وہ پلائے اہنے ہاتھ سے امی کو۔۔۔
یاد رہے۔ کھیر تم۔نے کھلانی ہے اور پانی بھائی پلائے گا ۔۔اور کل آ کر مجھے ضرور بتانا۔۔۔۔
میں گھر آیا۔۔۔سجدے سے کہا کھیر بنا دو جلدی سے۔۔۔۔
امی سوئی ہوئی تھی۔۔۔میں پاس گیا ۔۔۔آہستہ سے امی کو آواز دی ۔۔۔۔
امی جان ۔۔۔امی نے آنکھ کھولی ۔۔۔میں نے سر پہ ہاتھ رکھا ۔امی کو سہارا دے کر بٹھایا۔۔۔
امی کا ہاتھ تھاما ۔۔پیار سے بولا امی جان ۔۔آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔۔
میں آج آپ کو اہنے ہاتھ سے کھانا کھلاوں گا۔۔۔۔
سجدے کھیر بنا کے لائی۔۔۔
بھائی پاس بیٹھے تھے۔۔۔
میں اپنے ہاتھ سے امی کو کھلانے لگا۔۔۔
امی نے آج کھانے سے انکار بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ایک پلیٹ ختم ہوئئ پانی مانگا بھائی نے پانی کا گلاس امی کے منہ سے لگایا ۔۔۔میں حیران تھا امی نے سارا پانی کا گلاس پی لیا۔۔۔
میں نے پوچھا امی اور کھانی ہے۔۔امی نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔امی نے اس دن دو پلیٹ کھیر کھا لی۔۔۔۔
میرے دل کو ایک سکون سا محسوس ہونے لگا۔۔۔امی کا ہاتھ حرکت کرتا تھا ۔۔امی نے وہ ہاتھ میرے سر پہ رکھا۔۔۔۔
میں بہت رویا ۔۔بابا مرشد بہت پہنچے ہوئے ہین۔۔جب ڈاکٹرز نے لا علاج بتا دیا۔۔۔بابا مرشد کے ایک دم سے امی کھانے پینے لگی۔۔۔۔
دوسرے دن میں مٹھائی کا ڈبہ لیئے۔۔بابا جی کے پاس گیا۔۔۔۔بابا جی میرے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گئے تھے۔۔۔
میں سلام کیا بڑے ادب سے بولا۔۔بابا جی آج یہ اور کھیر لایا ہوں یہ بھی دم کر دیں امی نے پہلے والی ساری کھیر کھا لی تھی ۔۔۔
بابا جی بولے تم۔نے اپنے ہاتھوں سے کھلائی تھی نا میں نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
بابا جی نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔ایک لمبی سانس لی بولے پتر ۔۔۔سچ بتاوں تو نہ پانی پہ میں نے کچھ پڑھ کر پھونک ماری تھی نہ کھیر پہ۔۔۔۔
بیٹا جب تم۔نے بتایا تھا نا امی اتنی بیمار ہے اور دوا تمہاری بیوی دیتی ہے میں سمجھ گیا تھا ۔۔۔
ماں کو اپنے بیٹوں کی محبت چاہیے تھی۔۔
ماں کب پورا سنسار مانگتی ہے۔۔۔جب اس کا بیٹا مسکرا کر ماں سے پوچھتا ہے نا امی ۔۔آپ کیسی ہیں .خدا کی قسم ماں جتنی بھی بیمار ہو تندرست ہو جاتی ہے۔۔
بیٹا ماں دوا سے کبھی ٹھیک نہیں ہوتی۔۔۔۔اولاد کے محبت بھرے چند الفاظ ہی ماں کی شفا بن جاتے ہیں ۔۔۔بیٹا کاش تم۔پہلے ہی ایک بار ماں کو اپنے ہاتھ سے دوا دیتے یا کھانا کھلاتے تو تمہاری ماں بیمار ہوتی ہی نا ۔۔۔
بیٹا ایک بات پوچھوں ۔۔کیا تم۔دو بھائیوں پہ وہ ماں بوجھ بن گئی جس کے آنچل تلے تم پروان چڑھے۔۔۔۔
میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔بابا مرشد میں بھٹک گیا تھا۔۔۔میں امی جان کا درد محسوس ہی نہیں کر پایا۔۔۔
بابا مرشد مسکرائے۔۔۔بیٹا مائیں اولاد سے ناراض نہیں ہوا کرتیں بس۔۔۔جینا چھوڑ دیتی ہیں ۔۔جا اپنی جنت کو جا کر سینے سے لگا لے۔۔۔ان سے پوچھ ماں کا مقام ۔۔جن کی مائیں قبروں میں جا سوئی ہیں ۔۔۔ماں کے بنا دنیا ایک قبرستان ہے۔۔۔۔بیٹا ماں کو دوا کی نہیں تمہاری ضرورت ہے۔۔
میں تڑپ اٹھا ۔۔۔۔مجھے آفس سے کال آئی آپ کب جا رہے ہیں دوسرے شہر ۔۔میں نے انکار کر دیا۔۔مجھے اب امی کے ساتھ رہنا تھا۔۔۔
میں اور بھائی امی کے ساتھ رہنے لگے۔۔دو سال گزر گئے تھے ۔۔امی اب بلکل ٹھیک ہیں۔۔ہم۔بہت خوش ہیں نیا گھر بھی بنا لیا۔۔۔
اپنے ماں باپ۔کی قدر کریں ۔۔۔وہ کب اولاد سے پورا جہاں مانگتے ہیں ۔۔۔وہ تو بس محبت و احساس کے طلبگار ہوتے ہیں۔۔۔اگر کوئی اپنے ماں باپ سے ناراض ہے تو خدارا جائیں اور راضی کر لیں ان کو۔۔خدا کی قسم ماں کو سینے لگا کر تو دیکھیں آپ کی دنیا بدل جائے گی۔۔ہر دکھ ۔۔خوشیوں میں بدل جائے گا۔۔خدا کرے کسی کے دل میں اتر جائے یہ ماں کی محبت
از قلم ۔۔۔
تحریر۔۔ماں باپ دوا سے نہیں ٹھیک ہوتے۔۔۔

20/04/2026

‏اگر آپ کے الفاظ بھی کسی کو سکون پہنچا سکیں تو ان الفاظ کو خرچ کیجیے
یقین کیجیےلوگ بہت پریشان اورمشکلات کاشکار ہیں
آپ کےدو میٹھے الفاظ بھی کسی صحرا میں بارش کی طرح ثابت ہوسکتے ہیں
کسی کا یقین کسی کی استقامت ہمت حوصلہ کاباعث ہوسکتےہیں
دنیا میں ہر طرف دکھ اورغم پھیلا ہے۔😢

Address

Rahimyar Khan
64200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Freedom Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Freedom Society:

Share