15/04/2026
*پاکستان میں بجٹ شفافیت: بہتری کے باوجود کئی چیلنجز برقرار*
مستونگ (سراوان پریس کلب): سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (CPDI) اور سی این بی اے (Citizens Network for Budget Accountability) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ پاکستان میں بجٹ شفافیت کے حوالے سے مستونگ سراوان پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے میر بہرام لہڑی (نمائندہ آئیز آرگنائزیشن) اور ماسٹر ٹرینر وسیم باری نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ سی پی ڈی آئی اور سی این بی اے کی رپورٹ 2025 کے مطابق پاکستان میں بجٹ شفافیت میں بہتری ضرور آئی ہے، تاہم اب بھی کئی اہم خامیاں اور چیلنجز موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بجٹ سازی کے عمل میں شفافیت، عوامی شرکت اور احتساب کے پہلوؤں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بجٹ سے متعلق معلومات تک بروقت اور آسان رسائی حاصل نہیں، جبکہ بجٹ دستاویزات کو عام فہم بنانے اور عوامی رائے کو شامل کرنے کے حوالے سے بھی سنجیدہ اقدامات کی کمی ہے۔ اس صورتحال کے باعث عوام اور پالیسی سازوں کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ اگرچہ کچھ صوبوں میں شفافیت کے حوالے سے پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مجموعی طور پر نظام میں بہتری لانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ خاص طور پر بجٹ کی تیاری، منظوری اور عملدرآمد کے مراحل میں عوامی نگرانی اور شمولیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ کے عمل کو مزید شفاف، قابلِ رسائی اور عوام دوست بنایا جائے، تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور حکمرانی کے نظام میں بہتری آئے۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سول سوسائٹی، سی پی ڈی آئی اور سی این بی اے شفافیت، احتساب اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے