Balochistan Social Forum

Balochistan Social Forum انسانیت کی خدمت ہمارے نصب العین ہے

بلندی اور پستی کا یہ فتنہ قائم رہا تو آدمیت اپنا ہی گوشت نوچ نوچ کر کھا جاے گی_"
23/11/2025

بلندی اور پستی کا یہ فتنہ قائم رہا تو آدمیت اپنا ہی گوشت نوچ نوچ کر کھا جاے گی_"

" انسان کے روپ میں ایک فرشتہ "۔جی ہاں میں بات کررہا ہوں ایک ایسی شخص کی ایک ایسی شخصیت کی  جو اندھیروں میں دیا جلاکر دوس...
16/11/2025

" انسان کے روپ میں ایک فرشتہ "۔

جی ہاں میں بات کررہا ہوں ایک ایسی شخص کی ایک ایسی شخصیت کی جو اندھیروں میں دیا جلاکر دوسروں کی خاطر رائے روشن کر رہا ہے جو بناہ رنگ و نسل قوم و مذہب کے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے اور پھر صرف یہ کہتا ہے کہ یہ میرا کوئی احسان نہیں آپ لوگوں پر بلکہ یہ میرا فرض ہے جو میں کر رہا ہوں ۔یہ ہر انسان پر فرض ہے کہ انسانیت کی خدمت کرے اور یہ اب یہ شخص ہر ایک انسان کی دل کی دھڑکنوں میں ہے ہر ایک غریب و لاچار بیوس اور مسکینوں کے ہونٹوں پر بس ایک ہی جملہ کہ " کامریڈ یونس زہری انسان کے روپ میں ایک فرشتہ ہے" بلوچستان کے لوگوں کے کیلئے ۔

جس دن اس عظیم انسان سے بات ہوئی کہ ایک کینسر کی مریضہ کی علاج کیلئے بلوچستان سیکرٹریٹ سے ایک لیٹر لانا جو کم از کم 80 لاکھ روپے کی ہو جو کہ اس مریضہ کی علاج کیلئے ضرورت ہے تو محترم نے اپنا ایڈریس بتایا کہ اس ٹائم آپ کو مجھے یہاں ملنا ہے اور میں اس مسئلے میں ہر ممکن کوشش کرتا ہوں آپ لوگوں کیلئے خیر ہم دو دن بعد وہاں سیکرٹریٹ گئے جہاں ہر طرف منسٹرز کے بڑی بڑی گاڑیوں کی قطاریں اور ان کے گن مین کھڑے تھے اور ہم پوچھتے پوچھتے اس شخص کے آفس پر پہنچے جہاں بہت سے لوگ انتظار تھے کہ کامریڈ یہاں آئے اور ہم ان سے اپنے مسئلہ و مسائل ڈسکس کرسکے ۔ اور میں لوگوں کو دیکھ کر صرف یہی محسوس کیا کہ ابھی 2 بج گئی ہے یہاں اتنے لوگ انتظار میں ہے مجھے تو آج ملاقات کا موقع نہیں ملے گا اور باتوں باتوں میں کامریڈ یونس صاحب کے آنے سے پہلے ایک واقف شخص سے ملاقات ہوئی جس نے مجھے بتایا کہ اپ کا جو مسئلہ ہے اس پر کم از کم ایک مہینہ لگے گا۔

بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئے اور کامریڈ صاحب اچانک اپنے آفس پہنچ گئی اور میں اٹھ نہیں سکا اسکے مصافحہ کیلئے کیونکہ دروازے کے پاس والی کرسی پر بیٹھی تھی اور اچانک داخل ہوئے اور باقی سب لوگ اٹھ کر ان سے بغل گیر ہوئے اور میں نے سوچا شاہد یہ لوگ ان کیلئے احترامً اٹھے کہ کامریڈ صاحب ان کا آفیسر ہے اور وہ کامریڈ صاحب کے انڈر کام کر رہے جس پر میں نے اپنے دل کو تسلی دی کہ اٹھ نہیں سکا تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں جس پر میں غلط تھا اور مجھے بہت افسوس بھی ہوا بعد میں کہ میں کیوں نہیں اٹھا
۔ چلو اسکو بعد میں ڈسکس کرتے ہیں پہلے کامریڈ یونس زہری کے بارے میں تھوڑا ہمیں جاننے کی ضرورت ہے ۔

جی ہاں کامریڈ یونس زہری صاحب بلوچستان سول سیکرٹریٹ میں ان پانچ ہزار ملازمین (کم و بیش ) کا صدر ہے اور یہ صدر ہر دو سال بعد ووٹ کے زریعے منتخب ہوتا اور یہ سلسلہ بلوچستان کے سیکرٹریٹ میں 1985 سے قائم ہے اور اس عہدے پر اکثر جو لوگ آئے ہے وہ 45 یا 50 سال کی عمر میں آئے ہیں لیکن کامریڈ یونس زہری وہ واحد شخص ہے کہ 32 سال کی عمر میں 2 دفعہ یہاں صدر منتخب ہوئے ہیں۔

آو وہاں سے شروع کریں جہان پر قصے کو ادھورا چھوڑ دیئے تھے
دوسرے دن جب میں نے اپنے کینسر کے مریضہ کے تمام قانونی دستاویزات مکمل کرکے ان کے خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے تمام دستاویزات دیکھ کر کہاں" آج میں آپ کے اس مسئلے کو حل کروں گا " جو مجھے بس ایک سیاسی وعدہ لگا جو اکثر سیاست دان اپنے حلقے کے لوگوں سے اس طرح کے وعدہ کرتے جس پر سالوں لگ جاتے ہیں اور پر بھی وہ وعدہ مکمل نہیں ہوتا اور یہاں مجھے اس واقف شخص کی بات یاد آئی کہ " آپ کے کام پر کم از کم ایک مہینہ لگے گا " تو خیر ہم کامریڈ صاحب کے آفس سے نکل کر مجھے ایسا لگا کہ ہم ایک پروٹیسٹ میں ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایک ساتھ تھے اور کامریڈ یونس کے آفس سے نکلے تھے کامریڈ یونس زہری لوگوں کے مسئلے حل کرتے رہے اور وہ لوگ چلے جاتے اور نئے لوگ ہمارے ساتھ شامل ہوتے رہے جن کے بھی میرے طرح کی مسئلے تھے اور یہاں سے اچانک ہمارا ٹکراو ایک منسٹر سے ہوا جو اتنے زیادہ لوگوں کو دیکھ کر بھی اپنے سر وہاں سے نیچے کرتے ہو کامریڈ کو سلام کیا اور جو میرا مشکل کام تھا اس کو کامریڈ صاحب نے صرف 15 پندرہ منٹ میں حل کر دیا جو کہ %80 مکمل ہوا تھا اور میرے اس واقف شخص کی بات غلط ثابت ہوئی جس نے کہا تھا " آپکے کام پر کم ازکم ایک مہینہ لگے گا " اور ابھی بھی بہت سے لوگ کامریڈ یونس صاحب سے سیلفی لیتے رہے اور ہر چند قدم پر لوگ ٹھر ٹھر کر کامریڈ کی خیریت دریافت کرتے رہے ان سے ملتے رہے اور حال احوال کرتے رہے اور ابھی مجھے میرے غلطی کا احساس ہوا کہ لوگ کامریڈ یونس زہری سے ان کے آفس میں اسکے خوشامد کرنے کیلئے اس وجہ نہیں اٹھے کہ وہ سیکرٹریٹ کے ملازمین کا صدر ہے بلکہ اس لئے اٹھے کہ وہ ایک نیک، شفیق، ہمدرد اور بہت مہربان شخص ہے اس لئے لوگ اتنا عزت و احترام کرتے ہے اس کے ۔ اور کہانی یہاں پر بھی ختم نہیں ہوئی ۔

خیر ابھی تک بھی لوگوں کے مسئلے ختم نہیں ہوئے اور یہ لوگ جو کامریڈ یونس کے ساتھ تھے جن کے مسئلے وہ حل کرتے تھے یہ سیکرٹریٹ کے ملازمین میں سے نہیں تھے ان میں اکثر لوگ بلوچستان دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے تھے اور میری طرح ان کا بھی کوئی نہیں تھا سیکرٹریٹ میں اور
اب ہم سب کچھ تھکے ہوئے تھے تو وہاں سے ہم ایک ساتھ جاکر کامریڈ یونس کے ساتھ روٹی کھائی اور اس نے روٹی کی پیسے وہاں ایک کماش شخص کو دیا اور اسی کماش شخص نے کہاں کہ کامریڈ یونس " انسان کے روپ میں ایک فرشتہ ہے " اور اس نے مزید کہاں یہاں یعنی سیکرٹریٹ میں اور بلوچستان کے اندر کامریڈ یونس صاحب عام لوگوں کیلئے ان بڑی بڑی داڑھی والے مولویوں،بڑی بڑی گاڑی والے منسٹرز، بڑے نامور نوابوں اور سرداروں سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے اور ان جیسے ہستیوں کو ہمیشہ اللہ سلامت رکھے اور اگر کوئی شخص دعا کرتا ہے اپنے بچوں کیلئے تو بس وہ یہی ایک ہی دعا کرے کہ میرے بھی بچے کامریڈ یونس صاحب کیطرح موم جیسے نرم دل اور مہربان ، غریب پرورشخص ہو۔ کامریڈ کیطرح انا، بغز، کینہ سے پاک اور نیک، صالح شخص ہو جو کہ دوسروں کی درد کواپنا درد سمجھیں۔ اور جب ہم واپس ان کے آفس پہنچ گئے وہاں کامریڈ یونس صاحب نے ہم سے معذرت بھی کی اور کہا میں تکلیف دینے کیلئے آپ لوگوں سے معذرت خواہ ہوں کہ آپ لوگوں کو اتنا تکلیف دیا سیکرٹریٹ اندر آپ لوگوں کو مختلف جگہوں کا چکر لگوایا حالانکہ معذرت ہمیں ان سے کرنا تھا تکلیف تو وہ ہمارے لئے ہوا تھا کام بھی ہمارا تھا لیکن یہی بات کامریڈ یونس صاحب کو دوسروں سے الگ کرتا اسکو یونیک بنا دیتا جو کہ ہر شخص کے اندر یہ صلاحیت نہیں پاتا۔

اب ہم گئے اسی ڈاکٹر پر جو ہمارے مریضہ کی علاج کر رہی تھی اور اس نے وہ سرکاری لیٹر جو علاج کیلئے ملا تھا ہمیں، دیکھ کر کہا کہ اتنے جلدی آپ لوگوں کام ہوا کیا یہ یونس صاحب آپ لوگوں کا کوئی رشتہ دار تو نہیں ؟ جس پر میں اتنا کہا کہ ڈاکٹر صاحب، کامریڈ یونس صاحب کی مرہون منت اتنا جلدی ہمارا کام ہوا۔ تو ڈاکٹر صاحب نے عینک ٹیبل پر رکھ کر کہا کہ " کامریڈ یونس صاحب انسان کی روپ میں ایک فرشتہ " وہی بات دوہرایا جو کہ ایک کماش نے پہلے کہا تھا جس کا زکر میں نے کیا تھا شروع میں۔ اور اس نے مزید کہا ہم سب پر فرض ہے کہ کامریڈ جیسے ہستیوں کی قدر کرے اور اس طرح کے عظیم انسان صدیوں میں بھی نہیں ملتے ۔

آخر میں صرف یہ کہتا ہوں کہ کامریڈ صاحب معذرت تو میں آپ سے کرتا ہوں کہ آپکو اتنا تکلیف دیا اور آپ جیسے ایک عظیم انسان کے شخصیت کو اسطرح کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بیان کیا جو کہ آپ کے شخصیت کے دس فیصد بھی بیان نہیں کرسکتے اور اسطرح کے چھوٹے الفاظ میں ایک بڑی شخصیت کو بیان کرنا ایسا ہے جیسا کہ ایک نادان شخص سورج کی بڑی روشنی کو کسی چھوٹے چراغ کے روشی کیساتھ کمپئر کرناہے اور یہ دعا کے ساتھ اپنے تحریر کا اختتام کرتا ہوں کہ اللہ پاک کامریڈ یوند زہری صاحب کو لمبی عمر عطا فرمائے اور ہم جیسے ناقص انسان جو اپنے لئے کچھ نہیں کرسکتے، عمر سے اللہ تعالی نکال کر ان کی عمر میں ڈال دیں جو ہر انسان کے مشکل وقت کا ساتھی ہے اور ان کا ہمدرد ہے

15/06/2025
16/03/2025

عبدالستار ایدھی صاحب سے پوچھا گیا کہ مغرب میں بے حیائی بہت ھے،
کنواری عورتیں ماں بن جاتیں ہیں۔۔!
انہوں نے کہا شاید بنتی ہونگی، مگر میں تو اتنا جانتا ہوں کہ ادھر پاکستان میں بائیس ہزار بچوں کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا ہوا ہے..

کوئٹہ۔۔بلوچستان سوشل فورم کے زیر اہتمام اس رمضان شریف میں 100 سفید پوش غرباء میں راشن تقسیم کرنے کا پروگرام کیا ہے فی خا...
01/03/2025

کوئٹہ۔۔بلوچستان سوشل فورم کے زیر اہتمام اس رمضان شریف میں 100 سفید پوش غرباء میں راشن تقسیم کرنے کا پروگرام کیا ہے فی خاندان کا راشن 10ہزار روپے پر مشتمل ہے تمام دوست احباب مخیر حضرات سے تعاون کی درخواست ہے
ایزی پیسہ اوکاونٹ نمبرز
03337776197 امتیاز شیر مغلزئی
03188022416 کامریڈ یونس زہری

05/11/2024

مرنے کے بعد فوتگی میں آج کی روٹی ہماری طرف سے کہنے سے بہتر ہے..

بیماری کے وقت آج کی دوائی ہماری طرف سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا..

05/11/2024

میرا بیٹا جذباتی ہے اسے بولنا کہ تمہاری ماں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔
حیدر آباد، بیٹے کے ہا*تھوں ق** ت* *ل ہونے والی ماں کے آخری الفاظ۔💔

05/11/2024

میرا بیٹا جذباتی ہے اسے بولنا کہ تمہاری ماں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔
حیدر آباد، بیٹے کے ہاتھوں قتل ہونے والی ماں کے آخری الفاظ۔💔

میں  ہوں  " میں "  کی  قید میں میں  خود  میں  سے  نکلتا  نہیں
03/11/2024

میں ہوں " میں " کی قید میں
میں خود میں سے نکلتا نہیں

میں  ہوں  " میں "  کی  قید میں میں  خود  میں  سے  نکلتا  نہیں...
03/11/2024

میں ہوں " میں " کی قید میں
میں خود میں سے نکلتا نہیں...

*کوئٹہ ۔۔۔صوبائی محتسب اعلی بلوچستان  نظر بلوچ کی جانب سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کے نو منتخب کابینہ کے...
30/10/2024

*کوئٹہ ۔۔۔صوبائی محتسب اعلی بلوچستان نظر بلوچ کی جانب سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کے نو منتخب کابینہ کے اعزاز میں چاے پارٹی کا اہتمام*
*کوئٹہ ۔۔۔۔۔صوبائی محتسب اعلی بلوچستان نظر بلوچ کی جانب سے بلوچستان سول سیکریٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کے نو منتخب کابینہ کے اعزاز میں چاے پارٹی کا اہتمام کیااور ملاقات کے دوران* *صوبائی محتسب اعلی نظر بلوچ نے بلوچستان سول سیکریٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر کامریڈ یونس زہری ، جنرل سیکریٹری حاجی قائم خان کاکڑ اور کابینہ کو بھاری اکثریت سے کامیابی پر مبارکباد پیش کرکے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سول سیکریٹریٹ اسٹاف ایشن کے انتخابات اور صدر کا چناؤ جمہوری انداز اور خوش اسلوبی کے ساتھ ہونا ایک خوش آئنداقدام اور جمہوریت کا حسن ہے*
*انہوں نے کہا کہ نومنتخب صدر اور جنرل سیکرٹری ایک متحرک نوجوان ہے وہ ملازمیں کی حقوق کی تحفظ اور انکے مسائل کی حل کے لیۓ اپنے صلاحیتوں کے مطابق اپنے سابقہ دور کی طرح جدو جہد جاری رکھینگے صوبائی محتسب اعلی بلوچستان نظر بلوچ نے کہا کہ کامریڈ یونس زہری جنرل سیکریٹری حاجی قائم خان کاکڑ کی کامیابی نہ صرف بلوچستان سول سیکٹریٹ کے ملازمین کوفائدے حاصل ہونگے بلکہ پورے بلوچستان کے صوبائی ملازمین تک اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے*
*منجانب۔شعبہ نشرو اشاعت بلوچستان سول سیکریٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن*

Address

Quetta

Telephone

+923083445454

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan Social Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Balochistan Social Forum:

Share