17/04/2026
برکینگ بیریرز وومنز نے بلوچستان کی پہلی اسسبیلٹی سٹڈی جاری کردی
کوئٹہ (رپورٹ ایم ای ڈیجیٹل):
بلوچستان میں معذور افراد (PWDs) کے لیے سرکاری عمارتوں کی رسائی سے متعلق پہلی جامع تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے میں زیادہ تر سرکاری ادارے معذور افراد کے لیے قابل رسائی نہیں ہیں۔
یہ تحقیق ڈاکٹر لبینہ داؤد بیگ، صدف اجمل ،کرامت اللہ خان نے افراد باہم معزوران کے ذریعے کرائی ہےاور ان کی ٹیم نے Accessibility Code of Pakistan 2006 کی بنیاد پر کی، جس میں کوئٹہ اور لورالائی کے 53 سرکاری اداروں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران مکمل کی گئی، جبکہ خاص بات یہ ہے کہ اس سروے میں خود معذور افراد نے حصہ لیا۔
تحقیق کے مطابق:
صرف 31 فیصد عمارتیں قابل رسائی ہیں
جبکہ 69 فیصد مقامات پر Accessibility موجود نہیں
کئی اہم دفاتر جیسے سوشل ویلفیئر، نادرا، الیکشن کمیشن، پوسٹ آفس، بینک، پولیس اسٹیشنز اور سول کورٹس بھی معذور افراد کے لیے غیر موزوں پائے گئے
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی اداروں میں ریمپس (Ramp) موجود ہیں مگر وہ عملی طور پر ناقابل استعمال ہیں، جبکہ کچھ جگہوں پر وہ صرف “قبر تک جانے کے راستے” جیسے ہیں۔
صدف اجمل کے مطابق وہ گزشتہ 17 سال سے معاشرے کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں تقریباً 15 فیصد جبکہ پاکستان میں 10 فیصد افراد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں، لیکن انہیں معاشرے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں مزید انکشاف ہوا کہ:
ایمرجنسی ایگزٹ بھی زیادہ تر عمارتوں میں قابل رسائی نہیں
فزیکل ہینڈیکیپ لرننگ سینٹر تک رسائی بھی ممکن نہیں تھی
ٹی بی سینیٹوریم میں وہیل چیئر کی سہولت تک محدود رسائی ہے
ماہرین نے سفارش کی ہے کہ:
Accessibility قوانین کو قانونی طور پر لازمی (Legal Binding) بنایا جائے
بلڈنگ پلانرز اور انجینئرز کو اس حوالے سے تربیت دی جائے
معذور افراد کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے
نصاب میں آگاہی شامل کی جائے
مردم شماری میں معذور افراد کو مکمل شامل کیا جائے
ملازمتوں میں کوٹہ بڑھایا جائے
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو اس حوالے سے خط لکھنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ معذور افراد کے لیے توہین آمیز القابات کو جرم قرار دیا جائے۔پہلی تحقیقی رپورٹ این سی ایچ ار کے دفتر میں جاری کی گی ،این سی
ایچ اربلوچستان کی سربراہ پروفیسر فرخندہ اورنگزیب نے رپورٹ کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوئے سول سوسائٹی کی تنظیموں کو اس ریسریچ کی روشنی میں عملی اقدمات کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا،اس موقع پر سیاسی سماجی اور
بزنس وومن ثنا درانی نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کو خود جدوجہد کرنا ہوگی ہم بھرپور ساتھ دیں گے،ال پاکستان لیبر فیڈیرشن کے رہنما عبداستار خاکڑ نے کہا کہ لیبریونین کے پلیٹ فارم سے اس اہم مسلے کے حل کے لیے بھر تعاون کیا جائے گا