12/08/2026
بلوچستان کے 1 لاکھ 19 ہزار خاندان آخر کب تک انتظار کریں گے؟
2022 کے تباہ کن سیلاب کو چار سال گزر چکے ہیں، مگر بلوچستان میں آج بھی ہزاروں سیلاب متاثرہ خاندان اپنے گھروں کی تعمیر اور بحالی کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب سوال یہ ہے کہ اگر سیلاب کے بعد عالمی اداروں اور ڈونرز نے بلوچستان کے لیے اتنی بڑی رقم مختص کی تھی تو اس رقم کے استعمال میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
دیگر متاثرہ صوبوں میں بحالی اور تعمیرِ نو کے منصوبے آگے بڑھتے رہے، لیکن بلوچستان میں آج بھی 119,049 تصدیق شدہ اور اہل خاندان مالی معاونت سے محروم بتائے جا رہے ہیں۔
یہاں چند انتہائی اہم سوالات ہیں:
❓ 2022 کے سیلاب کے چار سال بعد بھی بلوچستان کے متاثرین اپنے گھروں کے منتظر کیوں ہیں؟
❓ اگر فنڈز بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے مختص کیے گئے تھے تو ان کا بروقت استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟
❓ دیگر صوبوں میں بحالی کے منصوبوں پر کام آگے بڑھ سکتا ہے تو بلوچستان میں مسلسل تاخیر کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
❓ بلوچستان کے لیے مختص فنڈز کو دوسرے انفراسٹرکچر منصوبوں کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
❓ کیا بلوچستان کے غریب سیلاب متاثرین اس لیے نظر انداز ہو رہے ہیں کہ ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچتی؟
بلوچستان کی محرومی صرف سڑکوں اور عمارتوں کی کمی کا نام نہیں۔ یہ اس وقت سب سے بڑا المیہ ہے جب تباہ حال خاندانوں کے لیے آنے والی امداد بھی بروقت ان تک نہ پہنچ سکے۔
اگر دیگر صوبوں میں سیلاب کے بعد بحالی کے منصوبے مکمل یا نمایاں طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں تو بلوچستان کے منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات، ذمہ دار اداروں اور فیصلوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
ہم عالمی اداروں، ورلڈ بینک اور تمام ڈونرز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے فنڈز کے معاملے پر صرف سرکاری وضاحتوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ آزاد، شفاف اور عالمی سطح کی انکوائری اور آڈٹ کرایا جائے۔
یہ معلوم کیا جائے کہ:
کتنی رقم بلوچستان کے لیے منظور ہوئی؟
کتنی رقم جاری ہوئی؟
کتنی خرچ ہوئی؟
کتنی رقم منتقل کی گئی؟
کہاں منتقل کی گئی؟
کتنے گھر بننے تھے؟
کتنے بنے؟
اور 119,049 اہل خاندان آج بھی امداد سے محروم کیوں ہیں؟
بلوچستان کے عوام کسی کا احسان نہیں مانگ رہے، وہ اپنے حق کا حساب مانگ رہے ہیں۔
چار سال بعد بھی اگر ایک سیلاب متاثرہ خاندان اپنے گھر کے لیے سرکاری امداد کا منتظر ہے تو سوال صرف حکومت سے نہیں، بلکہ اس پورے نظام سے ہے جو بلوچستان کے لیے آنے والے وسائل کو بھی عوام تک پہنچانے میں ناکام رہا۔
بلوچستان کو وعدے نہیں، شفاف تحقیقات، مکمل حساب اور عملی انصاف چاہیے۔
#بلوچستان