Ashfaq Khan Sawand

Ashfaq Khan Sawand Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ashfaq Khan Sawand, Non-Governmental Organization (NGO), Sawand House Saraiki Abad, Tibba Sultanpur.

09/05/2026

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور

شکریہ وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کھچی صاحب

کھچی گروپ کے رہنما حاجی رجب علی شیخ کی سرائیکی قوم پرست رہنما اشفاق خان ساوند سے ملاقات.
وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کھچی صاحب کی جانب سے سرائیکی آباد کیلئے سیوریج اور ٹف ٹائل کی گرانٹ کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر سرائیکی آباد کی گلیوں کا سروے کیا گیا. وفاقی وزیر جناب اورنگزیب خان کھچی صاحب کی خصوصی ہدایت پر سرائیکی آباد میں 10 سے 15 دنوں کے دوران ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا جائے گا .

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور حاجی محمد رمضان خان بھٹہ مرحوم کی زوجہ محترمہ مظہر خان بھٹہ کی والدہ محترمہ کی فاتحہ خوانی  و...
01/05/2026

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور

حاجی محمد رمضان خان بھٹہ مرحوم کی زوجہ محترمہ
مظہر خان بھٹہ کی والدہ محترمہ کی فاتحہ خوانی و تعزیت
سابق صوبائی وزیر آصف سعید خان منیس صاحب
اس موقع پر سیٹھ عبدالغفور خان ساوند صاحب
بابا محمد صادق خان ساوند صاحب
سردار امین خان بھٹہ صاحب
ودیگر علاقہ معززین .

خبر غم و اطلاع نمازِ جنازہ سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور حاجی محمد رمضان خان بھٹہ کی زوجہ محترمہ مظہر خان بھٹہ کی والدہ محت...
27/04/2026

خبر غم و اطلاع نمازِ جنازہ

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور

حاجی محمد رمضان خان بھٹہ کی زوجہ محترمہ
مظہر خان بھٹہ کی والدہ محترمہ
اور
اشفاق خان ساوند کی خالہ محترمہ
بقضائے الٰہی سے وفات پا گئی ہیں .
اِنّالَلّٰهِ وَاِنًااِلَیّه رَاجِعُون

انکی نمازِ جنازہ آج بروز 27 اپریل 2026 ء 11 بجے
عید گاہ بستی سحر میں ادا کی جائے گی.
سب دوست و احباب سے شرکت کی اپیل ہے

19/04/2026

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور میں سٹریٹ لائٹس نہ ہونے سے شام ہوتے ہی علاقہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ھے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ ایک نظر سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور کے مسائل کی طرف

سرائیکی وسیب سرائیکیوں کا ہے، اور رہے گا۔ہم نے اس دھرتی پر آنے والی ہر قوم پناہ گیر  کو پناہ دی، عزت دی، جگہ دی — مگر اپ...
23/03/2026

سرائیکی وسیب سرائیکیوں کا ہے، اور رہے گا۔
ہم نے اس دھرتی پر آنے والی ہر قوم پناہ گیر کو پناہ دی، عزت دی، جگہ دی — مگر اپنی پہچان اور حق کبھی کسی کے آگے گروی نہیں رکھا۔
جو لوگ تاریخ مسخ کر کے اس دھرتی کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، وہ جان لیں کہ مہمان نوازی ہماری روایت ہے، کمزوری نہیں۔
سرائیکی وسیب کسی کے رحم و کرم پر نہیں، اپنی شناخت، اپنی تہذیب اور اپنے حق پر قائم ہے۔

ہمارا جغرافیہ، ہماری شناخت — مجوزہ صوبہ سرائیکستان کا مکمل نقشہ

سرائیکی وسیب محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب اور ہزاروں سال قدیم تاریخ کا وارث ہے۔ اجداد کی زمین، اپنی زبان اور اپنے وسائل پر حقِ ملکیت کی جدوجہد کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے جغرافیائی حدود سے واقف ہوں۔

اس نقشے میں سرائیکی وسیب کے ان تمام اضلاع کو شامل کیا گیا ہے جو تاریخی، ثقافتی اور لسانی بنیادوں پر "سرائیکستان" کا حصہ ہیں:

✅ ڈیرہ جات بیلٹ: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک

✅ تھل ریجن: میانوالی، بھکر، لیہ، خوشاب

✅ ملتان ڈویژن: ملتان، لودھراں، خانیوال، وہاڑی

✅ بہاولپور ڈویژن: بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر

✅ ڈیرہ غازی خان ڈویژن: ڈی جی خان، راجن پور، تونسہ، کوٹ ادو، مظفر گڑھ

✅ وسطی وسیب: جھنگ، چنیوٹ، سرگودھا، ساہیوال، پاکپتن، تلہ گنگ

ہماری یہ مانگ کسی کے خلاف نہیں بلکہ حق اور انصاف پر مبنی ہے۔ "سرائیکی وسیب" وہ علاقہ ہے جہاں سندھو سادی (Indus Valley) کی روح بستی ہے اور جس کے وسائل اس کے اپنے بیٹوں کا پہلا حق ہیں۔ ہم امن پسند لوگ ہیں لیکن اپنی شناخت پر سمجھوتہ کرنا ہماری تاریخ میں شامل نہیں۔

ضروری نوٹ: خیبر پختونخوا میں پہاڑ پور کو نیا ضلع بنانے کا اعلامیہ جاری ہو چکا ہے، جس کے بعد وہ اب سرائیکی وسیب کا ایک مستقل ضلع بن چکا ہے۔ اس نقشے کو جلد ہی اپڈیٹ کر کے پہاڑ پور کو بطور علیحدہ ضلع ظاہر کیا جائے گا۔

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور کے مسائل          اور سرائیکی سیاستدانوں کی کارکردگی تحریر  : اشفاق خان ساوند چند روز قبل ٹبہ...
15/03/2026

سرائیکی آباد ٹبہ سلطان پور کے مسائل
اور سرائیکی سیاستدانوں کی کارکردگی

تحریر : اشفاق خان ساوند

چند روز قبل ٹبہ سلطان کے رہائشی محترم سرفراز خان صاحب ریڈیو پاکستان نے ایک پوسٹ لگائی جس میں سرائیکی آباد (فضل آباد) ٹبہ سلطان پور کی سیوریج کی بدترین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حلقہ کے سیاستدانوں کو سرائیکی آباد (فضل آباد) کی سیوریج کے لئے گورنمنٹ فنڈز جاری کرنا چاہیے. فضل آباد کو سرائیکی آباد اور نئی بستی سحر بھی کہتے ہیں. یہاں پر سرائیکی قوم کی اکثریت ہے.
سرائیکی آباد (فضل آباد) میں آخری بار ترقیاتی فنڈز مشرف دور میں لگائے گئے تھے اس وقت سرائیکی آباد (فضل آباد) کے مقامی سرائیکی حاجی غلام ناصر گاذر جب کونسلر بنے تھے انکا انتخابی نشان پیالہ تھا اور یہ منیس گروپ کے نامزد امیدوار تھے تب کونسلر حاجی غلام ناصر گاذر نے سرائیکی آباد (فضل آباد) میں سولنگ لگوائی اور سیوریج کے لئے پکی نالیاں اور پکے کھالے بنوائے. کونسلر حاجی غلام ناصر گاذر صاحب کے بعد تاحال آج تک کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے.

2015 ء کے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر منیس گروپ کے نمائندے حاجی سعید خان منیس پرانا لاری اڈا ٹبہ والے اور زاہد خان منیس نے سرائیکی آباد کے رہائشیوں سے درخواست کی کہ ہمارے نامزد امیدوار برائے کونسلر مہاجر سیٹھ یوسف شیخ کو ووٹ دے کر کامیاب کروائیں تب سرائیکیوں نے مہاجر ہونے کی وجہ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا لیکن منیس گروپ کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ آپ سرائیکی ووٹ دے کر ہمارے نامزد امیدوار کو کامیاب کروائیں سرائیکی آباد (فضل آباد) میں ترقیاتی کام ضرور ہوں گے آخر سیٹھ یوسف شیخ سرائیکیوں کی سپورٹ سے کونسلر بن گئے یہاں پر ایک بات کی نشاندہی کرتا چلوں کہ سیٹھ یوسف شیخ اپنے گھر کے پولنگ اسٹیشن جہاں پر مہاجر شیخ برادری کے گھر ہیں وہاں سے پولنگ اسٹیشن سے الیکشن ہارے گئے تھے الیکشن جیتنے کے بعد ایک بار بھی سیٹھ یوسف شیخ نے سرائیکی آباد (فضل آباد) کا چکر نہ لگایا اور تمام ترقیاتی فنڈز اپنے پرائیویٹ ٹاؤن نزد زندہ پیر ٹبہ سلطان پور میں سولنگ اور سیوریج کی مد میں لگا دیے حالانکہ انکو چاہیے تھا کہ وہ الیکشن جیتنے کے بعد اپنے حلقہ میں چکر لگاتے اور اپنا تعلق بناتے اور اپنی جڑیں مضبوط کرتے لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا

ء2020 ء میں ڈاکٹر رفیع کے صاحبزادے ملک نوشیر کی قل خوانی کے موقع پر میری ایم پی اے نواب علی خان خاکوانی سے ملاقات ہوئی انکے ہمراہ محترم نواب احسن خان خاکوانی صاحب اور بھائی سردار نصراللہ خان پاندہ بھی تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ بستی سحر میں ترقیاتی کام سولنگ اور سیوریج کا کام ہو رہا ہے کیا فضل آباد (سرائیکی آباد) کے لیے بھی کوئی گرانٹ ہے ؟ایم پی اے نواب علی خان خاکوانی صاحب نے کہا کہ فضل آباد (سرائیکی آباد) میں سیوریج کا مسئلہ ہے اور گرانٹ بھی جاری کی ہوئی ہے جس کے انچارج مہاجر حاجی رجب علی شیخ ہیں علی خان خاکوانی نے حاجی رجب شیخ کو آواز دی اور میرے سامنے سیوریج کی گرانٹ کی نشاندہی کی حاجی رجب شیخ نے کہا کہ اشفاق بھائی گرانٹ میرے ذمہ ہے میں 2 دن بعد آپ سے ملوں گا اور پھر باہمی مشاورت سے فضل آباد (سرائیکی آباد ) میں ترقیاتی فنڈز لگائے جائیں گے لیکن حاجی رجب شیخ نہ آئے اور نہ گرانٹ لگائی گئی ایک دوبار رابطہ کیا تو جواب یہی آئیں بائیں شائیں
حاجی رجب شیخ خوش اخلاق انسان ہیں 2015 ء میں ٹبہ سلطان پور یونین کونسل کے امیدوار برائے چیئرمین تھے اور مدمقابل سرائیکی سیاستدان عاصم خان منیس صاحب تھے سرائیکیوں نے حاجی رجب شیخ کو کافی حد تک ووٹ دیے لیکن مدمقابل سرائیکی تھا اور سرائیکیوں کی اکثریت عاصم خان منیس کے ساتھ تھی یہی وجہ ہے کہ حاجی رجب شیخ الیکشن ہار گئے 2018 ء کے جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار ایم پی اے نواب علی خان خاکوانی اور ایم این اے اورنگزیب خان کھچی کامیاب ہوئے اس دور میں حاجی رجب شیخ کافی بااختیار تھے انکو چاہیے تھا کہ وہ اپنے حلقہ کی عوام سے رابطہ میں رہتے اور اپنی جڑیں مضبوط کرتے لیکن انہوں نے بھی عوامی مفاد کی بجائے اپنے ٹبر خاندان کے لڑکوں کو سرکاری نوکریاں دینے اور سرکاری گرانٹوں کو اپنی شیخ برادری کے من پسند لوگوں کے گلی محلوں میں لگانے کو ترجیح دی اور اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نہ نبھایا اور اس طرح اپنی سیاست کا بیڑا غرق کردیا .

یہاں پر میں ایک بات کا بتاتا چلوں کہ تحصیل میلسی اور ٹبہ سلطان پور وہ حلقہ ہے جس میں سرائیکی ووٹرز 80 فی صد سے زائد ہیں یہاں پر سرائیکی قوم کی سپورٹ کے بغیر کوئی کونسلر , چیئرمین , ایم پی اے اور ایم این اے تک نہیں بن سکتا جو سیاستدان سرائیکی قوم کی سپورٹ حاصل کر لے وہ الیکشن جیت جاتا ہے اور جو سیاستدان سرائیکی قوم کو ناراض کر دے وہ سیاستدان الیکشن ہار جاتا ہے اور اس کی سیاست ختم ہو جاتی ہے .

اس وقت بستی سحر اور ممتاز آباد میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں سولنگ اور سیوریج کا کام ہو رہا ہے جبکہ سرائیکی آباد میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہو رہے اس لئے سرائیکی آباد (فضل آباد) کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کئے جائیں سرائیکی آباد میں سرائیکی قوم کی اکثریت ہے انکو انکا حق ملنا چاہیے .

26/08/2025

ٹبہ سلطان پور کی تاریخ
قسط نمبر 3
1860 تا 1900ء

تحریر و تحقیق : اشفاق خان ساوند

اس قسط میں ہم ان رویوں, رسم و رواج, سوچ و فکر, تعلقات عامہ , پیشہ اور ذات قوم برادری کے حوالے سے مختصر بات کریں گے دیکھنے میں یہ بات معمولی سی لگتی ہے لیکن اس میں دوستی کو دشمنی میں بدلنے اور تعلقات خراب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے .

1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز کو ہندوستان پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا تھا اس کے بعد انگریز نے نہایت مکاری اور چالاکی سے مقامی لوگوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے رسم و رواج اور سوچ و فکر تعلیم و تربیت کو فروغ دیا. مسلم حکمرانوں نے 1 ہزار سال ہندوستان پر حکمرانی کی تھی اس کی وجہ مسلم حکمران حکومتی امور چلانے کے ساتھ ساتھ رزق حلال کےحصول کے لئے کوئی نہ کوئی پیشہ بھی اختیار کیے رکھتے تھے اور حکومتی خزانے کو عوام کی امانت سمجھتے تھے یہی اسلامی اقدار کی وجہ سے اسلامی سلطنتوں کا دورانیہ طویل ترین ہو جاتا ہے تھا.

انگریز نے ہندوستانی عوام کو ہندو اور مسلمان میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ کمی کمین کی اصلاحات بھی لاگو کرنا شروع کر دی اور یہ تصور پھیلایا کہ بادشاہ کا کام صرف حکمرانی کرنا ہے اور عوام کا خزانہ اس کا ذاتی مال ہے اور کام کرنا بادشاہوں کی توہین ہے اور کام کرنے والے کمی کمین ہوتے ہیں .
انگریز سرکار نے سب سے زیادہ ظلم مغل حکمرانوں اور علماء کرام پر کیا مغلوں سے انکی جائیدادیں چھین لی اور مغل قوم مختلف پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی جیسے لوہار, موچی, نائی اور میر عالم یعنی میراثی کا پیشہ وغیرہ.
اسلامی دور میں مدرسوں اور علماء کرام کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے انکو مسلم حکمرانوں کی طرف سے زمینیں الاٹ کرکے دی گئی تھیں وہ تمام زمینیں مدرسوں مساجد اور علماء کرام سے انگریز سرکار نے چھین لی اور انکو چندہ سسٹم کا محتاج بنا دیا.
اس دور کی بڑی خرافات یہ تھی کہ تمام معزز قوموں کی تذلیل کرنے کے لیے انکو الٹے سیدھے ناموں سے پکارا اور چڑیا جاتا تھا اور آج بھی یہ خرافات موجود ہیں اور ان پڑھ لوگ اس جہالت میں پڑے ہوئے ہیں جبکہ پڑھے لکھے لوگ اس طرح کی خرافات سے پرہیز کرتے ہیں .
مثلاً کسی قوم کو پیاز کا طعنہ دیا جاتا ہے اور کسی قوم کو بابا بلھے شاہ کا طنز مارتے ہیں. سکھوں کو بے وقوف, کام کرنے والے کو کمی کمین تصور کیا جاتا ہے, نواب کو عیاش ,راجہ جیسا خطاب حجام نائی کو کہا جاتا ہے. اسی طرح کپڑا بنانے والے انصاری ہیں .پرانے زمانے میں کپڑا بنانے والے کو پنجابی زبان میں جولاہا اور سرائیکی زبان میں پاولی کہا جاتا تھا ہے .
مثال دینے کا مقصد کسی قوم کی تذلیل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ فرنگی نے ہر معزز قوم ذات برادری اور پیشہ کو کس طرح بدنام کیا اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے .

اس دور کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ملتان کے ایک بڑے کپڑے کے تاجر جن کا نام ملک خدا بخش خان انصاری تھا نہایت متقی پرہیز گار اور خدا ترس انسان تھے ایک شب وہ سوئے ہوئے تھے کہ انکو خواب میں حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت ہوئی, انہوں نے ملک خدا بخش خان انصاری کو حکم دیا کہ فلاں جگہ پر ایک سیدہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ بیٹھی ہوئی ہے انگریز افسر نے اس سیدہ خاتون کا مال و اسباب چھین لیا ہے آپ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں اس لیے اب کی بار بھی آل رسول اللہ ﷺ کی مہمان نوازی کا شرف آپ کو ملا ہے جائیے اور ان ستم رسیدہ خاتون کی مدد کریں جس کو انگریز نے بے گھر کر دیا ہے. ملک خدا بخش خان انصاری اللہ کا نام لے کر اس ویران جگہ پر پہنچے جہاں پر وہ نیک خاتون اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ چھپی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ اس کی مدد کرے ملک خدا بخش خان انصاری انکو لے کر اپنے گھر آئے اور انکی خدمت داری کی اگلی صبح جب انگریز افسر کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ملک خدا بخش خان انصاری کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا اور انکے کپڑے کے تمام کارخانے جلا دیئے سیدہ خاتون کو شہید کر دیا گیا جب کہ ملک خدا بخش خان انصاری کسی نہ کسی طرح اپنی جان بچا کر ملتان سے ٹبہ سلطان پور اپنے دیرینہ دوست بابا نور محمد خان ساوند کے پاس پہنچے اور پناہ لی اور کچھ عرصہ تک ٹبہ سلطان پور میں روپوش رہے

قصہ مختصر یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ ذات برادری اور قوم کو چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ نہ بن جائیں. ذات برادری اور قوم کی بجائے لوگ اپنی پہچان پیشوں سے کرواتے تھے جیسے کہ نائی موچی, چڑھوے, مصلی, درکھان, تیلی, چڑھوے ,
میراثی, کمبھار, جولاہا, پاولی اور قسائی وغیرہ
قیام پاکستان کے بعد جب ان پیشوں کو کرنے والوں نے اپنی اصل ذات برادری اور قوم سے اپنی شناخت کروانا شروع کی تو تب اکثر کم ظرف لوگوں نے انکو تنقید کا نشانہ بنایا جیسے کہ ایک جاننے والے جو کہ نائی کے پیشہ سے وابستہ رہے تھے جب انکی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے بخت سے نوازا تو کم ظرف لوگوں نے طنز مارا کہ پہلے تو یہ لوگ نائی تھے اب یہ بھٹہ اور تھہیم کیسے بن گئے ہیں ؟ اسی طرح جو پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن گئے انکو بارے کہا گیا کہ پہلے یہ قسائی تھے اب یہ بھٹی بن گئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پیشہ اور ذات برادری اور قوم میں فرق ہوتا ہے پیشہ کوئی بھی شخص اور کسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والا اختیار کر سکتا ہے جبکہ برادری یا قوم تبدیل نہیں کی جا سکتی ہے برادری یا قوم کو تبدیل کرنا باپ بدلنے کے مترادف ہے
جو شخص امیر ہونے کے بعد بھی اپنے کام خود کرتا ہے وہ شخص جلد غریب نہیں ہو سکتا
وقت وقت کی بات ہے کہ کسی دور میں انگوٹھا دکھانے کو بدتمیزی اور بے عزتی شمار کیا جاتا تھا لیکن اب اس کو لائک (Like ) کہتے ہیں اسی طرح ماضی میں جوکر مسخرا (Joker) کہنا بے عزتی کے مترادف سمجھا جاتا تھا اور آج یہی جوکر مسخرا ہیرو کا مقام رکھتا ہے, جن پیشوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا لیکن ذہن لوگوں نے اپنی اس کمزوری کو طاقت بنا کر دنیا کو حیران کر دیا ہے. آج آپ کو موچی (MOchi) نام کا بھی برینڈ ملے گا . لوہار بھی برینڈ بن چکا ہے, دھوبی ( Dhobi ) بھی برینڈ بن چکا ہے اسی طرح جولاہا اور پاولی (Pawli ) بھی دبئی کا مشہور جیولری برینڈ ہے
Be Different
Be Pawli 👑
اسی طرح میرعالم یعنی میراثی بھی برینڈ بن چکا ہے جیسے کہ زیبی ڈھول ماسٹر .گلوکار سنگر بن چکے ہیں اور خود کو اپنے پیشے کو پالش کرکے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے.

جاری ہے.......






پاکستان کی وہ تاریخ جس کو آج تک سامنے نہیں آنے دیا گیا بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح صاحب کی جگہ پیدائش  ٹھٹھہ کے ...
14/04/2025

پاکستان کی وہ تاریخ جس کو آج تک سامنے نہیں آنے دیا گیا

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح صاحب کی جگہ پیدائش ٹھٹھہ کے علاقے جاریک ہے پاکستان سے پہلے سندھ ضلع وہاڑی سے بھی آگے تک تھا اور ملتان صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہوتا تھا بعد میں انگریز نے ملتان ڈویژن کو صوبہ پنجاب میں شامل کر دیا
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح صاحب کی مادری زبان سرائیکی تھی اور صوبائی طور پر سندھی تھے بعد میں تاریخ کی کتابوں میں انکی پیدائش کراچی بنا دی گئی
1960 ء سے پہلے تک پاکستان کا یوم آزادی 15 اگست کو منایا جاتا تھا بعد میں 14 ء اگست بنا دیا گیا
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح صاحب کو اردو زبان نہیں آتی تھی جناح صاحب سرائیکی سندھی اور انگریزی زبان جانتے تھے سب سے پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سرائیکی زبان کو پاکستان کی قومی زبان بنایا جائے لیکن اس وقت سرائیکی زبان میں لٹریچر اور ادب زیادہ نہیں تھا جبکہ اُردو زبان میں کافی سارا مواد تھا مغل بادشاہوں نے اور مرزا غالب کی شاعری کی وجہ سے اردو زبان نے کافی ترقی کی ہوئی تھی اس لئے بھارت اور پاکستان کے مشترکہ فیصلہ کے بعد اردو کو نافذ العمل کیا گیا پاکستان میں اردو کو اردو جبکہ بھارت میں ہندی زبان کہتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے بانی گاندھی جی کی مادری زبان سرائیکی تھی لیکن گاندھی جی کو اُردو زبان پر بھی عبور حاصل تھا

28/12/2024

حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور رح








حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور رحبشکریہ روزنامہ بیٹھک ملتان
19/12/2024

حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور رح
بشکریہ روزنامہ بیٹھک ملتان







قسط نمبر 2 ٹبہ سلطان پور کی تاریخ حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور رحمتہ اللہ علیہ 18...
13/12/2024

قسط نمبر 2

ٹبہ سلطان پور کی تاریخ


حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف
پیر ٹبہ سلطان پور رحمتہ اللہ علیہ

1857 ء کی جنگ آزادی کے دنوں کی بات ہے کہ ساوند قبیلہ کے ایک بزرگ بابا سلطان خان ساوند رح اپنے پیرومرشد حضرت بہاؤالدین زکریا رح کے مزار پر مراقبہ کر رہے تھے کہ انکو دوران مراقبہ حضرت بہاؤالدین زکریا رح کی طرف سے حکم ملا کہ آپ ملتان شریف سے مشرق کی جانب سفر کریں اور جہاں پر رستہ تین اطراف (میلسی , مترو اور وہاڑی روڈ ) میں تقسیم ہو جائے وہاں پر سکونت اختیار کریں اور ہندوؤں کو مشرف بہ اسلام کریں.
حضرت سلطان خان ساوند رح نے اپنے پیرومرشد کی بتائی ہوئی جگہ پر مستقل درگاہ تعمیر کرائی اور گردونواح کے علاقوں میں اسلام کی تبلیغ شروع کردی اور سینکڑوں ہندوؤں کو مشرف بہ اسلام کیا. آپ رحمۃ اللہ علیہ کو سرائیکی, سندھی اور فارسی زبان پر مکمل عبور تھا آپ رح کی مادری زبان سرائیکی ہی تھی.
اس وقت کی سب سے قدیم آبادی بستی سحر تھی
جب انگریز سرکار کو حضرت سلطان خان ساوند رح کے بارے میں علم ہوا کہ وہ لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کر رہے ہیں تو انہوں نے فوراً اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ حضرت سلطان خان ساوند رح کو زندہ یا مردہ گرفتار کرکے انگریز کے سامنے پیش کریں .
حضرت سلطان خان ساوند رح کو بذریعہ الہام معلوم ہوا کہ انگریز سرکار انکی گرفتاری کے احکامات جاری کر چکی ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں کو
انگریز سپاہیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اسی وقت آسمان سے ندا آئی اے میرے نیک بندے آپ اور اپنے مریدوں کو درود شریف پڑھنے کا حکم دیں اور پھر قدرت کا کرشمہ دیکھیں. حضرت سلطان خان ساوند رح اور انکے مریدوں نے کثرت سے درود شریف پڑھنے لگ گئے اسی وقت ایک تیز رفتار آندھی آئی اور طوفانی جھکڑ چلے آپ رح اور تمام مرید سمیت ریت اور مٹی کے ٹب کے نتیجے دفن ہوگئے...
انگریز سپاہیوں نے بہت کھدائی کروائی لیکن ان کو حضرت سلطان خان ساوند رح اور انکے مریدوں کا کوئی سراغ تک نہ مل سکا . وقت گزرتا گیا انگریز سرکار نے ہر سچے مسلمان اور اپنی دھرتی ماں سے محبت کرنے والوں کی زندگی عذاب بنا دی.
ٹبہ سلطان پور میں چند مقامات پر کچھ قبریں دریافت ہوئی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قبریں قیام پاکستان سے قبل کھدائی کرتے ہوئے ظاہر ہوئی ہیں اور گمنام قبریں ہیں ان گمنام قبروں کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ قبریں حضرت بابا سلطان خان ساوند رح کے مریدوں کی ہیں. ایک قبر تو تھانہ ٹبہ سلطان پور کے بیک پر نزد حاجی اقبال خان منیس کی رہائش گاہ کے ساتھ ہے دوسری قبر الجنت ٹاؤن کی بیک پر موجود ہے اور تیسری قبر بڑے قبرستان کے قریب ہے ان گمنام قبروں کے حوالے سے یہ بات بھی مشہور ہے کہ جب بھی ان قبروں کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی اسی وقت ٹریکٹر اور ہل ٹوٹ جاتے ہیں اور متعلقہ زمین کے مالک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے. اکثر قدیم مقامی سرائیکیوں سے یہ بھی روایت ہے کہ دربار عبدالعزیز والے پیر جن کو دادا پیر کہتے ہیں وہ بھی حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور رح کے مریدوں میں شمار ہوتے ہیں.
یہ جگہ ٹبہ سلطان کے نام سے مشہور ہوئی یعنی سلطان کا ٹیلا , کیونکہ جب ریتلا طوفان آیا تو اونچے اونچے ریت کے ٹب یعنی ٹیلے بن گئے .ریتلے ٹیلوں کو سرائیکی زبان میں ٹب کہتے ہیں . انگریزی پولیس آفیسر بھی یہی فقرہ بار بار
کہتے تھے.
Where is Tibb Sultan...?
ٹب سلطان کہاں ہے.... ؟
یعنی سلطان کا ٹبہ, ٹب سلطان کو تلاش کرنے پر انگریز سرکار کی جانب سے انعامات کا اعلان بھی کیا گیا اسی طرح ٹب سلطان سے ٹبہ سلطان مشہور ہو گیا.
یہی وجہ ہے کہ یہاں پر کبھی بھی سیلاب نہیں آیا یہ جگہ ملتان اور وہاڑی کی نسبت زیادہ بلندی پر واقع ہے
آج بھی ٹبہ سلطان پور کے گردونواح میں سفر کریں تو آپ کو بہت سے ریت کے ٹب یعنی ٹیلے نظر آئیں گے بڑے قبرستان اور 4 چک, 124, 202 ,118 ڈبلیو بی اس کی عام مثال ہیں. آج بھی کئی بزرگ اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ جلد ہی حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور رح کی قبر ے مبارک کا ظہور ہونے والا ہے اور انکا مزار اقدس بنایا جائے گا. متعدد لوگوں کو انکی زیارت بھی ہوتی رہتی ہے

ابتدا میں یہ جگہ ٹبہ سلطان کے نام سے مشہور ہوئی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھر جب آبادی میں اضافہ ہوا تو اس کا نام ٹبہ سلطان پور پڑ گیا کئی ان پڑھ لوگ اس کو ماضی میں ٹبہ سنتاں پور بھی کہتے رہے ہیں جیسے کہ مخدوم رشید کو کئی ان پڑھ لوگ مختم رشید کہتے تھے اسی طرح کئی شہروں کے نام بزرگوں کے نام پر مشہور ہوئے ہیں جیسے پیر جہانیہ کے نام پر جہانیاں شہر, پیر مخدوم رشید کے نام پر مخدوم رشید اور اسی طرح پیر بابا سلطان خان ساوند رح کے نام پر پیر ٹبہ سلطان پور شہر , مثال کا مقصد تاکہ سمجھنے والوں کو آسانی ہو..
ٹبہ سلطان پور شہر ملتان اور وہاڑی کے بالکل درمیان واقع ہے ٹبہ سلطان پور سے وہاڑی اور ملتان دونوں شہروں کا درمیانی فاصلہ 50 کلو میٹر ہے. ٹبہ سلطان پور ملتان ڈویژن سرائیکی وسیب کا خوبصورت شہر شمار ہوتا ہے اور محبت کرنے والے اور مہمان نوازی کے حوالے اپنی خاص پہچان رکھتا ہے.
قیام پاکستان سے قبل یہ شہر انگریز سرکار کی فوجی چھاؤنی بنا رہا ہے . قیام پاکستان سے قبل یہ علاقہ خالص سرائیکی قوم پر مشتمل رہا ہے.
انگریز سرکار کی جانب سے نہایت سختی یہ حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ حضرت بابا سلطان خان ساوند رحمتہ اللہ علیہ المعروف پیر ٹبہ سلطان پور کے حوالے سے کوئی بات بھی پرنٹ میڈیا پر نہیں آنی چاہیے اور نہ ہی کوئی اس واقعہ کو علماء کرام کسی کو بیان کریں یہ وہ راز ہے جو کہ صرف قدیم سرائیکیوں کو معلوم تھا اور سرائیکی بزرگ یہ راز سینہ بہ سینہ نئی نسل کو منتقل کرتے آ رہے ہیں..

جاری ہے .....




.



Address

Sawand House Saraiki Abad
Tibba Sultanpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ashfaq Khan Sawand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share