26/08/2025
ٹبہ سلطان پور کی تاریخ
قسط نمبر 3
1860 تا 1900ء
تحریر و تحقیق : اشفاق خان ساوند
اس قسط میں ہم ان رویوں, رسم و رواج, سوچ و فکر, تعلقات عامہ , پیشہ اور ذات قوم برادری کے حوالے سے مختصر بات کریں گے دیکھنے میں یہ بات معمولی سی لگتی ہے لیکن اس میں دوستی کو دشمنی میں بدلنے اور تعلقات خراب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے .
1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز کو ہندوستان پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا تھا اس کے بعد انگریز نے نہایت مکاری اور چالاکی سے مقامی لوگوں کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے رسم و رواج اور سوچ و فکر تعلیم و تربیت کو فروغ دیا. مسلم حکمرانوں نے 1 ہزار سال ہندوستان پر حکمرانی کی تھی اس کی وجہ مسلم حکمران حکومتی امور چلانے کے ساتھ ساتھ رزق حلال کےحصول کے لئے کوئی نہ کوئی پیشہ بھی اختیار کیے رکھتے تھے اور حکومتی خزانے کو عوام کی امانت سمجھتے تھے یہی اسلامی اقدار کی وجہ سے اسلامی سلطنتوں کا دورانیہ طویل ترین ہو جاتا ہے تھا.
انگریز نے ہندوستانی عوام کو ہندو اور مسلمان میں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ کمی کمین کی اصلاحات بھی لاگو کرنا شروع کر دی اور یہ تصور پھیلایا کہ بادشاہ کا کام صرف حکمرانی کرنا ہے اور عوام کا خزانہ اس کا ذاتی مال ہے اور کام کرنا بادشاہوں کی توہین ہے اور کام کرنے والے کمی کمین ہوتے ہیں .
انگریز سرکار نے سب سے زیادہ ظلم مغل حکمرانوں اور علماء کرام پر کیا مغلوں سے انکی جائیدادیں چھین لی اور مغل قوم مختلف پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی جیسے لوہار, موچی, نائی اور میر عالم یعنی میراثی کا پیشہ وغیرہ.
اسلامی دور میں مدرسوں اور علماء کرام کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے انکو مسلم حکمرانوں کی طرف سے زمینیں الاٹ کرکے دی گئی تھیں وہ تمام زمینیں مدرسوں مساجد اور علماء کرام سے انگریز سرکار نے چھین لی اور انکو چندہ سسٹم کا محتاج بنا دیا.
اس دور کی بڑی خرافات یہ تھی کہ تمام معزز قوموں کی تذلیل کرنے کے لیے انکو الٹے سیدھے ناموں سے پکارا اور چڑیا جاتا تھا اور آج بھی یہ خرافات موجود ہیں اور ان پڑھ لوگ اس جہالت میں پڑے ہوئے ہیں جبکہ پڑھے لکھے لوگ اس طرح کی خرافات سے پرہیز کرتے ہیں .
مثلاً کسی قوم کو پیاز کا طعنہ دیا جاتا ہے اور کسی قوم کو بابا بلھے شاہ کا طنز مارتے ہیں. سکھوں کو بے وقوف, کام کرنے والے کو کمی کمین تصور کیا جاتا ہے, نواب کو عیاش ,راجہ جیسا خطاب حجام نائی کو کہا جاتا ہے. اسی طرح کپڑا بنانے والے انصاری ہیں .پرانے زمانے میں کپڑا بنانے والے کو پنجابی زبان میں جولاہا اور سرائیکی زبان میں پاولی کہا جاتا تھا ہے .
مثال دینے کا مقصد کسی قوم کی تذلیل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ فرنگی نے ہر معزز قوم ذات برادری اور پیشہ کو کس طرح بدنام کیا اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے .
اس دور کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ملتان کے ایک بڑے کپڑے کے تاجر جن کا نام ملک خدا بخش خان انصاری تھا نہایت متقی پرہیز گار اور خدا ترس انسان تھے ایک شب وہ سوئے ہوئے تھے کہ انکو خواب میں حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت ہوئی, انہوں نے ملک خدا بخش خان انصاری کو حکم دیا کہ فلاں جگہ پر ایک سیدہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ بیٹھی ہوئی ہے انگریز افسر نے اس سیدہ خاتون کا مال و اسباب چھین لیا ہے آپ حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں اس لیے اب کی بار بھی آل رسول اللہ ﷺ کی مہمان نوازی کا شرف آپ کو ملا ہے جائیے اور ان ستم رسیدہ خاتون کی مدد کریں جس کو انگریز نے بے گھر کر دیا ہے. ملک خدا بخش خان انصاری اللہ کا نام لے کر اس ویران جگہ پر پہنچے جہاں پر وہ نیک خاتون اپنی جوان بیٹیوں کے ساتھ چھپی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ اس کی مدد کرے ملک خدا بخش خان انصاری انکو لے کر اپنے گھر آئے اور انکی خدمت داری کی اگلی صبح جب انگریز افسر کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ملک خدا بخش خان انصاری کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا اور انکے کپڑے کے تمام کارخانے جلا دیئے سیدہ خاتون کو شہید کر دیا گیا جب کہ ملک خدا بخش خان انصاری کسی نہ کسی طرح اپنی جان بچا کر ملتان سے ٹبہ سلطان پور اپنے دیرینہ دوست بابا نور محمد خان ساوند کے پاس پہنچے اور پناہ لی اور کچھ عرصہ تک ٹبہ سلطان پور میں روپوش رہے
قصہ مختصر یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ ذات برادری اور قوم کو چھپا کر رکھتے تھے کہ کہیں انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ نہ بن جائیں. ذات برادری اور قوم کی بجائے لوگ اپنی پہچان پیشوں سے کرواتے تھے جیسے کہ نائی موچی, چڑھوے, مصلی, درکھان, تیلی, چڑھوے ,
میراثی, کمبھار, جولاہا, پاولی اور قسائی وغیرہ
قیام پاکستان کے بعد جب ان پیشوں کو کرنے والوں نے اپنی اصل ذات برادری اور قوم سے اپنی شناخت کروانا شروع کی تو تب اکثر کم ظرف لوگوں نے انکو تنقید کا نشانہ بنایا جیسے کہ ایک جاننے والے جو کہ نائی کے پیشہ سے وابستہ رہے تھے جب انکی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے بخت سے نوازا تو کم ظرف لوگوں نے طنز مارا کہ پہلے تو یہ لوگ نائی تھے اب یہ بھٹہ اور تھہیم کیسے بن گئے ہیں ؟ اسی طرح جو پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن گئے انکو بارے کہا گیا کہ پہلے یہ قسائی تھے اب یہ بھٹی بن گئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پیشہ اور ذات برادری اور قوم میں فرق ہوتا ہے پیشہ کوئی بھی شخص اور کسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والا اختیار کر سکتا ہے جبکہ برادری یا قوم تبدیل نہیں کی جا سکتی ہے برادری یا قوم کو تبدیل کرنا باپ بدلنے کے مترادف ہے
جو شخص امیر ہونے کے بعد بھی اپنے کام خود کرتا ہے وہ شخص جلد غریب نہیں ہو سکتا
وقت وقت کی بات ہے کہ کسی دور میں انگوٹھا دکھانے کو بدتمیزی اور بے عزتی شمار کیا جاتا تھا لیکن اب اس کو لائک (Like ) کہتے ہیں اسی طرح ماضی میں جوکر مسخرا (Joker) کہنا بے عزتی کے مترادف سمجھا جاتا تھا اور آج یہی جوکر مسخرا ہیرو کا مقام رکھتا ہے, جن پیشوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا لیکن ذہن لوگوں نے اپنی اس کمزوری کو طاقت بنا کر دنیا کو حیران کر دیا ہے. آج آپ کو موچی (MOchi) نام کا بھی برینڈ ملے گا . لوہار بھی برینڈ بن چکا ہے, دھوبی ( Dhobi ) بھی برینڈ بن چکا ہے اسی طرح جولاہا اور پاولی (Pawli ) بھی دبئی کا مشہور جیولری برینڈ ہے
Be Different
Be Pawli 👑
اسی طرح میرعالم یعنی میراثی بھی برینڈ بن چکا ہے جیسے کہ زیبی ڈھول ماسٹر .گلوکار سنگر بن چکے ہیں اور خود کو اپنے پیشے کو پالش کرکے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے.
جاری ہے.......