توت ویلفیئر ایسوسی ایشن

Directions

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن توت ویلفیٸر ایسوسی ایشن
صاف توت
شفاف توت

30/09/2026

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام
ڈاک بنگلہ سٹاپ مسافر خانہ توت

30/09/2026

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام
ڈھوک عنایت سٹاپ

30/09/2026

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام
بابا باز سٹاپ مسافر خانہ توت

بھائی مدثر محمود صاحب — ایک باوقار شخصیت، ایک مخلص انسان، اور خدمت کا روشن استعارہآج جس شخصیت کے بارے میں چند الفاظ تحری...
30/09/2026

بھائی مدثر محمود صاحب — ایک باوقار شخصیت، ایک مخلص انسان، اور خدمت کا روشن استعارہ

آج جس شخصیت کے بارے میں چند الفاظ تحریر کرنے جا رہا ہوں، وہ میرے لیے محض ایک دوست، ساتھی یا توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے رکن نہیں، بلکہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے عمل، خلوص اور کردار سے یہ ثابت کیا کہ کسی بھی نیک مقصد کی کامیابی کے لیے وسائل سے زیادہ مخلص لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھائی مدثر محمود صاحب ایک باوقار، محنتی، سنجیدہ اور نہایت مخلص انسان ہیں۔ ان کی شخصیت میں عاجزی، خوش اخلاقی، معاملہ فہمی، محنت اور خدمتِ خلق کا جذبہ نمایاں ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی ذات کی تشہیر سے زیادہ اپنے عمل کو اہمیت دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ ان کے ساتھ کام کرے، وہ ان کے خلوص اور شخصیت کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

بھائی مدثر محمود صاحب نے 7 نومبر 1992ء کو توت میں حاجی یار محمد صاحب کے گھر آنکھ کھولی۔ ایک سادہ، باوقار اور محنتی گھرانے میں پرورش پانے والے مدثر بھائی نے زندگی کے ابتدائی ایام ہی سے محنت اور خود انحصاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سکول توت سے حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقبل کو بہتر بنانے اور اپنے لیے ایک ہنر مند راستہ اختیار کرنے کی غرض سے کراچی کا رخ کیا۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں ایک نوجوان کے لیے اپنے مقام اور شناخت بنانا آسان نہیں ہوتا، لیکن مدثر بھائی نے مشکلات سے گھبرانے کے بجائے انہیں اپنے لیے مواقع میں تبدیل کیا۔ انہوں نے لفٹ اور ایلیویٹر کے شعبے میں عملی کام سیکھا، وقت کے ساتھ اپنے ہنر کو نکھارا اور محنت، تجربے اور مسلسل جدوجہد کی بدولت اپنی فیلڈ میں ایک ماہر کاریگر اور قابلِ اعتماد پروفیشنل کے طور پر مقام بنایا۔

یہ سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی ہمیشہ کسی شارٹ کٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کو اپنے گھر، اپنے گاؤں اور اپنوں سے دور جا کر دن رات محنت کرنا پڑتی ہے، تب کہیں جا کر اس کی محنت رنگ لاتی ہے۔

کراچی سے سعودی عرب تک — محنت کا سفر

کراچی میں اپنے ہنر کو مزید نکھارنے کے بعد بھائی مدثر محمود صاحب نے روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب کا رخ کیا۔

پردیس کی زندگی بظاہر جتنی خوبصورت دکھائی دیتی ہے، حقیقت میں اتنی ہی مشکل اور آزمائشوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اپنوں سے دور رہنا، گھر والوں کی یاد، کام کی ذمہ داریاں، مختلف ماحول اور مسلسل محنت—یہ سب ایک انسان کے صبر اور حوصلے کا امتحان لیتے ہیں۔

لیکن مدثر بھائی نے ان تمام حالات کا سامنا ہمت، محنت اور مستقل مزاجی سے کیا۔ سعودی عرب میں بھی انہوں نے اپنی فیلڈ میں محنت جاری رکھی اور اپنی قابلیت و تجربے کے ذریعے اپنا ایک مقام بنایا۔

یہ ان کی زندگی کی ایک خوبصورت خصوصیت ہے کہ انہوں نے جہاں بھی قدم رکھا، محنت کو اپنا ساتھی اور خلوص کو اپنا اصول بنایا۔

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن — ایک یادگار آغاز

اب آتا ہوں اس حصے کی طرف جو میرے لیے ذاتی طور پر سب سے زیادہ اہم اور یادگار ہے۔

میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا جب ہم نے توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قیام کا ارادہ کیا۔ ہمارے ذہن میں ایک خواب تھا کہ اپنے علاقے، اپنے لوگوں اور بالخصوص ضرورت مند افراد کے لیے کچھ ایسا کیا جائے جو آنے والے وقت میں ایک مضبوط اور مثبت مثال بن سکے۔

یہ صرف ایک تنظیم بنانے کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے سفر کا آغاز تھا جس کے راستے میں بہت سے چیلنجز آنے تھے۔

اس وقت بندۂ ناچیز اور بھائی ڈاکٹر محمد تیمور نے بھائی مدثر محمود صاحب سے رابطہ کیا۔ وہ ان دنوں سعودی عرب سے پاکستان چھٹی پر آئے ہوئے تھے اور کراچی میں موجود تھے۔

ہم نے انہیں فون کیا اور اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"ہم آپ کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔"

ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ سامنے سے کیا جواب آئے گا۔ کیونکہ ہر شخص اپنی زندگی، اپنے کاروبار، اپنے روزگار اور اپنی مصروفیات میں گھرا ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسا شخص جو پردیس میں رہتا ہو، اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ ایک فلاحی کام کے لیے اپنا وقت، توانائی اور صلاحیتیں وقف کرے گا، کوئی معمولی بات نہیں تھی۔

لیکن بھائی مدثر صاحب نے ہماری بات سنی اور نہایت سادہ مگر پُراعتماد انداز میں کہا:

> "آپ آغاز کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔"

بس یہی وہ جملہ تھا جس نے ہمارے حوصلے کو ایک نئی طاقت دی۔

ایک جملہ، مگر حوصلے کا پہاڑ

بعض اوقات زندگی میں کچھ جملے بہت مختصر ہوتے ہیں، مگر ان کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔

بھائی مدثر محمود صاحب کا یہ کہنا کہ "میں آپ کے ساتھ ہوں" ہمارے لیے ایسا ہی ایک جملہ تھا۔

یقیناً ہم توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کا آغاز کر لیتے، شاید چند لوگ ساتھ بھی آ جاتے، لیکن کسی بااعتماد، مخلص اور صاحبِ حیثیت شخصیت کا شروع ہی میں اعتماد کرنا ایک بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔

ہماری کامیابی کے سفر میں بھائی مدثر صاحب کی طرف سے ملنے والی یہ حوصلہ افزائی ہمارے لیے کسی سرمائے سے کم نہیں تھی۔

انہوں نے صرف زبانی طور پر ساتھ دینے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے عمل سے بھی ثابت کیا کہ ان کا وہ جملہ محض رسمی بات نہیں تھا۔

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سفر میں مدثر بھائی کا کردار

آج جب پیچھے مڑ کر اس سفر کو دیکھتا ہوں تو بہت سے چہرے، بہت سی یادیں، بہت سی مشکلات اور بہت سی کامیابیاں سامنے آتی ہیں۔

اس پورے سفر میں اگر کسی ایک شخصیت کے کردار کو نمایاں طور پر بیان کرنا ہو تو بھائی مدثر محمود صاحب کا کردار انتہائی اہم دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے تنظیم کو صرف ایک نام یا عہدے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔

مشکل وقت میں حوصلہ دینا، اچھے کام کی حوصلہ افزائی کرنا، ساتھیوں پر اعتماد کرنا اور ضرورت کے وقت اپنی رائے و تجربے سے رہنمائی کرنا—یہ وہ خصوصیات ہیں جو کسی بھی فلاحی سفر کو مضبوط بناتی ہیں۔

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے آج تک کے سفر میں بہت سے لوگوں کی محنت شامل ہے، ہر فرد نے اپنی بساط کے مطابق اپنا کردار ادا کیا ہے، لیکن بھائی مدثر محمود صاحب ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اس قافلے کو شروع ہی سے مضبوط سہارا فراہم کیا۔

رشتے صرف خون سے نہیں بنتے

میری نظر میں انسان کے اصل رشتے صرف خون کے رشتے نہیں ہوتے۔

کچھ رشتے مقصد سے بنتے ہیں، کچھ اعتماد سے، کچھ خلوص سے اور کچھ مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے سے۔

مدثر بھائی کے ساتھ ہمارا تعلق بھی اسی اعتماد اور خلوص پر قائم ہے۔

انہوں نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد لوگوں کی بھلائی ہو تو راستے میں ایسے لوگ ضرور ملتے ہیں جو آپ کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔

اور شاید یہی کسی بھی اجتماعی سفر کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ آپ کو ایسے لوگ مل جائیں جو آپ کے مقصد کو اپنا مقصد سمجھ کر ساتھ چلیں۔

اصل دولت کیا ہے؟

انسان زندگی میں بہت کچھ حاصل کرتا ہے۔

پیسہ، کاروبار، شہرت، عہدہ اور دنیاوی کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک انسان کی سب سے بڑی دولت اس کے اچھے تعلقات، لوگوں کا اعتماد اور اس کا اچھا کردار ہوتا ہے۔

بھائی مدثر محمود صاحب نے اپنی زندگی میں محنت کرکے جو مقام حاصل کیا، وہ یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن ان کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے لوگوں کو نہیں بھلایا۔

پردیس میں رہتے ہوئے بھی اپنے علاقے، اپنے لوگوں اور اپنے گاؤں کے مسائل کے بارے میں سوچنا اور کسی اجتماعی فلاحی مقصد کا حصہ بننا اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے دل میں اپنے لوگوں کے لیے کتنی محبت موجود ہے۔

نوجوانوں کے لیے ایک مثال

مدثر بھائی کی زندگی ہمارے نوجوانوں کے لیے بھی ایک خوبصورت مثال ہے۔

توت جیسے علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان، مقامی سکول سے تعلیم حاصل کرتا ہے، پھر کراچی جاتا ہے، ایک ہنر سیکھتا ہے، اپنی فیلڈ میں مہارت حاصل کرتا ہے، سعودی عرب کا سفر کرتا ہے، وہاں محنت کرتا ہے اور اپنے لیے ایک مقام بناتا ہے۔

یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کا تعلق کسی چھوٹے یا بڑے شہر سے ہونا اس کی کامیابی کی حد مقرر نہیں کرتا۔

اصل چیز نیت، محنت، ہنر، مستقل مزاجی اور اپنے مقصد پر یقین ہے۔

مدثر بھائی نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ اگر انسان محنت کرنے کا فیصلہ کر لے تو مشکلات اس کے راستے کی دیوار نہیں بلکہ اس کے سفر کی سیڑھیاں بن سکتی ہیں۔

خدمت کا سفر جاری رہے

فلاحی کام ایک دن یا ایک تقریب کا نام نہیں۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے۔

کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی غریب کے گھر خوشی لانا، کسی پریشان حال شخص کے کام آنا، کسی طالب علم کے لیے آسانی پیدا کرنا یا کسی مستحق خاندان کے دکھ میں شریک ہونا—یہ سب خدمت کی مختلف صورتیں ہیں۔

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کا مقصد بھی اسی سوچ کو آگے بڑھانا ہے کہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے، اپنے لوگوں کے ذریعے، اپنے لوگوں کی خدمت کی جائے۔

اور اس سفر میں بھائی مدثر محمود صاحب جیسے مخلص ساتھیوں کی موجودگی یقیناً ایک نعمت ہے۔

آخر میں چند دل کی باتیں

بھائی مدثر محمود صاحب!

آپ کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہوئے شاید الفاظ کم پڑ جائیں، کیونکہ کچھ لوگوں کے بارے میں جتنا لکھا جائے، اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ کہنا باقی ہے۔

آپ کا ہمارے ساتھ کھڑا ہونا، ہمارے مقصد پر اعتماد کرنا، ہمارے حوصلے کو بڑھانا اور توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنا ہمارے لیے ہمیشہ قابلِ احترام رہے گا۔

ہم شاید آپ کے احسانات کا بدلہ نہ دے سکیں، لیکن شکریہ ضرور ادا کر سکتے ہیں۔

شکریہ اس اعتماد کے لیے جو آپ نے ہم پر کیا۔

شکریہ اس حوصلے کے لیے جو آپ نے ہمیں دیا۔

شکریہ اس رفاقت کے لیے جو آپ نے ہمارے ساتھ نبھائی۔

اور سب سے بڑھ کر شکریہ اس سوچ کے لیے کہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ بھائی مدثر محمود صاحب کو ہمیشہ خوش رکھے، صحت و سلامتی عطا فرمائے، ان کے رزق میں برکت دے، ان کے کاروبار اور روزگار میں مزید ترقی عطا فرمائے، ان کی ہر جائز خواہش پوری فرمائے، انہیں اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے لیے باعثِ رحمت و سکون بنائے اور انہیں ہمیشہ اسی طرح لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ توت ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تمام ساتھیوں کے خلوص اور محنت کو قبول فرمائے، اس سفر کو مزید کامیابیاں عطا کرے اور ہمیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔

آمین ثم آمین۔

**"کچھ لوگ قافلے کا حصہ نہیں ہوتے،

بلکہ قافلے کے سفر کو سمت دینے والے ہوتے ہیں۔
بھائی مدثر محمود صاحب بھی انہی مخلص لوگوں میں سے ایک ہیں۔"**

تحریر: نصیر اعوان

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن
16/02/2026

توت ویلفیئر ایسوسی ایشن

 #ماشاءاللــّٰـــــه ۞  #اللّٰہ پاک جناب کے رزق وا مال میں برکت عطا فرمائے 💞آمین یارب العالمین 💞
16/02/2026

#ماشاءاللــّٰـــــه ۞

#اللّٰہ پاک جناب کے رزق وا مال میں برکت عطا فرمائے

💞آمین یارب العالمین 💞

Address

Pindi Gheb

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when توت ویلفیئر ایسوسی ایشن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share