Babar Khan-Village Secretary

Babar Khan-Village Secretary Village secretary

it is in my nature to love, to live, to learn, to grow, to help others, to heal, to teach, to explore, to be fascinated with the unknown, to seek compassion for justice, to love good food, to travel, to see the greatness in everyone, to find beauty in anything, to be intense and passionate with life itself.

"بینک والے نے کہا اردو کے لیے ایک دبائیں…ہم نے دبایا، مگر پھر جو اس پر گزری، سن کر آپ بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے...
06/04/2026

"بینک والے نے کہا اردو کے لیے ایک دبائیں…
ہم نے دبایا، مگر پھر جو اس پر گزری، سن کر آپ بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے!" 😂🤣
‏ *ایک صاحب فرماتے ہیں*

مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی۔ پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحبزادے گویا ہوئے*
*This is Kamran, how can I help you ?*

*ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اس کے باوجود یہ انگریزی ؟
*فرمانے لگے* "جی بولیے ؟"
*ہم نے کہا* ،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے"
*جواباً ارشاد ہوا* ,"جی کہیے،"
*ہم نے کہا* ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “
*اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے* , “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“
*ہم نے کہا* ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،"
*اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا* ," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت بتائیں"
*ہم نے کہا* ," سر نہیں، جناب, اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے"
*شکایت سننے کے بعد کہا* ، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،"
*ہم نے کہا* ، " کیا...؟" تو واقعتاً بوکھلا گئے،
*ہم نے کہا* ," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
*کہنے لگے* ," جناب میں سیٹ سے اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے."
*ہم نے کہا* ، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپ کو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
*کہنے لگے* “ اب میں رو دوں گا!*“
*ہم نے کہا* ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!!
*کہنے لگے* ," میرے باپ کی بھی توبہ....!!😆🤣🤣


مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ تقریباً 410 کلومیٹر ہے۔اگر یہ سفر گاڑی پر کیا جائے اور رفتار مسلسل 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھ...
22/11/2025

مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ تقریباً 410 کلومیٹر ہے۔
اگر یہ سفر گاڑی پر کیا جائے اور رفتار مسلسل 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی جائے
تو تقریباً پانچ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

اب ذرا تصور کریں،
ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اس سفر کا نصف حصہ اونٹ پر اور نصف پیدل طے کیا۔
یہ سفر آٹھ دنوں میں مکمل ہوا،
اور وہ بھی انتہائی گرم موسم میں،
ساتھ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
لیکن یہ صرف ایک جسمانی سفر نہ تھا،
بلکہ ایک عظیم مقصد کے لیے تھا۔
ہمارے نبی ﷺ کے کندھوں پر ایک ایسا بوجھ تھا
جو دنیا کا کوئی شخص نہیں اٹھا سکتا۔
یہ سب کچھ اس لیے کہ دینِ اسلام غالب ہو
اور آج ہمیں یہ دین پہنچے، تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں سکون اور نعمتوں کے ساتھ اللہ کی ہدایت پر عمل کر سکیں۔

لہٰذا، کثرت سے درود بھیجیں اپنے نبی ﷺ پر:
اللہم صلِّ وسلم على نبينا محمد

موت تو خیر موت ہوتی ہے!اچانک کی موت اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے!اور اچانک کی یہ موت کسی بھیانک حادثے کا نتیجہ ہو تو ا...
17/11/2025

موت تو خیر موت ہوتی ہے!
اچانک کی موت اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے!
اور اچانک کی یہ موت کسی بھیانک حادثے کا نتیجہ ہو تو اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے!

آج سعودی عرب سے آنے والی خبر دل کو دہلا دینے والی ہے!
45 ہندوستانی زائرین مدینے میں ایک سڑک حادثے کا شکار ہوکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے!
یہ سڑک حادثہ زائرین کی بس اور تیل سے بھرے ٹرک میں ٹکر کے نتیجے میں ہوا!
اور دیکھتے ہی دیکھتے موت کا طوفان کھڑا کرگیا!

مرنے والوں میں ہر عمر کے افراد ہیں!
کم سن بچے بھی ہیں!
نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی ہیں!
اور بوڑھے مرد اور خواتین بھی ہیں!
تقریباً ان سبھی کا تعلق ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد سے ہے!

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں، روضہ نبوی کی زیارت اور عمرہ کی نیت سے جانے والے، ان کلمہ گو برادران کے لیے ہم سب کو خوب خوب دعائیں کرنی چاہئیں!
اللہ رب العزت سب کو کروٹ کروٹ جنت دے!
اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عنایت فرمائے!
آمین یا رب العالمین ای

نئی نسل کا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس بندے کو جانتا ہو۔ لیکن 80,90 کے دہائی کا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس بندے ک...
01/11/2025

نئی نسل کا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس بندے کو جانتا ہو۔ لیکن 80,90 کے دہائی کا شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس بندے کو نہیں جانتا۔ ان کا نام ہے عاشر عظیم ۔ ان کے کریڈٹ پر صرف دو کام ہیں۔ ایک PTV کا ڈرامہ سیریل "دھواں" اور دوسرا فلم "مالک"۔ ان دو کاموں نے اس کو فلم اور ٹی وی کی تاریخ میں امر کر دیا۔ عاشر عظیم ڈرامہ دھواں کے رائیٹر اور ڈائریکٹر بھی تھے اور ہیرو بھی۔ ڈرامے کی کہانی اور کردار نگاری اتنی شاندار تھی کہ جس دن ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا۔ گلیاں اور سڑکیں ویران ہو جاتی تھیں۔ اداکار نبیل کی ڈرامے میں موت اور اس کے بیک گراؤنڈ میں خان صاحب نصرت فتح علی خان کے ساؤنڈ ٹریک "کسے دا یار نہ وچھڑے" نے ایک زمانے کو رلا دیا تھا اور آج بھی دیکھیں تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ۔ اس زمانے میں پی ٹی وی پر اتنا ایکشن، تھرل اور گن فائیٹ سے بھرپور ڈرامہ پیش کرنا عاشر عظیم کا ہی کمال تھا۔
1992 کے اس ڈرامے کے بعد عاشر عظیم سکرین سے اچانک غائب ہو گئے۔ ایک بااصول سی ایس ایس آفیسر ہونے کے ناطے مختلف الزامات کا شکار ہوئے۔ پھر 2016 میں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے ایک بار پھر بڑی سکرین پر اپنی ہی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی شاندار فلم "مالک" کے ساتھ جلوہ گر ہوئے ۔ اور ایک دفعہ پھر ناظرین و ناقدین کے دل جیت لیے ۔ فلم کی کہانی ایک بار پھر معاشرے کے با اثر افراد کے عام لوگوں پر کئے گئے ظلم اور سیاست دانوں کی زیادتیوں کے متعلق تھی جو شاید کسی با اثر کو ایک آنکھ نہ بھائی اور فلم ایک یا دو ہفتے کے لئے سینما چارٹ پر ٹاپ رینکنگ حاصل کر ہی رہی تھی کی بین کر دی گئی۔ عاشر کا سارا پیسہ ڈوب گیا اور یہ کوڑی کوڑی محتاج ہو کر کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ لیکن ان کے یہ شاندار کام آج بھی یو ٹیوب پر موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس دنیا میں کم لیکن بہترین پرفارمینس دے کر بھی ہمیشہ کے لیے یاد رہا جا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس ملک میں ٹیلنٹڈ لوگوں کو نشان عبرت بھی بنایا جا سکتا ہے ۔

Copied..

جب ایک ہاتھی کو ایک مُلک سے دوسرے مُلک شفٹ کیا جاتا ھے تو اُسے ایک بہت بڑے لکڑی کے صندوق  میں بند کر کے ہوائی جہاز میں ب...
01/11/2025

جب ایک ہاتھی کو ایک مُلک سے دوسرے مُلک شفٹ کیا جاتا ھے تو اُسے ایک بہت بڑے لکڑی کے صندوق میں بند کر کے ہوائی جہاز میں بٹھایا جاتا ہے۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اُس صندوق کے اندر ننھے ننھے چُوزے بھی رکھے جاتے ہیں۔
جی ہاں — نرم، نازک، کمزور چُوزے۔

وجہ؟
کیونکہ ہاتھی اپنی دیوہیکل جسامت کے باوجود فطری طور پر نہایت محتاط ہوتا ہے۔
وہ کسی جاندار کو نقصان پہنچانے سے شدید گریز کرتا ہے۔

چُوزوں سے گھرے ہونے کے بعد ہاتھی پورے سفر کے دوران بالکل خاموش اور ساکت کھڑا رہتا ہے —
نہ اس لئے کہ اُسے خود کوئی خطرہ ہے،
بلکہ اس لئے کہ کہیں کسی چُوزے پر پاؤں نہ آ جائے۔

یہ اُس کے صبر، اُس کی طاقت، اور اُس کی شرافت کا پہلا امتحان ہوتا ہے۔

اس غیرمعمولی رویے نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔
تحقیق سے پتا چلا کہ ہاتھی کے دماغ میں spindle cells نامی وہ خاص اعصابی خلیے موجود ہیں جو ہمدردی، خود آگاہی، اور سماجی رشتوں سے وابستہ ہیں —
اور یہ خلیے صرف چند مخلوقات میں پائے جاتے ہیں، مثلاً انسان اور بندر۔

یوں ہاتھی صرف جسمانی طور پر ہی نہیں، جذباتی طور پر بھی عظیم ہے۔
وہ محسوس کرتا ہے۔
سمجھتا ہے۔
اور ہر موقع پر رحم کو جبلّت پر ترجیح دیتا ہے۔

صدیوں پہلے لیونارڈو دا ونچی نے ہاتھی کی انہی صفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا:

“ہاتھی عدل، عقل، اور اعتدال کی علامت ہے۔”

وہ کہتا ہے، ہاتھی جب دریا میں اُترتا ہے تو شور نہیں مچاتا،
بلکہ باوقار انداز میں نہاتا ہے — گویا کوئی مقدّس عمل انجام دے رہا ہو۔

وہ بھٹکنے والوں کی راہ دکھاتا ہے۔
تنہا نہیں چلتا، ہمیشہ جھنڈ کے ساتھ رہتا ہے۔
راستہ ایک رہنما کے پیچھے طے کرتا ہے۔
اور جفتی کے بعد خود کو پاک کرتا ہے، پھر قافلے میں واپس آتا ہے۔

یہاں تک کہ جب کسی دوسرے جھنڈ سے سامنا ہو تو وہ اپنی طاقت نہیں جتاتا —
بلکہ اپنی سونڈ سے نرمی سے راستہ بناتا ہے، بغیر نقصان پہنچائے۔

لیکن شاید اُس کا سب سے گہرا عمل وہ ہوتا ہے جب ہاتھی کو اپنی موت قریب محسوس ہوتی ہے۔
وہ چپ چاپ اپنے جھنڈ سے الگ ہو جاتا ہے —
اکیلا مرنے کے لیے۔

کمزوری سے نہیں،
بلکہ اس لئے کہ کم عمر ہاتھی اپنے دکھ سے محفوظ رہیں۔
تاکہ غم کا بوجھ وہ خود اُٹھا لے۔

یہ اُس کی عزّتِ نفس ہے،
اُس کی رحم دِلی،
اُس کی شرافت۔
انسانوں کے لیئے سوال ھے

01/11/2025

Daily Hadees.

29/10/2025

Mulana Bejle Ghar Sahib Bayan

Sajda.
29/10/2025

Sajda.

قسام بریگیڈ کی شیڈو یونٹ نے  خان یونس کے علاقے کی سرنگ سے کھدائی کے بعد اسرائیلی بمباری میں ہلاک  اسرائیلی قیدی کی لاش ب...
29/10/2025

قسام بریگیڈ کی شیڈو یونٹ نے خان یونس کے علاقے کی سرنگ سے کھدائی کے بعد اسرائیلی بمباری میں ہلاک اسرائیلی قیدی کی لاش برآمد کر لی، 8 بجے ریڈ کراس کے حوالے کی جائےگی

ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧِ ﺳﻮﻡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﭧ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮ...
27/10/2025

ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧِ ﺳﻮﻡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﭧ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﮐﯽ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻠﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﺠﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺗﯿﺮویں ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﻗﻠﺖ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﺎ۔
ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺑﺌﺮِ ﺭﻭﻣﮧ" ﯾﻌﻨﯽ ﺭﻭﻣﮧ ﮐﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺗﮭﺎ۔
ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﯾﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﮮ۔۔۔؟
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺍﺳﮯ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﺸﻤﮧ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ"۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔
ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺑﺨﺶ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ لئے ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﮐﯽ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﻮﺭﺍ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ،
ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ۔۔۔!!!
ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﭘﺮ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﺁ گیا۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻓﺮﺧﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﮐﻤﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﻗﻒ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﻣﻔﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺩﯼ۔
ﻟﻮﮒ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﻔﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺫﺧﯿﺮﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﺎﻧﺪ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﻭ ﺑﯿﺶ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﯽ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ "ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ"۔
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮔﻨﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺭﻗﻢ ﺑﮍﮬﺎﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ " ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺧﺮ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔۔۔؟
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮑﯽ ﭘﺮ ﺩﺱ ﮔﻨﺎ ﺍﺟﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ"۔

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭِ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮭﺠﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﻍ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﺁﻝِ ﺳﻌﻮﺩ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﻮ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﺣﮑﻮﻣﺖِ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻠﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﺟﺴﭩﺮﮈ ﮐﺮ ﺩﯼ۔
ﻭﺯﺍﺭﺕِ ﺯﺭﺍﻋﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﮐﮭﺠﻮﺭﯾﮟ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺑﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔

ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﺍﺱ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮّﺭﮦ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻋﻼﻗﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺎﻍ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺎﺩﮦ ﭘﻼﭦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻓﻨﺪﻕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔

ﺍﺱ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﻮﭨﻞ ﺳﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﻣﻠﯿﻦ ﺭﯾﺎﻝ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﻣﺘﻮﻗﻊ ﮨﮯ۔
ﺟﺲ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﺼّﮧ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮑﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﯿﻨﮏ ﺍﮐﺎﻭﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮگا۔
ﺫﻭﺍﻟﻨّﻮﺭﯾﻦ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻔﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺹِ ﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ لئے ﺻﺪﻗﮧ ﺟﺎﺭﯾﮧ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﺌﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﯽ۔

منقول

23/10/2025

Allah Har os shakhs Ki Madad Farma...

23/10/2025

Hazrat Mulana Bejleghar

Address

Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 10:00 - 16:00
Tuesday 10:00 - 16:00
Wednesday 10:00 - 16:00
Thursday 10:00 - 16:00
Friday 10:00 - 16:00

Telephone

03459181219

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Babar Khan-Village Secretary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Babar Khan-Village Secretary:

Share